قرآن کریم میں علم فلکیات (علم الفلك) کے بارے میں آیات


✅ قرآن کریم کے موضوعات
(29) وہی تو ہے، جس نے تمہارے لیے زمین کی ساری چیزیں پید ا کیں، پھر اوپر کی طرف توجہ فرمائی اور سات آسمان استوار کیے اور وہ ہر چیز کا علم رکھنے والا ہے
سورہ: Al-Baqarah - آیت: 29  - پارہ: 1 - صفحہ: 5
(189) لوگ تم سے چاند کی گھٹتی بڑھتی صورتوں کے متعلق پوچھتے ہیں کہو: یہ لوگوں کے لیے تاریخوں کی تعین کی اور حج کی علامتیں ہیں نیز ان سے کہو: یہ کوئی نیکی کا کام نہیں ہے کہ اپنے گھروں میں پیچھے کی طرف داخل ہوتے ہو نیکی تو اصل میں یہ ہے کہ آدمی اللہ کی ناراضی سے بچے لہٰذا تم اپنے گھروں میں دروازے ہی سے آیا کرو البتہ اللہ سے ڈرتے رہو شاید کہ تمہیں فلاح نصیب ہو جائے
سورہ: Al-Baqarah - آیت: 189  - پارہ: 2 - صفحہ: 29
(5) وہی ہے جس نے سُورج کو اجیالا بنایا اور چاند کو چمک دی اور چاند کے گھٹنے بڑھنے کی منزلیں ٹھیک ٹھیک مقرر کر دیں تاکہ تم اُس سے برسوں اور تاریخوں کے حساب معلوم کرو اللہ نے یہ سب کچھ (کھیل کے طور پر نہیں بلکہ) با مقصد ہی بنایا ہے وہ اپنی نشانیوں کو کھول کھول کر پیش کر رہا ہے اُن لوگوں کے لیے جو علم رکھتے ہیں
سورہ: Yūnus - آیت: 5  - پارہ: 11 - صفحہ: 208
(16) یہ ہماری کار فرمائی ہے کہ آسمان میں ہم نے بہت سے مضبوط قلعے بنائے، اُن کو دیکھنے والوں کے لیے مزین کیا
(17) اور ہر شیطان مردود سے ان کو محفوظ کر دیا
سورہ: Al-Ḥijr - آیت: 16-17 - پارہ: 14 - صفحہ: 263
(12) دیکھو، ہم نے رات اور دن کو دو نشانیاں بنایا ہے رات کی نشانی کو ہم نے بے نور بنایا، اور دن کی نشانی کو روشن کر دیا تاکہ تم اپنے رب کا فضل تلاش کر سکو اور ماہ و سال کا حساب معلوم کر سکو اِسی طرح ہم نے ہر چیز کو الگ الگ ممیز کر کے رکھا ہے
سورہ: Al-Isrā’ - آیت: 12  - پارہ: 15 - صفحہ: 283
(33) اور وہ اللہ ہی ہے جس نے رات اور دن بنائے اور سُورج اور چاند کو پیدا کیا سب ایک ایک فلک میں تیر رہے ہیں
سورہ: Al-Anbiyā’ - آیت: 33  - پارہ: 17 - صفحہ: 324
(17) اور تمہارے اوپر ہم نے سات راستے بنائے، تخلیق کے کام سے ہم کچھ نابلد نہ تھے
سورہ: Al-Mu’minūn - آیت: 17  - پارہ: 18 - صفحہ: 342
(37) اِن کے لیے ایک اور نشانی رات ہے، ہم اُس کے اوپر سے دن ہٹا دیتے ہیں تو اِن پر اندھیرا چھا جاتا ہے
(38) اور سورج، وہ اپنے ٹھکانے کی طرف چلا جا رہا ہے یہ زبردست علیم ہستی کا باندھا ہوا حساب ہے
(39) اور چاند، اُس کے لیے ہم نے منزلیں مقرر کر دی ہیں یہاں تک کہ ان سے گزرتا ہوا وہ پھر کھجور کی سوکھی شاخ کے مانند رہ جاتا ہے
(40) نہ سورج کے بس میں یہ ہے کہ وہ چاند کو جا پکڑے اور نہ رات دن پر سبقت لے جا سکتی ہے سب ایک ایک فلک میں تیر رہے ہیں
سورہ: Yā-Sīn - آیت: 37-38-39-40 - پارہ: 23 - صفحہ: 442
(6) ہم نے آسمان دنیا کو تاروں کی زینت سے آراستہ کیا ہے
(7) اور ہر شیطان سرکش سے اس کو محفوظ کر دیا ہے
(8) یہ شیاطین ملاء اعلیٰ کی باتیں نہیں سن سکتے، ہر طرف سے مارے اور ہانکے جاتے ہیں
سورہ: Aṣ-Ṣāffāt - آیت: 6-7-8 - پارہ: 23 - صفحہ: 446
(5) ہم نے تمہارے قریب کے آسمان کو عظیم الشان چراغوں سے آراستہ کیا ہے اور اُنہیں شیاطین کو مار بھگانے کا ذریعہ بنا دیا ہے اِن شیطانوں کے لیے بھڑکتی ہوئی آگ ہم نے مہیا کر رکھی ہے
سورہ: Al-Mulk - آیت: 5  - پارہ: 29 - صفحہ: 562
(27) کیا تم لوگوں کی تخلیق زیادہ سخت کام ہے یا آسمان کی؟ اللہ نے اُس کو بنایا
(28) اُس کی چھت خوب اونچی اٹھائی پھر اُس کا توازن قائم کیا
سورہ: An-Nāzi‘āt - آیت: 27-28 - پارہ: 30 - صفحہ: 584
(1) قسم ہے آسمان کی اور رات کو نمودار ہونے والے کی
(2) اور تم کیا جانو کہ وہ رات کو نمودار ہونے والا کیا ہے؟
(3) چمکتا ہوا تارا
سورہ: Aṭ-Ṭāriq - آیت: 1-2-3 - پارہ: 30 - صفحہ: 591
(11) قسم ہے بارش برسانے والے آسمان کی
سورہ: Aṭ-Ṭāriq - آیت: 11  - پارہ: 30 - صفحہ: 591


🍃 قرآن کریم میں دیگر موضوعات


Saturday, July 18, 2026

Please remember us in your sincere prayers