بقرہ · 236/286
ترجمہ تلفظ — بقرہ
لَّا جُنَاحَ عَلَيۡكُمۡ إِن طَلَّقۡتُمُ ٱلنِّسَآءَ مَا لَمۡ تَمَسُّوهُنَّ أَوۡ تَفۡرِضُواْ لَهُنَّ فَرِيضَةًۚ وَمَتِّعُوهُنَّ عَلَى ٱلۡمُوسِعِ قَدَرُهُۥ وَعَلَى ٱلۡمُقۡتِرِ قَدَرُهُۥ مَتَٰعَۢا بِٱلۡمَعۡرُوفِۖ حَقًّا عَلَى ٱلۡمُحۡسِنِينَ  ۝٢٣٦
Laa junaaha `alaikum in tallaqtumun nisaaa`a maa lam tamassoohunna aw tafridoo lahunna fareedah; wa matti`oona `alal moosi`i qadaruhoo wa `alal muqtiri qadaruhoo matta`am bilma`roofi haqqan `alalmuhsineen
📖 اردو ترجمہ
اور اگر تم عورتوں کو ان کے پاس جانے یا ان کا مہر مقرر کرنے سے پہلے طلاق دے دو تو تم پر کچھ گناہ نہیں۔ ہاں ان کو دستور کے مطابق کچھ خرچ ضرور دو (یعنی) مقدور والا اپنے مقدور کے مطابق دے اور تنگدست اپنی حیثیت کے مطابق۔ نیک لوگوں پر یہ ایک طرح کا حق ہے
📜

ترجمہ — Tafsir

معانی الفاظ:

  • لَا جُنَاحَ: کوئی گناہ نہیں، کوئی حرج نہیں۔
  • مَا لَمْ تَمَسُّوهُنَّ: جب تک تم نے انہیں ہاتھ نہ لگایا ہو، یعنی جماع نہ کیا ہو۔
  • تَفْرِضُوا لَهُنَّ فَرِيضَةً: ان کے لیے مقرر نہ کیا ہو، یعنی مہر مقرر نہ کیا ہو۔
  • مَتِّعُوهُنَّ: انہیں کچھ مال دو، انہیں فائدہ پہنچاؤ۔
  • الْمُوسِعِ: خوش حال، وسعت والا۔
  • الْمُقْتِرِ: تنگ دست، غریب۔
  • بِالْمَعْرُوفِ: اچھے طریقے سے، شرعی اور معروف انداز میں۔
  • الْمُحْسِنِينَ: نیکی کرنے والے، احسان کرنے والے۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر اپنی رحمت اور شفقت کا دروازہ کھولتے ہوئے ارشاد فرماتا ہے کہ اے مسلمانو! اگر تم اپنی بیویوں کو اس حالت میں طلاق دے دو کہ نہ تو تم نے ان سے جماع کیا ہو اور نہ ہی ان کا مہر مقرر کیا ہو، تو اس میں تم پر کوئی گناہ اور حرج نہیں۔ یہ اللہ کا خاص فضل ہے کہ اس نے اس معاملے میں تمہارے لیے آسانی پیدا کی ہے۔

اس صورت میں جب طلاق ہو جائے تو عورت پر کوئی مہر واجب نہیں ہوتا، لیکن اللہ تعالیٰ نے حکم دیا کہ تم انہیں کچھ نہ کچھ مال ضرور دو، تاکہ ان کے دل کی تسلی ہو اور اس طلاق کی وجہ سے جو صدمہ اور رنج انہیں پہنچا ہے، اس کا کچھ ازالہ ہو سکے۔ یہ متعہ (عطیہ) دینا اس لیے بھی ضروری ہے تاکہ ان کے دلوں میں کدورت نہ رہے اور معاشرے میں محبت اور حسن سلوک کا ماحول قائم رہے۔

