قرآن کریم میں قیامت کی نشانیاں (ارهاصات القیامه) کے بارے میں آیات
✅ قرآن کریم کے موضوعات
|
﴿هَلۡ يَنظُرُونَ إِلَّآ أَن يَأۡتِيَهُمُ ٱللَّهُ فِي ظُلَلٖ مِّنَ ٱلۡغَمَامِ وَٱلۡمَلَٰٓئِكَةُ وَقُضِيَ ٱلۡأَمۡرُۚ وَإِلَى ٱللَّهِ تُرۡجَعُ ٱلۡأُمُورُ ﴾ [Al-Baqarah: 210]
(210) (اِن ساری نصیحتوں اور ہدایتوں کے بعد بھی لوگ سیدھے نہ ہوں، تو) کیا اب وہ اِس کے منتظر ہیں کہ اللہ بادلوں کا چتر لگائے فرشتوں کے پرے سا تھ لیے خود سامنے آ موجود ہو اور فیصلہ ہی کر ڈالا جائے؟ آخر کار سارے معاملات پیش تو اللہ ہی کے حضور ہونے والے ہیں
|
|
﴿وَهُوَ ٱلَّذِي خَلَقَ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضَ بِٱلۡحَقِّۖ وَيَوۡمَ يَقُولُ كُن فَيَكُونُۚ قَوۡلُهُ ٱلۡحَقُّۚ وَلَهُ ٱلۡمُلۡكُ يَوۡمَ يُنفَخُ فِي ٱلصُّورِۚ عَٰلِمُ ٱلۡغَيۡبِ وَٱلشَّهَٰدَةِۚ وَهُوَ ٱلۡحَكِيمُ ٱلۡخَبِيرُ ﴾ [Al-An‘ām: 73]
(73) وہی ہے جس نے آسمان و زمین کو بر حق پیدا کیا ہے اور جس د ن وہ کہے گا کہ حشر ہو جائے اسی دن وہ ہو جائے گا اس کا ارشاد عین حق ہے اور جس روز صور پھونکا جائیگا اس روز پادشاہی اُسی کی ہوگی، وہ غیب اور شہادت ہر چیز کا عالم ہے اور دانا اور باخبر ہے
|
|
﴿هَلۡ يَنظُرُونَ إِلَّآ أَن تَأۡتِيَهُمُ ٱلۡمَلَٰٓئِكَةُ أَوۡ يَأۡتِيَ رَبُّكَ أَوۡ يَأۡتِيَ بَعۡضُ ءَايَٰتِ رَبِّكَۗ يَوۡمَ يَأۡتِي بَعۡضُ ءَايَٰتِ رَبِّكَ لَا يَنفَعُ نَفۡسًا إِيمَٰنُهَا لَمۡ تَكُنۡ ءَامَنَتۡ مِن قَبۡلُ أَوۡ كَسَبَتۡ فِيٓ إِيمَٰنِهَا خَيۡرٗاۗ قُلِ ٱنتَظِرُوٓاْ إِنَّا مُنتَظِرُونَ ﴾ [Al-An‘ām: 158]
(158) کیا اب لوگ اس کے منتظر ہیں کہ ان کے سامنے فرشتے آ کھڑے ہوں، یا تمہارا رب خود آ جائے، یا تمہارے رب کی بعض صریح نشانیاں نمودار ہو جائیں؟ جس روز تمہارے رب کی بعض مخصوص نشانیاں نمودار ہو جائیں گی پھر کسی ایسے شخص کو اس کا ایمان کچھ فائدہ نہ دے گا جو پہلے ایمان نہ لایا ہو یا جس نے اپنے ایمان میں کوئی بھلائی نہ کمائی ہو اے محمدؐ! ان سے کہہ دو کہ اچھا، تم انتظار کرو، ہم بھی انتظار کرتے ہیں
|
|
﴿
وَعُرِضُواْ عَلَىٰ رَبِّكَ صَفّٗا لَّقَدۡ جِئۡتُمُونَا كَمَا خَلَقۡنَٰكُمۡ أَوَّلَ مَرَّةِۭۚ بَلۡ زَعَمۡتُمۡ أَلَّن نَّجۡعَلَ لَكُم مَّوۡعِدٗا * وَوُضِعَ ٱلۡكِتَٰبُ فَتَرَى ٱلۡمُجۡرِمِينَ مُشۡفِقِينَ مِمَّا فِيهِ وَيَقُولُونَ يَٰوَيۡلَتَنَا مَالِ هَٰذَا ٱلۡكِتَٰبِ لَا يُغَادِرُ صَغِيرَةٗ وَلَا كَبِيرَةً إِلَّآ أَحۡصَىٰهَاۚ وَوَجَدُواْ مَا عَمِلُواْ حَاضِرٗاۗ وَلَا يَظۡلِمُ رَبُّكَ أَحَدٗا ﴾ [Al-Kahf: 48-49]
(48) اور سب کے سب تمہارے رب کے حضور صف در صف پیش کیے جائیں گے لو دیکھ لو، آ گئے نا تم ہمارے پاس اُسی طرح جیسا ہم نے تم کو پہلی بار پیدا کیا تھا تم نے تو یہ سمجھا تھا کہ ہم نے تمہارے لیے کوئی وعدے کا وقت مقرر ہی نہیں کیا ہے (49) اور نامہ اعمال سامنے رکھ دیا جائے گا اس وقت تم دیکھو گے کہ مجرم لوگ اپنی کتاب زندگی کے اندراجات سے ڈر رہے ہوں گے اور کہہ رہے ہوں گے کہ ہائے ہماری کم بختی، یہ کیسی کتاب ہے کہ ہماری کوئی چھوٹی بڑی حرکت ایسی نہیں رہی جو اس میں درج نہ ہو گئی ہو جو جو کچھ انہوں نے کیا تھا وہ سب اپنے سامنے حاضر پائیں گے اور تیرا رب کسی پر ذرا ظلم نہ کرے گا
|
|
(100) اور وہ دن ہوگا جب ہم جہنم کو کافروں کے سامنے لائیں گے
|
|
﴿
وَيَسۡـَٔلُونَكَ عَنِ ٱلۡجِبَالِ فَقُلۡ يَنسِفُهَا رَبِّي نَسۡفٗا * فَيَذَرُهَا قَاعٗا صَفۡصَفٗا * لَّا تَرَىٰ فِيهَا عِوَجٗا وَلَآ أَمۡتٗا ﴾ [Ṭā-Hā: 105-107]
(105) یہ لوگ تم سے پُوچھتے ہیں کہ آخر اُس دن یہ پہاڑ کہاں چلے جائیں گے؟ کہو کہ میرا رب ان کو دھول بنا کر اڑا دے گا (106) اور زمین کو ایسا ہموار چٹیل میدان بنا دے گا (107) کہ اس میں تم کوئی بل اور سلوٹ نہ دیکھو گے
|
|
﴿حَتَّىٰٓ إِذَا فُتِحَتۡ يَأۡجُوجُ وَمَأۡجُوجُ وَهُم مِّن كُلِّ حَدَبٖ يَنسِلُونَ ﴾ [Al-Anbiyā’: 96]
(96) یہاں تک کہ جب یاجُوج و ماجُوج کھول دیے جائیں گے اور ہر بلندی سے وہ نکل پڑیں گے
|
|
﴿يَوۡمَ نَطۡوِي ٱلسَّمَآءَ كَطَيِّ ٱلسِّجِلِّ لِلۡكُتُبِۚ كَمَا بَدَأۡنَآ أَوَّلَ خَلۡقٖ نُّعِيدُهُۥۚ وَعۡدًا عَلَيۡنَآۚ إِنَّا كُنَّا فَٰعِلِينَ ﴾ [Al-Anbiyā’: 104]
(104) وہ دن جبکہ آسمان کو ہم یوں لپیٹ کر رکھ دیں گے جیسے طومار میں اوراق لپیٹ دیے جاتے ہیں جس طرح پہلے ہم نے تخلیق کی ابتدا کی تھی اُسی طرح ہم پھر اُس کا اعادہ کریں گے یہ ایک وعدہ ہے ہمارے ذمے، اور یہ کام ہمیں بہرحال کرنا ہے
|
|
﴿۞ وَإِذَا وَقَعَ ٱلۡقَوۡلُ عَلَيۡهِمۡ أَخۡرَجۡنَا لَهُمۡ دَآبَّةٗ مِّنَ ٱلۡأَرۡضِ تُكَلِّمُهُمۡ أَنَّ ٱلنَّاسَ كَانُواْ بِـَٔايَٰتِنَا لَا يُوقِنُونَ ﴾ [An-Naml: 82]
(82) اور جب ہماری بات پُوری ہونے کا وقت اُن پر آ پہنچے گا تو ہم ان کے لیے ایک جانور زمین سے نکالیں گے جو ان سے کلام کرے گا کہ لوگ ہماری آیات پر یقین نہیں کرتے تھے
|
|
﴿
وَلَوۡ تَرَىٰٓ إِذۡ فَزِعُواْ فَلَا فَوۡتَ وَأُخِذُواْ مِن مَّكَانٖ قَرِيبٖ * وَقَالُوٓاْ ءَامَنَّا بِهِۦ وَأَنَّىٰ لَهُمُ ٱلتَّنَاوُشُ مِن مَّكَانِۭ بَعِيدٖ * وَقَدۡ كَفَرُواْ بِهِۦ مِن قَبۡلُۖ وَيَقۡذِفُونَ بِٱلۡغَيۡبِ مِن مَّكَانِۭ بَعِيدٖ * وَحِيلَ بَيۡنَهُمۡ وَبَيۡنَ مَا يَشۡتَهُونَ كَمَا فُعِلَ بِأَشۡيَاعِهِم مِّن قَبۡلُۚ إِنَّهُمۡ كَانُواْ فِي شَكّٖ مُّرِيبِۭ ﴾ [Saba’: 51-54]
(51) کاش تم دیکھو اِنہیں اُس وقت جب یہ لوگ گھبرائے پھر رہے ہوں گے اور کہیں بچ کر نہ جا سکیں گے، بلکہ قریب ہی سے پکڑ لیے جائیں گے (52) اُس وقت یہ کہیں گے کہ ہم اُس پر ایمان لے آئے حالانکہ اب دور نکلی ہوئی چیز کہاں ہاتھ آسکتی ہے (53) اِس سے پہلے یہ کفر کر چکے تھے اور بلا تحقیق دور دور کی کوڑیاں لایا کرتے تھے (54) اُس وقت جس چیز کی یہ تمنا کر رہے ہوں گے اس سے محروم کر دیے جائیں گے جس طرح اِن کے پیش رو ہم مشرب محروم ہو چکے ہوں گے یہ بڑے گمراہ کن شک میں پڑے ہوئے تھے
|
|
﴿
فَٱرۡتَقِبۡ يَوۡمَ تَأۡتِي ٱلسَّمَآءُ بِدُخَانٖ مُّبِينٖ * يَغۡشَى ٱلنَّاسَۖ هَٰذَا عَذَابٌ أَلِيمٞ ﴾ [Ad-Dukhān: 10-11]
(10) اچھا انتظار کرو اُس دن کا جب آسمان صریح دھواں لیے ہوئے آئے گا (11) اور وہ لوگوں پر چھا جائے گا، یہ ہے درد ناک سزا
|
|
(20) اور پھر صور پھونکا گیا، یہ ہے وہ دن جس کا تجھے خوف دلایا جاتا تھا
|
|
﴿
وَٱسۡتَمِعۡ يَوۡمَ يُنَادِ ٱلۡمُنَادِ مِن مَّكَانٖ قَرِيبٖ * يَوۡمَ يَسۡمَعُونَ ٱلصَّيۡحَةَ بِٱلۡحَقِّۚ ذَٰلِكَ يَوۡمُ ٱلۡخُرُوجِ ﴾ [Qāf: 41-42]
(41) اور سنو، جس دن منادی کرنے والا (ہر شخص کے) قریب ہی سے پکارے گا (42) جس دن سب لوگ آوازۂ حشر کو ٹھیک ٹھیک سن رہے ہوں گے، وہ زمین سے مُردوں کے نکلنے کا دن ہو گا
|
|
(9) وہ اُس روز واقع ہوگا جب آسمان بری طرح ڈگمگائے گا (10) اور پہاڑ اڑے اڑے پھریں گے
|
|
(1) قیامت کی گھڑی قریب آ گئی اور چاند پھٹ گیا
|
|
(37) پھر (کیا بنے گی اُس وقت) جب آسمان پھٹے گا اور لال چمڑے کی طرح سرخ ہو جائے گا؟
|
|
﴿
إِذَا رُجَّتِ ٱلۡأَرۡضُ رَجّٗا * وَبُسَّتِ ٱلۡجِبَالُ بَسّٗا * فَكَانَتۡ هَبَآءٗ مُّنۢبَثّٗا ﴾ [Al-Wāqi‘ah: 4-6]
(4) زمین اس وقت یکبارگی ہلا ڈالی جائے گی (5) اور پہاڑ اس طرح ریزہ ریزہ کر دیے جائیں گے (6) کہ پراگندہ غبار بن کر رہ جائیں گے
|
|
﴿
فَإِذَا نُفِخَ فِي ٱلصُّورِ نَفۡخَةٞ وَٰحِدَةٞ * وَحُمِلَتِ ٱلۡأَرۡضُ وَٱلۡجِبَالُ فَدُكَّتَا دَكَّةٗ وَٰحِدَةٗ * فَيَوۡمَئِذٖ وَقَعَتِ ٱلۡوَاقِعَةُ * وَٱنشَقَّتِ ٱلسَّمَآءُ فَهِيَ يَوۡمَئِذٖ وَاهِيَةٞ * وَٱلۡمَلَكُ عَلَىٰٓ أَرۡجَآئِهَاۚ وَيَحۡمِلُ عَرۡشَ رَبِّكَ فَوۡقَهُمۡ يَوۡمَئِذٖ ثَمَٰنِيَةٞ ﴾ [Al-Ḥāqqah: 13-17]
(13) پھر جب ایک دفعہ صور میں پھونک مار دی جائے گی (14) اور زمین اور پہاڑوں کو اٹھا کر ایک ہی چوٹ میں ریزہ ریزہ کر دیا جائے گا (15) اُس روز وہ ہونے والا واقعہ پیش آ جائے گا (16) اُس دن آسمان پھٹے گا اور اس کی بندش ڈھیلی پڑ جائے گی (17) فرشتے اس کے اطراف و جوانب میں ہوں گے اور آٹھ فرشتے اُس روز تیرے رب کا عرش اپنے اوپر اٹھائے ہوئے ہوں گے
|
|
(8) (وہ عذاب اُس روز ہوگا) جس روز آسمان پگھلی ہوئی چاندی کی طرح ہو جائے گا (9) اور پہاڑ رنگ برنگ کے دھنکے ہوئے اون جیسے ہو جائیں گے
|
|
﴿يَوۡمَ تَرۡجُفُ ٱلۡأَرۡضُ وَٱلۡجِبَالُ وَكَانَتِ ٱلۡجِبَالُ كَثِيبٗا مَّهِيلًا ﴾ [Al-Muzzammil: 14]
(14) یہ اُس دن ہوگا جب زمین اور پہاڑ لرز اٹھیں گے اور پہاڑوں کا حال ایسا ہو جائے گا جیسے ریت کے ڈھیر ہیں جو بکھرے جا رہے ہیں
|
|
(8) اچھا، جب صور میں پھونک ماری جائے گی
|
|
﴿
فَإِذَا بَرِقَ ٱلۡبَصَرُ * وَخَسَفَ ٱلۡقَمَرُ * وَجُمِعَ ٱلشَّمۡسُ وَٱلۡقَمَرُ ﴾ [Al-Qiyāmah: 7-9]
(7) پھر جب دیدے پتھرا جائیں گے (8) اور چاند بے نور ہو جائیگا (9) اور چاند سورج ملا کر ایک کر دیے جائیں گے
|
|
﴿
فَإِذَا ٱلنُّجُومُ طُمِسَتۡ * وَإِذَا ٱلسَّمَآءُ فُرِجَتۡ * وَإِذَا ٱلۡجِبَالُ نُسِفَتۡ * وَإِذَا ٱلرُّسُلُ أُقِّتَتۡ ﴾ [Al-Mursalāt: 8-11]
(8) پھر جب ستارے ماند پڑ جائیں گے (9) اور آسمان پھاڑ دیا جائے گا (10) اور پہاڑ دھنک ڈالے جائیں گے (11) اور رسولوں کی حاضری کا وقت آ پہنچے گا (اس روز وہ چیز واقع ہو جائے گی)
|
|
﴿
يَوۡمَ يُنفَخُ فِي ٱلصُّورِ فَتَأۡتُونَ أَفۡوَاجٗا * وَفُتِحَتِ ٱلسَّمَآءُ فَكَانَتۡ أَبۡوَٰبٗا * وَسُيِّرَتِ ٱلۡجِبَالُ فَكَانَتۡ سَرَابًا ﴾ [An-Naba’: 18-20]
(18) جس روز صور میں پھونک مار دی جائے گی، تم فوج در فوج نکل آؤ گے (19) اور آسمان کھول دیا جائے گا حتیٰ کہ وہ دروازے ہی دروازے بن کر رہ جائے گا (20) اور پہاڑ چلائے جائیں گے یہاں تک کہ وہ سراب ہو جائیں گے
|
|
(6) جس روز ہلا مارے گا زلزلے کا جھٹکا (7) اور اس کے پیچھے ایک اور جھٹکا پڑے گا
|
|
﴿
إِذَا ٱلشَّمۡسُ كُوِّرَتۡ * وَإِذَا ٱلنُّجُومُ ٱنكَدَرَتۡ * وَإِذَا ٱلۡجِبَالُ سُيِّرَتۡ * وَإِذَا ٱلۡعِشَارُ عُطِّلَتۡ * وَإِذَا ٱلۡوُحُوشُ حُشِرَتۡ * وَإِذَا ٱلۡبِحَارُ سُجِّرَتۡ * وَإِذَا ٱلنُّفُوسُ زُوِّجَتۡ ﴾ [At-Takwīr: 1-7]
(1) جب سورج لپیٹ دیا جائے گا (2) اور جب تارے بکھر جائیں گے (3) اور جب پہاڑ چلائے جائیں گے (4) اور جب دس مہینے کی حاملہ اونٹنیاں اپنے حال پر چھوڑ دی جائیں گی (5) اور جب جنگلی جانور سمیٹ کر اکٹھے کر دیے جائیں گے (6) اور جب سمندر بھڑکا دیے جائیں گے (7) اور جب جانیں (جسموں سے) جوڑ دی جائیں گی
|
|
﴿
وَإِذَا ٱلسَّمَآءُ كُشِطَتۡ * وَإِذَا ٱلۡجَحِيمُ سُعِّرَتۡ * وَإِذَا ٱلۡجَنَّةُ أُزۡلِفَتۡ ﴾ [At-Takwīr: 11-13]
(11) اور جب آسمان کا پردہ ہٹا دیا جائے گا (12) اور جب جہنم دہکائی جائے گی (13) اور جب جنت قریب لے آئی جائے گی
|
|
﴿
إِذَا ٱلسَّمَآءُ ٱنفَطَرَتۡ * وَإِذَا ٱلۡكَوَاكِبُ ٱنتَثَرَتۡ * وَإِذَا ٱلۡبِحَارُ فُجِّرَتۡ ﴾ [Al-Infiṭār: 1-3]
(1) جب آسمان پھٹ جائے گا (2) اور جب تارے بکھر جائیں گے (3) اور جب سمندر پھاڑ دیے جائیں گے
|
|
﴿
إِذَا ٱلسَّمَآءُ ٱنشَقَّتۡ * وَأَذِنَتۡ لِرَبِّهَا وَحُقَّتۡ * وَإِذَا ٱلۡأَرۡضُ مُدَّتۡ * وَأَلۡقَتۡ مَا فِيهَا وَتَخَلَّتۡ * وَأَذِنَتۡ لِرَبِّهَا وَحُقَّتۡ ﴾ [Al-Inshiqāq: 1-5]
(1) جب آسمان پھٹ جائے گا (2) اور اپنے رب کے فرمان کی تعمیل کرے گا اور اُس کے لیے حق یہی ہے (کہ اپنے رب کا حکم مانے) (3) اور جب زمین پھیلا دی جائے گی (4) اور جو کچھ اس کے اندر ہے اُسے باہر پھینک کر خالی ہو جائے گی (5) اور اپنے رب کے حکم کی تعمیل کرے گی اور اُس کے لیے حق یہی ہے (کہ اس کی تعمیل کرے)
|
|
(21) ہرگز نہیں، جب زمین پے در پے کوٹ کوٹ کر ریگ زار بنا دی جائے گی
|
|
﴿
إِذَا زُلۡزِلَتِ ٱلۡأَرۡضُ زِلۡزَالَهَا * وَأَخۡرَجَتِ ٱلۡأَرۡضُ أَثۡقَالَهَا * وَقَالَ ٱلۡإِنسَٰنُ مَا لَهَا * يَوۡمَئِذٖ تُحَدِّثُ أَخۡبَارَهَا * بِأَنَّ رَبَّكَ أَوۡحَىٰ لَهَا ﴾ [Az-Zalzalah: 1-5]
(1) جب زمین اپنی پوری شدت کے ساتھ ہلا ڈالی جائے گی (2) اور زمین اپنے اندر کے سارے بوجھ نکال کر باہر ڈال دے گی (3) اور انسان کہے گا کہ یہ اِس کو کیا ہو رہا ہے (4) اُس روز وہ اپنے (اوپر گزرے ہوئے) حالات بیان کرے گی (5) کیونکہ تیرے رب نے اُسے (ایساکرنے کا) حکم دیا ہوگا
|
🍃 قرآن کریم میں دیگر موضوعات
Please remember us in your sincere prayers









