Wallazeena yutawaffawna minkum wa yazaroona azwaajai yatarabbasna bi anfusihinna arba`ata ashhurinw wa `ashran fa izaa balaghna ajalahunna falaa junaaha `alaikum feemaa fa`alna feee anfusihinna bilma`roof; wallaahu bimaa ta`maloona Khabeer
📖 ترجمہ (اردو ترجمہ)
📖 اردو ترجمہ
اور جو لوگ تم میں سے مرجائیں اور عورتیں چھوڑ جائیں تو عورتیں چار مہینے دس دن اپنے آپ کو روکے رہیں۔ اور جب (یہ) عدت پوری کرچکیں اور اپنے حق میں پسندیدہ کام (یعنی نکاح) کرلیں تو ان پر کچھ گناہ نہیں۔ اور خدا تمہارے سب کاموں سے واقف ہے
🌐 Additional reference in فارسی
🌐 فارسی
كسانى كه از شما بميرند و زنانى بر جاى گذارند، آن زنان بايد كه چهار ماه و ده روز انتظار كشند؛ و چون مدّتشان به سرآمد، اگر درباره خويش كارى شايسته و در خور كنند، بر شما گناهى نيست، كه خدا به كارهايى كه مىكنيد آگاه است.
اور جو لوگ تم میں سے مرجائیں اور عورتیں چھوڑ جائیں تو عورتیں چار مہینے دس دن اپنے آپ کو روکے رہیں۔ اور جب (یہ) عدت پوری کرچکیں اور اپنے حق میں پسندیدہ کام (یعنی نکاح) کرلیں تو ان پر کچھ گناہ نہیں۔ اور خدا تمہارے سب کاموں سے واقف ہے
📜
ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
يُتَوَفَّوْنَ: جن کی روحیں قبض کی جائیں، یعنی وفات پائیں۔
يَذَرُونَ: چھوڑ جائیں۔
أَزْوَاجًا: بیویاں۔
يَتَرَبَّصْنَ: انتظار کریں، عدت میں رہیں۔
بِأَنفُسِهِنَّ: اپنے آپ کو روکے رکھیں۔
بَلَغْنَ أَجَلَهُنَّ: ان کی عدت کی مدت پوری ہو جائے۔
جُنَاح: گناہ، حرج۔
بِالْمَعْرُوفِ: شرعی اور معروف طریقے سے۔
خَبِيرٌ: ہر چیز سے باخبر، جاننے والا۔
تفسیر:
اللہ تعالیٰ اس آیت میں ان لوگوں کے بارے میں حکم بیان فرما رہے ہیں جو وفات پا جائیں اور اپنے پیچھے بیویاں چھوڑ جائیں۔ ایسی عورتوں پر فرض ہے کہ وہ اپنے شوہر کی وفات کے بعد چار ماہ اور دس دن (۴ مہینے ۱۰ دن) عدت میں رہیں۔ اس پوری مدت میں انہیں اپنے آپ کو اس طرح روکے رکھنا ہے کہ نہ وہ گھر سے باہر نکلیں، نہ بناؤ سنگار کریں، نہ شادی کا ارادہ کریں، اور نہ کسی دوسرے مرد سے نکاح کا پیغام بھیجیں۔ یہ عدت اس لیے ہے تاکہ شوہر کی وفات کا صدمہ ہضم ہو، اور یہ بھی معلوم ہو کہ عورت حمل سے ہے یا نہیں۔ اگر عورت حاملہ ہو تو اس کی عدت وضع حمل (بچے کی پیدائش) تک ہے، چاہے چار ماہ دس دن سے کم ہی وقت کیوں نہ ہو۔
پھر جب عدت کی مدت پوری ہو جائے، تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اولیاء اور سرپرستوں پر کوئی گناہ نہیں کہ عورتیں اپنے بارے میں جو فیصلہ کریں، وہ اپنے معروف طریقے سے کریں — یعنی وہ اب اپنی مرضی سے گھر سے باہر جا سکتی ہیں، زیب و زینت اختیار کر سکتی ہیں، اور جس سے چاہیں نکاح کر سکتی ہیں، بشرطیکہ وہ شرعی حدود کے مطابق ہو۔ اس میں اولیاء کا کوئی دخل نہیں کہ وہ انہیں روکیں یا ان پر زور ڈالیں۔
آخر میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: "اور اللہ تمہارے تمام اعمال سے خوب باخبر ہے" — یعنی تمہارے ظاہری اور باطنی اعمال، نیتوں اور ارادوں سے اللہ پوری طرح واقف ہے، اور وہی تمہیں ان کا بدلہ دے گا۔ یہ ایک تنبیہ ہے کہ عدت کے احکام پر عمل کرو، نہ کسی کو دھوکہ دو، نہ عورتوں پر ظلم کرو، کیونکہ اللہ ہر چیز کا علم رکھتا ہے۔