یہ متعہ ہر شخص کی حیثیت کے مطابق ہوگا۔ جو شخص خوش حال اور وسعت والا ہے، وہ اپنی حیثیت کے مطابق دے، اور جو تنگ دست اور غریب ہے، وہ اپنی استطاعت کے مطابق دے۔ اللہ تعالیٰ نے کسی پر اس کی طاقت سے زیادہ بوجھ نہیں ڈالا۔ یہ عطیہ اس طریقے سے ہو جو شرعاً معروف اور اچھا ہو، نہ اس میں کمی کی جائے اور نہ ہی کسی کو نقصان پہنچایا جائے۔

یہ حکم ان لوگوں کے لیے ہے جو احسان کرنے والے ہیں، یعنی جو اللہ کی اطاعت کرتے ہیں اور اپنے معاملات میں نیکی اور بھلائی کو اپناتے ہیں۔ یہ ایک حق ہے جو اللہ نے نیک لوگوں کے ذمے رکھا ہے، تاکہ وہ اس کے ذریعے اپنے ایمان کا ثبوت دیں اور اللہ کی رضا حاصل کریں۔

اس آیت سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ اسلام نے عورتوں کے حقوق کا کس قدر خیال رکھا ہے۔ طلاق جیسے نازک معاملے میں بھی اللہ تعالیٰ نے عورت کی دلجوئی کا حکم دیا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے معاملات میں نرمی، محبت اور حسن سلوک کو اپنائیں، کیونکہ یہی اللہ کو پسند ہے اور یہی تقویٰ کی علامت ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے احکام پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

