ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- الطور: پہاڑ، خاص طور پر وہ پہاڑ جس پر اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام سے کلام فرمایا۔
تفسیر:
اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے "الطور" کی قسم کھائی ہے، یعنی اس مقدس پہاڑ کی قسم جس پر اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام سے براہِ راست کلام فرمایا۔ یہ کوہِ طور سینا ہے، جو آج بھی مسلمانوں کے لیے ایک مقدس اور تاریخی مقام ہے۔
اللہ تعالیٰ جب کسی چیز کی قسم کھاتا ہے تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ وہ چیز بہت اہم اور عظیم ہے، اور اس کی قسم کھا کر وہ اپنی بات کی تاکید کرتا ہے۔ یہاں اللہ تعالیٰ نے طور کی قسم کھا کر یہ ثابت کیا ہے کہ اس کے بعد جو کچھ بیان ہونے والا ہے وہ انتہائی اہم اور سچ ہے۔
یہ پہاڑ اس لیے خاص ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس پر اپنے نبی حضرت موسیٰ علیہ السلام سے کلام فرمایا، اور انہیں تورات جیسی عظیم کتاب عطا کی۔ یہ اللہ تعالیٰ کی قدرت اور اپنے انبیاء سے محبت کی نشانی ہے۔
دعوتی پہلو:
اس آیت سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے انبیاء اور ان سے منسلک مقامات کو عزت دیتا ہے۔ جس طرح اللہ نے طور کو عزت دی، اسی طرح ہمیں بھی چاہیے کہ ہم اللہ کے انبیاء اور ان کی تعلیمات کی عزت کریں۔ یہ آیت ہمیں ایمان کی دعوت دیتی ہے کہ جب اللہ تعالیٰ خود اپنی عظیم مخلوق کی قسم کھاتا ہے، تو ہمیں اس کے بعد آنے والے پیغام کو کان دھر کر سننا چاہیے اور اس پر عمل کرنا چاہیے۔
اللہ تعالیٰ نے اس قسم کے بعد جو کچھ بیان فرمایا ہے، وہ قیامت کے دن کے عذاب اور نعمتوں کا ذکر ہے، جو ہمیں نیک اعمال کی ترغیب دیتا ہے اور برائیوں سے بچنے کی تلقین کرتا ہے۔ آئیے ہم اس عظیم قرآن پر غور کریں اور اس پر عمل کرکے اپنی آخرت سنواریں۔
📜 آیت 1-3 — طور
ترجمہ — طور 1
سورہ طور آیت 1 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : (کوہ) طور کی قسمسورہ آیت 1/49 — طور الطور (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: طور سنیں, طور ترجمہ, طور mp3, طور pdf. آیت 1–3. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








