Surah Jinn Ayat 2 Tafseer Ibn Katheer Urdu

  1. Arabic
  2. Ahsan ul Bayan
  3. Ibn Kathir
  4. Bayan Quran
Quran pak urdu online Tafseer Ibn Katheer Urdu Translation القرآن الكريم اردو ترجمہ کے ساتھ سورہ الجن کی آیت نمبر 2 کی تفسیر, Dr. Israr Ahmad urdu Tafsir Bayan ul Quran & best tafseer of quran in urdu: surah Jinn ayat 2 best quran tafseer in urdu.
  
   

﴿يَهْدِي إِلَى الرُّشْدِ فَآمَنَّا بِهِ ۖ وَلَن نُّشْرِكَ بِرَبِّنَا أَحَدًا﴾
[ الجن: 2]

Ayat With Urdu Translation

جو بھلائی کا رستہ بتاتا ہے سو ہم اس پر ایمان لے آئے۔ اور ہم اپنے پروردگار کے ساتھ کسی کو شریک نہیں بنائیں گے

Surah Jinn Urdu

تفسیر احسن البیان - Ahsan ul Bayan


( 1 ) یہ قرآن کی دوسری صفت ہے کہ وہ راہ راست یعنی حق کو واضح کرتا ہے یا اللہ کی معرفت عطا کرتا ہے۔
( 2 ) یعنی ہم نے سن کر اس بات کی تصدیق کر دی کہ واقعی یہ اللہ کا کلام ہے کسی انسان کا نہیں اس میں کفار کو توبیخ وتنبیہ ہے کہ جن تو ایک مرتبہ ہی سن کر قرآن پر ایمان لے آئے تھیڑی سی آیات دن کر ہی ان کا کایا پلٹ گئی اور وہ یہ بھی سمجھ گئے کہ یہ کسی انسان کا بنایا ہواکلام نہیں ہےلیکن انسانوں کو، خاص کر ان کے سرداروں کو اس قرآن سے کوئی فائدہ نہیں ہوا حالانکہ نبی ( صلى الله عليه وسلم ) کی زبان مبارک سے متعدد بار انہوں نے قرآن سنا۔ علاوہ ازیں خو د آپ ( صلى الله عليه وسلم ) بھی ان ہی میں سے تھے اور ان ہی کی زبان میں آپ ان کو قرآن سناتے تھے۔
( 3 ) نہ مخلوق میں سے نہ کسی اور معبود کو اس لیے کہ وہ اپنی ربوبیت میں متفرد ہے۔

