قرآن کریم میں عذاب (سزا) کے بارے میں آیات


✅ قرآن کریم کے موضوعات
(7) اللہ نے ان کے دلوں اور ان کے کانوں پر مہر لگا دی ہے اور ان کی آنکھوں پر پردہ پڑ گیا ہے وہ سخت سزا کے مستحق ہیں
سورہ: Al-Baqarah - آیت: 7  - پارہ: 1 - صفحہ: 3
(24) تو یہ کام کر کے دکھاؤ، لیکن اگر تم نے ایسا نہ کیا اور یقیناً کبھی نہیں کرسکتے، تو ڈرو اس آگ سے جس کا ایندھن بنیں گے انسان اور پتھر، جو مہیا کی گئی ہے منکرین حق کے لیے
سورہ: Al-Baqarah - آیت: 24  - پارہ: 1 - صفحہ: 4
(39) اور جو اس کو قبول کرنے سے انکار کریں گے اور ہماری آیات کو جھٹلائیں گے، وہ آگ میں جانے والے لوگ ہیں، جہاں وہ ہمیشہ رہیں گے"
سورہ: Al-Baqarah - آیت: 39  - پارہ: 1 - صفحہ: 7
(81) جو بھی بدی کمائے گا اور اپنی خطا کاری کے چکر میں پڑا رہے گا، وہ دوزخی ہے او ر دوزخ ہی میں وہ ہمیشہ رہے گا
سورہ: Al-Baqarah - آیت: 81  - پارہ: 1 - صفحہ: 12
(126) اور یہ کہ ابراہیمؑ نے دعا کی: "اے میرے رب، اس شہر کو امن کا شہر بنا دے، اور اس کے باشندوں میں جو اللہ اور آخرت کو مانیں، انہیں ہر قسم کے پھلو ں کا رزق دے" جواب میں اس کے رب نے فرمایا: "اور جو نہ مانے گا، دنیا کی چند روزہ زندگی کا سامان تومیں اُسے بھی دوں گا مگر آخرکار اُسے عذاب جہنم کی طرف گھسیٹوں گا، اور وہ بد ترین ٹھکانا ہے"
(127) اور یاد کرو ابراہیمؑ اور اسمٰعیلؑ جب اس گھر کی دیواریں اٹھا رہے تھے، تو دعا کرتے جاتے تھے: "اے ہمارے رب، ہم سے یہ خدمت قبول فرما لے، تو سب کی سننے اور سب کچھ جاننے والا ہے
سورہ: Al-Baqarah - آیت: 126-127 - پارہ: 1 - صفحہ: 19
(174) حق یہ ہے کہ جو لوگ اُن احکام کو چھپاتے ہیں جو اللہ نے اپنی کتاب میں ناز ل کیے ہیں اور تھوڑے سے دُنیوی فائدوں پرا نہیں بھینٹ چڑھاتے ہیں، وہ دراصل اپنے پیٹ آگ سے بھر رہے ہیں قیامت کے روز اللہ ہرگز ان سے بات نہ کرے گا، نہ اُنہیں پاکیزہ ٹھیرائے گا، اور اُن کے لیے دردناک سزا ہے
سورہ: Al-Baqarah - آیت: 174  - پارہ: 2 - صفحہ: 26
(217) لوگ پوچھتے ہیں ماہ حرام میں لڑنا کیسا ہے؟ کہو: اِس میں لڑ نا بہت برا ہے، مگر راہ خدا سے لوگوں کو روکنا اور اللہ سے کفر کرنا اور مسجد حرام کا راستہ خدا پرستوں پر بند کرنا اور حرم کے رہنے والوں کو وہاں سے نکالنا اللہ کے نزدیک اِس سے بھی زیادہ برا ہے اور فتنہ خونریزی سے شدید تر ہے وہ تو تم سے لڑے ہی جائیں گے حتیٰ کہ اگر اُن کا بس چلے، تو تمہیں اِس دین سے پھرا لے جائیں (اور یہ خوب سمجھ لو کہ) تم میں سے جو کوئی اس دین سے پھرے گا اور کفر کی حالت میں جان دے گا، اس کے اعمال دنیا اور آخرت دونوں میں ضائع ہو جائیں گے ایسے سب لوگ جہنمی ہیں اور ہمیشہ جہنم ہی میں رہیں گے
سورہ: Al-Baqarah - آیت: 217  - پارہ: 2 - صفحہ: 34
(257) جو لوگ ایمان لاتے ہیں، اُن کا حامی و مددگار اللہ ہے اور وہ ان کو تاریکیوں سے روشنی میں نکال لاتا ہے اور جو لوگ کفر کی راہ اختیار کرتے ہیں، اُن کے حامی و مدد گار طاغوت ہیں اور وہ انہیں روشنی سے تاریکیوں کی طرف کھینچ لے جاتے ہیں یہ آگ میں جانے والے لوگ ہیں، جہاں یہ ہمیشہ رہیں گے
سورہ: Al-Baqarah - آیت: 257  - پارہ: 3 - صفحہ: 43
(275) مگر جو لوگ سود کھاتے ہیں، اُ ن کا حال اُس شخص کا سا ہوتا ہے، جسے شیطان نے چھو کر باؤلا کر دیا ہو اور اس حالت میں اُن کے مبتلا ہونے کی وجہ یہ ہے کہ وہ کہتے ہیں: "تجارت بھی تو آخر سود ہی جیسی چیز ہے"، حالانکہ اللہ نے تجارت کو حلال کیا ہے اور سود کو حرام لہٰذا جس شخص کو اس کے رب کی طرف سے یہ نصیحت پہنچے اور آئندہ کے لیے وہ سود خوری سے باز آ جائے، تو جو کچھ وہ پہلے کھا چکا، سو کھا چکا، اس کا معاملہ اللہ کے حوالے ہے اور جو اِس حکم کے بعد پھر اسی حرکت کا اعادہ کرے، وہ جہنمی ہے، جہاں وہ ہمیشہ رہے گا
سورہ: Al-Baqarah - آیت: 275  - پارہ: 3 - صفحہ: 47
(10) جن لوگوں نے کفر کا رویہ اختیار کیا ہے، انہیں اللہ کے مقابلے میں نہ اُن کا مال کچھ کام دے گا، نہ اولاد وہ دوزخ کا ایندھن بن کر رہیں گے
سورہ: Āl-‘Imrān - آیت: 10  - پارہ: 3 - صفحہ: 51
(12) پس اے محمدؐ! جن لوگوں نے تمہاری دعوت کو قبول کرنے سے انکار کر دیا ہے، اُن سے کہہ دو کہ قریب ہے وہ وقت، جب تم مغلوب ہو جاؤ گے اور جہنم کی طرف ہانکے جاؤ گے اور جہنم بڑا ہی برا ٹھکانا ہے
سورہ: Āl-‘Imrān - آیت: 12  - پارہ: 3 - صفحہ: 51
(23) تم نے دیکھا نہیں جن لوگوں کو کتاب کے علم میں سے کچھ حصہ ملا ہے، اُن کا حال کیا ہے؟اُنہیں جب کتاب الٰہی کی طرف بلایا جاتا ہے تاکہ وہ اُن کے درمیان فیصلہ کرے، تو ان میں سے ایک فریق اس سے پہلو تہی کرتا ہے اور اس فیصلے کی طرف آنے سے منہ پھیر جاتا ہے
(24) ان کا یہ طرز عمل اس وجہ سے ہے کہ وہ کہتے ہیں "آتش دوزخ تو ہمیں مس تک نہ کرے گی اور اگر دوزخ کی سزا ہم کو ملے گی بھی تو بس چند روز" اُن کے خود ساختہ عقیدوں نے اُن کو اپنے دین کے معاملے میں بڑی غلط فہمیوں میں ڈال رکھا ہے
سورہ: Āl-‘Imrān - آیت: 23-24 - پارہ: 3 - صفحہ: 53
(116) رہے وہ لوگ جنہوں نے کفر کا رویہ اختیار کیا تو اللہ کے مقابلہ میں ان کو نہ ان کا مال کچھ کام دے گا نہ اولاد، وہ تو آگ میں جانے والے لوگ ہیں اور آگ ہی میں ہمیشہ رہیں گے
سورہ: Āl-‘Imrān - آیت: 116  - پارہ: 4 - صفحہ: 65
(151) عنقریب وہ وقت آنے والا ہے جب ہم منکرین حق کے دلوں میں رعب بٹھا دیں گے، اس لیے کہ اُنہوں نے اللہ کے ساتھ اُن کو خدائی میں شریک ٹھیرایا ہے جن کے شریک ہونے پر اللہ نے کوئی سند نازل نہیں کی اُن کا آخری ٹھکانا جہنم ہے اور بہت ہی بری ہے وہ قیام گاہ جو اُن ظالموں کو نصیب ہوگی