دعوتی پہلو:
اس آیت سے ہمیں اسلام کا وہ حسین نظام نظر آتا ہے جو عورت کے مقام و احترام کا بھرپور خیال رکھتا ہے۔ اسلام نے بیوہ عورت کو تنہا نہیں چھوڑا، بلکہ اسے ایک مقررہ مدت میں تحفظ فراہم کیا، تاکہ وہ صدمے سے نکلے اور عزت کے ساتھ اپنی زندگی کا نیا فیصلہ کر سکے۔ یہ حکم دراصل عورت کی عزت، اس کے جذبات اور اس کے مستقبل کی حفاظت کا ضامن ہے۔ ہمیں چاہیے کہ اللہ کے احکام کو سمجھیں اور ان پر عمل کریں، کیونکہ ہر حکم میں بندے کی بھلائی ہی ہوتی ہے۔ اللہ ہمیں اپنے دین کی سمجھ عطا فرمائے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق دے۔ آمین۔
اور جب تم عورتوں کو طلاق دے چکو اور ان کی عدت پوری ہوجائے تو ان کو دوسرے شوہروں کے ساتھ جب وہ آپس میں جائز طور پر راضی ہوجائیں نکاح کرنے سے مت روکو۔ اس (حکم) سے اس شخص کو نصیحت کی جاتی ہے جو تم میں خدا اور روز آخرت پر یقین رکھتا ہے۔ یہ تمہارے لئے نہایت خوب اور بہت پاکیزگی کی بات ہے اور خدا جانتا ہے اور تم نہیں جانتے
اور مائیں اپنے بچوں کو پورے دو سال دودھ پلائیں یہ (حکم) اس شخص کے لئے ہے جو پوری مدت تک دودھ پلوانا چاہے۔ اور دودھ پلانے والی ماؤں کا کھانا اور کپڑا دستور کے مطابق باپ کے ذمے ہوگا۔ کسی شخص کو اس کی طاقت سے زیادہ تکلیف نہیں دی جاتی (تو یاد رکھو کہ) نہ تو ماں کو اس کے بچے کے سبب نقصان پہنچایا جائے اور نہ باپ کو اس کی اولاد کی وجہ سے نقصان پہنچایا جائے اور اسی طرح (نان نفقہ) بچے کے وارث کے ذمے ہے۔ اور اگر دونوں (یعنی ماں باپ) آپس کی رضامندی اور صلاح سے بچے کا دودھ چھڑانا چاہیں تو ان پر کچھ گناہ نہیں۔ اور اگر تم اپنی اولاد کو دودھ پلوانا چاہو تو تم پر کچھ گناہ نہیں بشرطیکہ تم دودھ پلانے والیوں کو دستور کے مطابق ان کا حق جو تم نے دینا کیا تھا دے دو اور خدا سے ڈرتے رہو اور جان رکھو کہ جو کچھ تم کرتے ہو خدا اس کو دیکھ رہا ہے
اور جو لوگ تم میں سے مرجائیں اور عورتیں چھوڑ جائیں تو عورتیں چار مہینے دس دن اپنے آپ کو روکے رہیں۔ اور جب (یہ) عدت پوری کرچکیں اور اپنے حق میں پسندیدہ کام (یعنی نکاح) کرلیں تو ان پر کچھ گناہ نہیں۔ اور خدا تمہارے سب کاموں سے واقف ہے
اور اگر تم کنائے کی باتوں میں عورتوں کو نکاح کا پیغام بھیجو یا (نکاح کی خواہش کو) اپنے دلوں میں مخفی رکھو تو تو تم پر کچھ گناہ نہیں۔ خدا کو معلوم ہے کہ تم ان سے (نکاح کا) ذکر کرو گے۔ مگر (ایام عدت میں) اس کے سوا کہ دستور کے مطابق کوئی بات کہہ دو پوشیدہ طور پر ان سے قول واقرار نہ کرنا۔ اور جب تک عدت پوری نہ ہولے نکاح کا پختہ ارادہ نہ کرنا۔ اور جان رکھو کہ جو کچھ تمہارے دلوں میں ہے خدا کو سب معلوم ہے تو اس سے ڈرتے رہو اور جان رکھو کہ خدا بخشنے والا اور حلم والا ہے
اور اگر تم عورتوں کو ان کے پاس جانے یا ان کا مہر مقرر کرنے سے پہلے طلاق دے دو تو تم پر کچھ گناہ نہیں۔ ہاں ان کو دستور کے مطابق کچھ خرچ ضرور دو (یعنی) مقدور والا اپنے مقدور کے مطابق دے اور تنگدست اپنی حیثیت کے مطابق۔ نیک لوگوں پر یہ ایک طرح کا حق ہے
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