Tafseer ibn kaseer - تفسیر ابن کثیر


جنات پر قرآن حکیم کا اثر اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے رسول حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ سے فرماتا ہے کہ اپنی قوم کو اس واقعہ کی اطلاع دو کہ جنوں نے قرآن کریم سنا اسے سچا مانا اس پر ایمان لائے اور اس کے مطیع بن گئے، فرماتا ہے کہ اے نبی ﷺ تم کہو میری طرف وحی کی گئی کہ جنوں کی ایک جماعت نے قرآن کریم سنا اور اپنی قوم میں جا کر خبر دی کہ آج ہم نے عجیب و غریب کتاب سنی جو سچا اور نجات کا راستہ بتاتی ہے ہم تو اسے مان چکے ناممکن ہے کہ اب ہم اللہ کے ساتھ کسی اور کی عبادت کریں۔ یہی مضمون آیتوں میں گذر چکا ہے آیت ( واذ صرفنا الیک الخ، یعنی جبکہ ہم نے جنوں کی ایک جماعت کو تیری طرف لوٹایا کہ وہ قرآں سنیں اور اس کی تفسیر احادیث سے وہیں ہم بیان کرچکے ہیں یہاں لوٹانے کی ضرورت نہیں، پھر یہ جنات اپنی قوم سے فرماتے ہیں کہ ہم رب کے کام قدرت والے اس کے احکام بہت بلند وبالا، بڑا ذیشان اور ذی عزت ہے، اس کی نعمتیں، قدرتیں اور مخلوق پر مہربانیاں بہت باوقعت ہیں اس کی جلالت و عظمت بلند پایہ ہے اس کا جلال و اکرام بڑھا چڑھا ہے اس کا ذکر بلند رتبہ ہے اس کی شان اعلیٰ ہے، ایک روایت میں حضرت ابن عباس سے مروی ہے کہ (جد ) کہتے ہیں باپ کو۔ اگر جنات کو یہ علم ہوتا کہ انسانوں میں جد ہوتا ہے تو وہ اللہ کی نسبت یہ لفظ نہ کہتے، یہ قول گو سنداً قوی ہے لیکن کلام بنتا نہیں اور کوئی مطلب سمجھ میں نہیں آتا ممکن ہے اس میں کچھ کلام چھوٹ گیا ہو واللہ اعلم، پھر اپنی قوم سے کہتے ہیں کہ اللہ اس سے پاک اور برتر ہے کہ اس کی بیوی ہو یا اس کی اولاد ہو، پھر کہتے ہیں کہ ہمارا بیوقوف یعنی شیطان اللہ پر جھوٹ تہمت رکھتا ہے اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ مراد اس سے عام ہو یعنی جو شخص اللہ کی اولاد اور بیوی ثابت کرتا ہے بےعقل ہے، جھوٹ بکتا ہے، باطل عقیدہ رکھتا ہے اور ظالمانہ بات منہ سے نکالتا ہے، پھر فرماتے ہیں کہ ہم تو اسی خیال میں تھے کہ جن وانس اللہ پر جھوٹ نہیں باندھ سکتے لیکن قرآن سن کر معلوم ہوا کہ یہ دونوں جماعتیں رب العالمین پر تہمت رکھتی تھیں دراصل اللہ کی ذات اس عیب سے پاک ہے، پھر کہتے ہیں کہ جنات کے زیادہ بہکنے کا سبب یہ ہوا کہ وہ دیکھتے تھے کہ انسان جب کبھی کسی جنگل یا ویرانے میں جاتے ہیں تو جنات کی پناہ طلب کیا کرتے ہیں، جیسے کہ جاہلیت کے زمانہ کے عرب کی عادت تھی کہ جب کبھی کسی پڑاؤ پر اترتے تو کہتے کہ اس جنگل کے بڑے جن کی پناہ میں ہم آتے ہیں اور سمجھتے تھے کہ ایسا کہہ لینے کے بعد تمام جنات کے شر سے ہم محفوظ ہوجاتے ہیں جس طرح کسی شہر میں جاتے تو وہاں کے بڑے رئیس کی پناہ لے لیتے تاکہ شہر کے اور دشمن لوگ انہیں ایذاء نہ پہنچائیں، جنوں نے جب یہ دیکھا کہ انسان بھی ہماری پناہ لیتے ہیں تو ان کی سرکشی اور بڑھ گئی اور انہوں نے اور بری طرح انسانوں کو ستانا شروع کیا اور یہ بھی مطلب ہوسکتا ہے کہ جنات نے یہ حالت دیکھ کر انسانوں کو اور خوف زدہ کرنا شروع کیا اور انہیں طرح طرح سے ستانے لگے۔ دراصل جنات انسانوں سے ڈرا کرتے تھے جیسے کہ انسان جنوں سے بلکہ اس سے بھی زیادہ یہاں تک کہ جس جنگل بیابان میں انسان جا پہنچتا تھا وہاں سے جنات بھاگ کھڑے ہوتے تھے لیکن جب سے اہل شرک نے خود ان سے پناہ مانگنی شروع کی اور کہنے لگے کہ اس وادی کے سردار جن کی پناہ میں ہم آتے ہیں اس سے کہ ہمیں ہماری اولاد و مال کو کوئی ضرر نہ پہنچے اب جنوں نے سمجھا کہ یہ تو خود ہم سے ڈرتے ہیں تو ان کی جرات بڑھ گئی اور اب طرح طرح سے ڈرانا ستانا اور چھیڑنا انہوں نے شروع کیا، وہ گناہ، خوف، طغیانی اور سرکشی میں اور بڑھ گئے۔ کردم بن ابو سائب انصاری کہتے ہیں میں اپنے والد کے ہمراہ مدینہ سے کسی کام کے لئے باہر نکلا اس وقت حضور ﷺ کی بعثت ہوچکی تھی اور مکہ شریف میں آپ بحیثیت پیغمبر ظاہر ہوچکے تھے رات کے وقت ہم ایک چرواہے کے پاس جنگل میں ٹھہر گئے آدھی رات کے وقت ایک بھیڑیا آیا اور بکری اٹھا کرلے بھاگا، چرواہا اس کے پیچھے دوڑا اور پکار کر کہنے لگا اے اس جنگل کے آباد رکھنے والے تیری پناہ میں آیا ہوا ایک شخص لٹ گیا ساتھ ہی ایک آواز آئی حالانکہ کوئی شخص نظر نہ آتا تھا کہ اے بھیڑیئے اس بکری کو چھوڑ دے تھوڑی دیر میں ہم نے دیکھا کہ وہی بکری بھاگی بھاگی آئی اور ریوڑ میں مل گئی اسے زخم بھی نہیں لگا تھا یہی بیان اس آیت میں ہے جو اللہ کے رسول ﷺ پر مکہ میں اتری کہ بعض لوگ جنات کی پناہ مانگا کرتے تھے، ممکن ہے کہ یہ بھیڑیا بن کر آنے والا بھی جن ہی ہو اور بکری کے بچے کو پکڑ کرلے گیا ہو اور چرواہے کی اس وہائی پر چھوڑ دیا ہو تاکہ چرواہے کو اور پھر اس کی بات سن کر اوروں کو اس بات کا یقین کامل ہوجائے کہ جنات کی پناہ میں آجانے سے نقصانات سے محفوظ رہتے ہیں اور پھر اس عقیدے کے باعث وہ اور گمراہ ہوں اور اللہ کے دین سے خارج ہوجائیں واللہ اعلم۔ یہ مسلمان جن اپنی قوم سے کہتے ہیں کہ اے جنو جس طرح تمہارا گمان تھا اسی طرح انسان بھی اسی خیال میں تھے کہ اب اللہ تعالیٰ کسی رسول کو نہ بھیجے گا۔