سورہ: Āl-‘Imrān - آیت: 151  - پارہ: 4 - صفحہ: 69
(181) اللہ نے اُن لوگوں کا قول سنا جو کہتے ہیں کہ اللہ فقیر ہے اور ہم غنی ہیں ان کی یہ باتیں بھی ہم لکھ لیں گے، اور اس سے پہلے جو وہ پیغمبروں کو ناحق قتل کرتے رہے ہیں وہ بھی ان کے نامہ اعمال میں ثبت ہے (جب فیصلہ کا وقت آئے گا اُس وقت) ہم ان سے کہیں گے کہ لو، اب عذاب جہنم کا مزا چکھو
سورہ: Āl-‘Imrān - آیت: 181  - پارہ: 4 - صفحہ: 74
(188) تم اُن لوگوں کو عذاب سے محفوظ نہ سمجھو جو اپنے کرتوتوں پر خوش ہیں اور چاہتے ہیں کہ ایسے کاموں کی تعریف اُنہیں حاصل ہو جو فی الواقع انہوں نے نہیں کیے ہیں حقیقت میں ان کے لیے درد ناک سزا تیار ہے
سورہ: Āl-‘Imrān - آیت: 188  - پارہ: 4 - صفحہ: 75
(196) اے نبیؐ! دنیا کے ملکوں میں خدا کے نافرمان لوگوں کی چلت پھرت تمہیں کسی دھوکے میں نہ ڈالے
(197) یہ محض چند روزہ زندگی کا تھوڑا سا لطف ہے، پھر یہ سب جہنم میں جائیں گے جو بدترین جائے قرار ہے
سورہ: Āl-‘Imrān - آیت: 196-197 - پارہ: 4 - صفحہ: 76
(14) اور جو اللہ اور اُس کے رسول کی نافرمانی کرے گا اور اس کی مقرر کی ہوئی حدوں سے تجاوز کر جائے گا اُسے اللہ آگ میں ڈالے گا جس میں وہ ہمیشہ رہے گا اور اس کے لیے رسوا کن سزا ہے
سورہ: An-Nisā’ - آیت: 14  - پارہ: 4 - صفحہ: 79
(30) جو شخص ظلم و زیادتی کے ساتھ ایسا کرے گا اُس کو ہم ضرور آگ میں جھونکیں گے اور یہ اللہ کے لیے کوئی مشکل کام نہیں ہے
سورہ: An-Nisā’ - آیت: 30  - پارہ: 5 - صفحہ: 83
(37) اور ایسے لوگ بھی اللہ کو پسند نہیں ہیں جو کنجوسی کرتے ہیں اور دوسروں کو بھی کنجوسی کی ہدایت کرتے ہیں اور جو کچھ اللہ نے اپنے فضل سے انہیں دیا ہے اسے چھپاتے ہیں ایسے کافر نعمت لوگوں کے لیے ہم نے رسوا کن عذاب مہیا کر رکھا ہے
سورہ: An-Nisā’ - آیت: 37  - پارہ: 5 - صفحہ: 84
(55) مگر ان میں سے کوئی اس پر ایمان لایا اور کوئی اس سے منہ موڑ گیا، اور منہ موڑ نے والوں کے لیے تو بس جہنم کی بھڑکتی ہوئی آگ ہی کافی ہے
سورہ: An-Nisā’ - آیت: 55  - پارہ: 5 - صفحہ: 87
(115) مگر جو شخص رسول کی مخالفت پر کمر بستہ ہو اور اہل ایمان کی روش کے سوا کسی اور روش پر چلے، درآں حالیکہ اس پر راہ راست واضح ہو چکی ہو، تو اُس کو ہم اُسی طرف چلائیں گے جدھر وہ خود پھر گیا اور اسے جہنم میں جھونکیں گے جو بد ترین جائے قرار ہے
سورہ: An-Nisā’ - آیت: 115  - پارہ: 5 - صفحہ: 97
(121) اِن لوگوں کا ٹھکانا جہنم ہے جس سے خلاصی کی کوئی صورت یہ نہ پائیں گے
سورہ: An-Nisā’ - آیت: 121  - پارہ: 5 - صفحہ: 97
(145) یقین جانو کہ منافق جہنم کے سب سے نیچے طبقے میں جائیں گے اور تم کسی کو اُن کا مدد گار نہ پاؤ گے
سورہ: An-Nisā’ - آیت: 145  - پارہ: 5 - صفحہ: 101
(151) وہ سب پکے کافر ہیں اور ایسے کافروں کے لیے ہم نے وہ سزا مہیا کر رکھی ہے جو انہیں ذلیل و خوار کر دینے والی ہوگی
سورہ: An-Nisā’ - آیت: 151  - پارہ: 6 - صفحہ: 102
(161) اور سود لیتے ہیں جس سے انہیں منع کیا گیا تھا، اور لوگوں کے مال ناجائز طریقوں سے کھاتے ہیں، ہم نے بہت سی وہ پاک چیزیں ان پر حرام کر دیں جو پہلے ان کے لیے حلال تھیں، اور جو لوگ اِن میں سے کافر ہیں ان کے لیے ہم نے درد ناک عذاب تیار کر رکھا ہے
سورہ: An-Nisā’ - آیت: 161  - پارہ: 6 - صفحہ: 103
(29) میں چاہتا ہوں کہ میرا اور اپنا گناہ تو ہی سمیٹ لے اور دوزخی بن کر رہے ظالموں کے ظلم کا یہی ٹھیک بدلہ ہے"
سورہ: Al-Mā’idah - آیت: 29  - پارہ: 6 - صفحہ: 112
(33) جو لوگ اللہ اور اس کے رسول سے لڑتے ہیں اور زمین میں اس لیے تگ و دو کرتے پھرتے ہیں کہ فساد برپا کریں اُن کی سزا یہ ہے کہ قتل کیے جائیں، یا سولی پر چڑھائے جائیں، یا اُن کے ہاتھ اور پاؤں مخالف سمتوں سے کاٹ ڈالے جائیں، یا وہ جلا وطن کر دیے جائیں، یہ ذلت و رسوائی تو اُن کے لیے دنیا میں ہے اور آخرت میں اُن کے لیے اس سے بڑی سزا ہے
سورہ: Al-Mā’idah - آیت: 33  - پارہ: 6 - صفحہ: 113
(37) وہ چاہیں گے کہ دوزخ کی آگ سے نکل بھاگیں مگر نہ نکل سکیں گے اور انہیں قائم رہنے والا عذاب دیا جائے گا
سورہ: Al-Mā’idah - آیت: 37  - پارہ: 6 - صفحہ: 114
(72) یقیناً کفر کیا اُن لوگوں نے جنہوں نے کہا کہ اللہ مسیح ابن مریم ہی ہے حالانکہ مسیح نے کہا تھا کہ "اے بنی اسرائیل! اللہ کی بندگی کرو جو میرا رب بھی ہے اور تمہارا رب بھی" جس نے اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھیرایا اُس پر اللہ نے جنت حرام کر دی اور اُس کا ٹھکانا جہنم ہے اور ایسے ظالموں کا کوئی مدد گار نہیں
سورہ: Al-Mā’idah - آیت: 72  - پارہ: 6 - صفحہ: 120
(86) رہے وہ لوگ جنہوں نے ہماری آیات کو ماننے سے انکار کیا اور انہیں جھٹلایا، تو وہ جہنم کے مستحق ہیں
سورہ: Al-Mā’idah - آیت: 86  - پارہ: 7 - صفحہ: 122
(27) کاش تم اس وقت ان کی حالت دیکھ سکتے جب وہ دوزخ کے کنارے کھڑے کیے جائیں گے اس وقت وہ کہیں گے کہ کاش کوئی صورت ایسی ہو کہ ہم دنیا میں پھر واپس بھیجے جائیں اور اپنے رب کی نشانیوں کو نہ جھٹلائیں اور ایمان لانے والوں میں شامل ہوں
سورہ: Al-An‘ām - آیت: 27  - پارہ: 7 - صفحہ: 130
(128) جس روز اللہ ان سب لوگوں کو گھیر کر جمع کرے گا، اس روز وہ جنوں سے خطاب کر کے فرمائے گا کہ "ا ے گروہ جن! تم نے نوع انسانی پر خوب ہاتھ صاف کیا" انسانوں میں سے جو اُن کے رفیق تھے وہ عرض کریں گے "پروردگار! ہم میں سے ہر ایک نے دوسرے کو خو ب استعمال کیا ہے، اور اب ہم اُس وقت پر آ پہنچے ہیں جو تو نے ہمارے لیے مقرر کر دیا تھا" اللہ فرمائے گا "اچھا اب آگ تمہارا ٹھکانا ہے، اس میں تم ہمیشہ رہو گے" ا"س سے بچیں گے صرف وہی جنہیں اللہ بچانا چاہے گا، بے شک تمہارا رب دانا اور علیم ہے
