Surah Muminoon Ayat 47 Tafseer Ibn Katheer Urdu
﴿فَقَالُوا أَنُؤْمِنُ لِبَشَرَيْنِ مِثْلِنَا وَقَوْمُهُمَا لَنَا عَابِدُونَ﴾
[ المؤمنون: 47]
کہنے لگے کہ کیا ہم ان اپنے جیسے دو آدمیوں پر ایمان لے آئیں اور اُن کو قوم کے لوگ ہمارے خدمت گار ہیں
Surah Muminoon Urduتفسیر احسن البیان - Ahsan ul Bayan
( 1 ) یہاں بھی انکار کے لیے دلیل انہوں نے حضرت موسیٰ و ہارون علیہما السلام کی بشریت ہی پیش کی اور اسی بشریت کی تاکید کے لیے انہوں نے کہا کہ یہ دونوں اسی قوم کے افراد ہیں جو ہماری غلام ہے۔
Tafseer ibn kaseer - تفسیر ابن کثیر
دریا برد فرعون حضرت موسیٰ ؑ اور ان کے بھائی حضرت ہارون ؑ کو اللہ تعالیٰ نے فرعون اور قوم فرعون کے پاس پوری دلیلوں کے ساتھ اور زبردست معجزوں کے ساتھ بھیجا لیکن انہوں نے بھی سابقہ کافروں کی طرح اپنے نبیوں کی تکذیب و مخالفت کی اور سابقہ کفار کی طرح یہی کہا کہ ہم اپنے جیسے انسانوں کی نبوت کے قائل نہیں ان کے دل بھی بالکل ان جیسے ہی ہوگئے بالآخر ایک ہی دن میں ایک ساتھ سب کو اللہ تعالیٰ نے دریا برد کردیا۔ اس کے بعد حضرت موسیٰ ؑ کو لوگوں کی ہدایت کے لئے تورات ملی۔ دوبارہ مومنوں کے ہاتھوں کافر ہلاک کئے گئے جہاد کے احکام اترے اس طرح عام عذاب سے کوئی امت فرعون اور قوم فرعون یعنی قبطیوں کے بعد ہلاک نہیں ہوئی۔ ایک اور آیت میں فرمان ہے گذشتہ امتوں کی ہلاکت کے بعد ہم نے موسیٰ ؑ کو کتاب عنائت فرمائی جو لوگوں کے لئے بصیرت ہدایت اور رحمت تھی۔ تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں۔
Tafsir Bayan ul Quran - Dr. Israr Ahmad
آیت 47 فَقَالُوْٓا اَنُؤْمِنُ لِبَشَرَیْنِ مِثْلِنَا وَقَوْمُہُمَا لَنَا عٰبِدُوْنَ ” فرعون اور اس کے درباریوں نے حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون علیہ السلام پر ایک اعتراض تو وہی کیا جو حضرت نوح ‘ حضرت ہود اور حضرت صالح علیہ السلام کی قومیں اپنے رسولوں کے بارے میں کرچکی تھیں۔ یعنی یہ کہ وہ ہماری طرح کے انسان ہیں۔ لیکن یہاں ایک دوسرا مسئلہ بھی تھا اور وہ یہ کہ حضرت موسیٰ اور ہارون علیہ السلام کا تعلق فرعون کی محکوم قوم سے تھا۔ بنی اسرائیل مصر میں فرعون کے غلام تھے اور وہ کیسے برداشت کرسکتا تھا کہ اس کی غلام قوم کے دو اشخاص اس کے سامنے کھڑے ہو کر اس سے دو بدو بات کریں۔ سیاق وسباق کے حوالے سے یہاں پر لفظ ”عبادت “ کے اصل مفہوم کو بھی سمجھ لیں۔ ظاہر ہے کہ اس لفظ کا جو مفہوم آج ہمارے ذہنوں میں ہے بنی اسرائیل اس مفہوم میں فرعون یا اس کی قوم کی عبادت نہیں کرتے تھے ‘ یعنی وہ ان کی پرستش یا پوجا نہیں کرتے تھے ‘ بلکہ وہ ان کی اطاعت کرتے تھے اور یہاں فرعون نے اسی اطاعت کو لفظ ” عبادت “ سے تعبیر کیا ہے۔ چناچہ فرعون کے اس جملے کا مطلب یہ ہے کہ ان کی قوم ہماری غلام ہے ‘ ہماری اطاعت شعار ہے ‘ ہم ان پر مطلق اختیار رکھتے ہیں ‘ ہم جو چاہیں انہیں حکم دیں اور جیسا قانون ہم چاہیں ان پر لاگو کریں۔ ہم چاہیں تو ان کے لڑکوں کو قتل کرواتے رہیں اور چاہیں تو ان کی بیٹیوں کو زندہ رہنے دیا کریں۔ یہ لوگ ہمارے غلام اور محکوم ہونے کے باعث ہمارے کسی حکم سے سرتابی کی جرأت نہیں کرسکتے۔
فقالوا أنؤمن لبشرين مثلنا وقومهما لنا عابدون
سورة: المؤمنون - آية: ( 47 ) - جزء: ( 18 ) - صفحة: ( 345 )Surah Muminoon Ayat 47 meaning in urdu
کہنے لگے "کیا ہم اپنے ہی جیسے دو آدمیوں پر ایمان لے آئیں؟ اور آدمی بھی وہ جن کی قوم ہماری بندی ہے"
English | Türkçe | Indonesia |
Русский | Français | فارسی |
تفسير | Bengali | اعراب |
Ayats from Quran in Urdu
- اور جب موسیٰ نے اپنے شاگرد سے کہا کہ جب تک دو دریاؤں کے ملنے
- تو صبر کرو بےشک خدا کا وعدہ سچا ہے اور اپنے گناہوں کی معافی مانگو
- حالانکہ اگر وہ نہ سنورے تو تم پر کچھ (الزام) نہیں
- تاکہ رجوع لانے والے بندے ہدایت اور نصیحت حاصل کریں
- کیا ابھی تک مومنوں کے لئے اس کا وقت نہیں آیا کہ خدا کی یاد
- تو خدا پر اور اس کے رسول پر اور نور (قرآن) پر جو ہم نے
- (روزوں کا مہینہ) رمضان کا مہینہ (ہے) جس میں قرآن (اول اول) نازل ہوا جو
- اور ہم نے اس قرآن میں لوگوں (کے سمجھانے) کے لئے طرح طرح کی مثالیں
- پھر ہم نے ہوا کو ان کے زیرفرمان کردیا کہ جہاں وہ پہنچنا چاہتے ان
- اور جو لوگ مومن مردوں اور مومن عورتوں کو ایسے کام (کی تہمت سے) جو
Quran surahs in English :
Download surah Muminoon with the voice of the most famous Quran reciters :
surah Muminoon mp3 : choose the reciter to listen and download the chapter Muminoon Complete with high quality
Ahmed Al Ajmy
Bandar Balila
Khalid Al Jalil
Saad Al Ghamdi
Saud Al Shuraim
Abdul Basit
Ammar Al-Mulla
Abdullah Basfar
Abdullah Al Juhani
Fares Abbad
Maher Al Muaiqly
Al Minshawi
Al Hosary
Mishari Al-afasi
Yasser Al Dosari
Please remember us in your sincere prayers