Surah Infitar Ayat 18 Tafseer Ibn Katheer Urdu
﴿ثُمَّ مَا أَدْرَاكَ مَا يَوْمُ الدِّينِ﴾
[ الانفطار: 18]
پھر تمہیں کیا معلوم کہ جزا کا دن کیسا ہے؟
Surah Infitar Urduتفسیر احسن البیان - Ahsan ul Bayan
( 1 ) تکرار، اس کی عظمت وضخامت اور اس دن کی ہولناکیوں کی وضاحت کے لئے ہے۔
Tafseer ibn kaseer - تفسیر ابن کثیر
ابرار کا کردار جو لوگ اللہ تعالیٰ کے اطاعت گزار فرمانبردار، گناہوں سے دور رہتے ہیں انہیں اللہ تعالیٰ جنت کی خوش خبری دیتا ہے حدیث میں ہے کہ انہیں ابرار اس لیے کہا جاتا ہے کہ یہ اپنے ماں باپ کے فرمانبردار تھے اور اپنی اولاد کے ساتھ نیک سلوک کرتے تھے، بدکار لوگ دائمی عذاب میں پڑیں گے، قیامت کے دن جو حساب کا اور بدلے کا دن ہے ان کا داخلہ اس میں ہوگا ایک ساعت بھی ان پر عذاب ہلکا نہ ہوگا نہ موت آئے گی نہ راحت ملے گی نہ ایک ذرا سی دیر اس سے الگ ہوں گے۔ پھر قیامت کی بڑائی اور اس دن کی ہولناکی ظاہر کرنے کے لیے دو دو بار فرمایا کہ تمہیں کس چیز نے معلوم کرایا کہ وہ دن کیسا ہے ؟ پھر خود ہی بتلایا کہ اس دن کوئی کسی کو کچھ بھی نفع نہ پہنچا سکے گا نہ عذاب سے نجات دلا سکے گا۔ ہاں یہ اور بات ہے کہ کسی کی سفارش کی اجازت خود اللہ تبارک و تعالیٰ عطا فرمائے۔ اس موقعہ پر یہ حدیث وارد کرنی بالکل مناسب ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اے بنو ہاشم اپنی جانوں کو جہنم سے بچانے کے لیے نیک اعمال کی تیاریاں کرلو میں تمہیں اس دن اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بچانے کا اختیار نہیں رکھتا۔ یہ حدیث سورة شعراء کی تفسیر کے آخر میں گزر چکی ہے۔ یہاں بھی فرمایا کہ اس دن امر محض اللہ کا ہی ہوگا۔ جیسے اور جگہ ہے آیت ( لِمَنِ الْمُلْكُ الْيَوْمَ ۭ لِلّٰهِ الْوَاحِدِ الْقَهَّارِ 16 ) 40۔ غافر:16) اور جگہ ارشاد ہے آیت ( اَلْمُلْكُ يَوْمَىِٕذِۨ الْحَقُّ للرَّحْمٰنِ ۭ وَكَانَ يَوْمًا عَلَي الْكٰفِرِيْنَ عَسِيْرًا 26 ) 25۔ الفرقان:26) اور فرمایا آیت ( مٰلِكِ يَوْمِ الدِّيْنِ ۭ ) 1۔ الفاتحة :4) مطلب سب کا یہی ہے کہ ملک و ملکیت اس دن صرف اللہ واحد قہار و رحمٰن کی ہی ہوگی۔ گو آج بھی اسی کی ملکیت ہے وہ ہی تنہا مالک ہے اسی کا حکم چلتا ہے مگر وہاں ظاہر داری حکومت، ملکیت اور امر بھی نہ ہوگا۔ سورة انفطار کی تفسیر ختم ہوئی۔ فالحمد اللہ۔
Tafsir Bayan ul Quran - Dr. Israr Ahmad
آیت 16{ وَمَا ہُمْ عَنْہَا بِغَـآئِبِیْنَ۔ } ” اور وہ اس سے کہیں غائب نہیں ہو سکیں گے۔ “ ظاہر ہے جہنم سے بھاگ نکلنے کا نہ کوئی راستہ ہوگا اور نہ ہی کسی میں بھاگ جانے کی طاقت ہوگی۔
Surah Infitar Ayat 18 meaning in urdu
ہاں، تمہیں کیا خبر کہ وہ جزا کا دن کیا ہے؟
English | Türkçe | Indonesia |
Русский | Français | فارسی |
تفسير | Bengali | اعراب |
Ayats from Quran in Urdu
- اور (اے بندے یہ) اسی کی قدرت کے نمونے ہیں کہ تو زمین کو دبی
- ابولہب کے ہاتھ ٹوٹیں اور وہ ہلاک ہو
- کہیں گے کہ اس سے پہلے ہم اپنے گھر میں (خدا سے) ڈرتے رہتے تھے
- تو شیطان نے ان کے دل میں وسوسہ ڈالا۔ (اور) کہا کہ آدم بھلا میں
- اور جو لوگ ہماری آیتوں کی تکذیب کرتے تھے ان پر نصرت بخشی۔ وہ بےشک
- (کہ ہائے) ہم تو مفت تاوان میں پھنس گئے
- یہ خدا کی قسمیں کھاتے ہیں کہ انہوں نے (تو کچھ) نہیں کہا حالانکہ انہوں
- اور ہم ہر ایک اُمت میں سے گواہ نکال لیں گے پھر کہیں گے کہ
- پھر وہ (عبادت کے) حجرے سے نکل کر اپنی قوم کے پاس آئے تو ان
- اور صبح کی جب روشن ہو
Quran surahs in English :
Download surah Infitar with the voice of the most famous Quran reciters :
surah Infitar mp3 : choose the reciter to listen and download the chapter Infitar Complete with high quality
Ahmed Al Ajmy
Bandar Balila
Khalid Al Jalil
Saad Al Ghamdi
Saud Al Shuraim
Abdul Basit
Ammar Al-Mulla
Abdullah Basfar
Abdullah Al Juhani
Fares Abbad
Maher Al Muaiqly
Al Minshawi
Al Hosary
Mishari Al-afasi
Yasser Al Dosari
Please remember us in your sincere prayers