Tafsir Bayan ul Quran - Dr. Israr Ahmad


آیت 2{ یَّہْدِیْٓ اِلَی الرُّشْدِ فَاٰمَنَّا بِہٖ ط } ” جو راہ راست کی طرف راہنمائی کرتا ہے ‘ تو ہم اس پر ایمان لے آئے۔ “ قرآن کے بارے میں جنات کا یہ ردِّعمل ہم انسانوں کے لیے باعث عبرت اور لمحہ فکریہ ہے۔ انہوں نے ایک مرتبہ قرآن سنا اور وہ اس پر فوراً ایمان لے آئے ‘ بلکہ قرآن کو سن کر نہ صرف اس پر فوراً ایمان لے آئے بلکہ داعی بن کر اس کا پیغام اپنی قوم تک پہنچانے کے لیے نکل کھڑے ہوئے۔ دوسری طرف ہم ہیں کہ قرآن کو بار بار پڑھتے ہیں ‘ بار بار سنتے ہیں ‘ لیکن ٹس سے مس نہیں ہوتے۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ہم قرآن مجید کو اس نیت سے اور اس انداز سے پڑھتے یا سنتے ہی نہیں کہ وہ ہمارے دلوں میں اترے۔ ہم تو رمضان کے قیام اللیل کے لیے بھی اس مسجد کا انتخاب کرتے ہیں جہاں کے قاری صاحب کم سے کم وقت میں ” منزل “ طے کرلیتے ہوں۔ بلکہ آج کل تو باقاعدہ اشتہارات کے ذریعے مختلف مساجد میں ایک سے بڑھ کر ایک ” پرکشش پیکج “ پیش کیا جاتا ہے کہ ہمارے ہاں صرف اتنے دنوں میں قرآن ختم کرا دیا جاتا ہے … ہماری مسجد میں نماز تراویح صرف تیس منٹ میں پڑھا دی جاتی ہے ‘ وغیرہ وغیرہ۔۔۔۔ اندازہ کیجیے ! جہاں قرآن مجید کم از کم وقت میں ختم کرنے کے لیے دوڑیں لگی ہوں وہاں سمجھنے ‘ سمجھانے کی فرصت کسے ہوگی ؟ اب ذرا اس طرزعمل کے مقابلے میں مذکورہ جنات کے رویے ّکا تصور کریں جو ایک ہی مرتبہ قرآن مجید کو سن کر کہاں سے کہاں پہنچ گئے۔ قرآن پر ایمان لانے کا اعلان کرنے کے بعد انہوں نے کہا : { وَلَنْ نُّشْرِکَ بِرَبِّنَآ اَحَدًا۔ } ” اور اب ہم کبھی بھی اپنے رب کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہرائیں گے۔ “

