Surah Al Ghashiyah Ayat 3 Tafseer Ibn Katheer Urdu
﴿عَامِلَةٌ نَّاصِبَةٌ﴾
[ الغاشية: 3]
سخت محنت کرنے والے تھکے ماندے
Surah Al Ghashiyah Urduتفسیر احسن البیان - Ahsan ul Bayan
( 1 ) نَاصِبَةٌ کے معنی ہیں، تھک کر چور ہو جانا۔ یعنی انہیں اتنا پر مشقت عذاب ہوگا کہ اس سے ان کا سخت برا حال ہو گا۔ اس کا ایک دوسرا مفہوم یہ ہے کہ دنیا میں عمل کرکرے تھکے ہوئے ہوں گے یعنی بہت عمل کرتے رہے ہوں گے۔ لیکن وہ عمل باطل مذہب کے مطابق یا بدعات پر مبنی ہوں گے، اس لئے عبادات اور اعمال شاقہ کے باوجود جہنم میں جائیں گے۔ چنانچہ اسی مفہوم کی رو سے حضرت ابن عباس ( رضي الله عنه ) ما نے ” عَامِلَةٌ نَاصِبَةٌ “ سے نصاریٰ مراد لئے ہیں ( صحيح البخاري تفسير سورة غاشية )۔
Tafseer ibn kaseer - تفسیر ابن کثیر
سب کو ڈھانپنے والی حقیقت غاشیہ قیامت کا نام ہے اس لیے کہ وہ سب پر آئیگی سب کو گھیرے ہوئے ہوگی اور ہر ایک کو ڈھانپ لے گی ابن ابی حاتم میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ کہیں جا رہے تھے کہ ایک عورت کی قرآن پڑھنے کی آواز آئی آپ کھڑے ہو کر سننے لگے اس نے یہی آیت ھل اتک پڑھی یعنی کیا تیرے پاس ڈھانپ لینے والی قیامت کی بات پہنچی ہے ؟ تو آپ نے جواباً فرمایا نعم قد جآءنی یعنی ہاں میرے پاس پہنچ چکی ہے اس دن بہت سے لوگ ذلیل چہروں والے ہوں گے پستی ان پر برس رہی ہوں گی ان کے اعمال غارت ہوگئے ہوں گے انہوں نے تو بڑے بڑے اعمال کیے تھے سخت تکلیفیں اٹھائی تھیں وہ آج بھڑکتی ہوئی آگ میں داخل ہوگئے ایک مرتبہ حضرت عمر ایک خانقاہ کے پاس سے گزرے وہاں کے راہب کو آواز دی وہ حاضر ہوا آپ اسے دیکھ کر روئے لوگوں نے پوچھا حضرت کیا بات ہے ؟ تو فرمایا اسے دیکھ کر یہ آیت یاد آگئی کہ عبادت اور ریاضت کرتے ہیں لیکن آخر جہنم میں جائیں گے حضرت ابن عباس فرماتے ہیں اس سے مراد نصرانی ہیں عکرمہ اور سدی فرماتے ہیں کہ دنیا میں گناہوں کے کام کرتے رہے اور آخرت میں عذاب کی اور مار کی تکلیفیں برداشت کریں گے یہ سخت بھڑکنے والی جلتی تپتی آگ میں جائیں گے جہاں سوائے ضریع کے اور کچھ کھانے کو نہ ملے گا جو آگ کا درخت ہے یا جہنم کا پتھر ہے یہ تھوہر کی بیل ہے اس میں زہریلے کانٹے دار پھل لگتے ہیں یہ بدترین کھانا ہے اور نہایت ہی برا نہ بدن بڑھائے نہ بھوک مٹائے یعنی نہ نفع پہنچے نہ نقصان دور ہو۔
Tafsir Bayan ul Quran - Dr. Israr Ahmad
آیت 2{ وُجُوْہٌ یَّوْمَئِذٍ خَاشِعَۃٌ۔ } ” بہت سے چہرے اس دن ذلیل ہوں گے۔ “ یہ مضمون اس سے پہلے سورة القیامہ اور سورة عبس میں بھی آچکا ہے۔ سورة القیامہ میں اس صورت حال کا نقشہ یوں دکھایا گیا ہے : { وُجُوْہٌ یَّوْمَئِذٍ نَّاضِرَۃٌ - اِلٰی رَبِّہَا نَاظِرَۃٌ - وَوُجُوْہٌ یَّوْمَئِذٍم بَاسِرَۃٌ - تَظُنُّ اَنْ یُّفْعَلَ بِہَا فَاقِرَۃٌ۔ } ” کچھ چہرے اس دن تروتازہ ہوں گے ‘ اپنے رب کی طرف دیکھتے ہوں گے اور کچھ چہرے اس دن افسردہ ہوں گے۔ خیال کر رہے ہوں گے کہ ان کے ساتھ کمر توڑ سلوک ہونے والا ہے “۔ جبکہ سورة عبس میں یہی کیفیت ان الفاظ میں بیان ہوئی ہے : { وُجُوْہٌ یَّوْمَئِذٍ مُّسْفِرَۃٌ - ضَاحِکَۃٌ مُّسْتَبْشِرَۃٌ - وَوُجُوْہٌ یَّوْمَئِذٍ عَلَیْہَا غَبَرَۃٌ - تَرْہَقُہَا قَتَرَۃٌ۔ } ” اس دن کچھ چہرے روشن ہوں گے۔ مسکراتے ہوئے خوش و خرم۔ اور کچھ چہرے اس دن غبار آلود ہوں گے۔ ان پر سیاہی چھائی ہوئی ہوگی۔ “
Surah Al Ghashiyah Ayat 3 meaning in urdu
سخت مشقت کر رہے ہونگے
| English | Türkçe | Indonesia |
| Русский | Français | فارسی |
| تفسير | Bengali | اعراب |
Ayats from Quran in Urdu
- جو لوگ ایمان لائے اور خدا کے لئے وطن چھوڑ گئے اور (کفار سے) جنگ
- ان میں ایک وقت مقرر تک تمہارے لئے فائدے ہیں پھر ان کو خانہٴ قدیم
- (اور وہ) ان میں ابدالاآباد رہیں گے۔ کچھ شک نہیں کہ خدا کے ہاں بڑا
- اور ہم نے نہ تو ان (مشرکوں) کو کتابیں دیں جن کو یہ پڑھتے ہیں
- اور وہی تو ہے جس نے تم کو ان (کافروں) پر فتحیاب کرنے کے بعد
- (ان سے) پوچھو کہ بھلا تمھارے شریکوں میں سے کوئی ایسا ہے کہ مخلوق کو
- (اور) بے شک مشکل کے ساتھ آسانی ہے
- خدا اس کے گناہ کو نہیں بخشے گا کہ کسی کو اس کا شریک بنایا
- اب تو یہ لوگ قیامت ہی کو دیکھ رہے ہیں کہ ناگہاں ان پر آ
- جس کو تم دھیان میں نہیں لاتے
Quran surahs in English :
Download surah Al Ghashiyah with the voice of the most famous Quran reciters :
surah Al Ghashiyah mp3 : choose the reciter to listen and download the chapter Al Ghashiyah Complete with high quality
Ahmed Al Ajmy
Bandar Balila
Khalid Al Jalil
Saad Al Ghamdi
Saud Al Shuraim
Abdul Basit
Ammar Al-Mulla
Abdullah Basfar
Abdullah Al Juhani
Fares Abbad
Maher Al Muaiqly
Al Minshawi
Al Hosary
Mishari Al-afasi
Yasser Al Dosari
Please remember us in your sincere prayers