سورہ: Al-An‘ām - آیت: 128  - پارہ: 8 - صفحہ: 144
(18) فرمایا، " نکل جا یہاں سے ذلیل اور ٹھکرایا ہوا یقین رکھ کہ اِن میں سے جو تیری پیروی کریں گے، تجھ سمیت ان سب سے جہنم کو بھر دوں گا
سورہ: Al-A‘rāf - آیت: 18  - پارہ: 8 - صفحہ: 152
(36) اور جو لوگ ہماری آیات کو جھٹلائیں گے اور ان کے مقابلہ میں سرکشی برتیں گے وہی اہل دوزخ ہوں گے جہاں وہ ہمیشہ رہیں گے
سورہ: Al-A‘rāf - آیت: 36  - پارہ: 8 - صفحہ: 154
﴿ قَالَ ٱدۡخُلُواْ فِيٓ أُمَمٖ قَدۡ خَلَتۡ مِن قَبۡلِكُم مِّنَ ٱلۡجِنِّ وَٱلۡإِنسِ فِي ٱلنَّارِۖ كُلَّمَا دَخَلَتۡ أُمَّةٞ لَّعَنَتۡ أُخۡتَهَاۖ حَتَّىٰٓ إِذَا ٱدَّارَكُواْ فِيهَا جَمِيعٗا قَالَتۡ أُخۡرَىٰهُمۡ لِأُولَىٰهُمۡ رَبَّنَا هَٰٓؤُلَآءِ أَضَلُّونَا فَـَٔاتِهِمۡ عَذَابٗا ضِعۡفٗا مِّنَ ٱلنَّارِۖ قَالَ لِكُلّٖ ضِعۡفٞ وَلَٰكِن لَّا تَعۡلَمُونَ  * وَقَالَتۡ أُولَىٰهُمۡ لِأُخۡرَىٰهُمۡ فَمَا كَانَ لَكُمۡ عَلَيۡنَا مِن فَضۡلٖ فَذُوقُواْ ٱلۡعَذَابَ بِمَا كُنتُمۡ تَكۡسِبُونَ  * إِنَّ ٱلَّذِينَ كَذَّبُواْ بِـَٔايَٰتِنَا وَٱسۡتَكۡبَرُواْ عَنۡهَا لَا تُفَتَّحُ لَهُمۡ أَبۡوَٰبُ ٱلسَّمَآءِ وَلَا يَدۡخُلُونَ ٱلۡجَنَّةَ حَتَّىٰ يَلِجَ ٱلۡجَمَلُ فِي سَمِّ ٱلۡخِيَاطِۚ وَكَذَٰلِكَ نَجۡزِي ٱلۡمُجۡرِمِينَ  * لَهُم مِّن جَهَنَّمَ مِهَادٞ وَمِن فَوۡقِهِمۡ غَوَاشٖۚ وَكَذَٰلِكَ نَجۡزِي ٱلظَّٰلِمِينَ [Al-A‘rāf: 38-41]
(38) اللہ فرمائے گا جاؤ، تم بھی اسی جہنم میں چلے جاؤ جس میں تم سے پہلے گزرے ہوئے گروہ جن و انس جا چکے ہیں ہر گروہ جب جہنم میں داخل ہوگا تو اپنے پیش رو گروہ پر لعنت کرتا ہوا داخل ہوگا، حتیٰ کہ جب سب وہاں جمع ہو جائیں گے تو ہر بعد والا گروہ پہلے گروہ کے حق میں کہے گا کہ اے رب، یہ لوگ تھے جنہوں نے ہم کو گمراہ کیا لہٰذا انہیں آگ کا دوہرا عذاب دے جواب میں ارشاد ہوگا، ہر ایک کے لیے دوہرا ہی عذاب ہے مگر تم جانتے نہیں ہو
(39) اور پہلا گروہ دوسرے گروہ سے کہے گا کہ (اگر ہم قابل الزام تھے) تو تمہی کو ہم پر کونسی فضیلت حاصل تھی، اب اپنی کمائی کے نتیجہ میں عذاب کا مزا چکھو
(40) یقین جانو، جن لوگوں نے ہماری آیات کو جھٹلایا ہے اور ان کے مقابلہ میں سرکشی کی ہے ان کے لیے آسمان کے دروازے ہرگز نہ کھولے جائیں گے اُن کا جنت میں جانا اتنا ہی ناممکن ہے جتنا سوئی کے ناکے سے اونٹ کا گزرنا مجرموں کو ہمارے ہاں ایسا ہی بدلہ ملا کرتا ہے
(41) ان کے لیے تو جہنم کا بچھونا ہوگا اور جہنم ہی کا اوڑھنا یہ ہے وہ جزا جو ہم ظالموں کو دیا کرتے ہیں
سورہ: Al-A‘rāf - آیت: 38-39-40-41 - پارہ: 8 - صفحہ: 155
(44) پھر یہ جنت کے لوگ دوزخ والوں سے پکار کر کہیں گے، "ہم نے اُن سارے وعدوں کو ٹھیک پا لیا جو ہمارے رب نے ہم سے کیے تھے، کیا تم نے بھی ان وعدوں کو ٹھیک پایا جو تمہارے رب نے کیے تھے؟" وہ جواب دیں گے "ہاں" تب ایک پکارنے والا ان کے درمیان پکارے گا کہ "خدا کی لعنت اُن ظالموں پر
سورہ: Al-A‘rāf - آیت: 44  - پارہ: 8 - صفحہ: 156
(50) اور دوزخ کے لوگ جنت والوں کو پکاریں گے کہ کچھ تھوڑا سا پانی ہم پر ڈال دو یا جو رزق اللہ نے تمہیں دیا ہے اُسی میں سے کچھ پھینک دو وہ جواب دیں گے کہ "اللہ نے یہ دونوں چیزیں اُن منکرین حق پر حرام کر دی ہیں
سورہ: Al-A‘rāf - آیت: 50  - پارہ: 8 - صفحہ: 156
(179) اور یہ حقیقت ہے کہ بہت سے جن اور انسان ایسے ہیں جن کو ہم نے جہنم ہی کے لیے پیدا کیا ہے ان کے پاس دل ہیں مگر وہ ان سے سوچتے نہیں ان کے پاس آنکھیں ہیں مگر وہ ان سے دیکھتے نہیں ان کے پاس کان ہیں مگر وہ ان سے سنتے نہیں وہ جانوروں کی طرح ہیں بلکہ ان سے بھی زیادہ گئے گزرے، یہ وہ لوگ ہیں جو غفلت میں کھو ئے گئے ہیں
سورہ: Al-A‘rāf - آیت: 179  - پارہ: 9 - صفحہ: 174
(16) جس نے ایسے موقع پر پیٹھ پھیری، الا یہ کہ جنگی چال کے طور پر ایسا کرے یا کسی دُوسری فوج سے جا ملنے کے لیے، تو وہ اللہ کے غضب میں گھِر جائے گا، اُس کا ٹھکانہ جہنم ہوگا، اور وہ بہت بُری جائے بازگشت ہے
سورہ: Al-Anfāl - آیت: 16  - پارہ: 9 - صفحہ: 178
(36) جن لوگوں نے حق کو ماننے سے انکار کیا ہے وہ اپنے مال خدا کے راستے سے روکنے کے لیے صرف کر رہے ہیں اور ابھی اور خرچ کرتے رہیں گے مگر آخر کار یہی کوششیں ان کے لیے پچھتاوے کا سبب بنیں گی، پھر وہ مغلوب ہوں گے، پھر یہ کافر جہنم کی طرف گھیر لائے جائیں گے
(37) تاکہ اللہ گندگی کو پاکیزگی سے چھانٹ کر الگ کرے اور ہر قسم کی گندگی کو ملا کر اکٹھا کرے پھر اس پلندے کو جہنم میں جھونک دے یہی لوگ اصلی دیوالیے ہیں
سورہ: Al-Anfāl - آیت: 36-37 - پارہ: 9 - صفحہ: 181
(17) مشرکین کا یہ کام نہیں ہے کہ وہ اللہ کی مسجدوں کے مجاور و خادم بنیں درآں حالیکہ اپنے اوپر وہ خود کفر کی شہادت دے رہے ہیں ان کے تو سارے اعمال ضائع ہو گئے اور جہنم میں انہیں ہمیشہ رہنا ہے
سورہ: At-Taubah - آیت: 17  - پارہ: 10 - صفحہ: 189
(34) اے ایمان لانے والو، اِن اہل کتاب کے اکثر علماء اور درویشوں کا حال یہ ہے کہ وہ لوگوں کے مال باطل طریقوں سے کھاتے ہیں اور انہیں اللہ کی راہ سے روکتے ہیں دردناک سزا کی خوش خبری دو ان کو جو سونے اور چاندی جمع کر کے رکھتے ہیں اور انہیں خدا کی راہ میں خرچ نہیں کرتے
