Wa qaala lahum Nabiy yuhum innal laaha qad ba`asa lakum Taaloota malikaa; qaalooo annaa yakoonu lahul mulku `alainaa wa nahnu ahaqqu bilmulki minhu wa lam yu`ta sa`atamminal maal; qaala innallaahas tafaahu `alaikum wa zaadahoo bastatan fil`ilmi waljismi wallaahu yu`tee mulkahoo mai yashaaa`; wallaahu Waasi`un `Aleem
📖 ترجمہ (اردو ترجمہ)
📖 اردو ترجمہ
اور پیغمبر نے ان سے (یہ بھی) کہا کہ خدا نے تم پر طالوت کو بادشاہ مقرر فرمایا ہے۔ وہ بولے کہ اسے ہم پر بادشاہی کا حق کیونکر ہوسکتا ہےبادشاہی کے مستحق تو ہم ہیں اور اس کے پاس تو بہت سی دولت بھی نہیں۔ پیغمبر نے کہا کہ خدا نےاس کو تم پر فضیلت دی ہے اور (بادشاہی کے لئے) منتخب فرمایا ہے اس نے اسے علم بھی بہت سا بخشا ہے اور تن و توش بھی (بڑا عطا کیا ہے) اور خدا (کو اختیار ہے) جسے چاہے بادشاہی بخشے۔ وہ بڑا کشائش والا اور دانا ہے
🌐 Additional reference in فارسی
🌐 فارسی
پيغمبرشان به آنها گفت: خدا طالوت را پادشاه شما كرد. گفتند: چگونه او را بر ما پادشاهى باشد؟ ما سزاوارتر از او به پادشاهى هستيم و او را دارايى چندانى ندادهاند. گفت: خدا او را بر شما برگزيده است و به دانش و توان او بيفزوده است، و خدا پادشاهيش را به هر كه خواهد دهد كه خدا دربرگيرنده و داناست.
اور پیغمبر نے ان سے (یہ بھی) کہا کہ خدا نے تم پر طالوت کو بادشاہ مقرر فرمایا ہے۔ وہ بولے کہ اسے ہم پر بادشاہی کا حق کیونکر ہوسکتا ہےبادشاہی کے مستحق تو ہم ہیں اور اس کے پاس تو بہت سی دولت بھی نہیں۔ پیغمبر نے کہا کہ خدا نےاس کو تم پر فضیلت دی ہے اور (بادشاہی کے لئے) منتخب فرمایا ہے اس نے اسے علم بھی بہت سا بخشا ہے اور تن و توش بھی (بڑا عطا کیا ہے) اور خدا (کو اختیار ہے) جسے چاہے بادشاہی بخشے۔ وہ بڑا کشائش والا اور دانا ہے
طَالُوتَ: بنی اسرائیل کا ایک شخص، جو بنیامین کے قبیلے سے تھا، نہ کہ شاہی خاندان سے۔
أَنَّىٰ: کیسے، کہاں سے۔
سَعَةً مِنَ الْمَالِ: مالی کشادگی، دولت کی فراوانی۔
اصْطَفَاهُ: اسے چن لیا، منتخب کر لیا۔
بَسْطَةً: کشادگی، وسعت، زیادتی۔
تفسیر:
جب بنی اسرائیل نے اپنے نبی سے کہا کہ ہمارے لیے ایک بادشاہ مقرر کرو تاکہ ہم اللہ کی راہ میں جہاد کریں، تو اللہ تعالیٰ نے ان کی درخواست قبول فرمائی اور ان کے نبی نے انہیں خبر دی کہ اللہ نے تمہارے لیے طالوت کو بادشاہ بنایا ہے۔ یہ سن کر بنی اسرائیل کے سرداروں اور بڑے لوگوں نے حیرت اور ناپسندیدگی کا اظہار کیا اور کہا: "یہ کیسے ممکن ہے کہ طالوت ہم پر بادشاہی کرے؟ ہم اس سے زیادہ حقدار ہیں بادشاہی کے، کیونکہ بادشاہت کا سلسلہ ہمارے قبیلے میں چلا آ رہا ہے، اور وہ نہ تو شاہی خاندان سے ہے، نہ ہی اس کے پاس اتنی دولت ہے جو بادشاہی کے لیے ضروری سمجھی جاتی ہے۔"
ان کے نبی نے ان کے اس اعتراض کا جواب دیا کہ تمہارا اندازہ غلط ہے۔ اللہ تعالیٰ نے خود انہیں تم پر منتخب کیا ہے، اور اللہ ہی بہتر جانتا ہے کہ بادشاہی کا اصل حقدار کون ہے۔ اللہ نے انہیں دو عظیم خوبیاں عطا کی ہیں: ایک علم میں وسعت اور دوسری جسمانی قوت اور طاقت۔ یہی دو چیزیں حکمرانی کے لیے دولت سے زیادہ اہم ہیں۔ پھر اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ وہ اپنی بادشاہی جسے چاہتا ہے عطا کرتا ہے، اور وہ بڑی وسعت والا اور سب کچھ جاننے والا ہے۔
دعوتی پہلو:
