Surah taha Ayat 131 Tafseer Ibn Katheer Urdu

  1. Arabic
  2. Ahsan ul Bayan
  3. Ibn Kathir
  4. Bayan Quran
Quran pak urdu online Tafseer Ibn Katheer Urdu Translation القرآن الكريم اردو ترجمہ کے ساتھ سورہ طہ کی آیت نمبر 131 کی تفسیر, Dr. Israr Ahmad urdu Tafsir Bayan ul Quran & best tafseer of quran in urdu: surah taha ayat 131 best quran tafseer in urdu.
  
   
Verse 131 from surah Ta-Ha

﴿وَلَا تَمُدَّنَّ عَيْنَيْكَ إِلَىٰ مَا مَتَّعْنَا بِهِ أَزْوَاجًا مِّنْهُمْ زَهْرَةَ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا لِنَفْتِنَهُمْ فِيهِ ۚ وَرِزْقُ رَبِّكَ خَيْرٌ وَأَبْقَىٰ﴾
[ طه: 131]

Ayat With Urdu Translation

اور کئی طرح کے لوگوں کو جو ہم نے دنیا کی زندگی میں آرائش کی چیزوں سے بہرہ مند کیا ہے تاکہ ان کی آزمائش کریں ان پر نگاہ نہ کرنا۔ اور تمہاری پروردگار کی (عطا فرمائی ہوئی) روزی بہت بہتر اور باقی رہنے والی ہے

Surah taha Urdu

تفسیر احسن البیان - Ahsan ul Bayan


( 1 ) یہ وہی مضمون ہے جو اس سے قبل سورہ آل عمران: 196، 197، سورہ حجر: 87، 88 اور سورہ کہف: 7 وغیرہ میں بیان ہوا ہے۔
( 2 ) اس سے مراد آخرت کا اجر و ثواب ہے جو دنیا کے مال و اسباب سے بہتر بھی ہے اور اس کے مقابلے میں باقی رہنے والا بھی۔ حدیث میں آتا ہے کہ حضرت عمر، نبی ( صلى الله عليه وسلم ) کی خدمت میں حاضر ہوئے، دیکھا کہ آپ ایک کھردری چٹائی پر لیٹے ہوئے ہیں اور بے سرو سامانی کا یہ عالم ہے، کہ گھر میں چمڑے کی دو چیزوں کے علاوہ کچھ نہیں۔ حضرت عمر رضی اللہ کی آنکھوں میں بے اختیار آنسو آ گئے۔ نبی ( صلى الله عليه وسلم ) نے پوچھا، عمر کیا بات ہے، روتے کیوں ہو؟ عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قیصرو کسرٰی، کس طرح آرام و راحت کی زندگی گزار رہے ہیں اور آپ کا، باوجود اس بات کے کہ آپ افضل الخلق ہیں، یہ حال ہے، فرمایا، عمر کیا تم اب تک شک میں ہو۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کو ان کے آرام کی چیزیں دنیا میں ہی دے دی گئی ہیں۔ یعنی آخرت میں ان کے لئے کچھ نہیں ہوگا ( بخاري، سورة التحريم- مسلم- باب الإيلاء )

Tafseer ibn kaseer - تفسیر ابن کثیر


شکریا تکبر ؟ ان کفار کی دنیوی زینت اور ان کی ٹیپ ٹاپ کو تو حسرت بھری نگاہوں سے نہ دیکھ، یہ توذرا سی دیر کی چیزیں ہیں۔ یہ صرف ان آزمائش کے لئے انہیں یہاں ملی ہیں کہ دیکھیں شکر و تواضع کرتے ہیں یا ناشکری اور تکبر کرتے ہیں ؟ حقیقتاشکر گزاروں کی کمی ہے۔ ان کے مالداروں کو جو کچھ ملا ہے اس سے تجھے تو بہت ہی بہتر نعمت ملی ہے۔ ہم نے تجھے سات آیتیں دی ہیں جو دوہرائی جاتی ہیں اور قرآن عظیم عطا فرمارکھا ہے پس اپنی نظریں ان کے دنیوی سازوسامان کی طرف نہ ڈال۔ اسی طرح اے رسول اللہ ﷺ آپ کے لئے اللہ کے پاس جو مہمانداری ہے اس کی نہ تو کوئی انتہا ہے اور نہ اس وقت کوئی اس کے بیان کی طاقت رکھتا ہے۔ تجھے تیرا پر ورگار اس قدر دے گا کہ تو راضی رضامند ہوجائے گا۔ اللہ کی دین بہتر اور باقی ہے۔ حضور ﷺ نے اپنی ازواج مطہرات سے ایلا کیا تھا اور ایک بالاخانے میں مقیم تھے حضرت عمر ؓ جب وہاں پہنچے تو دیکھا کہ آپ ایک کھردرے بوریے پر لیٹے ہوئے ہیں چمڑے کا ایک ٹکڑا ایک طرف رکھا تھا اور کچھ مشکیں لٹک رہی تھیں۔ یہ بےسروسامانی کی حالت دیکھ کر آپ کی آنکھوں میں آنسو آگئے حضور ﷺ نے دریافت کیا کیوں رو دیے ؟ جواب دیا کہ حضور ﷺ قیصروکسریٰ کس قدر عیش و عشرت میں ہے اور آپ باوجود ساری مخلوق میں سے اللہ کے برگزیدہ ہونے کے کس حالت میں ہیں ؟ آپ نے فرمایا اے خطاب کے بیٹے کیا اب تک تم شک میں ہی ہو ؟ ان لوگوں کو اچھائیوں نے دنیا میں ہی جلدی کرلی ہے۔ پس رسول ﷺ باوجود قدرت اور دسترس کے دنیا سے نہایت ہی بےرغبت تھے۔ جو ہاتھ لگتا اسے راہ للہ دے دیتے اور اپنے لئے ایک پیسہ بھی نہ بچا رکھتے۔ ابن ابی حاتم میں حضور ﷺ کا فرمان مروی ہے کہ آپ نے فرمایا مجھے تو تم پر سب سے زیادہ خوف اس وقت کا ہے کہ دنیا تمہارے قدموں میں اپنا تمام سازو سامان ڈال دے گی۔ اپنی برکتیں تم پر الٹ دے گی۔ الغرض کفار کو زینت کی زندگی، اور دنیا صرف ان کی آزمائش کے لئے دی جاتی ہے۔ اپنے گھرانے کے لوگوں کو نماز کی تاکید کرو تاکہ وہ عذاب الٰہی سے بچ جائیں، خود بھی پابندی کے ساتھ اس کی ادائیگی کرو۔ اپنے آپ کو اور اپنے اہل و عیال کو جہنم سے بچالو۔ حضرت عمر فاروق ؓ کی عادت مبارکہ تھی کہ رات کو جب تہجد کے لئے اٹھتے تو اپنے گھر والوں کو بھی جگاتے اور اسی آیت کی تلاوت فرماتے۔ ہم تجھ سے رزق کے طالب نہیں۔ نماز کی پابندی کرلو اللہ ایسی جگہ سے رزوی پہنچائے گا جو خواب خیال میں بھی نہ ہو۔ اللہ تعالیٰ پرہیزگاروں کے لئے چھٹکارا کردیتا ہے اور بےشان و گمان جگہ سے روزی پہنچاتا ہے۔ تمام جنات اور انسان صرف عبادت الٰہی کے لئے پیدا کئے گئے ہیں رزاق اور زبردست قوتوں کے مالک اللہ تعالیٰ ہی ہے۔ فرماتا ہے ہم خود تمام مخلوق کے روزی رساں ہیں ہم تمہیں طلب کی تکلیف نہیں دیتے۔ حضرت ہشام کے والد صاحب جب امیر امراء کے مکانوں پر جاتے اور ان کا ٹھاٹھ دیکھتے تو واپس اپنے مکان پر آکر اسی آیت کی تلاوت فرماتے۔ اور کہتے میرے کنبے والو نماز کی حفاظت کرو نماز کی پابندی کرو۔ اللہ تم پر رحم فرمائے گا۔ ابن ابی حاتم میں ہے کہ جب حضور ﷺ کو کوئی تنگی ہوتی تو اپنے گھر کے سب لوگوں کو فرماتے اے میرے گھر والوں نمازیں پڑھو نمازیں قائم رکھو۔ تمام انبیاء ؑ کا یہی طریقہ رہا ہے کہ اپنی ہر گھبراہٹ اور ہر کام کے وقت نماز شروع کردیتے۔ ترمذی ابن ماجہ وغیرہ کی قدسی حدیث میں ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اے ابن آدم میری عبادت کے لئے فارغ ہوجا میں تیرا سینہ امیری اور بےپرواہی سے پر کردوں گا۔ تیری فقیری اور حاجت کو دور کردوں گا اور اگر تو نے یہ نہ کیا تو میں تیرا دل اشغال سے بھر دونگا اور تیری فقیری بند ہی نہ کروں گا۔ ابن ماجہ شریف میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں جس نے اپنی تمام غور وفکر اور قصدوخیال کو اکٹھا کرکے آخرت کا خیال باندھ لیا اور اسی میں مشغول ہوگیا اللہ تعالیٰ اسے دنیا کی تمام پریشانیوں سے محفوظ کرلے گا۔ اور جس نے دنیا کی فکریں پال لیں یہاں کے غم مول لئے اللہ کو اس کی مطلقا پرواہ نہ رہے گی خواہ کسی حیرانی میں ہلاک ہوجائے۔ اور روایت میں ہے کہ دنیا کے غموں میں ہی اسی کی فکروں میں ہی مصروف ہوجانے والے کے تمام کاموں میں اللہ تعالیٰ پریشانیاں ڈال دے گا اور اس کی فقیری اس کی آنکھوں کے سامنے کردے گا اور دنیا اتنی ہی ملے گی جتنی مقدر میں ہے اور جو دل کا مرکز آخرت کو بنا لے گا اپنی نیت وہی رکھے گا اللہ تعالیٰ اسے ہر کام کا اطمینان نصیب فرما دے گا اس کے دل کو سیر اور شیر بنا دے گا اور دنیا اس کے قدموں کی ٹھوکروں میں آیا کرے گی۔ پھر فرمایا دنیا وآخرت میں نیک انجام پرہیزگار لوگ ہی ہیں۔ رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں میں نے آج رات خواب میں دیکھا کہ گویا ہم عقبہ بن رافع کے گھر میں ہیں۔ وہاں ہمارے سامنے ابن طاب کے باغ کی تر کھجوریں پیش کی گئی ہیں۔ میں نے اس کی تعبیر یہ کی ہے کہ دنیا میں بھی انجام کے لحاظ سے ہمارا ہی پلہ گراں رہے گا اور بلندی اور اونچائی ہم کو ہی ملے گی اور ہمارا دین پاک صاف طیب وطاہر کامل ومکمل ہے۔

