Surah Ibrahim Ayat 27 Tafseer Ibn Katheer Urdu
﴿يُثَبِّتُ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَفِي الْآخِرَةِ ۖ وَيُضِلُّ اللَّهُ الظَّالِمِينَ ۚ وَيَفْعَلُ اللَّهُ مَا يَشَاءُ﴾
[ إبراهيم: 27]
خدا مومنوں (کے دلوں) کو (صحیح اور) پکی بات سے دنیا کی زندگی میں بھی مضبوط رکھتا ہے اور آخرت میں بھی (رکھے گا) اور خدا بےانصافوں کو گمراہ کر دیتا ہے اور خدا جو چاہتا ہے کرتا ہے
Surah Ibrahim Urduتفسیر احسن البیان - Ahsan ul Bayan
( 1 ) اس کی تفسیر حدیث میں اس طرح آتی ہے کہ ” موت کے بعد قبر میں جب مسلمان سے سوال کیا جاتا ہے، تو وہ جواب میں اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد ( صلى الله عليه وسلم ) اللہ کے رسول ہیں “۔ پس یہی مطلب ہے اللہ کے فرمان، «يُثَبِّتُ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا» کا ( صحيح بخاري، تفسير سورة إبراهيم، وصحيح مسلم، كتاب الجنة وصفة نعيمها ، باب عرض مقعد الميت عليه وإثبات عذاب القبر ) ایک اور حدیث میں ہے کہ ” جب بندے کو قبر میں رکھ دیا جاتا ہے اور اس کے ساتھی چلے جاتے ہیں اور وہ ان کے جوتوں کی آہٹ سنتا ہے۔ پھر اس کے پاس دو فرشتے آتے ہیں اور اسے اٹھا کر اس سے پوچھتے ہیں کہ اس شخص کے بارے میں تیری کیا رائے ہے، وہ مومن ہوتا ہے تو جواب دیتا ہے کہ وہ اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔ فرشتے اسے جہنم کا ٹھکانا دکھاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اللہ نے اس کی جگہ تیرے لئے جنت میں ٹھکانا بنا دیا ہے۔ پس وہ دونوں ٹھکانے دیکھتا ہے اور اس کی قبر ستر ہاتھ کشادہ کر دی جاتی ہے اور اس کی قبر کو قیامت تک نعمتوں سے بھر دیا جاتا ہے “۔ ( صحیح مسلم، باب مذکور ) ایک اثر میں ہے، اس سے پوچھا جاتا ہے «مَنْ رَبُّكَ؟ مَا دِينُكَ ؟ مَنْ نَبِيُّكَ؟»۔ ” تیرا رب کون ہے، تیرا دین کیا ہے اور تیرا پیغمبر کون ہے “؟ پس اللہ تعالٰی اسے ثابت قدمی عطا فرماتا ہے اور وہ جواب دیتا ہے رَبِّی اللّٰہُ ( میرا رب اللہ ہے )، وَ دِیْنِیَ الاِ سْلَامُ ( میرا دین اسلام ہے ) وَ نَبِیِّی مُحَمَّد ( اور میرے پیغمبر محمد صلى الله عليه وسلم ہیں ) ( تفسیر ابن کثیر )
Tafsir Bayan ul Quran - Dr. Israr Ahmad
آیت 27 يُثَبِّتُ اللّٰهُ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا بالْقَوْلِ الثَّابِتِ فِي الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا وَفِي الْاٰخِرَةِ یہاں قول ثابت سے مراد ایمان ہے۔ آخرت پر پختہ ایمان رکھنے والا شخص دنیا کے اندر اپنے کردار اور نظریات میں مضبوط اور ثابت قدم ہوتا ہے۔ اس کے حوصلے اس کے موقف اور اس کی صلاحیتوں کو اللہ تعالیٰ استقامت بخشتا ہے۔ ایسے لوگوں کو اسی طرح کا ثبات آخرت میں بھی عطا ہوگا۔
يثبت الله الذين آمنوا بالقول الثابت في الحياة الدنيا وفي الآخرة ويضل الله الظالمين ويفعل الله ما يشاء
سورة: إبراهيم - آية: ( 27 ) - جزء: ( 13 ) - صفحة: ( 259 )Surah Ibrahim Ayat 27 meaning in urdu
ایمان لانے والوں کو اللہ ایک قول ثابت کی بنیاد پر دنیا اور آخرت، دونوں میں ثبات عطا کرتا ہے، اور ظالموں کو اللہ بھٹکا دیتا ہے اللہ کو اختیار ہے جو چاہے کرے
| English | Türkçe | Indonesia |
| Русский | Français | فارسی |
| تفسير | Bengali | اعراب |
Ayats from Quran in Urdu
- اور (بےخوف) بدبخت پہلو تہی کرے گا
- اور مشرق اور مغرب سب خدا ہی کا ہے۔ تو جدھر تم رخ کرو۔ ادھر
- آلرا ۔ یہ بڑی دانائی کی کتاب کی آیتیں ہیں
- وہ کہیں گے کہ کیا تمہارے پاس تمہارے پیغمبر نشانیاں لے کر نہیں آئے تھے۔
- جن لوگوں نے کفر کیا اور (لوگوں کو) خدا کے رستے سے روکا ہم اُن
- ان (کے بدنوں) پر دیبا سبز اور اطلس کے کپڑے ہوں گے۔ اور انہیں چاندی
- اور اگر ہم چاہیں تو ان کی آنکھوں کو مٹا کر (اندھا کر) دیں۔ پھر
- اور قوم ابراہیم اور قوم لوط بھی
- خدا نے فرمایا کہ نوح وہ تیرے گھر والوں میں نہیں ہے وہ تو ناشائستہ
- اس کا منتہا (یعنی واقع ہونے کا وقت) تمہارے پروردگار ہی کو (معلوم ہے)
Quran surahs in English :
Download surah Ibrahim with the voice of the most famous Quran reciters :
surah Ibrahim mp3 : choose the reciter to listen and download the chapter Ibrahim Complete with high quality
Ahmed Al Ajmy
Bandar Balila
Khalid Al Jalil
Saad Al Ghamdi
Saud Al Shuraim
Abdul Basit
Ammar Al-Mulla
Abdullah Basfar
Abdullah Al Juhani
Fares Abbad
Maher Al Muaiqly
Al Minshawi
Al Hosary
Mishari Al-afasi
Yasser Al Dosari
Please remember us in your sincere prayers