اس آیت میں ہمیں ایک بہت اہم سبق ملتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی ذات ہی حقیقی حاکم ہے، اور وہ جسے چاہتا ہے عزت دیتا ہے اور جس سے چاہتا ہے عزت چھین لیتا ہے۔ ہمیں اللہ کے فیصلوں پر راضی رہنا چاہیے، چاہے وہ ہماری ظاہری پسند کے مطابق نہ ہوں۔ اللہ تعالیٰ کسی شخص کی قدر و منزلت کا اندازہ اس کے مال یا نسب سے نہیں لگاتا، بلکہ اس کے علم، تقویٰ اور صلاحیت سے لگاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ نے طالوت کو چنا، حالانکہ وہ مالدار نہیں تھا اور نہ شاہی خاندان سے تھا۔
آج کے دور میں بھی ہمیں یہی سبق لینا چاہیے کہ کامیابی کا معیار دنیاوی دولت اور مرتبہ نہیں، بلکہ علم، عمل اور اللہ کی رضا ہے۔ اللہ تعالیٰ جب کسی کو عزت دیتا ہے تو کوئی طاقت اسے روک نہیں سکتی، اور جب کسی کو ذلیل کرتا ہے تو کوئی اسے بچا نہیں سکتا۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے معاملات میں اللہ کے حکم کو مقدم رکھیں اور اس کے فیصلوں پر بھروسہ کریں، کیونکہ وہی سب کچھ جاننے والا اور بے حد وسعت والا ہے۔
کوئی ہے کہ خدا کو قرض حسنہ دے کہ وہ اس کے بدلے اس کو کئی حصے زیادہ دے گا۔ اور خدا ہی روزی کو تنگ کرتا اور (وہی اسے) کشادہ کرتا ہے۔ اور تم اسی کی طرف لوٹ کر جاؤ گے
بھلا تم نے بنی اسرائیل کی ایک جماعت کو نہیں دیکھا جس نے موسیٰ کے بعد اپنے پیغمبر سے کہا کہ آپ ہمارے لئے ایک بادشاہ مقرر کردیں تاکہ ہم خدا کی راہ میں جہاد کریں۔ پیغمبر نے کہا کہ اگر تم کو جہاد کا حکم دیا جائے تو عجب نہیں کہ لڑنے سے پہلو تہی کرو۔ وہ کہنے لگے کہ ہم راہ خدا میں کیوں نہ لڑیں گے جب کہ ہم وطن سے (خارج) اور بال بچوں سے جدا کردیئے گئے۔ لیکن جب ان کو جہاد کا حکم دیا گیا تو چند اشخاص کے سوا سب پھر گئے۔ اور خدا ظالموں سے خوب واقف ہے
اور پیغمبر نے ان سے (یہ بھی) کہا کہ خدا نے تم پر طالوت کو بادشاہ مقرر فرمایا ہے۔ وہ بولے کہ اسے ہم پر بادشاہی کا حق کیونکر ہوسکتا ہےبادشاہی کے مستحق تو ہم ہیں اور اس کے پاس تو بہت سی دولت بھی نہیں۔ پیغمبر نے کہا کہ خدا نےاس کو تم پر فضیلت دی ہے اور (بادشاہی کے لئے) منتخب فرمایا ہے اس نے اسے علم بھی بہت سا بخشا ہے اور تن و توش بھی (بڑا عطا کیا ہے) اور خدا (کو اختیار ہے) جسے چاہے بادشاہی بخشے۔ وہ بڑا کشائش والا اور دانا ہے
اور پیغمبر نے ان سے کہا کہ ان کی بادشاہی کی نشانی یہ ہے کہ تمہارے پاس ایک صندوق آئے گا جس کو فرشتے اٹھائے ہوئے ہوں گے اس میں تمہارے پروردگار کی طرف سے تسلی (بخشنے والی چیز) ہوگی اور کچھ اور چیزیں بھی ہوں گی جو موسیٰ اور ہارون چھوڑ گئے تھے۔ اگر تم ایمان رکھتے ہو تو یہ تمہارے لئے ایک بڑی نشانی ہے
غرض جب طالوت فوجیں لے کر روانہ ہوا تو اس نے (ان سے) کہا کہ خدا ایک نہر سے تمہاری آزمائش کرنے والا ہے۔ جو شخص اس میں سے پانی پی لے گا (اس کی نسبت تصور کیا جائے گا کہ) وہ میرا نہیں۔ اور جو نہ پئے گا وہ (سمجھا جائے گا کہ) میرا ہے۔ ہاں اگر کوئی ہاتھ سے چلو بھر پانی پی لے (تو خیر۔ جب وہ لوگ نہر پر پہنچے) تو چند شخصوں کے سوا سب نے پانی پی لیا۔ پھر جب طالوت اور مومن لوگ جو اس کے ساتھ تھے نہر کے پار ہوگئے۔ تو کہنے لگے کہ آج ہم میں جالوت اور اس کے لشکر سے مقابلہ کرنے کی طاقت نہیں۔ جو لوگ یقین رکھتے تھے کہ ان کو خدا کے روبرو حاضر ہونا ہے وہ کہنے لگے کہ بسااوقات تھوڑی سی جماعت نے خدا کے حکم سے بڑی جماعت پر فتح حاصل کی ہے اور خدا استقلال رکھنے والوں کے ساتھ ہے
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