(35) ایک دن آئے گا کہ اسی سونے چاندی پر جہنم کی آگ دہکائی جائے گی اور پھر اسی سے ان لوگوں کی پیشانیوں اور پہلوؤں اور پیٹھوں کو داغا جائے گا یہ ہے وہ خزانہ جو تم نے اپنے لیے جمع کیا تھا، لو اب اپنی سمیٹی ہوئی دولت کا مزہ چکھو
سورہ: At-Taubah - آیت: 34-35 - پارہ: 10 - صفحہ: 192
(49) ان میں سے کوئی ہے جو کہتا ہے کہ "مجھے رخصت دے دیجیے اور مجھ کو فتنے میں نہ ڈالیے" سن رکھو! فتنے ہی میں تو یہ لوگ پڑے ہوئے ہیں اور جہنم نے ان کافروں کو گھیر رکھا ہے
سورہ: At-Taubah - آیت: 49  - پارہ: 10 - صفحہ: 195
(63) کیا انہیں معلوم نہیں ہے کہ جو اللہ اور اس کے رسول کا مقابلہ کرتا ہے اس کے لیے دوزخ کی آگ ہے جس میں وہ ہمیشہ رہے گا یہ بہت بڑی رسوائی ہے
سورہ: At-Taubah - آیت: 63  - پارہ: 10 - صفحہ: 197
(68) ان منافق مردوں اور عورتوں اور کافروں کے لیے اللہ نے آتش دوزخ کا وعدہ کیا ہے جس میں وہ ہمیشہ رہیں گے، وہی ان کے لیے موزوں ہے ان پر اللہ کی پھٹکار ہے اور ان کے لیے قائم ر ہنے والا عذاب ہے
سورہ: At-Taubah - آیت: 68  - پارہ: 10 - صفحہ: 197
(73) اے نبیؐ، کفار اور منافقین دونوں کا پوری قوت سے مقابلہ کرو اور ان کے ساتھ سختی سے پیش آؤ آخر کار ان کا ٹھکانا جہنم ہے اور وہ بدترین جائے قرار ہے
سورہ: At-Taubah - آیت: 73  - پارہ: 10 - صفحہ: 199
(8) اُن کا آخری ٹھکانہ جہنم ہو گا اُن برائیوں کی پاداش میں جن کا اکتساب وہ (اپنے اس غلط عقیدے اور غلط طرز عمل کی وجہ سے) کرتے رہے
سورہ: Yūnus - آیت: 8  - پارہ: 11 - صفحہ: 209
(27) اور جن لوگوں نے بُرائیاں کمائیں ان کی بُرائی جیسی ہے ویسا ہی وہ بدلہ پائیں گے، ذلّت ان پر مسلّط ہو گی، کوئی اللہ سے ان کو بچانے والا نہ ہو گا، ان کے چہروں پر ایسی تاریکی چھائی ہوئی ہو گی جیسے رات کے سیاہ پردے ان پر پڑے ہوئے ہوں، وہ دوزخ کے مستحق ہیں جہاں وہ ہمیشہ رہیں گے
سورہ: Yūnus - آیت: 27  - پارہ: 11 - صفحہ: 212
(16) مگر آخرت میں ایسے لوگوں کے لیے آگ کے سوا کچھ نہیں ہے (وہاں معلوم ہو جائے گا کہ) جو کچھ انہوں نے دنیا میں بنایا وہ سب ملیامیٹ ہو گیا اور اب ان کا سارا کیا دھرا محض باطل ہے
(17) پھر بھلا وہ شخص جو اپنے رب کی طرف سے ایک صاف شہادت رکھتا تھا، اس کے بعد ایک گواہ بھی پروردگار کی طرف سے (اس شہادت کی تائید میں) آ گیا، اور پہلے موسیٰؑ کی کتاب رہنما اور رحمت کے طور پر آئی ہوئی بھی موجود تھی (کیا وہ بھی دنیا پرستوں کی طرح اس سے انکار کرسکتا ہے؟) ایسے لوگ تو اس پر ایمان ہی لائیں گے اور انسانی گروہوں میں سے جو کوئی اس کا انکار کرے تو اس کے لیے جس جگہ کا وعدہ ہے وہ دوزخ ہے پس اے پیغمبرؐ، تم اِس چیز کی طرف سے کسی شک میں نہ پڑنا، یہ حق ہے تمہارے رب کی طرف سے مگر اکثر لوگ نہیں مانتے
سورہ: Hūd - آیت: 16-17 - پارہ: 12 - صفحہ: 223
(106) جو بد بخت ہوں گے وہ دوزخ میں جائیں گے (جہاں گرمی اور پیاس کی شدت سے) وہ ہانپیں گے اور پھنکارے ماریں گے
سورہ: Hūd - آیت: 106  - پارہ: 12 - صفحہ: 233
(5) اب اگر تمہیں تعجب کرنا ہے تو تعجب کے قابل لوگوں کا یہ قول ہے کہ "جب ہم مر کر مٹی ہو جائیں گے تو کیا ہم نئے سرے سے پیدا کیے جائیں گے؟" یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنے رب سے کفر کیا ہے یہ وہ لوگ ہیں جن کی گردنوں میں طوق پڑے ہوئے ہیں یہ جہنمی ہیں اور جہنم میں ہمیشہ رہیں گے
سورہ: Ar-Ra‘d - آیت: 5  - پارہ: 13 - صفحہ: 249
(35) خدا ترس انسانوں کے لیے جس جنت کا وعدہ کیا گیا ہے اس کی شان یہ ہے کہ اس کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں، اس کے پھل دائمی ہیں اور اس کا سایہ لازوال یہ انجام ہے متقی لوگوں کا اور منکرین حق کا انجام یہ ہے کہ ان کے لیے دوزخ کی آگ ہے
سورہ: Ar-Ra‘d - آیت: 35  - پارہ: 13 - صفحہ: 254
(26) اور کلمہ خبیثہ کی مثال ایک بد ذات درخت کی سی ہے جو زمین کی سطح سے اکھاڑ پھینکا جاتا ہے، اُس کے لیے کوئی استحکام نہیں ہے
سورہ: Ibrāhīm - آیت: 26  - پارہ: 13 - صفحہ: 259
(30) اور اللہ کے کچھ ہمسر تجویز کر لیے تاکہ وہ انہیں اللہ کے راستے سے بھٹکا دیں اِن سے کہو، اچھا مزے کر لو، آخرکار تمہیں پلٹ کر جانا دوزخ ہی میں ہے
سورہ: Ibrāhīm - آیت: 30  - پارہ: 13 - صفحہ: 259
(50) تارکول کے لباس پہنے ہوئے ہوں گے اور آگ کے شعلے اُن کے چہروں پر چھائے جا رہے ہوں گے
سورہ: Ibrāhīm - آیت: 50  - پارہ: 13 - صفحہ: 261
(43) اور ان سب کے لیے جہنم کی وعید ہے"
سورہ: Al-Ḥijr - آیت: 43  - پارہ: 14 - صفحہ: 264
(62) آج یہ لوگ وہ چیزیں اللہ کے لیے تجویز کر رہے ہیں جو خود اپنے لیے اِنہیں ناپسند ہیں، اور جھوٹ کہتی ہیں اِن کی زبانیں کہ اِن کے لیے بھلا ہی بھلا ہے اِن کے لیے تو ایک ہی چیز ہے، اور وہ ہے دوزخ کی آگ ضرور یہ سب سے پہلے اُس میں پہنچائے جائیں گے
سورہ: An-Naḥl - آیت: 62  - پارہ: 14 - صفحہ: 273
(97) جس کو اللہ ہدایت دے وہی ہدایت پانے والا ہے، اور جسے وہ گمراہی میں ڈال دے تو اسکے سوا ایسے لوگوں کے لیے تو کوئی حامی و ناصر نہیں پا سکتا ان لوگوں کو ہم قیامت کے روز اوندھے منہ کھینچ لائیں گے، اندھے، گونگے اور بہرے اُن کا ٹھکانا جہنم ہے جب کبھی اس کی آگ دھیمی ہونے لگے گی ہم اسے اور بھڑکا دیں گے
سورہ: Al-Isrā’ - آیت: 97  - پارہ: 15 - صفحہ: 292
(127) اِس طرح ہم حد سے گزرنے والے اور اپنے رب کی آیات نہ ماننے والے کو (دُنیا میں) بدلہ دیتے ہیں، اور آخرت کا عذاب زیادہ سخت اور زیادہ دیر پا ہے
سورہ: Ṭā-Hā - آیت: 127  - پارہ: 16 - صفحہ: 321
(98) بے شک تم اور تمہارے وہ معبُود جنہیں تم پوجتے ہو، جہنّم کا ایندھن ہیں، وہیں تم کو جانا ہے
