Fa-izaa laqeetumul lazeena kafaroo fadarbar riqaab, hattaaa izaa askhan tumoohum fashuddul wasaaq, fa immaa mannnam ba`du wa immaa fidaaa`an hattaa tada`al harbu awzaarahaa; zaalika wa law yashaaa`ul laahu lantasara minhum wa laakil laiyabluwa ba`dakum biba`d; wallazeena qutiloo fee sabeelil laahi falany yudilla a`maalahum
📖 ترجمہ (اردو ترجمہ)
📖 اردو ترجمہ
جب تم کافروں سے بھڑ جاؤ تو ان کی گردنیں اُڑا دو۔ یہاں تک کہ جب ان کو خوب قتل کرچکو تو (جو زندہ پکڑے جائیں ان کو) مضبوطی سے قید کرلو۔ پھر اس کے بعد یا تو احسان رکھ کر چھوڑ دینا چاہیئے یا کچھ مال لے کر یہاں تک کہ (فریق مقابل) لڑائی (کے) ہتھیار (ہاتھ سے) رکھ دے۔ (یہ حکم یاد رکھو) اور اگر خدا چاہتا تو (اور طرح) ان سے انتقام لے لیتا۔ لیکن اس نے چاہا کہ تمہاری آزمائش ایک (کو) دوسرے سے (لڑوا کر) کرے۔ اور جو لوگ خدا کی راہ میں مارے گئے ان کے عملوں کو ہرگز ضائع نہ کرے گا
🌐 Additional reference in فارسی
🌐 فارسی
چون با كافران روبرو شديد، گردنشان را بزنيد. و چون آنها را سخت فرو كوفتيد، اسيرشان كنيد و سخت ببنديد. آنگاه يا به منت آزاد كنيد يا به فديه. تا آنگاه كه جنگ به پايان آيد. و اين است حكم خدا. و اگر خدا مىخواست، از آنان انتقام مىگرفت، ولى خواست تا شما را به يكديگر بيازمايد. و آنان كه در راه خدا كشته شدهاند اعمالشان را باطل نمىكند.
جب تم کافروں سے بھڑ جاؤ تو ان کی گردنیں اُڑا دو۔ یہاں تک کہ جب ان کو خوب قتل کرچکو تو (جو زندہ پکڑے جائیں ان کو) مضبوطی سے قید کرلو۔ پھر اس کے بعد یا تو احسان رکھ کر چھوڑ دینا چاہیئے یا کچھ مال لے کر یہاں تک کہ (فریق مقابل) لڑائی (کے) ہتھیار (ہاتھ سے) رکھ دے۔ (یہ حکم یاد رکھو) اور اگر خدا چاہتا تو (اور طرح) ان سے انتقام لے لیتا۔ لیکن اس نے چاہا کہ تمہاری آزمائش ایک (کو) دوسرے سے (لڑوا کر) کرے۔ اور جو لوگ خدا کی راہ میں مارے گئے ان کے عملوں کو ہرگز ضائع نہ کرے گا
📜
ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
فَضَرْبَ الرِّقَابِ: یعنی گردنوں پر ضرب لگانا، قتل کرنا۔
أَثْخَنتُمُوهُمْ: انہیں قتل کرکے کمزور کر دینا، ان کی طاقت توڑ دینا۔
الْوَثَاقَ: رسیاں، قیدیوں کی قید و بند۔
مَنًّا: احسان کرنا، قیدیوں کو بغیر معاوضہ رہا کر دینا۔
فِدَاءً: فدیہ لے کر چھوڑنا، یعنی قیدیوں کے بدلے مال یا قیدیوں کا تبادلہ۔
تَضَعَ الْحَرْبُ أَوْزَارَهَا: جنگ اپنے ہتھیار رکھ دے، یعنی جنگ ختم ہو جائے۔
أَضَلَّ أَعْمَالَهُمْ: ان کے اعمال کو ضائع کر دینا، برباد کر دینا۔
تفسیر:
اے ایمان والو! جب تم کافروں سے میدانِ جنگ میں مڈبھیڑ کرو تو انہیں خوب قتل کرو، گردنوں پر ضرب لگاؤ، یہاں تک کہ جب تم انہیں قتل کرکے کمزور کر دو اور ان کی طاقت توڑ دو تو پھر قیدیوں کو مضبوطی سے قید کرو، تاکہ وہ بھاگ نہ سکیں۔ اس کے بعد تمہیں اختیار ہے: یا تو ان پر احسان کرتے ہوئے بغیر کسی معاوضے کے رہا کر دو، یا فدیہ لے کر چھوڑ دو، خواہ وہ مال ہو یا قیدیوں کا تبادلہ۔ یہ سلسلہ اس وقت تک جاری رکھو جب تک جنگ اپنے ہتھیار نہ رکھ دے، یعنی جنگ ختم نہ ہو جائے۔