Tafsir Bayan ul Quran - Dr. Israr Ahmad


آیت 131 وَلَا تَمُدَّنَّ عَیْنَیْکَ اِلٰی مَا مَتَّعْنَا بِہٖٓ اَزْوَاجًا مِّنْہُمْ ” ہو بہو یہی الفاظ سورة الحجر ‘ آیت 88 میں بھی آئے ہیں کہ اے نبی ﷺ ! آپ ! ان کے مال و اسباب اور دنیوی آسائش و آرائش کے سامان کی طرف آنکھ اٹھا کر بھی نہ دیکھیں ‘ مبادا کسی کو گمان ہو کہ آپ ﷺ کی نظروں میں بھی ان چیزوں کی کوئی وقعت اور اہمیت ہے۔زَہْرَۃَ الْحَیٰوۃِ الدُّنْیَالا لِنَفْتِنَہُمْ فِیْہِ ط ” آپ ﷺ تو حقیقت آشنا ہیں ‘ آپ ﷺ تو جانتے ہیں کہ یہ دنیا اور اس کا مال و متاع سب کچھ فانی ہے اور مقصود اس سے صرف لوگوں کی آزمائش ہے۔ سورة الكهف میں اس حقیقت کو اس طرح بیان فرمایا گیا ہے : اِنَّاجَعَلْنَا مَا عَلَی الْاَرْضِ زِیْنَۃً لَّہَا لِنَبْلُوَہُمْ اَیُّہُمْ اَحْسَنُ عَمَلًا ”ہم نے تو جو کچھ بھی زمین پر ہے اسے اس کا بناؤ سنگھار بنایا ہے تاکہ انہیں ہم آزمائیں کہ ان میں کون بہتر ہے عمل میں۔ “وَرِزْقُ رَبِّکَ خَیْرٌ وَّاَبْقٰی رض ” اور وہ رزق کون سا ہے ؟ سورة الحجر کی آخری آیات سے موازنہ کریں جن آیات سے ان آیات کی مشابہت کا ذکر کیا گیا ہے تو اس سوال کا جواب ان الفاظ میں ملتا ہے : وَلَقَدْ اٰتَیْنٰکَ سَبْعًا مِّنَ الْمَثَانِیْ وَالْقُرْاٰنَ الْعَظِیْمَ ”اور ہم نے آپ ﷺ کو دی ہیں سات بار بار پڑھی جانے والی آیات اور عظمت والا قرآن۔ “یعنی سورة الفاتحہ کی سات آیات ! یہ سورت ایک مؤمن کے لیے زندگی بھر کا وظیفہ ہے۔ ہر نماز کی ہر رکعت میں وہ اس کی تلاوت کرتا ہے۔ گویا یہ روحانی غذا اور روحانی دولت جو ایک مؤمن کو اپنے نبی ﷺ کی وساطت سے عطا ہوئی ہے ‘ دنیوی مال و متاع سے کہیں زیادہ عمدہ اور کہیں زیادہ باقی رہنے والی ہے۔

ولا تمدن عينيك إلى ما متعنا به أزواجا منهم زهرة الحياة الدنيا لنفتنهم فيه ورزق ربك خير وأبقى

سورة: طه - آية: ( 131 )  - جزء: ( 16 )  -  صفحة: ( 321 )

Surah taha Ayat 131 meaning in urdu

اور نگاہ اُٹھا کر بھی نہ دیکھو دُنیوی زندگی کی اُس شان و شوکت کو جو ہم نے اِن میں سے مختلف قسم کے لوگوں کو دے رکھی ہے وہ تو ہم نے انہیں آزمائش میں ڈالنے کے لیے دی ہے، اور تیرے رب کا دیا ہوا رزق حلال ہی بہتر اور پائندہ تر ہے


English Türkçe Indonesia
Русский Français فارسی
تفسير Bengali اعراب

Ayats from Quran in Urdu

  1. (ان لوگوں کے لئے) بہشتِ جاودانی (ہیں) جن میں وہ داخل ہوں گے۔ وہاں ان
  2. اور خدا کو شایاں نہیں کہ کسی کو بیٹا بنائے
  3. اور کہتے ہیں کہ یہ تو صریح جادو ہے
  4. اپنے اعمال کے صلے میں مزے سے کھاؤ اور پیو
  5. کہا کہ ان کا علم میرے پروردگار کو ہے (جو) کتاب میں (لکھا ہوا ہے)
  6. اور جب انسان کو تکلیف پہنچتی ہے تو اپنے پروردگار کو پکارتا (اور) اس کی
  7. اور جب ان کے سامنے ہماری کھلی کھلی آیتیں پڑھی جاتی ہیں تو ان کی
  8. یہ ان کی سزا ہے (یعنی) جہنم۔ اس لئے کہ انہوں نے کفر کیا اور
  9. اسی نے تمہارے لئے دین کا وہی رستہ مقرر کیا جس (کے اختیار کرنے کا)
  10. اور ان پر صبح سویرے ہی اٹل عذاب آ نازل ہوا

Quran surahs in English :

Al-Baqarah Al-Imran An-Nisa
Al-Maidah Yusuf Ibrahim
Al-Hijr Al-Kahf Maryam
Al-Hajj Al-Qasas Al-Ankabut
As-Sajdah Ya Sin Ad-Dukhan
Al-Fath Al-Hujurat Qaf
An-Najm Ar-Rahman Al-Waqiah
Al-Hashr Al-Mulk Al-Haqqah
Al-Inshiqaq Al-Ala Al-Ghashiyah

Download surah taha with the voice of the most famous Quran reciters :

surah taha mp3 : choose the reciter to listen and download the chapter taha Complete with high quality
surah taha Ahmed El Agamy
Ahmed Al Ajmy
surah taha Bandar Balila
Bandar Balila
surah taha Khalid Al Jalil
Khalid Al Jalil
surah taha Saad Al Ghamdi
Saad Al Ghamdi
surah taha Saud Al Shuraim
Saud Al Shuraim
surah taha Abdul Basit Abdul Samad
Abdul Basit
surah taha Abdul Rashid Sufi
Abdul Rashid Sufi
surah taha Abdullah Basfar
Abdullah Basfar
surah taha Abdullah Awwad Al Juhani
Abdullah Al Juhani
surah taha Fares Abbad
Fares Abbad
surah taha Maher Al Muaiqly
Maher Al Muaiqly
surah taha Muhammad Siddiq Al Minshawi
Al Minshawi
surah taha Al Hosary
Al Hosary
surah taha Al-afasi
Mishari Al-afasi
surah taha Yasser Al Dosari
Yasser Al Dosari


Friday, May 17, 2024

لا تنسنا من دعوة صالحة بظهر الغيب