(99) اگر یہ واقعی خدا ہوتے تو وہاں نہ جاتے اب سب کو ہمیشہ اسی میں رہنا ہے"
(100) وہاں وہ پھنکارے ماریں گے اور حال یہ ہو گا کہ اس میں کان پڑی آواز نہ سنائی دے گی
سورہ: Al-Anbiyā’ - آیت: 98-99-100 - پارہ: 17 - صفحہ: 330
(19) یہ دو فریق ہیں جن کے درمیان اپنے رب کے معاملے کا جھگڑا ہے اِن میں سے وہ لوگ جنہوں نے کفر کیا ہے اُن کے لیے آگ کے لباس کاٹے جا چکے ہیں، اُن کے سروں پر کھَولتا ہوا پانی ڈالا جائے گا
(20) جس سے اُن کی کھالیں ہی نہیں پیٹ کے اندر کے حصے تک گل جائیں گے
سورہ: Al-Ḥajj - آیت: 19-20 - پارہ: 17 - صفحہ: 334
(22) جب کبھی وہ گھبرا کر جہنّم سے نکلنے کی کوشش کریں گے پھر اُسی میں دھکیل دیے جائیں گے کہ چکھو اب جلنے کی سزا کا مزا
سورہ: Al-Ḥajj - آیت: 22  - پارہ: 17 - صفحہ: 334
(57) اور جنہوں نے کفر کیا ہو گا اور ہماری آیات کو جھٹلایا ہوگا اُن کے لیے رسوا کن عذاب ہوگا
سورہ: Al-Ḥajj - آیت: 57  - پارہ: 17 - صفحہ: 339
(72) اور جب ان کو ہماری صاف صاف آیات سنائی جاتی ہیں تو تم دیکھتے ہو کہ منکرین حق کے چہرے بگڑنے لگتے ہیں اور ایسا محسُوس ہوتا ہے کہ ابھی وہ اُن لوگوں پر ٹوٹ پڑیں گے جو انہیں ہماری آیات سناتے ہیں ان سے کہو "میں بتاؤں تمہیں کہ اس سے بدتر چیز کیا ہے؟ آگ، اللہ نے اُسی کا وعدہ اُن لوگوں کے حق میں کر رکھا ہے جو قبول حق سے انکار کریں، اور وہ بہت ہی برا ٹھکانہ ہے"
سورہ: Al-Ḥajj - آیت: 72  - پارہ: 17 - صفحہ: 340
(103) اور جن کے پلڑے ہلکے ہوں گے وہی لوگ ہوں گے جنہوں نے اپنے آپ کو گھاٹے میں ڈال لیا وہ جہنم میں ہمیشہ رہیں گے
سورہ: Al-Mu’minūn - آیت: 103  - پارہ: 18 - صفحہ: 348
(108) اللہ تعالیٰ جواب دے گا "دور ہو میرے سامنے سے، پڑے رہو اسی میں اور مجھ سے بات نہ کرو
سورہ: Al-Mu’minūn - آیت: 108  - پارہ: 18 - صفحہ: 349
(57) جو لوگ کفر کر رہے ہیں ا ن کے متعلق اس غلط فہمی میں نہ رہو کہ وہ زمین میں اللہ کو عاجز کر دیں گے ان کا ٹھکانا دوزخ ہے اور وہ بڑا ہی برا ٹھکانا ہے
سورہ: An-Nūr - آیت: 57  - پارہ: 18 - صفحہ: 357
(11) اصل بات یہ ہے کہ یہ لوگ "اُس گھڑی" کو جھٹلا چکے ہیں اور جو اُس گھڑی کو جھٹلائے اس کے لیے ہم نے بھڑکتی ہوئی آگ مہیا کر رکھی ہے
(12) وہ جب دور سے اِن کو دیکھے گی تو یہ اُس کے غضب اور جوش کی آوازیں سن لیں گے
(13) اور جب یہ دست و پا بستہ اُس میں ایک تنگ جگہ ٹھونسے جائیں گے تو اپنی موت کو پکارنے لگیں گے
(14) (اُس وقت ان سے کہا جائے گا کہ) آج ایک موت کو نہیں بہت سی موتوں کو پکارو
(15) اِن سے پوچھو، یہ انجام اچھا ہے یا وہ اَبدی جنت جس کا وعدہ خداترس پرہیزگاروں سے کیا گیا ہے؟ جو اُن کے اعمال کی جزا اور اُن کے سفر کی آخری منزل ہو گی
سورہ: Al-Furqān - آیت: 11-12-13-14-15 - پارہ: 18 - صفحہ: 360
(34) جو لوگ اوندھے منہ جہنم کی طرف دھکیلے جانے والے ہیں ان کا موقف بہت برا اور ان کی راہ حد درجہ غلط ہے
سورہ: Al-Furqān - آیت: 34  - پارہ: 19 - صفحہ: 363
(65) جو دعائیں کرتے ہیں کہ "اے ہمارے رب، جہنم کے عذاب سے ہم کو بچا لے، اُس کا عذاب تو جان کا لاگو ہے
(66) وہ بڑا ہی برا مستقر اور مقام ہے"
سورہ: Al-Furqān - آیت: 65-66 - پارہ: 19 - صفحہ: 365
(90) اور جو بُرائی لیے ہوئے آئے گا، ایسے سب لوگ اوندھے منہ آگ میں پھینکے جائیں گے کیا تم لوگ اس کے سوا کوئی اور جزا پا سکتے ہو کہ جیسا کرو ویسا بھرو؟
سورہ: An-Naml - آیت: 90  - پارہ: 20 - صفحہ: 385
(41) ہم نے انہیں جہنم کی طرف دعوت دینے والے پیش رو بنا دیا اور قیامت کے روز وہ کہیں سے کوئی مدد نہ پا سکیں گے
سورہ: Al-Qaṣaṣ - آیت: 41  - پارہ: 20 - صفحہ: 390
(25) اور اُس نے کہا "تم نے دنیا کی زندگی میں تو اللہ کو چھوڑ کر بتوں کو اپنے درمیان محبت کا ذریعہ بنا لیا ہے مگر قیامت کے روز تم ایک دُوسرے کا انکار اور ایک دُوسرے پر لعنت کرو گے اور آگ تمہارا ٹھکانا ہو گی اور کوئی تمہارا مدد گار نہ ہو گا"
سورہ: Al-‘Ankabūt - آیت: 25  - پارہ: 20 - صفحہ: 399
(68) اُس شخص سے بڑا ظالم کون ہو گا جو اللہ پر جھوٹ باندھے یا حق کو جھُٹلائے جب کہ وہ اس کے سامنے آ چکا ہو؟ کیا ایسے کافروں کا ٹھکانہ جہنم ہی نہیں ہے؟
سورہ: Al-‘Ankabūt - آیت: 68  - پارہ: 21 - صفحہ: 404
(24) ہم تھوڑی مدت انہیں دُنیا میں مزے کرنے کا موقع دے رہے ہیں، پھر ان کو بے بس کر کے ایک سخت عذاب کی طرف کھینچ لے جائیں گے
سورہ: Luqmān - آیت: 24  - پارہ: 21 - صفحہ: 413
(20) اور جنہوں نے فسق اختیار کیا ہے اُن کا ٹھکانا دوزخ ہے جب کبھی وہ اس سے نکلنا چاہیں گے اسی میں دھکیل دیے جائیں گے اور ان سے کہا جائے گا کہ چکھو اب اُسی آگ کے عذاب کا مزا جس کو تم جھٹلایا کرتے تھے
سورہ: As-Sajdah - آیت: 20  - پارہ: 21 - صفحہ: 416
(8) تاکہ سچے لوگوں سے (ان کا رب) ان کی سچائی کے بارے میں سوال کرے، اور کافروں کے لیے تو اس نے درد ناک عذاب مہیا کر ہی رکھا ہے
سورہ: Al-Aḥzāb - آیت: 8  - پارہ: 21 - صفحہ: 419
(64) بہرحال یہ یقینی امر ہے کہ اللہ نے کافروں پر لعنت کی ہے اور ان کے لیے بھڑکتی ہوئی آگ مہیا کر دی ہے
سورہ: Al-Aḥzāb - آیت: 64  - پارہ: 22 - صفحہ: 427
(68) اے رب، ان کو دوہرا عذاب دے اور ان پر سخت لعنت کر"
سورہ: Al-Aḥzāb - آیت: 68  - پارہ: 22 - صفحہ: 427
(32) وہ بڑے بننے والے ان دبے ہوئے لوگوں کو جواب دیں گے "کیا ہم نے تمہیں اُس ہدایت سے روکا تھا جو تمہارے پاس آئی تھی؟ نہیں، بلکہ تم خود مجرم تھے"
سورہ: Saba’ - آیت: 32  - پارہ: 22 - صفحہ: 432
