ترجمہ — Tafsir
﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تُحِلُّوا شَعَائِرَ اللَّهِ﴾
لغوی معانی:
- شَعَائِرَ: "شَعِیرَة" کی جمع ہے، جس کا مطلب ہے علامتیں اور نشانیاں۔ یہاں مراد اللہ تعالیٰ کے مقرر کردہ حج کے مناسک اور اس کی حرمت والی عبادات ہیں۔
- الشَّهْرَ الْحَرَامَ: حرمت والے مہینے، یعنی ذو القعدہ، ذو الحجہ، محرم اور رجب۔
- الْهَدْيَ: وہ جانور جو حرم میں ذبح کرنے کے لیے بطور قربانی بھیجا جائے۔
- الْقَلَائِدَ: "قِلَادَة" کی جمع، یعنی وہ جانور جن کے گلے میں علامت کے طور پر پٹی یا کوئی چیز ڈال دی گئی ہو تاکہ معلوم ہو کہ یہ ہدی ہے۔
- آمِّينَ: "أَمَّ" سے اسم فاعل، یعنی قصد کرنے والے، ارادہ کرنے والے۔
- شَنَآنُ: بغض، دشمنی اور کینہ۔
- يَجْرِمَنَّكُمْ: تمہیں ابھارے، اکسانے والا ہو۔
- الْبِرِّ: نیکی، بھلائی اور ہر وہ کام جو اللہ کو پسند ہو۔
- التَّقْوَى: پرہیزگاری، یعنی اللہ کے احکام پر عمل اور اس کے منع کردہ کاموں سے بچنا۔
- الْإِثْمِ: گناہ، معصیت۔
- الْعُدْوَانِ: ظلم، زیادتی اور حد سے تجاوز کرنا۔
تفسیر:
اے ایمان والو! اللہ تعالیٰ کی مقرر کردہ حرمتوں اور علامتوں کو حلال نہ سمجھو، یعنی حج اور عمرہ کے مناسک کی بےحرمتی نہ کرو، نہ حرمت والے مہینوں میں جنگ و جدال کو جائز سمجھو، نہ ہدی کے جانوروں کو روکو یا انہیں نقصان پہنچاؤ، نہ ان جانوروں کو چھیڑو جن کے گلے میں قلادہ ڈال کر انہیں ہدی کی علامت بنا دیا گیا ہو، اور نہ ان لوگوں سے لڑائی کرو جو بیت اللہ الحرام کا قصد کر رہے ہوں اور اپنے رب کا فضل (تجارت وغیرہ کے ذریعے رزق) اور اس کی رضا چاہتے ہوں۔ یہ سب چیزیں اللہ کی حرمتیں ہیں جن کا احترام ضروری ہے۔
جب تم احرام سے باہر آ جاؤ اور حرم سے نکل جاؤ تو شکار کرنا جائز ہے، اس میں کوئی حرج نہیں۔ اور خبردار! کسی قوم کی دشمنی اور بغض — جس نے تمہیں مسجد الحرام سے روکا تھا، جیسا کہ حدیبیہ کے موقع پر ہوا — تمہیں اس بات پر آمادہ نہ کرے کہ تم ان پر ظلم کرو اور عدل و انصاف سے ہٹ جاؤ۔ ہمیشہ انصاف کرو، کیونکہ عدل و انصاف تقویٰ کے قریب ترین راستہ ہے۔
پھر اللہ تعالیٰ اہل ایمان کو ایک عظیم اصول سکھاتا ہے: "اور نیکی اور تقویٰ پر ایک دوسرے کی مدد کرو، اور گناہ اور زیادتی پر ایک دوسرے کی مدد نہ کرو۔" یہ اسلامی معاشرے کی بنیاد ہے — بھلائی میں تعاون، برائی میں نہیں۔ جو شخص کسی کو گناہ پر ابھارتا ہے یا ظلم میں مدد کرتا ہے، وہ اس گناہ کا شریک ہے۔
آخر میں اللہ تعالیٰ ڈراتا ہے: "اور اللہ سے ڈرو، بےشک اللہ سخت عذاب دینے والا ہے۔" یعنی اس کے حکم کی خلاف ورزی نہ کرو، اس کی نافرمانی سے بچو، کیونکہ اس کا عذاب بہت سخت ہے اور کوئی اس سے بچ نہیں سکتا۔
دعوتی پہلو:
یہ آیت مومنوں کو سکھاتی ہے کہ اللہ کی حرمتیں کتنی اہم ہیں! جب انسان اللہ کی مقرر کردہ حدود کا احترام کرتا ہے تو اس کا دل نرم اور روح پاکیزہ ہوتی ہے۔ اور سب سے خوبصورت بات یہ ہے کہ اسلام دشمنی کے باوجود عدل کا حکم دیتا ہے — کسی کی دشمنی آپ کو ظلم پر نہ ابھارے۔ یہی تو اسلام کی عظمت ہے کہ وہ اخلاقی بلندی کا درس دیتا ہے۔ آئیے ہم اس آیت پر عمل کریں: نیکی میں ایک دوسرے کا ساتھ دیں، گناہ سے بچیں، اور اللہ سے ڈریں — کیونکہ اسی میں دنیا اور آخرت کی کامیابی ہے۔
📜 آیت 1-4 — مائدہ
ترجمہ — مائدہ 2
سورہ مائدہ آیت 2 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : مومنو! خدا کے نام کی چیزوں کی بےحرمتی نہ کرنا…سورہ آیت 2/120 — مائدہ المائدة (مدنی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: مائدہ سنیں, مائدہ ترجمہ, مائدہ mp3, مائدہ pdf. آیت 1–4. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