🎧 سنیں

📜 آیت 234-238 — بقرہ

234وَٱلَّذِينَ يُتَوَفَّوۡنَ مِنكُمۡ وَيَذَرُونَ أَزۡوَٰجًا يَتَرَبَّصۡنَ بِأَنفُسِهِنَّ أَرۡبَعَةَ أَشۡهُرٍ وَعَشۡرًاۖ فَإِذَا بَلَغۡنَ أَجَلَهُنَّ فَلَا جُنَاحَ عَلَيۡكُمۡ فِيمَا فَعَلۡنَ فِيٓ أَنفُسِهِنَّ بِٱلۡمَعۡرُوفِۗ وَٱللَّهُ بِمَا تَعۡمَلُونَ خَبِيرٌ 
اور جو لوگ تم میں سے مرجائیں اور عورتیں چھوڑ جائیں تو عورتیں چار مہینے دس دن اپنے آپ کو روکے رہیں۔ اور جب (یہ) عدت پوری کرچکیں اور اپنے حق میں پسندیدہ کام (یعنی نکاح) کرلیں تو ان پر کچھ گناہ نہیں۔ اور خدا تمہارے سب کاموں سے واقف ہے
235وَلَا جُنَاحَ عَلَيۡكُمۡ فِيمَا عَرَّضۡتُم بِهِۦ مِنۡ خِطۡبَةِ ٱلنِّسَآءِ أَوۡ أَكۡنَنتُمۡ فِيٓ أَنفُسِكُمۡۚ عَلِمَ ٱللَّهُ أَنَّكُمۡ سَتَذۡكُرُونَهُنَّ وَلَٰكِن لَّا تُوَاعِدُوهُنَّ سِرًّا إِلَّآ أَن تَقُولُواْ قَوۡلًا مَّعۡرُوفًاۚ وَلَا تَعۡزِمُواْ عُقۡدَةَ ٱلنِّكَاحِ حَتَّىٰ يَبۡلُغَ ٱلۡكِتَٰبُ أَجَلَهُۥۚ وَٱعۡلَمُوٓاْ أَنَّ ٱللَّهَ يَعۡلَمُ مَا فِيٓ أَنفُسِكُمۡ فَٱحۡذَرُوهُۚ وَٱعۡلَمُوٓاْ أَنَّ ٱللَّهَ غَفُورٌ حَلِيمٌ 
اور اگر تم کنائے کی باتوں میں عورتوں کو نکاح کا پیغام بھیجو یا (نکاح کی خواہش کو) اپنے دلوں میں مخفی رکھو تو تو تم پر کچھ گناہ نہیں۔ خدا کو معلوم ہے کہ تم ان سے (نکاح کا) ذکر کرو گے۔ مگر (ایام عدت میں) اس کے سوا کہ دستور کے مطابق کوئی بات کہہ دو پوشیدہ طور پر ان سے قول واقرار نہ کرنا۔ اور جب تک عدت پوری نہ ہولے نکاح کا پختہ ارادہ نہ کرنا۔ اور جان رکھو کہ جو کچھ تمہارے دلوں میں ہے خدا کو سب معلوم ہے تو اس سے ڈرتے رہو اور جان رکھو کہ خدا بخشنے والا اور حلم والا ہے
236لَّا جُنَاحَ عَلَيۡكُمۡ إِن طَلَّقۡتُمُ ٱلنِّسَآءَ مَا لَمۡ تَمَسُّوهُنَّ أَوۡ تَفۡرِضُواْ لَهُنَّ فَرِيضَةًۚ وَمَتِّعُوهُنَّ عَلَى ٱلۡمُوسِعِ قَدَرُهُۥ وَعَلَى ٱلۡمُقۡتِرِ قَدَرُهُۥ مَتَٰعَۢا بِٱلۡمَعۡرُوفِۖ حَقًّا عَلَى ٱلۡمُحۡسِنِينَ 
اور اگر تم عورتوں کو ان کے پاس جانے یا ان کا مہر مقرر کرنے سے پہلے طلاق دے دو تو تم پر کچھ گناہ نہیں۔ ہاں ان کو دستور کے مطابق کچھ خرچ ضرور دو (یعنی) مقدور والا اپنے مقدور کے مطابق دے اور تنگدست اپنی حیثیت کے مطابق۔ نیک لوگوں پر یہ ایک طرح کا حق ہے
237وَإِن طَلَّقۡتُمُوهُنَّ مِن قَبۡلِ أَن تَمَسُّوهُنَّ وَقَدۡ فَرَضۡتُمۡ لَهُنَّ فَرِيضَةً فَنِصۡفُ مَا فَرَضۡتُمۡ إِلَّآ أَن يَعۡفُونَ أَوۡ يَعۡفُوَاْ ٱلَّذِي بِيَدِهِۦ عُقۡدَةُ ٱلنِّكَاحِۚ وَأَن تَعۡفُوٓاْ أَقۡرَبُ لِلتَّقۡوَىٰۚ وَلَا تَنسَوُاْ ٱلۡفَضۡلَ بَيۡنَكُمۡۚ إِنَّ ٱللَّهَ بِمَا تَعۡمَلُونَ بَصِيرٌ 
اور اگر تم عورتوں کو ان کے پاس جانے سے پہلے طلاق دے دو لیکن مہر مقرر کرچکے ہو تو آدھا مہر دینا ہوگا۔ ہاں اگر عورتیں مہر بخش دیں یا مرد جن کے ہاتھ میں عقد نکاح ہے (اپنا حق) چھوڑ دیں۔ (اور پورا مہر دے دیں تو ان کو اختیار ہے) اور اگر تم مرد لوگ ہ اپنا حق چھوڑ دو تو یہ پرہیزگاری کی بات ہے۔ اور آپس میں بھلائی کرنے کو فراموش نہ کرنا۔ کچھ شک نہیں کہ خدا تمہارے سب کاموں کو دیکھ رہا ہے
238حَٰفِظُواْ عَلَى ٱلصَّلَوَٰتِ وَٱلصَّلَوٰةِ ٱلۡوُسۡطَىٰ وَقُومُواْ لِلَّهِ قَٰنِتِينَ 
(مسلمانو) سب نمازیں خصوصاً بیچ کی نماز (یعنی نماز عصر) پورے التزام کے ساتھ ادا کرتے رہو۔ اور خدا کے آگے ادب سے کھڑے رہا کرو
بقرہقرآن فہرست
286آیت
مدنیRevelation
236آیت

ترجمہ — بقرہ 236

سورہ آیت 236/286 — بقرہ البقرة (مدنی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: بقرہ سنیں, بقرہ ترجمہ, بقرہ mp3, بقرہ pdf. آیت 234–238. اردو ترجمہ: فارسی.




قرآن کریم


Tuesday, August 18, 2026

اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں