قرآن کریم میں یقین کے بارے میں آیات


✅ قرآن کریم کے موضوعات
(4) جو کتاب تم پر نازل کی گئی ہے (یعنی قرآن) اور جو کتابیں تم سے پہلے نازل کی گئی تھیں ان سب پر ایمان لاتے ہیں اور آخرت پر یقین رکھتے ہیں
سورہ: Al-Baqarah - آیت: 4  - پارہ: 1 - صفحہ: 2
(118) نادان کہتے ہیں کہ اللہ خود ہم سے بات کیوں نہیں کرتا یا کوئی نشانی ہمارے پاس کیوں نہیں آتی؟ ایسی ہی باتیں اِن سے پہلے لوگ بھی کیا کرتے تھے اِن سب (اگلے پچھلے گمراہوں) کی ذہنیتیں ایک جیسی ہیں یقین لانے والوں کے لیے تو ہم نشانیاں صاف صاف نمایاں کر چکے ہیں
سورہ: Al-Baqarah - آیت: 118  - پارہ: 1 - صفحہ: 18
(50) (اگر یہ خدا کے قانون سے منہ موڑتے ہیں) تو کیا پھر جاہلیت کا فیصلہ چاہتے ہیں؟ حالانکہ جو لوگ اللہ پر یقین رکھتے ہیں ان کے نزدیک اللہ سے بہتر فیصلہ کرنے والا کوئی نہیں ہے
سورہ: Al-Mā’idah - آیت: 50  - پارہ: 6 - صفحہ: 116
(75) ابراہیمؑ کو ہم اِسی طرح زمین اور آسمانوں کا نظام سلطنت دکھاتے تھے اور اس لیے دکھاتے تھے کہ وہ یقین کرنے والوں میں سے ہو جائے
سورہ: Al-An‘ām - آیت: 75  - پارہ: 7 - صفحہ: 137
(2) وہ اللہ ہی ہے جس نے آسمانوں کو ایسے سہاروں کے بغیر قائم کیا جو تم کو نظر آتے ہو ں، پھر وہ اپنے تخت سلطنت پر جلوہ فرما ہوا، اور اُس نے آفتاب و ماہتاب کو ایک قانون کا پابند بنایا اِس سارے نظام کی ہر چیز ایک وقت مقرر تک کے لیے چل رہی ہے اور اللہ ہی اِس سارے کام کی تدبیر فرما رہا ہے وہ نشانیاں کھول کھول کر بیان کرتا ہے، شاید کہ تم اپنے رب کی ملاقات کا یقین کرو
سورہ: Ar-Ra‘d - آیت: 2  - پارہ: 13 - صفحہ: 249
(99) اور اُس آخری گھڑی تک اپنے رب کی بندگی کرتے رہو جس کا آنا یقینی ہے
سورہ: Al-Ḥijr - آیت: 99  - پارہ: 14 - صفحہ: 267
(3) جو نماز قائم کرتے اور زکوٰۃ دیتے ہیں، اور پھر وہ ایسے لوگ ہیں جو آخرت پر پورا یقین رکھتے ہیں
سورہ: An-Naml - آیت: 3  - پارہ: 19 - صفحہ: 377
(82) اور جب ہماری بات پُوری ہونے کا وقت اُن پر آ پہنچے گا تو ہم ان کے لیے ایک جانور زمین سے نکالیں گے جو ان سے کلام کرے گا کہ لوگ ہماری آیات پر یقین نہیں کرتے تھے
سورہ: An-Naml - آیت: 82  - پارہ: 20 - صفحہ: 384
(24) اور جب انہوں نے صبر کیا اور ہماری آیات پر یقین لاتے رہے تو ان کے اندر ہم نے ایسے پیشوا پیدا کیے جو ہمارے حکم سے رہنمائی کرتے تھے
سورہ: As-Sajdah - آیت: 24  - پارہ: 21 - صفحہ: 417
(7) آسمانوں اور زمین کا رب اور ہر اُس چیز کا رب جو آسمان و زمین کے درمیان ہے اگر تم لوگ واقعی یقین رکھنے والے ہو
سورہ: Ad-Dukhān - آیت: 7  - پارہ: 25 - صفحہ: 496
(4) اور تمہاری اپنی پیدائش میں، اور اُن حیوانات میں جن کو اللہ (زمین میں) پھیلا رہا ہے، بڑی نشانیاں ہیں اُن لوگوں کے لیے جو یقین لانے والے ہیں
سورہ: Al-Jāthiyah - آیت: 4  - پارہ: 25 - صفحہ: 499
(20) یہ بصیرت کی روشنیاں ہیں سب لوگوں کے لیے اور ہدایت اور رحمت اُن لوگوں کے لیے جو یقین لائیں
سورہ: Al-Jāthiyah - آیت: 20  - پارہ: 25 - صفحہ: 500
(32) اور جب کہا جاتا تھا کہ اللہ کا وعدہ برحق ہے اور قیامت کے آنے میں کوئی شک نہیں، تو تم کہتے تھے کہ ہم نہیں جانتے قیامت کیا ہوتی ہے، ہم تو بس ایک گمان سا رکھتے ہیں، یقین ہم کو نہیں ہے"
سورہ: Al-Jāthiyah - آیت: 32  - پارہ: 25 - صفحہ: 501
(15) حقیقت میں تو مومن وہ ہیں جو اللہ اور اُس کے رسول پر ایمان لائے پھر انہوں نے کوئی شک نہ کیا اور اپنی جانوں اور مالوں سے اللہ کی راہ میں جہاد کیا وہی سچے لوگ ہیں
سورہ: Al-Ḥujurāt - آیت: 15  - پارہ: 26 - صفحہ: 517
(20) زمین میں بہت سی نشانیاں ہیں یقین لانے والوں کے لیے
سورہ: Adh-Dhāriyāt - آیت: 20  - پارہ: 26 - صفحہ: 521
(36) یا زمین اور آسمانوں کو اِنہوں نے پیدا کیا ہے؟ اصل بات یہ ہے کہ یہ یقین نہیں رکھتے
سورہ: Aṭ-Ṭūr - آیت: 36  - پارہ: 27 - صفحہ: 525
(95) یہ سب کچھ قطعی حق ہے
سورہ: Al-Wāqi‘ah - آیت: 95  - پارہ: 27 - صفحہ: 537
(5) ہرگز نہیں، اگر تم یقینی علم کی حیثیت سے (اِس روش کے انجام کو) جانتے ہوتے (تو تمہارا یہ طرز عمل نہ ہوتا)
(6) تم دوزخ دیکھ کر رہو گے
(7) پھر (سن لو کہ) تم بالکل یقین کے ساتھ اُسے دیکھ لو گے
سورہ: At-Takāthur - آیت: 5-6-7 - پارہ: 30 - صفحہ: 600


🍃 قرآن کریم میں دیگر موضوعات


Saturday, July 18, 2026

Please remember us in your sincere prayers