ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- أَذَانٌ: اعلان، خبر دینا، آگاہ کرنا
- یَوْمَ الْحَجِّ الْأَکْبَرِ: بڑے حج کا دن، جس سے مراد یوم النحر (دس ذوالحجہ) ہے
- بَرِیءٌ: لاتعلق، بیزار، کوئی تعلق نہ ہونا
- مُعْجِزِی اللہِ: اللہ کو عاجز کرنے والے، اللہ کی گرفت سے بھاگ نکلنے والے
- عَذَابٌ أَلِیمٌ: دردناک عذاب، تکلیف دہ سزا
تفسیر:
یہ آیت کریمہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے تمام لوگوں کے لیے ایک اعلیٰ ترین اعلان ہے، جو حج اکبر کے دن کیا گیا۔ اس اعلان کا مضمون یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ مشرکوں سے بری اور بیزار ہے، اور اس کا رسول صلی اللہ علیہ وسلم بھی ان سے بری ہے۔ یعنی مشرکین کے ساتھ کسی قسم کا کوئی معاہدہ، کوئی تعلق اور کوئی رشتہ باقی نہیں رہا۔ یہ اعلان اس لیے کیا گیا تاکہ مشرکین کو پوری طرح آگاہ کر دیا جائے کہ ان کا شرک اور ان کی سرکشی اللہ کے ہاں قطعاً قابل قبول نہیں۔
اس کے بعد اللہ تعالیٰ مشرکین کو مخاطب کر کے فرماتا ہے کہ اگر تم اپنے شرک سے توبہ کر لو، اپنے کفر سے باز آ جاؤ اور اللہ کی طرف رجوع کرو، تو یہ توبہ تمہارے لیے بہتر ہے، کیونکہ توبہ کرنے والے کے لیے اللہ کے پاس مغفرت اور رحمت ہے۔ لیکن اگر تم توبہ سے منہ موڑو گے اور اپنے کفر و شرک پر قائم رہو گے، تو خوب جان لو کہ تم اللہ کو عاجز نہیں کر سکتے، تم اس کی گرفت سے بھاگ نہیں سکتے، نہ زمین میں تمہیں کوئی پناہ ملے گی اور نہ آسمان میں۔ اللہ کی قدرت سے کوئی چیز باہر نہیں، وہ ہر چیز پر قادر ہے۔
آخر میں اللہ تعالیٰ اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیتا ہے کہ کافروں کو اس دردناک عذاب کی خبر دے دیں جو ان کے لیے تیار کیا گیا ہے۔ یہاں "بشارت" کا لفظ اس لیے استعمال ہوا ہے کہ جس طرح نیک لوگوں کو جنت کی خوشخبری دی جاتی ہے، اسی طرح کافروں کو ان کے انجام کی خبر دے کر ڈرایا جا رہا ہے، تاکہ وہ اپنے کفر سے باز آ جائیں۔
دعوتی پہلو:
اس آیت میں اللہ تعالیٰ کی رحمت کا پہلو بھی نمایاں ہے کہ وہ مشرکین کو توبہ کی دعوت دے رہا ہے، حالانکہ وہ اس کے سب سے بڑے دشمن تھے۔ یہ اللہ کا کمال کرم ہے کہ وہ گنہگاروں کو توبہ کا دروازہ کھلا چھوڑتا ہے۔ ہمیں بھی چاہیے کہ اپنی زندگیوں میں شرک اور کفر سے بچیں، اور اگر کوئی گناہ سرزد ہو جائے تو فوراً توبہ کریں، کیونکہ توبہ کا دروازہ ہمیشہ کھلا ہے۔ نیز ہمیں اللہ کی قدرت اور اس کی گرفت سے ڈرتے رہنا چاہیے، کیونکہ کوئی بھی شخص اللہ کی گرفت سے بھاگ نہیں سکتا۔ یہ آیت ہمیں یہ بھی سکھاتی ہے کہ اسلام میں اعلانِ براءت اور حق و باطل کا فرق واضح کرنا ضروری ہے، تاکہ لوگ سمجھ سکیں کہ حق کیا ہے اور باطل کیا۔
📜 آیت 1-5 — توبہ
ترجمہ — توبہ 3
سورہ آیت 3/129 — توبہ التوبة (مدنی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: توبہ سنیں, توبہ ترجمہ, توبہ mp3, توبہ pdf. آیت 1–5. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں







