قرآن کریم میں سعیر (بھڑکتی ہوئی آگ) کے بارے میں آیات


✅ قرآن کریم کے موضوعات
(10) جو لوگ ظلم کے ساتھ یتیموں کے مال کھاتے ہیں در حقیقت وہ اپنے پیٹ آگ سے بھرتے ہیں اور وہ ضرور جہنم کی بھڑکتی ہوئی آگ میں جھونکے جائیں گے
سورہ: An-Nisā’ - آیت: 10  - پارہ: 4 - صفحہ: 78
(55) مگر ان میں سے کوئی اس پر ایمان لایا اور کوئی اس سے منہ موڑ گیا، اور منہ موڑ نے والوں کے لیے تو بس جہنم کی بھڑکتی ہوئی آگ ہی کافی ہے
سورہ: An-Nisā’ - آیت: 55  - پارہ: 5 - صفحہ: 87
(4) حالانکہ اُس کے تو نصیب ہی میں یہ لکھا ہے کہ جو اس کو دوست بنائے گا اسے وہ گمراہ کر کے چھوڑے گا اور عذاب جہنّم کا راستہ دکھائے گا
سورہ: Al-Ḥajj - آیت: 4  - پارہ: 17 - صفحہ: 332
(11) اصل بات یہ ہے کہ یہ لوگ "اُس گھڑی" کو جھٹلا چکے ہیں اور جو اُس گھڑی کو جھٹلائے اس کے لیے ہم نے بھڑکتی ہوئی آگ مہیا کر رکھی ہے
سورہ: Al-Furqān - آیت: 11  - پارہ: 18 - صفحہ: 360
(21) اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ پیروی کرو اُس چیز کی جو اللہ نے نازل کی ہے تو کہتے ہیں کہ ہم تو اُس چیز کی پیروی کریں گے جس پر ہم نے اپنے باپ دادا کو پایا ہے کیا یہ انہی کی پیروی کریں گے خواہ شیطان اُن کو بھڑکتی ہوئی آگ ہی کی طرف کیوں نہ بلاتا رہا ہو؟
سورہ: Luqmān - آیت: 21  - پارہ: 21 - صفحہ: 413
(64) بہرحال یہ یقینی امر ہے کہ اللہ نے کافروں پر لعنت کی ہے اور ان کے لیے بھڑکتی ہوئی آگ مہیا کر دی ہے
سورہ: Al-Aḥzāb - آیت: 64  - پارہ: 22 - صفحہ: 427
(6) در حقیقت شیطان تمہارا دشمن ہے اس لیے تم بھی اسے اپنا دشمن ہی سمجھو وہ تو اپنے پیروؤں کو اپنی راہ پر اس لیے بلا رہا ہے کہ وہ دوزخیوں میں شامل ہو جائیں
سورہ: Fāṭir - آیت: 6  - پارہ: 22 - صفحہ: 435
(7) ہاں، اِسی طرح اے نبیؐ، یہ قرآن عربی ہم نے تمہاری طرف وحی کیا ہے تاکہ تم بستیوں کے مرکز (شہر مکہ) اور اُس کے گرد و پیش رہنے والوں کو خبردار کر دو، اور جمع ہونے کے دن سے ڈرا دو جن کے آنے میں کوئی شک نہیں ایک گروہ کو جنت میں جانا ہے اور دوسرے گروہ کو دوزخ میں
سورہ: Ash-Shūra - آیت: 7  - پارہ: 25 - صفحہ: 483
(13) اللہ اور اس کے رسول پر جو لوگ ایمان نہ رکھتے ہوں ایسے کافروں کے لیے ہم نے بھڑکتی ہوئی آگ مہیا کر رکھی ہے
سورہ: Al-Fatḥ - آیت: 13  - پارہ: 26 - صفحہ: 512
(24) اور کہنے لگے "ایک اکیلا آدمی جو ہم ہی میں سے ہے کیا اب ہم اُس کے پیچھے چلیں؟ اِس کا اتباع ہم قبول کر لیں تو اِس کے معنی یہ ہوں گے کہ ہم بہک گئے ہیں اور ہماری عقل ماری گئی ہے
سورہ: Al-Qamar - آیت: 24  - پارہ: 27 - صفحہ: 529
(47) یہ مجرم لوگ در حقیقت غلط فہمی میں میں مبتلا ہیں اور اِن کی عقل ماری گئی ہے
سورہ: Al-Qamar - آیت: 47  - پارہ: 27 - صفحہ: 530
(5) ہم نے تمہارے قریب کے آسمان کو عظیم الشان چراغوں سے آراستہ کیا ہے اور اُنہیں شیاطین کو مار بھگانے کا ذریعہ بنا دیا ہے اِن شیطانوں کے لیے بھڑکتی ہوئی آگ ہم نے مہیا کر رکھی ہے
سورہ: Al-Mulk - آیت: 5  - پارہ: 29 - صفحہ: 562
(10) اور وہ کہیں گے "کاش ہم سنتے یا سمجھتے تو آج اِس بھڑکتی ہوئی آگ کے سزا واروں میں نہ شامل ہوتے"
(11) اس طرح وہ اپنے قصور کا خود اعتراف کر لیں گے، لعنت ہے ان دوزخیوں پر
سورہ: Al-Mulk - آیت: 10-11 - پارہ: 29 - صفحہ: 562
(4) کفر کرنے والوں کے لیے ہم نے زنجیریں اور طوق اور بھڑکتی ہوئی آگ مہیا کر رکھی ہے
سورہ: Al-Insān - آیت: 4  - پارہ: 29 - صفحہ: 578
(12) اور بھڑکتی ہوئی آگ میں جا پڑے گا
سورہ: Al-Inshiqāq - آیت: 12  - پارہ: 30 - صفحہ: 589


🍃 قرآن کریم میں دیگر موضوعات


Saturday, July 18, 2026

Please remember us in your sincere prayers