Wa laa junaaha `alaikum feema `arradtum bihee min khitbatin nisaaa`i aw aknantum feee anfusikum; `alimal laahu annakum satazkuroonahunna wa laakil laa tuwaa`idoohunna sirran illaaa an taqooloo qawlamma`roofaa; wa laa ta`zimoo `uqdatan nikaahi hattaa yablughal kitaabu ajalah; wa`lamooo annal laaha ya`lamumaa feee anfusikum fahzarooh; wa`lamooo annallaaha Ghafoorun Haleem
📖 ترجمہ (اردو ترجمہ)
📖 اردو ترجمہ
اور اگر تم کنائے کی باتوں میں عورتوں کو نکاح کا پیغام بھیجو یا (نکاح کی خواہش کو) اپنے دلوں میں مخفی رکھو تو تو تم پر کچھ گناہ نہیں۔ خدا کو معلوم ہے کہ تم ان سے (نکاح کا) ذکر کرو گے۔ مگر (ایام عدت میں) اس کے سوا کہ دستور کے مطابق کوئی بات کہہ دو پوشیدہ طور پر ان سے قول واقرار نہ کرنا۔ اور جب تک عدت پوری نہ ہولے نکاح کا پختہ ارادہ نہ کرنا۔ اور جان رکھو کہ جو کچھ تمہارے دلوں میں ہے خدا کو سب معلوم ہے تو اس سے ڈرتے رہو اور جان رکھو کہ خدا بخشنے والا اور حلم والا ہے
🌐 Additional reference in فارسی
🌐 فارسی
و اگر به كنايت از آن زنان خواستگارى كنيد يا انديشه خود در دل نهان داريد، گناهى بر شما نيست. زيرا خدا مىداند كه از آنها به زودى ياد خواهيد كرد. ولى در نهان با آنان وعده منهيد، مگر آنكه به وجهى نيكو سخن گوييد؛ و آهنگ بستن نكاح مكنيد تا آن مدت به سر آيد، و بدانيد كه خدا به آنچه در دل داريد آگاه است. از او بترسيد و بدانيد كه او آمرزنده و بردبار است.
اور اگر تم کنائے کی باتوں میں عورتوں کو نکاح کا پیغام بھیجو یا (نکاح کی خواہش کو) اپنے دلوں میں مخفی رکھو تو تو تم پر کچھ گناہ نہیں۔ خدا کو معلوم ہے کہ تم ان سے (نکاح کا) ذکر کرو گے۔ مگر (ایام عدت میں) اس کے سوا کہ دستور کے مطابق کوئی بات کہہ دو پوشیدہ طور پر ان سے قول واقرار نہ کرنا۔ اور جب تک عدت پوری نہ ہولے نکاح کا پختہ ارادہ نہ کرنا۔ اور جان رکھو کہ جو کچھ تمہارے دلوں میں ہے خدا کو سب معلوم ہے تو اس سے ڈرتے رہو اور جان رکھو کہ خدا بخشنے والا اور حلم والا ہے
📜
ترجمہ — Tafsir
آیت کا ترجمہ:
"اور تم پر کوئی گناہ نہیں اس میں جو تم اشارہ کنایہ کرو عورتوں کی خطبہ (پیغامِ نکاح) میں، یا جو بات تم اپنے دلوں میں چھپاؤ۔ اللہ تعالیٰ جانتا ہے کہ تم عنقریب ان کا ذکر کرو گے، لیکن تم ان سے چھپ کر وعدہ نہ کرو مگر یہ کہ تم اچھی بات کہو (جو شرعاً درست ہو)۔ اور عقدِ نکاح کا پختہ ارادہ نہ کرو جب تک کہ عدت اپنی مدت کو نہ پہنچ جائے۔ اور جان لو کہ اللہ تعالیٰ جانتا ہے جو کچھ تمہارے دلوں میں ہے، سو اس سے ڈرو۔ اور جان لو کہ اللہ تعالیٰ بخشنے والا ہے، بردبار ہے۔"
معانی الفاظ:
عَرَّضْتُمْ: اشارہ کنایہ کیا، صاف صاف نہیں کہا۔
خِطْبَةِ: نکاح کا پیغام دینا، رشتہ کی درخواست۔
أَكْنَنتُمْ: دل میں چھپایا، پوشیدہ رکھا۔
