Surah yaseen Ayat 32 Tafseer Ibn Katheer Urdu
﴿وَإِن كُلٌّ لَّمَّا جَمِيعٌ لَّدَيْنَا مُحْضَرُونَ﴾
[ يس: 32]
اور سب کے سب ہمارے روبرو حاضر کيے جائیں گے
Surah yaseen Urduتفسیر احسن البیان - Ahsan ul Bayan
( 1 ) اس میں إِنْ نافیہ ہے اور لَمَّا، إِلا کے معنی میں۔ مطلب یہ ہے کہ تمام لوگ گزشتہ بھی اور آئندہ آنے والے بھی، سب اللہ کی بارگاہ میں حاضر ہوں گے جہاں ان کا حساب کتاب ہوگا۔
Tafseer ibn kaseer - تفسیر ابن کثیر
منکرین کی ندامت۔بندوں پر حسرت و افسوس ہے۔ بندے کل اپنے اوپر کیسے نادم ہوں گے۔ بار بار کہیں گے کہ ہائے افسوس ہم نے تو خود اپنا برا کیا۔ بعض قرأتوں میں یا حسرۃ العباد علی انفسھا بھی ہے مطلب یہ ہے کہ قیامت کے دن عذابوں کو دیکھ کر ہاتھ ملیں گے کہ انہوں نے کیوں رسولوں کو جھٹلایا ؟ اور کیوں اللہ کے فرمان کے خلاف کیا ؟ دنیا میں تو ان کا یہ حال تھا کہ جب کبھی جو رسول آیا انہوں نے بلا تامل جھٹلایا اور دل کھول کر ان کی بےادبی اور توہین کی۔ وہ اگر یہاں تامل کرتے تو سمجھ لیتے کہ ان سے پہلے جن لوگوں نے پیغمبروں کی نہ مانی تھی وہ غارت و برباد کردیئے گئے ان کی دھجیاں اڑا دی گئیں۔ ایک بھی تو ان میں سے نہ بچ سکا نہ اس دار آخرت سے کوئی واپس پلٹا۔ اس میں ان لوگوں کی بھی تردید ہے جو دہریہ تھے جن کا خیال تھا کہ یونہی دنیا میں مرتے جیتے چلے جائیں گے، لوٹ لوٹ کر اس دنیا میں آئیں گے۔ تمام گذرے ہوئے موجود اور آنے والے لوگ قیامت کے دن اللہ کے سامنے حساب و کتاب کے لئے حاضر کئے جائیں گے اور وہاں ہر ایک بھلائی برائی کا بدلہ پائیں گے جیسے اور آیت میں فرمایا ( وَاِنَّ كُلًّا لَّمَّا لَيُوَفِّيَنَّهُمْ رَبُّكَ اَعْمَالَهُمْ ۭ اِنَّهٗ بِمَا يَعْمَلُوْنَ خَبِيْرٌ01101 ) 11۔ ھود :111) یعنی ہر شخص کو اس کے اعمال کا پورا پورا بدلہ تیرا رب عطا فرمائے گا، ایک قرأت میں لما ہے تو، ان، اثبات کے لئے ہوگا، اور لما پڑھنے کے وقت، ان، نافیہ ہوگا اور لما معنی میں الا کے ہوگا تو مطلب آیت کا یہ ہوگا کہ نہیں ہیں سب مگر یہ کہ سب کے سب ہمارے سامنے حاضر شدہ ہیں دوسری قرأت کی صورت میں بھی مطلب یہی رہے گا۔ واللہ سبحان و تعالیٰ اعلم۔
Tafsir Bayan ul Quran - Dr. Israr Ahmad
آیت 32 { وَاِنْ کُلٌّ لَّمَّا جَمِیْعٌ لَّدَیْنَا مُحْضَرُوْنَ } ” اور وہ سب کے سب ہمارے ہی سامنے حاضر کیے جائیں گے۔ “ اگرچہ دنیا میں واپس آنے کی تو انہیں اجازت نہیں مگر وہ معدوم نہیں ہوئے۔ عالم برزخ میں وہ سب کے سب اب بھی موجود ہیں اور وقت آنے پر ان میں سے ایک ایک کو پکڑ کر اللہ تعالیٰ کے حضور حاضر کردیا جائے گا۔
Surah yaseen Ayat 32 meaning in urdu
ان سب کو ایک روز ہمارے سامنے حاضر کیا جانا ہے
| English | Türkçe | Indonesia |
| Русский | Français | فارسی |
| تفسير | Bengali | اعراب |
Ayats from Quran in Urdu
- وہ کہیں گے اے پروردگار جو اس کو ہمارے سامنے لایا ہے اس کو دوزخ
- ان سے پہلے نوح کی قوم اور کنوئیں والے اور ثمود جھٹلا چکے ہیں
- وہ کہنے لگے کہ ہم بتوں کو پوجتے ہیں اور ان کی پوجا پر قائم
- اور تمہارا مال اور اولاد ایسی چیز نہیں کہ تم کو ہمارا مقرب بنا دیں۔
- اور تمہارا پروردگار (جلوہ فرما ہو گا) اور فرشتے قطار باندھ باندھ کر آ موجود
- اور جب تم ان (کے تناسب اعضا) کو دیکھتے ہو تو ان کے جسم تمہیں
- یہی وہ چیز ہے جس کا تم سے وعدہ کیا جاتا تھا (یعنی) ہر رجوع
- جن لوگوں نے ہماری آیتوں سے کفر کیا ان کو ہم عنقریب آگ میں داخل
- پس تمہاری طرف جو وحی کی گئی ہے اس کو مضبوط پکڑے رہو۔ بےشک تم
- اور (خدائے) غالب اور مہربان پر بھروسا رکھو
Quran surahs in English :
Download surah yaseen with the voice of the most famous Quran reciters :
surah yaseen mp3 : choose the reciter to listen and download the chapter yaseen Complete with high quality
Ahmed Al Ajmy
Bandar Balila
Khalid Al Jalil
Saad Al Ghamdi
Saud Al Shuraim
Abdul Basit
Ammar Al-Mulla
Abdullah Basfar
Abdullah Al Juhani
Fares Abbad
Maher Al Muaiqly
Al Minshawi
Al Hosary
Mishari Al-afasi
Yasser Al Dosari
Please remember us in your sincere prayers