(36) اور جن لوگوں نے کفر کیا ہے اُن کے لیے جہنم کی آگ ہے نہ اُن کا قصہ پاک کر دیا جائے گا کہ مر جائیں اور نہ اُن کے لیے جہنم کے عذاب میں کوئی کمی کی جائے گی اِس طرح ہم بدلہ دیتے ہیں ہر اُس شخص کو جو کفر کرنے والا ہو
(37) وہ وہاں چیخ چیخ کر کہیں گے کہ "اے ہمارے رب، ہمیں یہاں سے نکال لے تاکہ ہم نیک عمل کریں اُن اعمال سے مختلف جو پہلے کرتے رہے تھے" (انہیں جواب دیا جائے گا) "کیا ہم نے تم کو اتنی عمر نہ دی تھی جس میں کوئی سبق لینا چاہتا تو سبق لے سکتاتھا؟ اور تمہارے پاس متنبہ کرنے والا بھی آ چکا تھا اب مزا چکھو ظالموں کا یہاں کوئی مددگار نہیں ہے"
سورہ: Fāṭir - آیت: 36-37 - پارہ: 22 - صفحہ: 438
(60) یقیناً یہی عظیم الشان کامیابی ہے
سورہ: Aṣ-Ṣāffāt - آیت: 60  - پارہ: 23 - صفحہ: 448
(70) اور انہی کے نقش قدم پر دوڑ چلے
سورہ: Aṣ-Ṣāffāt - آیت: 70  - پارہ: 23 - صفحہ: 448
(27) ہم نے اس آسمان اور زمین کو، اور اس دنیا کو جو ان کے درمیان ہے، فضول پیدا نہیں کر دیا ہے یہ تو اُن لوگوں کا گمان ہے جنہوں نے کفر کیا ہے، اور ایسے کافروں کے لیے بربادی ہے جہنم کی آگ سے
سورہ: Ṣād - آیت: 27  - پارہ: 23 - صفحہ: 455
(55) یہ تو ہے متقیوں کا انجام اور سرکشوں کے لیے بدترین ٹھکانا ہے
سورہ: Ṣād - آیت: 55  - پارہ: 23 - صفحہ: 456
(64) بے شک یہ بات سچی ہے، اہل دوزخ میں یہی کچھ جھگڑے ہونے والے ہیں
سورہ: Ṣād - آیت: 64  - پارہ: 23 - صفحہ: 457
(8) انسان پر جب کوئی آفت آتی ہے تو وہ اپنے رب کی طرف رجوع کر کے اُسے پکارتا ہے پھر جب اس کا رب اسے اپنی نعمت سے نواز دیتا ہے تو وہ اُس مصیبت کو بھول جاتا ہے جس پر وہ پہلے پکار رہا تھا اور دوسروں کو اللہ کا ہمسر ٹھیراتا ہے تاکہ اُس کی راہ سے گمراہ کرے (اے نبیؐ) اُس سے کہو کہ تھوڑے دن اپنے کفر سے لطف اٹھا لے، یقیناً تو دوزخ میں جانے والا ہے
سورہ: Az-Zumar - آیت: 8  - پارہ: 23 - صفحہ: 459
(16) اُن پر آگ کی چھتریاں اوپر سے بھی چھائی ہوں گی اور نیچے سے بھی یہ وہ انجام ہے جس سے اللہ اپنے بندوں کو ڈراتا ہے، پس اے میرے بندو، میرے غضب سے بچو
سورہ: Az-Zumar - آیت: 16  - پارہ: 23 - صفحہ: 460
(24) اب اُس شخص کی بد حالی کا تم کیا اندازہ کر سکتے ہو جو قیامت کے روز عذاب کی سخت مار اپنے منہ پر لے گا؟ ایسے ظالموں سے تو کہہ دیا جائے گا کہ اب چکھو مزہ اُس کمائی کا جو تم کرتے رہے تھے
(25) اِن سے پہلے بھی بہت سے لوگ اسی طرح جھٹلا چکے ہیں آخر اُن پر عذاب ایسے رخ سے آیا جدھر ان کا خیال بھی نہ جا سکتا تھا
سورہ: Az-Zumar - آیت: 24-25 - پارہ: 23 - صفحہ: 461
(32) پھر اُس شخص سے بڑا ظالم اور کون ہو گا جس نے اللہ پر جھوٹ باندھا اور جب سچائی اس کے سامنے آئی تو اُسے جھٹلا دیا کیا ایسے کافروں کے لیے جہنم میں کوئی ٹھکانا نہیں ہے؟
سورہ: Az-Zumar - آیت: 32  - پارہ: 24 - صفحہ: 462
(40) کہ کس پر رسوا کن عذاب آتا ہے اور کسے وہ سزا ملتی ہے جو کبھی ٹلنے والی نہیں"
سورہ: Az-Zumar - آیت: 40  - پارہ: 24 - صفحہ: 462
(47) اگر اِن ظالموں کے پاس زمین کی ساری دولت بھی ہو، اور اتنی ہی اور بھی، تو یہ روز قیامت کے برے عذاب سے بچنے کے لیے سب کچھ فدیے میں دینے کے لیے تیار ہو جائیں گے وہاں اللہ کی طرف سے ان کے سامنے وہ کچھ آئے گا جس کا انہوں نے کبھی اندازہ ہی نہیں کیا ہے
(48) وہاں اپنی کمائی کے سارے برے نتائج ان پر کھل جائیں گے اور وہی چیز ان پر مسلط ہو جائے گی جس کا یہ مذاق اڑاتے رہے ہیں
سورہ: Az-Zumar - آیت: 47-48 - پارہ: 24 - صفحہ: 463
(60) آج جن لوگوں نے خدا پر جھوٹ باندھے ہیں قیامت کے روز تم دیکھو گے کہ ان کے منہ کالے ہوں گے کیا جہنم میں متکبروں کے لیے کافی جگہ نہیں ہے؟
سورہ: Az-Zumar - آیت: 60  - پارہ: 24 - صفحہ: 465
(71) (اِس فیصلہ کے بعد) وہ لوگ جنہوں نے کفر کیا تھا جہنم کی طرف گروہ در گروہ ہانکے جائیں گے، یہاں تک کہ جب وہ وہاں پہنچیں گے تو اس کے دروازے کھولے جائیں گے اور اُس کے کارندے ان سے کہیں گے "کیا تمہارے پاس تمہارے اپنے لوگوں میں سے ایسے رسول نہیں آئے تھے، جنہوں نے تم کو تمہارے رب کی آیات سنائی ہوں اور تمہیں اس بات سے ڈرایا ہو کہ ایک وقت تمہیں یہ دن بھی دیکھنا ہوگا؟" وہ جواب دیں گے "ہاں، آئے تھے، مگر عذاب کا فیصلہ کافروں پر چپک گیا"
سورہ: Az-Zumar - آیت: 71  - پارہ: 24 - صفحہ: 466
(6) اِسی طرح تیرے رب کا یہ فیصلہ بھی اُن سب لوگوں پر چسپاں ہو چکا ہے جو کفر کے مرتکب ہوئے ہیں کہ وہ واصل بجہنم ہونے والے ہیں
سورہ: Ghāfir - آیت: 6  - پارہ: 24 - صفحہ: 467
(43) نہیں، حق یہ ہے اور اِس کے خلاف نہیں ہو سکتا کہ جن کی طرف تم مجھے بلا رہے ہو اُن کے لیے نہ دنیا میں کوئی دعوت ہے نہ آخرت میں، اور ہم سب کو پلٹنا اللہ ہی کی طرف ہے، اور حد سے گزرنے والے آگ میں جانے والے ہیں
سورہ: Ghāfir - آیت: 43  - پارہ: 24 - صفحہ: 472
(46) دوزخ کی آگ ہے جس کے سامنے صبح و شام وہ پیش کیے جاتے ہیں، اور جب قیامت کی گھڑی آ جائے گی تو حکم ہو گا کہ آل فرعون کو شدید تر عذاب میں داخل کرو
سورہ: Ghāfir - آیت: 46  - پارہ: 24 - صفحہ: 472
(50) وہ پوچھیں گے "کیا تمہارے پاس تمہارے رسول بینات لے کر نہیں آتے رہے تھے؟" وہ کہیں گے "ہاں"جہنم کے اہل کار بولیں گے: "پھر تو تم ہی دعا کرو، اور کافروں کی دعا اکارت ہی جانے والی ہے"
سورہ: Ghāfir - آیت: 50  - پارہ: 24 - صفحہ: 473
(70) یہ لوگ جو اِس کتاب کو اور اُن ساری کتابوں کو جھٹلاتے ہیں جو ہم نے اپنے رسولوں کے ساتھ بھیجی تھیں؟عنقریب انہیں معلوم ہو جائے گا