يهدي إلى الرشد فآمنا به ولن نشرك بربنا أحدا

سورة: الجن - آية: ( 2 )  - جزء: ( 29 )  -  صفحة: ( 572 )

Surah Jinn Ayat 2 meaning in urdu

جو راہ راست کی طرف رہنمائی کرتا ہے اِس لیے ہم اُس پر ایمان لے آئے ہیں اور اب ہم ہرگز اپنے رب کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کریں گے"


English Türkçe Indonesia
Русский Français فارسی
تفسير Bengali اعراب

Ayats from Quran in Urdu

  1. اور ان کے گھروں کے دروازے بھی اور تخت بھی جن پر تکیہ لگاتے ہیں
  2. (خضر نے) کہا کہ اگر تم میرے ساتھ رہنا چاہو تو (شرط یہ ہے) مجھ
  3. اور تم اور کچھ نہیں ہم ہی جیسے آدمی ہو۔ اور ہمارا خیال ہے کہ
  4. اور جس نے اسے خاک میں ملایا وہ خسارے میں رہا
  5. پس اُن پر (ایک) لوط ایمان لائے اور (ابراہیم) کہنے لگے کہ میں اپنے پروردگار
  6. بھلا تم نے اس شخص کو نہیں دیکھا جو اس (غرور کے) سبب سے کہ
  7. اور اہل بہشت دوزخیوں سے پکار کر کہیں گے کہ جو وعدہ ہمارے پروردگار نے
  8. یہ لوگ تو اپنی تدبیروں میں لگ رہے ہیں
  9. اور جب ان کے سامنے ہماری کھلی کھلی آیتیں پڑھی جاتی ہیں تو ان کی
  10. انہوں نے کہا کہ بھائیو مجھ میں حماقت کی کوئی بات نہیں ہے بلکہ میں

Quran surahs in English :

Al-Baqarah Al-Imran An-Nisa
Al-Maidah Yusuf Ibrahim
Al-Hijr Al-Kahf Maryam
Al-Hajj Al-Qasas Al-Ankabut
As-Sajdah Ya Sin Ad-Dukhan
Al-Fath Al-Hujurat Qaf
An-Najm Ar-Rahman Al-Waqiah
Al-Hashr Al-Mulk Al-Haqqah
Al-Inshiqaq Al-Ala Al-Ghashiyah

Download surah Jinn with the voice of the most famous Quran reciters :

surah Jinn mp3 : choose the reciter to listen and download the chapter Jinn Complete with high quality
surah Jinn Ahmed El Agamy
Ahmed Al Ajmy
surah Jinn Bandar Balila
Bandar Balila
surah Jinn Khalid Al Jalil
Khalid Al Jalil
surah Jinn Saad Al Ghamdi
Saad Al Ghamdi
surah Jinn Saud Al Shuraim
Saud Al Shuraim
surah Jinn Abdul Basit Abdul Samad
Abdul Basit
surah Jinn Abdul Rashid Sufi
Abdul Rashid Sufi
surah Jinn Abdullah Basfar
Abdullah Basfar
surah Jinn Abdullah Awwad Al Juhani
Abdullah Al Juhani
surah Jinn Fares Abbad
Fares Abbad
surah Jinn Maher Al Muaiqly
Maher Al Muaiqly
surah Jinn Muhammad Siddiq Al Minshawi
Al Minshawi
surah Jinn Al Hosary
Al Hosary
surah Jinn Al-afasi
Mishari Al-afasi
surah Jinn Yasser Al Dosari
Yasser Al Dosari


Sunday, May 19, 2024

لا تنسنا من دعوة صالحة بظهر الغيب