یہ حکم اللہ کی طرف سے ہے، اور اگر اللہ چاہتا تو بغیر کسی جنگ کے خود کافروں سے انتقام لے لیتا اور انہیں ہلاک کر دیتا، لیکن اس نے یہ سب کچھ اس لیے کیا ہے تاکہ تم میں سے بعض کو بعض کے ذریعے آزمائے، یعنی مومنوں کو کافروں کے ذریعے آزمائے کہ وہ اللہ کی راہ میں جہاد کرتے ہیں یا نہیں، اور کافروں کو مومنوں کے ذریعے آزمائے کہ وہ ایمان لاتے ہیں یا نہیں۔ یہ امتحان اس لیے ہے تاکہ مومنوں کے درجات بلند ہوں اور انہیں اجر عظیم ملے۔
اور جو لوگ اللہ کی راہ میں قتل کیے جائیں، اللہ ان کے اعمال کو ہرگز ضائع نہیں کرے گا، بلکہ وہ انہیں دنیا میں نیک اعمال کی توفیق دیتا ہے، ان کی حالت کو سنوارتا ہے، اور آخرت میں انہیں جنت میں داخل کرے گا اور ان کے درجات بلند فرمائے گا۔
دعوتی انداز:
پیارے مسلمانو! یہ آیت ہمیں سکھاتی ہے کہ جہاد صرف اللہ کی رضا کے لیے ہے، نہ کہ دنیاوی مفادات کے لیے۔ اللہ تعالیٰ نے جہاد کا حکم اس لیے دیا ہے تاکہ ہماری آزمائش ہو، ہمارے ایمان کی پختگی ظاہر ہو، اور ہم اللہ کی راہ میں قربانی دے کر جنت کے مستحق بنیں۔ یاد رکھو! جو لوگ اللہ کی راہ میں قتل ہوتے ہیں، ان کے اعمال کبھی ضائع نہیں ہوتے، بلکہ اللہ انہیں بہترین بدلہ عطا فرماتا ہے۔ لہٰذا ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے ایمان کو مضبوط کریں، اللہ کی راہ میں قربانی کے لیے تیار رہیں، اور یہ جان لیں کہ اللہ ہمیشہ اپنے نیک بندوں کے ساتھ ہوتا ہے۔ جہاد کا مقصد صرف اللہ کا کلمہ بلند کرنا ہے، اور اللہ کی راہ میں مرنے والوں کے لیے جنت کی خوشخبری ہے۔ آئیے ہم سب اس عظیم مقصد کے لیے اپنے آپ کو تیار کریں اور اللہ سے دعا کریں کہ وہ ہمیں اپنی راہ میں قربانی کی توفیق عطا فرمائے۔
اور جو ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے اور جو (کتاب) محمدﷺ پر نازل ہوئی اسے مانتے رہے اور وہ ان کے پروردگار کی طرف سے برحق ہے ان سے ان کے گناہ دور کردیئے اور ان کی حالت سنوار دی
یہ (حبط اعمال اور اصلاح حال) اس لئے ہے کہ جن لوگوں نے کفر کیا انہوں نے جھوٹی بات کی پیروی کی اور جو ایمان لائے وہ اپنے پروردگار کی طرف سے (دین) حق کے پیچھے چلے۔ اسی طرح خدا لوگوں سے ان کے حالات بیان فرماتا ہے
جب تم کافروں سے بھڑ جاؤ تو ان کی گردنیں اُڑا دو۔ یہاں تک کہ جب ان کو خوب قتل کرچکو تو (جو زندہ پکڑے جائیں ان کو) مضبوطی سے قید کرلو۔ پھر اس کے بعد یا تو احسان رکھ کر چھوڑ دینا چاہیئے یا کچھ مال لے کر یہاں تک کہ (فریق مقابل) لڑائی (کے) ہتھیار (ہاتھ سے) رکھ دے۔ (یہ حکم یاد رکھو) اور اگر خدا چاہتا تو (اور طرح) ان سے انتقام لے لیتا۔ لیکن اس نے چاہا کہ تمہاری آزمائش ایک (کو) دوسرے سے (لڑوا کر) کرے۔ اور جو لوگ خدا کی راہ میں مارے گئے ان کے عملوں کو ہرگز ضائع نہ کرے گا
5سَيَهْدِيهِمْ وَيُصْلِحُ بَالَهُمْ
ان کو سیدھے رستے پر چلائے گا اور ان کی حالت درست کر دے گا
6وَيُدْخِلُهُمُ الْجَنَّةَ عَرَّفَهَا لَهُمْ
اور ان کو بہشت میں جس سے انہیں شناسا کر رکھا ہے داخل کرے گا
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