Wa qaala lahum Nabiyyuhum inna Aayata mulkiheee ai yaatiyakumut Taabootu feei sakeenatummir Rabbikum wa baqiyyatummimmaa taraka Aalu Moosa wa Aalu Haaroona tahmiluhul malaaa`ikah; inna fee zaalika la Aayatal lakum in kuntum mu`mineen
📖 ترجمہ (اردو ترجمہ)
📖 اردو ترجمہ
اور پیغمبر نے ان سے کہا کہ ان کی بادشاہی کی نشانی یہ ہے کہ تمہارے پاس ایک صندوق آئے گا جس کو فرشتے اٹھائے ہوئے ہوں گے اس میں تمہارے پروردگار کی طرف سے تسلی (بخشنے والی چیز) ہوگی اور کچھ اور چیزیں بھی ہوں گی جو موسیٰ اور ہارون چھوڑ گئے تھے۔ اگر تم ایمان رکھتے ہو تو یہ تمہارے لئے ایک بڑی نشانی ہے
🌐 Additional reference in فارسی
🌐 فارسی
پيغمبرشان گفت كه نشان پادشاهى او اين است كه تابوتى كه سكينه پروردگارتان و باقى ميراث خاندان موسى و خاندان هارون در آن است و فرشتگانش حمل مىكنند، نزد شما آيد. اگر مؤمن باشيد اين براى شما عبرتى است.
اور پیغمبر نے ان سے کہا کہ ان کی بادشاہی کی نشانی یہ ہے کہ تمہارے پاس ایک صندوق آئے گا جس کو فرشتے اٹھائے ہوئے ہوں گے اس میں تمہارے پروردگار کی طرف سے تسلی (بخشنے والی چیز) ہوگی اور کچھ اور چیزیں بھی ہوں گی جو موسیٰ اور ہارون چھوڑ گئے تھے۔ اگر تم ایمان رکھتے ہو تو یہ تمہارے لئے ایک بڑی نشانی ہے
📜
ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
تابوت: وہ صندوق جس میں تورات رکھی جاتی تھی، بنی اسرائیل کے ہاں اسے بڑی عزت و تقدس حاصل تھا۔
سکینہ: طمانیت، سکونِ قلب، اور وہ روحانی اطمینان جو اللہ کی طرف سے نازل ہوتا ہے۔
بقیۃ: بچا ہوا حصہ، باقی ماندہ چیزیں۔
آل موسیٰ و آل ہارون: حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون علیہما السلام کے خاندان اور ان سے منسوب مقدس اشیاء۔
تفسیر:
اس آیت میں اللہ تعالیٰ ہمیں بنی اسرائیل کے ایک اہم واقعے سے آگاہ فرماتے ہیں، جب انہوں نے اپنے نبی سے مطالبہ کیا کہ طالوت کی بادشاہت کی کوئی نشانی دکھائی جائے۔ تو ان کے نبی نے فرمایا کہ طالوت کی سلطنت کی نشانی یہ ہے کہ تمہارے پاس وہ مقدس صندوق (تابوت) واپس آئے گا، جسے تمہارے دشمنوں نے چھین لیا تھا۔ اس صندوق میں تمہارے رب کی طرف سے سکینت اور روحانی طمانیت ہوگی، جو مومنوں کے دلوں کو مضبوط کرے گی۔ اس میں حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون علیہما السلام کے ترکے میں سے بچی ہوئی مقدس اشیاء بھی ہوں گی، جیسے موسیٰ علیہ السلام کا عصا اور تورات کے کچھ ٹکڑے۔ اس صندوق کو فرشتے اٹھا کر لائیں گے۔ یہ ایک عظیم نشانی ہے جو تمہارے ایمان کی آزمائش اور طالوت کی بادشاہت کی صداقت کو ثابت کرے گی۔
دعوتی پہلو:
اس آیت سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو ایسی نشانیاں دکھاتے ہیں جو ان کے ایمان کو مضبوط کرتی ہیں۔ جب بنی اسرائیل نے یہ معجزہ دیکھا تو وہ سمجھ گئے کہ طالوت کا انتخاب اللہ کی طرف سے ہے، اور وہ جہاد کے لیے تیار ہوگئے۔ ہمیں بھی چاہیے کہ اللہ کی نشانیوں پر غور کریں اور ان سے عبرت حاصل کریں۔ اللہ تعالیٰ آج بھی اپنے مومن بندوں کو سکینت اور طمانیت عطا فرماتے ہیں، خاص طور پر جب وہ قرآن پاک کی تلاوت کرتے ہیں اور اس پر عمل کرتے ہیں۔ یہی وہ سکینہ ہے جو آج بھی ہمارے دلوں میں نازل ہوتی ہے جب ہم اللہ کا ذکر کرتے ہیں۔ اللہ ہمیں اپنی نشانیوں پر غور کرنے اور ایمان میں مضبوطی حاصل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
بھلا تم نے بنی اسرائیل کی ایک جماعت کو نہیں دیکھا جس نے موسیٰ کے بعد اپنے پیغمبر سے کہا کہ آپ ہمارے لئے ایک بادشاہ مقرر کردیں تاکہ ہم خدا کی راہ میں جہاد کریں۔ پیغمبر نے کہا کہ اگر تم کو جہاد کا حکم دیا جائے تو عجب نہیں کہ لڑنے سے پہلو تہی کرو۔ وہ کہنے لگے کہ ہم راہ خدا میں کیوں نہ لڑیں گے جب کہ ہم وطن سے (خارج) اور بال بچوں سے جدا کردیئے گئے۔ لیکن جب ان کو جہاد کا حکم دیا گیا تو چند اشخاص کے سوا سب پھر گئے۔ اور خدا ظالموں سے خوب واقف ہے
اور پیغمبر نے ان سے (یہ بھی) کہا کہ خدا نے تم پر طالوت کو بادشاہ مقرر فرمایا ہے۔ وہ بولے کہ اسے ہم پر بادشاہی کا حق کیونکر ہوسکتا ہےبادشاہی کے مستحق تو ہم ہیں اور اس کے پاس تو بہت سی دولت بھی نہیں۔ پیغمبر نے کہا کہ خدا نےاس کو تم پر فضیلت دی ہے اور (بادشاہی کے لئے) منتخب فرمایا ہے اس نے اسے علم بھی بہت سا بخشا ہے اور تن و توش بھی (بڑا عطا کیا ہے) اور خدا (کو اختیار ہے) جسے چاہے بادشاہی بخشے۔ وہ بڑا کشائش والا اور دانا ہے
اور پیغمبر نے ان سے کہا کہ ان کی بادشاہی کی نشانی یہ ہے کہ تمہارے پاس ایک صندوق آئے گا جس کو فرشتے اٹھائے ہوئے ہوں گے اس میں تمہارے پروردگار کی طرف سے تسلی (بخشنے والی چیز) ہوگی اور کچھ اور چیزیں بھی ہوں گی جو موسیٰ اور ہارون چھوڑ گئے تھے۔ اگر تم ایمان رکھتے ہو تو یہ تمہارے لئے ایک بڑی نشانی ہے
غرض جب طالوت فوجیں لے کر روانہ ہوا تو اس نے (ان سے) کہا کہ خدا ایک نہر سے تمہاری آزمائش کرنے والا ہے۔ جو شخص اس میں سے پانی پی لے گا (اس کی نسبت تصور کیا جائے گا کہ) وہ میرا نہیں۔ اور جو نہ پئے گا وہ (سمجھا جائے گا کہ) میرا ہے۔ ہاں اگر کوئی ہاتھ سے چلو بھر پانی پی لے (تو خیر۔ جب وہ لوگ نہر پر پہنچے) تو چند شخصوں کے سوا سب نے پانی پی لیا۔ پھر جب طالوت اور مومن لوگ جو اس کے ساتھ تھے نہر کے پار ہوگئے۔ تو کہنے لگے کہ آج ہم میں جالوت اور اس کے لشکر سے مقابلہ کرنے کی طاقت نہیں۔ جو لوگ یقین رکھتے تھے کہ ان کو خدا کے روبرو حاضر ہونا ہے وہ کہنے لگے کہ بسااوقات تھوڑی سی جماعت نے خدا کے حکم سے بڑی جماعت پر فتح حاصل کی ہے اور خدا استقلال رکھنے والوں کے ساتھ ہے
اور جب وہ لوگ جالوت اور اس کے لشکر کے مقابل آئے تو (خدا سے) دعا کی کہ اے پروردگار ہم پر صبر کے دہانے کھول دے اور ہمیں (لڑائی میں) ثابت قدم رکھ اور (لشکر) کفار پر فتحیاب کر
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