تُوَاعِدُوهُنَّ سِرًّا: چھپ کر وعدہ کرنا (جیسے زنا کا وعدہ یا نکاح کا خفیہ معاہدہ)۔
قَوْلًا مَّعْرُوفًا: شرعی طور پر جائز اور مناسب بات، جیسے تعریض (اشارہ کنایہ)۔
تَعْزِمُوا: پختہ ارادہ کرو۔
عُقْدَةَ النِّكَاحِ: نکاح کا بندھن، عقدِ نکاح۔
الْكِتَابُ أَجَلَهُ: عدت کی مدت پوری ہونا۔
تفسیر:
اس آیت میں اللہ تعالیٰ ان مردوں کو مخاطب کر رہے ہیں جو عدت میں مبتلا عورتوں (جن کے شوہر فوت ہو چکے ہوں یا طلاقِ بائن دی گئی ہو) سے نکاح کا ارادہ رکھتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ اگر تم ان عورتوں کو نکاح کا پیغام دینے میں اشارہ کنایہ کرو، یعنی صاف صاف نہ کہو بلکہ تلویحاً اپنی خواہش کا اظہار کرو، تو اس میں کوئی گناہ نہیں۔ اسی طرح اگر تم نے اپنے دلوں میں ان سے نکاح کی نیت چھپائی ہوئی ہو، تو یہ بھی جائز ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ جانتا ہے کہ انسان کے دل میں فطری طور پر یہ خیالات آتے ہیں اور وہ ان عورتوں کو یاد کرتا ہے، اس لیے اللہ نے تمہیں اجازت دی ہے کہ تم اشارہ کنایہ سے اپنی خواہش ظاہر کر سکتے ہو۔
لیکن اللہ تعالیٰ نے کچھ حدود مقرر کی ہیں:
عدت کے دوران عورت سے چھپ کر کوئی وعدہ نہ کرو، جیسے زنا کا وعدہ یا خفیہ طور پر نکاح کا معاہدہ، کیونکہ یہ اللہ کی نافرمانی ہے۔
عدت کے دوران عورت سے صرف اچھی باتیں کہو، یعنی تعریض کرو، جیسے یہ کہنا: "تم ایسی ہو کہ ہر شخص تمہیں پسند کرتا ہے" یا "اگر اللہ نے چاہا تو میں تم سے نکاح کرنا چاہوں گا" — یہ جائز ہے، لیکن صاف صاف یہ نہ کہو کہ "میں تم سے نکاح کروں گا" جب تک عدت ختم نہ ہو جائے۔
عدت کی مدت پوری ہونے سے پہلے نکاح کا پختہ ارادہ نہ کرو، یعنی عقدِ نکاح نہ کرو، کیونکہ عدت کا مقصد یہ ہے کہ عورت کی رحم کی صفائی ہو جائے اور وہ اپنے پہلے شوہر کی یاد میں سوگ منائے۔
پھر اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو ڈراتے ہیں کہ وہ جانتا ہے جو کچھ تمہارے دلوں میں ہے، خواہ تم چھپاؤ یا ظاہر کرو، اس لیے اس سے ڈرو اور اس کی حدود کی خلاف ورزی نہ کرو۔ لیکن ساتھ ہی اللہ تعالیٰ اپنی رحمت کا اظہار کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ وہ غفور ہے، یعنی توبہ کرنے والوں کو بخشتا ہے، اور حلیم ہے، یعنی جلدی سزا نہیں دیتا بلکہ مہلت دیتا ہے تاکہ بندے توبہ کر لیں۔
دعوتی پہلو:
اس آیت سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے جو ہر معاملے میں رہنمائی فراہم کرتا ہے، یہاں تک کہ نکاح جیسے حساس معاملے میں بھی اللہ تعالیٰ نے واضح ہدایات دیں۔ یہ آیت اللہ کی رحمت کا مظہر ہے کہ اس نے انسان کی کمزوریوں کو مدنظر رکھا اور ایسی اجازتیں دیں جو فطرت کے مطابق ہیں، لیکن ساتھ ہی حدود بھی مقرر کیں تاکہ معاشرہ پاکیزہ رہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اللہ کی حدود کا احترام کریں، کیونکہ وہ ہمارے دلوں کا حال جانتا ہے، اور اگر ہم سے کوئی غلطی ہو جائے تو فوراً توبہ کریں، کیونکہ اللہ غفور و حلیم ہے۔ یہ آیت ہمیں تقویٰ اختیار کرنے کی تلقین کرتی ہے اور ساتھ ہی امید دلاتی ہے کہ اللہ کی رحمت وسیع ہے۔
