Surah Saffat Ayat 172 Tafseer Ibn Katheer Urdu
﴿إِنَّهُمْ لَهُمُ الْمَنصُورُونَ﴾
[ الصافات: 172]
کہ وہی (مظفرو) منصور ہیں
Surah Saffat UrduTafseer ibn kaseer - تفسیر ابن کثیر
عذاب الٰہی آ کر رہے گا۔ ارشاد باری ہے کہ ہم تو اگلی کتابوں میں بھی لکھ آئے ہیں پہلے نبیوں کی زبانی بھی دنیا کو سنا چکے ہیں کہ دنیا اور آخرت میں ہمارے رسول اور ان کے تابعداروں ہی کا انجام بہتر ہوتا ہے جیسے فرمایا ( كَتَبَ اللّٰهُ لَاَغْلِبَنَّ اَنَا وَرُسُلِيْ ۭ اِنَّ اللّٰهَ قَوِيٌّ عَزِيْزٌ 21 ) 58۔ المجادلة :21) ، اور فرمایا ( اِنَّا لَنَنْصُرُ رُسُلَنَا وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا فِي الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا وَيَوْمَ يَقُوْمُ الْاَشْهَادُ 51ۙ ) 40۔ غافر:51) یعنی میں میرے رسول اور ایماندار ہی دونوں جہان میں غالب رہیں گے۔ یہاں بھی یہی فرمایا کہ رسولوں سے ہمارا وعدہ ہوچکا ہے۔ کہ وہ منصور ہیں۔ ہم خود ان کی مدد کریں گے۔ دیکھتے چلے آؤ کہ ان کے دشمن کس طرح خاک میں ملا دیئے گئے ؟ یاد رکھو ہمارا لشکر ہی غالب رہے گا۔ انجام کار انہی کے ہاتھ رہے گا۔ تو ایک وقت مقررہ تک صبر و استقامت سے معاملہ دیکھتا رہ ان کی ایذاؤں پر صبر کر ہم تجھے ان سب پر غالب کردیں گے۔ دنیا نے دیکھ لیا کہ یہی ہوا بھی تو انہیں دیکھتا رہ کہ کس طرح اللہ کی پکڑ ان پر نازل ہوتی ہے ؟ اور کس طرح یہ ذلت و توہین کے ساتھ پکڑ لئے جاتے ہیں ؟ یہ خود ان تمام رسوائیوں کو ابھی ابھی دیکھ لیں گے۔ تعجب سا تعجب ہے کہ یہ طرح طرح کے چھوٹے چھوٹے عذابوں کی گرفت کے باوجود ابھی تک بڑے عذاب کو محال جانتے ہوئے کہتے ہیں کہ وہ کب آئے گا ؟ پس انہیں جواب ملتا ہے کہ جب عذاب ان کے میدانوں میں، محلوں میں، انگنائیوں میں آئے گا وہ دن ان پر بڑا ہی بھاری دن ہوگا۔ یہ ہلاک اور برباد کردیئے جائیں گے۔ صحیح بخاری شریف میں ہے کہ خیبر کے میدانوں میں حضور ﷺ کا لشکر صبح ہی صبح کفار کی بیخبر ی میں پہنچ گیا وہ لوگ حسب عادت اپنی کھیتیوں کے آلات لے کر شہر سے نکلے اور اس اللہ کی فوج کو دیکھ کر بھاگے اور شہر والوں کو خبر کی اس وقت آپ نے یہی فرمایا کہ اللہ بہت بڑا ہے خیبر خراب ہوا۔ ہم جب کسی قوم کے میدان میں اتر آتے ہیں اس وقت ان کی درگت ہوتی ہے۔ پھر دوبارہ پہلے حکم کی تاکید کی کہ تو ان سے ایک مدت معین تک کے لئے بےپرواہ ہوجا اور انہیں چھوڑ دے اور دیکھتا رہ یہ بھی دیکھ لیں گے۔
Tafsir Bayan ul Quran - Dr. Israr Ahmad
آیت 172{ اِنَّہُمْ لَہُمُ الْمَنْصُوْرُوْنَ } ” کہ ان کی لازماً مدد کی جائے گی۔ “ یعنی رسولوں کی ضرور مدد کی جائے گی اور وہ علیہ السلام لازمی طور پر غالب ہو کر رہیں گے۔ آیت کے ترجمے میں اگرچہ مستقبل کا صیغہ استعمال کیا گیا ہے ‘ لیکن اصل میں تو اللہ تعالیٰ کے اس قاعدے اور قانون پر عمل ماضی میں ہوتا رہا ہے اور محمد رسول اللہ ﷺ پر آکر یہ سلسلہ ختم ہوچکا ہے۔
Surah Saffat Ayat 172 meaning in urdu
کہ یقیناً ان کی مدد کی جائے گی
English | Türkçe | Indonesia |
Русский | Français | فارسی |
تفسير | Bengali | اعراب |
Ayats from Quran in Urdu
- انہوں نے کہا کہ میرے پروردگار میں ڈرتا ہوں کہ یہ مجھے جھوٹا سمجھیں
- جن میں (مستحکم) آیتیں لکھی ہوئی ہیں
- اور تمہیں پروردگار عنقریب وہ کچھ عطا فرمائے گا کہ تم خوش ہو جاؤ گے
- وہ تو مال سے سخت محبت کرنے والا ہے
- کچھ شک نہیں کہ خدا ہی میرا اور تمہارا پروردگار ہے پس اسی کی عبادت
- اور بادل کا تم پر سایہ کئے رکھا اور (تمہارے لیے) من و سلویٰ اتارتے
- بےشک اس (قصے) میں اہل فراست کے لیے نشانی ہے
- اور اگر ہم چاہیں تو ان کی جگہ پر ان کی صورتیں بدل دیں پھر
- یہی اہل جنت ہیں کہ ہمیشہ اس میں رہیں گے۔ (یہ) اس کا بدلہ (ہے)
- تو یہ کیوں خدا کے آگے توبہ نہیں کرتے اور اس سے گناہوں کی معافی
Quran surahs in English :
Download surah Saffat with the voice of the most famous Quran reciters :
surah Saffat mp3 : choose the reciter to listen and download the chapter Saffat Complete with high quality
Ahmed Al Ajmy
Bandar Balila
Khalid Al Jalil
Saad Al Ghamdi
Saud Al Shuraim
Abdul Basit
Ammar Al-Mulla
Abdullah Basfar
Abdullah Al Juhani
Fares Abbad
Maher Al Muaiqly
Al Minshawi
Al Hosary
Mishari Al-afasi
Yasser Al Dosari
Please remember us in your sincere prayers