سورہ: Ghāfir - آیت: 70  - پارہ: 24 - صفحہ: 475
(72) وہ کھولتے ہوئے پانی کی طرف کھینچے جائیں گے اور پھر دوزخ کی آگ میں جھونک دیے جائیں گے
سورہ: Ghāfir - آیت: 72  - پارہ: 24 - صفحہ: 475
(19) اور ذرا اُس وقت کا خیال کرو جب اللہ کے یہ دشمن دوزخ کی طرف جانے کے لیے گھیر لائے جائیں گے اُن کے اگلوں کو پچھلوں کے آنے تک روک رکھا جائے گا
سورہ: Fuṣṣilat - آیت: 19  - پارہ: 24 - صفحہ: 478
(24) اس حالت میں وہ صبر کریں (یا نہ کریں) آگ ہی ان کا ٹھکانا ہو گی، اور اگر رجوع کا موقع چاہیں گے تو کوئی موقع انہیں نہ دیا جائے گا
سورہ: Fuṣṣilat - آیت: 24  - پارہ: 24 - صفحہ: 479
(44) جس کو اللہ ہی گمراہی میں پھینک دے اُس کا کوئی سنبھالنے والا اللہ کے بعد نہیں ہے تم دیکھو گے کہ یہ ظالم جب عذاب دیکھیں گے تو کہیں گے اب پلٹنے کی بھی کوئی سبیل ہے؟
(45) اور تم دیکھو گے کہ یہ جہنم کے سامنے جب لائے جائیں گے تو ذلت کے مارے جھکے جا رہے ہوں گے اور اُس کو نظر بچا بچا کر کن آنکھیوں سے دیکھیں گے اُس وقت وہ لوگ جو ایمان لائے تھے کہیں گے کہ واقعی اصل زیاں کار وہی ہیں جنہوں نے آج قیامت کے دن اپنے آپ کو اور اپنے متعلقین کو خسارے میں ڈال دیا خبردار رہو، ظالم لوگ مستقل عذاب میں ہوں گے
سورہ: Ash-Shūra - آیت: 44-45 - پارہ: 25 - صفحہ: 487
(74) رہے مجرمین، تو وہ ہمیشہ جہنم کے عذاب میں مبتلا رہیں گے
(75) کبھی اُن کے عذاب میں کمی نہ ہو گی، اور وہ اس میں مایوس پڑے ہوں گے
(76) ان پر ہم نے ظلم نہیں کیا بلکہ وہ خود ہی اپنے اوپر ظلم کرتے رہے
(77) وہ پکاریں گے، "اے مالک، تیرا رب ہمارا کام ہی تمام کر دے تو اچھا ہے" وہ جواب دے گا، "تم یوں ہی پڑے رہو گے
(78) ہم تمہارے پاس حق لے کر آئے تھے مگر تم میں سے اکثر کو حق ہی ناگوار تھا"
سورہ: Az-Zukhruf - آیت: 74-75-76-77-78 - پارہ: 25 - صفحہ: 495
(43) زقوم کا درخت
سورہ: Ad-Dukhān - آیت: 43  - پارہ: 25 - صفحہ: 498
(50) یہ وہی چیز ہے جس کے آنے میں تم لوگ شک رکھتے تھے"
سورہ: Ad-Dukhān - آیت: 50  - پارہ: 25 - صفحہ: 498
(34) اور ان سے کہہ دیا جائے گا کہ "آج ہم بھی اُسی طرح تمہیں بھلائے دیتے ہیں جس طرح تم اِس دن کی ملاقات کو بھول گئے تھے تمہارا ٹھکانا اب دوزخ ہے اور کوئی تمہاری مدد کرنے والا نہیں ہے
سورہ: Al-Jāthiyah - آیت: 34  - پارہ: 25 - صفحہ: 502
(20) پھر جب یہ کافر آگ کے سامنے لا کھڑے کیے جائیں گے تو ان سے کہا جائے گا: "تم اپنے حصے کی نعمتیں اپنی دنیا کی زندگی میں ختم کر چکے اور ان کا لطف تم نے اٹھا لیا، اب جو تکبر تم زمین میں کسی حق کے بغیر کرتے رہے اور جو نافرمانیاں تم نے کیں اُن کی پاداش میں آج تم کو ذلت کا عذاب دیا جائے گا"
سورہ: Al-Aḥqāf - آیت: 20  - پارہ: 26 - صفحہ: 504
(34) جس روز یہ کافر آگ کے سامنے لائے جائیں گے، اُس وقت اِن سے پوچھا جائے گا "کیا یہ حق نہیں ہے؟" یہ کہیں گے "ہاں، ہمارے رب کی قسم (یہ واقعی حق ہے)" اللہ فرمائے گا، "اچھا تو اب عذاب کا مزا چکھو اپنے اُس انکار کی پاداش میں جو تم کرتے رہے تھے"
سورہ: Al-Aḥqāf - آیت: 34  - پارہ: 26 - صفحہ: 506
(12) ایمان لانے والوں اور نیک عمل کرنے والوں کو اللہ اُن جنتوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں، اور کفر کرنے والے بس دنیا کی چند روزہ زندگی کے مزے لوٹ رہے ہیں، جانوروں کی طرح کھا پی رہے ہیں، اور اُن کا آخری ٹھکانا جہنم ہے
سورہ: Muḥammad - آیت: 12  - پارہ: 26 - صفحہ: 508
(15) پرہیز گاروں کے لیے جس جنت کا وعدہ کیا گیا ہے اس کی شان تو یہ ہے کہ اس میں نہریں بہہ رہی ہوں گی نتھرے ہوئے پانی کی، نہریں بہہ رہی ہوں گی ایسے دودھ کی جس کے مزے میں ذرا فرق نہ آیا ہو گا، نہریں بہہ رہی ہوں گی ایسی شراب کی جو پینے والوں کے لیے لذیذ ہوگی، نہریں بہہ رہی ہوں گی صاف شفاف شہد کی اُس میں اُن کے لیے ہر طرح کے پھل ہوں گے اور اُن کے رب کی طرف سے بخشش (کیا وہ شخص جس کے حصہ میں یہ جنت آنے والی ہے) اُن لوگوں کی طرح ہو سکتا ہے جو جہنم میں ہمیشہ رہیں گے اور جنہیں ایسا گرم پانی پلایا جائے گا جو ان کی آنتیں تک کاٹ دے گا؟
سورہ: Muḥammad - آیت: 15  - پارہ: 26 - صفحہ: 508
(13) وہ اُس روز آئے گا جب یہ لوگ آگ پر تپائے جائیں گے
(14) (اِن سے کہا جائے گا) اب چکھو مزا اپنے فتنے کا یہ وہی چیز ہے جس کے لیے تم جلدی مچا رہے تھے
سورہ: Adh-Dhāriyāt - آیت: 13-14 - پارہ: 26 - صفحہ: 521
(11) تباہی ہے اُس روز اُن جھٹلانے والوں کے لیے
(12) جو آج کھیل کے طور پر اپنی حجت بازیوں میں لگے ہوئے ہیں
سورہ: Aṭ-Ṭūr - آیت: 11-12 - پارہ: 27 - صفحہ: 523
(28) اِن کو جتا دے کہ پانی اِن کے اور اونٹنی کے درمیان تقسیم ہوگا اور ہر ایک اپنی باری کے دن پانی پر آئے گا"
سورہ: Al-Qamar - آیت: 28  - پارہ: 27 - صفحہ: 530
(37) پھر (کیا بنے گی اُس وقت) جب آسمان پھٹے گا اور لال چمڑے کی طرح سرخ ہو جائے گا؟
سورہ: Ar-Raḥmān - آیت: 37  - پارہ: 27 - صفحہ: 532
(44) اُسی جہنم اور کھولتے ہوئے پانی کے درمیان وہ گردش کرتے رہیں گے
سورہ: Ar-Raḥmān - آیت: 44  - پارہ: 27 - صفحہ: 533
(41) اور بائیں بازو والے، بائیں بازو والوں کی بد نصیبی کا کیا پوچھنا
سورہ: Al-Wāqi‘ah - آیت: 41  - پارہ: 27 - صفحہ: 535
(56) یہ ہے بائیں والوں کی ضیافت کا سامان روز جزا میں
سورہ: Al-Wāqi‘ah - آیت: 56  - پارہ: 27 - صفحہ: 536
(15) لہٰذا آج نہ تم سے کوئی فدیہ قبول کیا جائے گا اور نہ اُن لوگوں سے جنہوں نے کھلا کھلا کفر کیا تھا تمہارا ٹھکانا جہنم ہے، وہی تمہاری خبر گیری کرنے والی ہے اور یہ بدترین انجام ہے
