Falammaa fasala Taalootu biljunoodi qaala innal laaha mubtaleekum binaharin faman shariba minhu falaisa minnee wa mallam yat`amhu fa innahoo minneee illaa manigh tarafa ghurfatam biyadih; fashariboo minhu illaa qaleelamminhum; falammaa jaawazahoo huwa wallazeena aamanoo ma`ahoo qaaloo laa taaqata lanal yawma bi Jaaloota wa junoodih; qaalallazeena yazunnoona annahum mulaaqul laahi kam min fi`atin qaleelatin ghalabat fi`atan kaseeratam bi iznil laah; wallaahuma`as saabireen
📖 ترجمہ (اردو ترجمہ)
📖 اردو ترجمہ
غرض جب طالوت فوجیں لے کر روانہ ہوا تو اس نے (ان سے) کہا کہ خدا ایک نہر سے تمہاری آزمائش کرنے والا ہے۔ جو شخص اس میں سے پانی پی لے گا (اس کی نسبت تصور کیا جائے گا کہ) وہ میرا نہیں۔ اور جو نہ پئے گا وہ (سمجھا جائے گا کہ) میرا ہے۔ ہاں اگر کوئی ہاتھ سے چلو بھر پانی پی لے (تو خیر۔ جب وہ لوگ نہر پر پہنچے) تو چند شخصوں کے سوا سب نے پانی پی لیا۔ پھر جب طالوت اور مومن لوگ جو اس کے ساتھ تھے نہر کے پار ہوگئے۔ تو کہنے لگے کہ آج ہم میں جالوت اور اس کے لشکر سے مقابلہ کرنے کی طاقت نہیں۔ جو لوگ یقین رکھتے تھے کہ ان کو خدا کے روبرو حاضر ہونا ہے وہ کہنے لگے کہ بسااوقات تھوڑی سی جماعت نے خدا کے حکم سے بڑی جماعت پر فتح حاصل کی ہے اور خدا استقلال رکھنے والوں کے ساتھ ہے
🌐 Additional reference in فارسی
🌐 فارسی
چون طالوت سپاهش را به راه انداخت، گفت: خدا شما را به جوى آبى مىآزمايد: هر كه از آن بخورد از من نيست، و هر كه از آن نخورد يا تنها كفى بياشامد از من است. همه جز اندكى از آن نوشيدند. چون او و مؤمنانى كه همراهش بودند از نهر گذشتند، گفتند: امروز ما را توان جالوت و سپاهش نيست. آنانى كه مىدانستند كه با خدا ديدار خواهند كرد، گفتند: به خواست خدا چه بسا گروه اندكى كه بر گروه بسيارى غلبه كند، كه خدا با كسانى است كه پاى مىفشرند.
غرض جب طالوت فوجیں لے کر روانہ ہوا تو اس نے (ان سے) کہا کہ خدا ایک نہر سے تمہاری آزمائش کرنے والا ہے۔ جو شخص اس میں سے پانی پی لے گا (اس کی نسبت تصور کیا جائے گا کہ) وہ میرا نہیں۔ اور جو نہ پئے گا وہ (سمجھا جائے گا کہ) میرا ہے۔ ہاں اگر کوئی ہاتھ سے چلو بھر پانی پی لے (تو خیر۔ جب وہ لوگ نہر پر پہنچے) تو چند شخصوں کے سوا سب نے پانی پی لیا۔ پھر جب طالوت اور مومن لوگ جو اس کے ساتھ تھے نہر کے پار ہوگئے۔ تو کہنے لگے کہ آج ہم میں جالوت اور اس کے لشکر سے مقابلہ کرنے کی طاقت نہیں۔ جو لوگ یقین رکھتے تھے کہ ان کو خدا کے روبرو حاضر ہونا ہے وہ کہنے لگے کہ بسااوقات تھوڑی سی جماعت نے خدا کے حکم سے بڑی جماعت پر فتح حاصل کی ہے اور خدا استقلال رکھنے والوں کے ساتھ ہے
📜
ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
فَصَلَ: جدا ہونا، نکلنا (یہاں مراد: لشکر لے کر شہر سے نکلنا)
مُبْتَلِيكُم: تمہیں آزمائش میں ڈالنے والا
نَهَرٍ: دریا، ندی
يَطْعَمْهُ: اسے چکھے، اس کا پانی پیے
اغْتَرَفَ غُرْفَةً: ایک چلو بھر لے (ہاتھ سے)
جَاوَزَهُ: اسے عبور کیا، اس سے آگے بڑھا
لَا طَاقَةَ: کوئی طاقت نہیں، تاب نہیں
يَظُنُّونَ: یقین رکھتے ہیں (یہاں ظن بمعنی یقین)
فِئَةٍ: گروہ، جماعت
تفسیر:
جب طالوت علیہ السلام اپنے لشکر کے ساتھ بیت المقدس سے نکلے تو راستے میں ایک دریا آیا۔ اللہ تعالیٰ نے اس دریا کو ان کے لیے آزمائش کا ذریعہ بنایا۔ طالوت نے اعلان کیا کہ اللہ تمہیں اس دریا کے ذریعے آزمائے گا۔ جو شخص اس دریا سے پی کر سیراب ہوگا وہ میرا ساتھی نہیں، کیونکہ اس نے حکم کی خلاف ورزی کی۔ لیکن جو شخص اس کا پانی نہیں پیے گا وہ میرا ساتھی ہے اور میرے ساتھ جہاد میں شریک ہوگا۔ البتہ جو شخص صرف ایک چلو اپنے ہاتھ سے بھر لے، وہ معاف ہے، کیونکہ یہ انتہائی ضرورت کی حد ہے۔
پھر جب وہ دریا کے پاس پہنچے تو اکثر لوگوں نے پیاس کی شدت کی وجہ سے خوب پانی پیا اور حکم کی خلاف ورزی کی۔ صرف تھوڑے سے لوگ (تین سو تیرہ کے قریب) وہ تھے جنہوں نے صبر کیا اور صرف ایک چلو پانی پر اکتفا کیا۔ یہی لوگ سچے مومن تھے جنہوں نے اپنے نفس پر قابو پایا۔
جب طالوت اور ان مومنوں نے دریا عبور کیا تو کچھ لوگوں نے (جو پانی پی چکے تھے اور پیچھے رہ گئے تھے یا پھر کمزور ایمان رکھتے تھے) کہا: آج ہم میں جالوت اور اس کے لشکر سے لڑنے کی طاقت نہیں۔ لیکن جن لوگوں کو یقین تھا کہ وہ اللہ سے ملنے والے ہیں، انہوں نے جواب دیا: کتنی ہی چھوٹی جماعتیں اللہ کے حکم سے بڑی جماعتوں پر غالب آئی ہیں۔ اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔
دعوتی پہلو:
اس آیت میں ہمارے لیے بہت بڑا سبق ہے کہ کامیابی کا دارومدار تعداد اور سازوسامان پر نہیں بلکہ ایمان، اطاعت اور صبر پر ہے۔ جب انسان اللہ پر بھروسہ کرتا ہے اور اس کے حکم کی پابندی کرتا ہے تو اللہ اسے وہ قوت دیتا ہے جو بڑی سے بڑی طاقت کو شکست دے سکتی ہے۔ آج بھی اگر ہم اپنے معاملات میں اللہ کی اطاعت کریں، صبر کریں اور اس پر یقین رکھیں تو اللہ ہماری مدد فرمائے گا۔ یہی وہ راستہ ہے جو ہمیں دنیا اور آخرت دونوں میں کامیابی دلاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس واقعے میں ہمیں بتایا کہ آزمائشوں میں ہی اصل مومن اور منافق کی پہچان ہوتی ہے، اور صبر کرنے والوں کے ساتھ اللہ کی نصرت ہوتی ہے۔
اور پیغمبر نے ان سے (یہ بھی) کہا کہ خدا نے تم پر طالوت کو بادشاہ مقرر فرمایا ہے۔ وہ بولے کہ اسے ہم پر بادشاہی کا حق کیونکر ہوسکتا ہےبادشاہی کے مستحق تو ہم ہیں اور اس کے پاس تو بہت سی دولت بھی نہیں۔ پیغمبر نے کہا کہ خدا نےاس کو تم پر فضیلت دی ہے اور (بادشاہی کے لئے) منتخب فرمایا ہے اس نے اسے علم بھی بہت سا بخشا ہے اور تن و توش بھی (بڑا عطا کیا ہے) اور خدا (کو اختیار ہے) جسے چاہے بادشاہی بخشے۔ وہ بڑا کشائش والا اور دانا ہے
اور پیغمبر نے ان سے کہا کہ ان کی بادشاہی کی نشانی یہ ہے کہ تمہارے پاس ایک صندوق آئے گا جس کو فرشتے اٹھائے ہوئے ہوں گے اس میں تمہارے پروردگار کی طرف سے تسلی (بخشنے والی چیز) ہوگی اور کچھ اور چیزیں بھی ہوں گی جو موسیٰ اور ہارون چھوڑ گئے تھے۔ اگر تم ایمان رکھتے ہو تو یہ تمہارے لئے ایک بڑی نشانی ہے
غرض جب طالوت فوجیں لے کر روانہ ہوا تو اس نے (ان سے) کہا کہ خدا ایک نہر سے تمہاری آزمائش کرنے والا ہے۔ جو شخص اس میں سے پانی پی لے گا (اس کی نسبت تصور کیا جائے گا کہ) وہ میرا نہیں۔ اور جو نہ پئے گا وہ (سمجھا جائے گا کہ) میرا ہے۔ ہاں اگر کوئی ہاتھ سے چلو بھر پانی پی لے (تو خیر۔ جب وہ لوگ نہر پر پہنچے) تو چند شخصوں کے سوا سب نے پانی پی لیا۔ پھر جب طالوت اور مومن لوگ جو اس کے ساتھ تھے نہر کے پار ہوگئے۔ تو کہنے لگے کہ آج ہم میں جالوت اور اس کے لشکر سے مقابلہ کرنے کی طاقت نہیں۔ جو لوگ یقین رکھتے تھے کہ ان کو خدا کے روبرو حاضر ہونا ہے وہ کہنے لگے کہ بسااوقات تھوڑی سی جماعت نے خدا کے حکم سے بڑی جماعت پر فتح حاصل کی ہے اور خدا استقلال رکھنے والوں کے ساتھ ہے
اور جب وہ لوگ جالوت اور اس کے لشکر کے مقابل آئے تو (خدا سے) دعا کی کہ اے پروردگار ہم پر صبر کے دہانے کھول دے اور ہمیں (لڑائی میں) ثابت قدم رکھ اور (لشکر) کفار پر فتحیاب کر
تو طالوت کی فوج نے خدا کے حکم سے ان کو ہزیمت دی۔ اور داؤد نے جالوت کو قتل کر ڈالا۔ اور خدا نے اس کو بادشاہی اور دانائی بخشی اور جو کچھ چاہا سکھایا۔ اور خدا لوگوں کو ایک دوسرے (پر چڑھائی اور حملہ کرنے) سے ہٹاتا نہ رہتا تو ملک تباہ ہوجاتا لیکن خدا اہل عالم پر بڑا مہربان ہے
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