اور مائیں اپنے بچوں کو پورے دو سال دودھ پلائیں یہ (حکم) اس شخص کے لئے ہے جو پوری مدت تک دودھ پلوانا چاہے۔ اور دودھ پلانے والی ماؤں کا کھانا اور کپڑا دستور کے مطابق باپ کے ذمے ہوگا۔ کسی شخص کو اس کی طاقت سے زیادہ تکلیف نہیں دی جاتی (تو یاد رکھو کہ) نہ تو ماں کو اس کے بچے کے سبب نقصان پہنچایا جائے اور نہ باپ کو اس کی اولاد کی وجہ سے نقصان پہنچایا جائے اور اسی طرح (نان نفقہ) بچے کے وارث کے ذمے ہے۔ اور اگر دونوں (یعنی ماں باپ) آپس کی رضامندی اور صلاح سے بچے کا دودھ چھڑانا چاہیں تو ان پر کچھ گناہ نہیں۔ اور اگر تم اپنی اولاد کو دودھ پلوانا چاہو تو تم پر کچھ گناہ نہیں بشرطیکہ تم دودھ پلانے والیوں کو دستور کے مطابق ان کا حق جو تم نے دینا کیا تھا دے دو اور خدا سے ڈرتے رہو اور جان رکھو کہ جو کچھ تم کرتے ہو خدا اس کو دیکھ رہا ہے
اور جو لوگ تم میں سے مرجائیں اور عورتیں چھوڑ جائیں تو عورتیں چار مہینے دس دن اپنے آپ کو روکے رہیں۔ اور جب (یہ) عدت پوری کرچکیں اور اپنے حق میں پسندیدہ کام (یعنی نکاح) کرلیں تو ان پر کچھ گناہ نہیں۔ اور خدا تمہارے سب کاموں سے واقف ہے
اور اگر تم کنائے کی باتوں میں عورتوں کو نکاح کا پیغام بھیجو یا (نکاح کی خواہش کو) اپنے دلوں میں مخفی رکھو تو تو تم پر کچھ گناہ نہیں۔ خدا کو معلوم ہے کہ تم ان سے (نکاح کا) ذکر کرو گے۔ مگر (ایام عدت میں) اس کے سوا کہ دستور کے مطابق کوئی بات کہہ دو پوشیدہ طور پر ان سے قول واقرار نہ کرنا۔ اور جب تک عدت پوری نہ ہولے نکاح کا پختہ ارادہ نہ کرنا۔ اور جان رکھو کہ جو کچھ تمہارے دلوں میں ہے خدا کو سب معلوم ہے تو اس سے ڈرتے رہو اور جان رکھو کہ خدا بخشنے والا اور حلم والا ہے
اور اگر تم عورتوں کو ان کے پاس جانے یا ان کا مہر مقرر کرنے سے پہلے طلاق دے دو تو تم پر کچھ گناہ نہیں۔ ہاں ان کو دستور کے مطابق کچھ خرچ ضرور دو (یعنی) مقدور والا اپنے مقدور کے مطابق دے اور تنگدست اپنی حیثیت کے مطابق۔ نیک لوگوں پر یہ ایک طرح کا حق ہے
اور اگر تم عورتوں کو ان کے پاس جانے سے پہلے طلاق دے دو لیکن مہر مقرر کرچکے ہو تو آدھا مہر دینا ہوگا۔ ہاں اگر عورتیں مہر بخش دیں یا مرد جن کے ہاتھ میں عقد نکاح ہے (اپنا حق) چھوڑ دیں۔ (اور پورا مہر دے دیں تو ان کو اختیار ہے) اور اگر تم مرد لوگ ہ اپنا حق چھوڑ دو تو یہ پرہیزگاری کی بات ہے۔ اور آپس میں بھلائی کرنے کو فراموش نہ کرنا۔ کچھ شک نہیں کہ خدا تمہارے سب کاموں کو دیکھ رہا ہے
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