Surah Rum Ayat 34 Tafseer Ibn Katheer Urdu
﴿لِيَكْفُرُوا بِمَا آتَيْنَاهُمْ ۚ فَتَمَتَّعُوا فَسَوْفَ تَعْلَمُونَ﴾
[ الروم: 34]
تاکہ جو ہم نے ان کو بخشا ہے اُس کی ناشکری کریں سو (خیر) فائدے اُٹھالو عنقریب تم کو (اس کا انجام) معلوم ہو جائے گا
Surah Rum UrduTafseer ibn kaseer - تفسیر ابن کثیر
انسان کی مختلف حالتیں اللہ تعالیٰ لوگوں کی حالت بیان فرما رہے ہے کہ دکھ درد مصیبت و تکلیف کے وقت تو وہ اللہ وحدہ لاشریک لہ کو بڑی عاجزی زاری نہایت توجہ اور پوری دلسوزی کے ساتھ پکارتے ہیں اور جب اس کی نعمتیں ان پر برسنے لگتی ہے تو یہ اللہ کیساتھ شرک کرنے لگتے ہیں۔ لیکفروا میں لام بعض تو کہتے ہیں لام عاقبت ہے اور بعض کہتے ہیں لام تعلیل ہے۔ لیکن لام تعلیل ہونا اس وجہ سے بھلا معلوم ہوتا ہے کہ اللہ نے ان کے لئے یہ مقرر کیا پھر انہیں دھمکایا کہ تم ابھی معلوم کرلوگے۔ بعض بزرگوں کا فرمان ہے کہ کو توال یا سپاہی اگر کسی کو ڈرائیے دھمکائے تو وہ کانپ اٹھتا ہے تعجب ہے کہ اس کے دھمکانے سے ہم دہشت میں آئیں جس کے قبضے میں ہر چیز ہے اور جس کا صرف یہ کہہ دینا ہر امر کے لئے کافی ہے۔ کہ ہوجا پھر مشرکین کا محض بےدلیل ہونا بیان فرمایا جارہا ہے کہ ہم نے ان کے شرک کی کوئی دلیل نہیں اتاری۔ پھر انسان کی ایک بیہودہ خصلت بطور انکار بیان ہو رہی ہے کہ سوائے چند ہستیوں کے عموما حالت یہ ہے کہ راحتوں کے وقت پھول جاتے ہیں اور سختیوں کے وقت مایوس ہوجاتے ہیں۔ گویا اب کوئی بہتری ملے گی نہیں۔ ہاں مومن سختیوں میں صبر اور نرمیوں میں نیکیاں کرتے ہیں۔ صحیح حدیث میں ہے مومن پر تعجب ہے اس کے لئے اللہ کی ہر قضا بہتر ہی ہوتی ہے۔ راحت پر شکر کرتا ہے تو یہ بھی اس کے لئے بہتر ہوتا ہے اور مصیبت پر صبر کرتا ہے تو یہ بھی اس کے لئے بہتر ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہی متصرف اور مالک ہے۔ وہ اپنی حکمت کے مطابق جہان کا نظام چلارہا ہے کسی کو کم دیتا ہے کسی کو زیادہ دیتا ہے۔ کوئی تنگی ترشی میں ہے کوئی وسعت اور فراخی میں۔ اس میں مومنوں کے لئے نشان ہیں۔
Tafsir Bayan ul Quran - Dr. Israr Ahmad
آیت 34 لِیَکْفُرُوْا بِمَآ اٰتَیْنٰہُمْ ط ”یعنی اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ نعمتوں اور صلاحیتوں کو اللہ کی نافرمانی میں استعمال کر کے عملی طور پر اس کی ناشکری کا ثبوت دیں۔فَتَمَتَّعُوْاوقفۃ فَسَوْفَ تَعْلَمُوْنَ ”یہ وہی انداز ہے جو سورة التّکاثُر میں آیا ہے : کَلَّا سَوْفَ تَعْلَمُوْنَ ثُمَّ کَلَّا سَوْفَ تَعْلَمُوْنَ کہ تمہاری یہ زندگی چند روزہ ہے ‘ اس محدود مہلت میں تم اپنی من مانیوں کے مزے اڑالو۔ بالآخر تم نے ہمارے پاس ہی آنا ہے اور وہ وقت دور بھی نہیں۔ چناچہ بہت جلد اصل حقائق تم پر منکشف ہوجائیں گے۔
Surah Rum Ayat 34 meaning in urdu
تاکہ ہمارے کیے ہوئے احسان کی ناشکری کریں اچھا، مزے کر لو، عنقریب تمہیں معلوم ہو جائے گا
| English | Türkçe | Indonesia |
| Русский | Français | فارسی |
| تفسير | Bengali | اعراب |
Ayats from Quran in Urdu
- مومنو! جب تم سے کہا جائے کہ مجلس میں کھل کر بیٹھو تو کھل بیٹھا
- اسی نے انسان کو پیدا کیا
- (لوط نے) کہا کہ یہ میرے مہمان ہیں (کہیں ان کے بارے میں) مجھے رسوا
- اور باپ (یعنی آدم) اور اس کی اولاد کی قسم
- اور ہم نے سمجھنے والے لوگوں کے لئے اس بستی سے ایک کھلی نشانی چھوڑ
- جب ان سے ان کے بھائی لوط نے کہا کہ تم کیوں نہیں ڈرتے؟
- اور تمہارے گھروں میں جو خدا کی آیتیں پڑھی جاتی ہیں اور حکمت (کی باتیں
- اور خدا (کی خوشنودی) کے لئے حج اور عمرے کو پورا کرو۔ اور اگر (راستےمیں)
- اے قوم! خدا کی طرف بلانے والے کی بات قبول کرو اور اس پر ایمان
- اور جس دن قیامت برپا ہوگی اس روز وہ الگ الگ فرقے ہوجائیں گے
Quran surahs in English :
Download surah Rum with the voice of the most famous Quran reciters :
surah Rum mp3 : choose the reciter to listen and download the chapter Rum Complete with high quality
Ahmed Al Ajmy
Bandar Balila
Khalid Al Jalil
Saad Al Ghamdi
Saud Al Shuraim
Abdul Basit
Ammar Al-Mulla
Abdullah Basfar
Abdullah Al Juhani
Fares Abbad
Maher Al Muaiqly
Al Minshawi
Al Hosary
Mishari Al-afasi
Yasser Al Dosari
Please remember us in your sincere prayers