سورہ: Al-Ḥadīd - آیت: 15  - پارہ: 27 - صفحہ: 539
(17) اللہ سے بچانے کے لیے نہ ان کے مال کچھ کام آئیں گے نہ ان کی اولاد وہ دوزخ کے یار ہیں، اسی میں وہ ہمیشہ رہیں گے
سورہ: Al-Mujādilah - آیت: 17  - پارہ: 28 - صفحہ: 544
(3) اگر اللہ نے اُن کے حق میں جلا وطنی نہ لکھ دی ہوتی تو دنیا ہی میں وہ انہیں عذاب دے ڈالتا، اور آخرت میں تو ان کے لیے دوزخ کا عذاب ہے ہی
سورہ: Al-Ḥashr - آیت: 3  - پارہ: 28 - صفحہ: 545
(17) پھر دونوں کا انجام یہ ہونا ہے کہ ہمیشہ کے لیے جہنم میں جائیں، اور ظالموں کی یہی جزا ہے
سورہ: Al-Ḥashr - آیت: 17  - پارہ: 28 - صفحہ: 548
(20) دوزخ میں جانے والے اور جنت میں جانے والے کبھی یکساں نہیں ہو سکتے جنت میں جانے والے ہی اصل میں کامیاب ہیں
سورہ: Al-Ḥashr - آیت: 20  - پارہ: 28 - صفحہ: 548
(10) اور جن لوگوں نے کفر کیا ہے اور ہماری آیات کو جھٹلایا ہے وہ دوزخ کے باشندے ہوں گے جس میں وہ ہمیشہ رہیں گے اور وہ بدترین ٹھکانا ہے
سورہ: At-Taghābun - آیت: 10  - پارہ: 28 - صفحہ: 557
(6) اے لوگو جو ایمان لائے ہو، بچاؤ اپنے آپ کو اور اپنے اہل و عیال کو اُس آگ سے جس کا ایندھن انسان اور پتھر ہوں گے جس پر نہایت تند خو اور سخت گیر فرشتے مقرر ہوں گے جو کبھی اللہ کے حکم کی نافرمانی نہیں کرتے اور جو حکم بھی انہیں دیا جاتا ہے اسے بجا لاتے ہیں
(7) (اُس وقت کہا جائے گا کہ) اے کافرو، آج معذرتیں پیش نہ کرو، تہیں تو ویسا ہی بدلہ دیا جا رہا ہے جیسے تم عمل کر رہے تھے
سورہ: At-Taḥrīm - آیت: 6-7 - پارہ: 28 - صفحہ: 560
(10) اللہ کافروں کے معاملے میں نوحؑ اور لوطؑ کی بیویوں کو بطور مثال پیش کرتا ہے وہ ہمارے دو صالح بندوں کی زوجیت میں تھیں، مگر انہوں نے اپنے ان شوہروں سے خیانت کی اور وہ اللہ کے مقابلہ میں ان کے کچھ بھی نہ کام آ سکے دونوں سے کہہ دیا گیا کہ جاؤ آگ میں جانے والوں کے ساتھ تم بھی چلی جاؤ
سورہ: At-Taḥrīm - آیت: 10  - پارہ: 28 - صفحہ: 561
(8) شدت غضب سے پھٹی جاتی ہو گی ہر بار جب کوئی انبوہ اس میں ڈالا جائے گا، اُس کے کارندے اُن لوگوں سے پوچھیں گے "کیا تمہارے پاس کوئی خبردار کرنے والا نہیں آیا تھا؟"
(9) وہ جواب دیں گے "ہاں، خبردار کرنے والا ہمارے پاس آیا تھا، مگر ہم نے اسے جھٹلا دیا اور کہا اللہ نے کچھ بھی نازل نہیں کیا ہے، تم بڑی گمراہی میں پڑے ہوئے ہو"
(10) اور وہ کہیں گے "کاش ہم سنتے یا سمجھتے تو آج اِس بھڑکتی ہوئی آگ کے سزا واروں میں نہ شامل ہوتے"
(11) اس طرح وہ اپنے قصور کا خود اعتراف کر لیں گے، لعنت ہے ان دوزخیوں پر
سورہ: Al-Mulk - آیت: 8-9-10-11 - پارہ: 29 - صفحہ: 562
(23) میرا کام اس کے سوا کچھ نہیں ہے کہ اللہ کی بات اور اس کے پیغامات پہنچا دوں اب جو بھی اللہ اور اس کے رسول کی بات نہ مانے گا اس کے لیے جہنم کی آگ ہے اور ایسے لوگ اس میں ہمیشہ رہیں گے"
سورہ: Al-Jinn - آیت: 23  - پارہ: 29 - صفحہ: 573
(26) عنقریب میں اسے دوزخ میں جھونک دوں گا
سورہ: Al-Muddaththir - آیت: 26  - پارہ: 29 - صفحہ: 576
(37) تم میں سے ہر اُس شخص کے لیے ڈراوا جو آگے بڑھنا چاہے یا پیچھے رہ جانا چاہے
سورہ: Al-Muddaththir - آیت: 37  - پارہ: 29 - صفحہ: 576
(4) کفر کرنے والوں کے لیے ہم نے زنجیریں اور طوق اور بھڑکتی ہوئی آگ مہیا کر رکھی ہے
سورہ: Al-Insān - آیت: 4  - پارہ: 29 - صفحہ: 578
(21) درحقیقت جہنم ایک گھات ہے
سورہ: An-Naba’ - آیت: 21  - پارہ: 30 - صفحہ: 582
(30) اب چکھو مزہ، ہم تمہارے لیے عذاب کے سوا کسی چیز میں ہرگز اضافہ نہ کریں گے
سورہ: An-Naba’ - آیت: 30  - پارہ: 30 - صفحہ: 582
(1) تباہی ہے ڈنڈی مارنے والوں کے لیے
سورہ: Al-Muṭaffifīn - آیت: 1  - پارہ: 30 - صفحہ: 587
(16) پھر یہ جہنم میں جا پڑیں گے
(17) پھر اِن سے کہا جائے گا کہ یہ وہی چیز ہے جسے تم جھٹلایا کرتے تھے
سورہ: Al-Muṭaffifīn - آیت: 16-17 - پارہ: 30 - صفحہ: 588
(11) تو وہ موت کو پکارے گا
(12) اور بھڑکتی ہوئی آگ میں جا پڑے گا
سورہ: Al-Inshiqāq - آیت: 11-12 - پارہ: 30 - صفحہ: 589
(20) ان پر آگ چھائی ہوئی ہوگی
سورہ: Al-Balad - آیت: 20  - پارہ: 30 - صفحہ: 595
(6) اہل کتاب اور مشرکین میں سے جن لوگوں نے کفر کیا ہے وہ یقیناً جہنم کی آگ میں جائیں گے اور ہمیشہ اس میں رہیں گے، یہ لوگ بد ترین خلائق ہیں
سورہ: Al-Bayyinah - آیت: 6  - پارہ: 30 - صفحہ: 599
(11) بھڑکتی ہوئی آگ
سورہ: Al-Qāri‘ah - آیت: 11  - پارہ: 30 - صفحہ: 600
(1) تباہی ہے ہر اُس شخص کے لیے جو (منہ در منہ) لوگوں پر طعن اور (پیٹھ پیچھے) برائیاں کرنے کا خوگر ہے
(2) جس نے مال جمع کیا اور اُسے گن گن کر رکھا
(3) وہ سمجھتا ہے کہ اُس کا مال ہمیشہ اُس کے پاس رہے گا
(4) ہرگز نہیں، وہ شخص تو چکنا چور کر دینے والی جگہ میں پھینک دیا جائے گا
(5) اور تم کیا جانو کہ کیا ہے وہ چکنا چور کر دینے والی جگہ؟
(6) اللہ کی آگ، خوب بھڑکائی ہوئی
سورہ: Al-Humazah - آیت: 1-2-3-4-5-6 - پارہ: 30 - صفحہ: 601
(9) (اِس حالت میں کہ وہ) اونچے اونچے ستونوں میں (گھرے ہوئے ہوں گے)
سورہ: Al-Humazah - آیت: 9  - پارہ: 30 - صفحہ: 601
(1) ٹوٹ گئے ابولہب کے ہاتھ اور نامراد ہو گیا وہ
(2) اُس کا مال اور جو کچھ اس نے کمایا وہ اُس کے کسی کام نہ آیا
(3) ضرور وہ شعلہ زن آگ میں ڈالا جائے گا
سورہ: Al-Masad - آیت: 1-2-3 - پارہ: 30 - صفحہ: 603


🍃 قرآن کریم میں دیگر موضوعات


Saturday, July 18, 2026

Please remember us in your sincere prayers