📜 Tafsir
معانی الفاظ:
- لَسَوْفَ: یقیناً عنقریب، ضرور
- یُعْطِیکَ: آپ کو عطا فرمائے گا
- فَتَرْضَىٰ: پس آپ راضی ہو جائیں گے
تفسیر:
اس آیتِ کریمہ میں اللہ تعالیٰ اپنے حبیبِ مکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ایک عظیم بشارت اور اطمینانِ قلب عطا فرما رہے ہیں۔ فرمایا جا رہا ہے کہ اے نبیِ رحمت! یقیناً آپ کا رب عنقریب آپ کو اتنا کچھ عطا فرمائے گا کہ آپ راضی ہو جائیں گے۔
یہ وعدہ صرف دنیا کی محدود نعمتوں کا نہیں، بلکہ آخرت کے ابدی اور لازوال انعامات کا ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنے محبوب کو قیامت کے دن ایسے عظیم انعامات سے نوازے گا جو کسی آنکھ نے نہیں دیکھے، کسی کان نے نہیں سنے اور کسی دل پر نہیں گزرے۔ اس میں سب سے بڑا انعام مقامِ محمود، شفاعتِ کبریٰ اور اُمت کی بخشش ہے۔ نبیِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی اُمت کے لیے شفاعت فرمائیں گے اور جب آپ دیکھیں گے کہ آپ کی اُمت کے گنہگاروں کو بھی جہنم سے نجات مل رہی ہے اور وہ جنت میں داخل ہو رہے ہیں، تو آپ راضی ہو جائیں گے۔
یہ آیت مبارکہ ہمیں سکھاتی ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے نیک بندوں کو دنیا میں آزمائشوں سے نوازتا ہے، لیکن آخرت میں انہیں ایسا اجر عطا کرتا ہے جو ہر تکلیف کا مداوا بن جاتا ہے۔ جب نبیِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ابتدائی دورِ نبوت میں مخالفتوں اور تکلیفوں کا سامنا تھا، تو اللہ نے یہ تسلی بخشی کہ آخرت کا اجر و انعام یقینی ہے۔
اس آیت سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ ہمیں صبر اور استقامت کے ساتھ اللہ پر بھروسہ رکھنا چاہیے۔ دنیا کی مصیبتیں عارضی ہیں، لیکن اللہ کا وعدہ سچا اور پکا ہے۔ جو شخص اللہ کی راہ میں صبر کرتا ہے، اللہ اسے کبھی محروم نہیں رکھتا۔ یہ وعدہ صرف نبیِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ خاص نہیں، بلکہ ہر مومن کے لیے بشارت ہے کہ اگر وہ اللہ کی اطاعت اور رسول کی پیروی کرے گا، تو آخرت میں اسے ایسا اجر ملے گا جس سے وہ راضی ہو جائے گا۔
اللہ تعالیٰ ہمیں توفیق دے کہ ہم اپنے ایمان کو مضبوط کریں، صبر و استقامت اختیار کریں اور اس عظیم وعدے پر یقین رکھیں۔ آمین۔
🎧 Listen to Renowned Reciters
Mishary Alafasy
Abdul Basit Abdul Samad
Mahmoud Khalil Al-Husary
Maher Al-Muaiqly
Yasser Al-Dosari
Mohamed Siddiq Al-Minshawi
Saad Al-Ghamdi
📚 Surahs of the Quran
قرآن کریم
Wednesday, September 9, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں







