توبہ · 3/129
ترجمہ تلفظ — توبہ
وَأَذَٰنٌ مِّنَ ٱللَّهِ وَرَسُولِهِۦٓ إِلَى ٱلنَّاسِ يَوۡمَ ٱلۡحَجِّ ٱلۡأَكۡبَرِ أَنَّ ٱللَّهَ بَرِيٓءٌ مِّنَ ٱلۡمُشۡرِكِينَ وَرَسُولُهُۥۚ فَإِن تُبۡتُمۡ فَهُوَ خَيۡرٌ لَّكُمۡۖ وَإِن تَوَلَّيۡتُمۡ فَٱعۡلَمُوٓاْ أَنَّكُمۡ غَيۡرُ مُعۡجِزِي ٱللَّهِۗ وَبَشِّرِ ٱلَّذِينَ كَفَرُواْ بِعَذَابٍ أَلِيمٍ  ۝٣
Wa azaanum minal laahi wa Rasooliheee ilan naasi yawmal Hajjil Akbari annal laaha bareee`um minal mushrikeena wa Rasooluh; fa-in tubtum fahuwa khairullakum wa in tawallaitum fa`lamooo annakum ghairu mu`jizil laah; wa bashiril lazeena kafaroo biazaabin aleem
📖 اردو ترجمہ
اور حج اکبر کے دن خدا اور اس کے رسول کی طرف سے لوگوں کو آگاہ کیا جاتا ہے کہ خدا مشرکوں سے بیزار ہے اور اس کا رسول بھی (ان سے دستبردار ہے) ۔ پس اگر تم توبہ کرلو تو تمھارے حق میں بہتر ہے۔ اور اگر نہ مانو (اور خدا سے مقابلہ کرو) تو جان رکھو کہ تم خدا کو ہرا نہیں سکو گے اور (اے پیغمبر) کافروں کو دکھ دینے والے عذاب کی خبر سنا دو
📜

ترجمہ — Tafsir

معانی الفاظ:

  • أَذَانٌ: اعلان، خبر دینا، آگاہ کرنا
  • یَوْمَ الْحَجِّ الْأَکْبَرِ: بڑے حج کا دن، جس سے مراد یوم النحر (دس ذوالحجہ) ہے
  • بَرِیءٌ: لاتعلق، بیزار، کوئی تعلق نہ ہونا
  • مُعْجِزِی اللہِ: اللہ کو عاجز کرنے والے، اللہ کی گرفت سے بھاگ نکلنے والے
  • عَذَابٌ أَلِیمٌ: دردناک عذاب، تکلیف دہ سزا

تفسیر:

یہ آیت کریمہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے تمام لوگوں کے لیے ایک اعلیٰ ترین اعلان ہے، جو حج اکبر کے دن کیا گیا۔ اس اعلان کا مضمون یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ مشرکوں سے بری اور بیزار ہے، اور اس کا رسول صلی اللہ علیہ وسلم بھی ان سے بری ہے۔ یعنی مشرکین کے ساتھ کسی قسم کا کوئی معاہدہ، کوئی تعلق اور کوئی رشتہ باقی نہیں رہا۔ یہ اعلان اس لیے کیا گیا تاکہ مشرکین کو پوری طرح آگاہ کر دیا جائے کہ ان کا شرک اور ان کی سرکشی اللہ کے ہاں قطعاً قابل قبول نہیں۔

اس کے بعد اللہ تعالیٰ مشرکین کو مخاطب کر کے فرماتا ہے کہ اگر تم اپنے شرک سے توبہ کر لو، اپنے کفر سے باز آ جاؤ اور اللہ کی طرف رجوع کرو، تو یہ توبہ تمہارے لیے بہتر ہے، کیونکہ توبہ کرنے والے کے لیے اللہ کے پاس مغفرت اور رحمت ہے۔ لیکن اگر تم توبہ سے منہ موڑو گے اور اپنے کفر و شرک پر قائم رہو گے، تو خوب جان لو کہ تم اللہ کو عاجز نہیں کر سکتے، تم اس کی گرفت سے بھاگ نہیں سکتے، نہ زمین میں تمہیں کوئی پناہ ملے گی اور نہ آسمان میں۔ اللہ کی قدرت سے کوئی چیز باہر نہیں، وہ ہر چیز پر قادر ہے۔

آخر میں اللہ تعالیٰ اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیتا ہے کہ کافروں کو اس دردناک عذاب کی خبر دے دیں جو ان کے لیے تیار کیا گیا ہے۔ یہاں "بشارت" کا لفظ اس لیے استعمال ہوا ہے کہ جس طرح نیک لوگوں کو جنت کی خوشخبری دی جاتی ہے، اسی طرح کافروں کو ان کے انجام کی خبر دے کر ڈرایا جا رہا ہے، تاکہ وہ اپنے کفر سے باز آ جائیں۔

دعوتی پہلو:

اس آیت میں اللہ تعالیٰ کی رحمت کا پہلو بھی نمایاں ہے کہ وہ مشرکین کو توبہ کی دعوت دے رہا ہے، حالانکہ وہ اس کے سب سے بڑے دشمن تھے۔ یہ اللہ کا کمال کرم ہے کہ وہ گنہگاروں کو توبہ کا دروازہ کھلا چھوڑتا ہے۔ ہمیں بھی چاہیے کہ اپنی زندگیوں میں شرک اور کفر سے بچیں، اور اگر کوئی گناہ سرزد ہو جائے تو فوراً توبہ کریں، کیونکہ توبہ کا دروازہ ہمیشہ کھلا ہے۔ نیز ہمیں اللہ کی قدرت اور اس کی گرفت سے ڈرتے رہنا چاہیے، کیونکہ کوئی بھی شخص اللہ کی گرفت سے بھاگ نہیں سکتا۔ یہ آیت ہمیں یہ بھی سکھاتی ہے کہ اسلام میں اعلانِ براءت اور حق و باطل کا فرق واضح کرنا ضروری ہے، تاکہ لوگ سمجھ سکیں کہ حق کیا ہے اور باطل کیا۔

🎧 سنیں

📜 آیت 1-5 — توبہ

1بَرَآءَةٌ مِّنَ ٱللَّهِ وَرَسُولِهِۦٓ إِلَى ٱلَّذِينَ عَٰهَدتُّم مِّنَ ٱلۡمُشۡرِكِينَ 
(اے اہل اسلام اب) خدا اور اس کے رسول کی طرف سے مشرکوں سے جن سے تم نے عہد کر رکھا تھا بیزاری (اور جنگ کی تیاری) ہے
2فَسِيحُواْ فِي ٱلۡأَرۡضِ أَرۡبَعَةَ أَشۡهُرٍ وَٱعۡلَمُوٓاْ أَنَّكُمۡ غَيۡرُ مُعۡجِزِي ٱللَّهِ وَأَنَّ ٱللَّهَ مُخۡزِي ٱلۡكَٰفِرِينَ 
تو (مشرکو تم) زمین میں چار مہینے چل پھر لو اور جان رکھو کہ تم خدا کو عاجز نہ کرسکو گے۔ اور یہ بھی کہ خدا کافروں کو رسوا کرنے والا ہے
3وَأَذَٰنٌ مِّنَ ٱللَّهِ وَرَسُولِهِۦٓ إِلَى ٱلنَّاسِ يَوۡمَ ٱلۡحَجِّ ٱلۡأَكۡبَرِ أَنَّ ٱللَّهَ بَرِيٓءٌ مِّنَ ٱلۡمُشۡرِكِينَ وَرَسُولُهُۥۚ فَإِن تُبۡتُمۡ فَهُوَ خَيۡرٌ لَّكُمۡۖ وَإِن تَوَلَّيۡتُمۡ فَٱعۡلَمُوٓاْ أَنَّكُمۡ غَيۡرُ مُعۡجِزِي ٱللَّهِۗ وَبَشِّرِ ٱلَّذِينَ كَفَرُواْ بِعَذَابٍ أَلِيمٍ 
اور حج اکبر کے دن خدا اور اس کے رسول کی طرف سے لوگوں کو آگاہ کیا جاتا ہے کہ خدا مشرکوں سے بیزار ہے اور اس کا رسول بھی (ان سے دستبردار ہے) ۔ پس اگر تم توبہ کرلو تو تمھارے حق میں بہتر ہے۔ اور اگر نہ مانو (اور خدا سے مقابلہ کرو) تو جان رکھو کہ تم خدا کو ہرا نہیں سکو گے اور (اے پیغمبر) کافروں کو دکھ دینے والے عذاب کی خبر سنا دو
4إِلَّا ٱلَّذِينَ عَٰهَدتُّم مِّنَ ٱلۡمُشۡرِكِينَ ثُمَّ لَمۡ يَنقُصُوكُمۡ شَيۡـًٔا وَلَمۡ يُظَٰهِرُواْ عَلَيۡكُمۡ أَحَدًا فَأَتِمُّوٓاْ إِلَيۡهِمۡ عَهۡدَهُمۡ إِلَىٰ مُدَّتِهِمۡۚ إِنَّ ٱللَّهَ يُحِبُّ ٱلۡمُتَّقِينَ 
البتہ جن مشرکوں کے ساتھ تم نے عہد کیا ہو اور انہوں نے تمہارا کسی طرح کا قصور نہ کیا ہو اور نہ تمہارے مقابلے میں کسی کی مدد کی ہو تو جس مدت تک ان کے ساتھ عہد کیا ہو اسے پورا کرو۔ (کہ) خدا پرہیزگاروں کو دوست رکھتا ہے
5فَإِذَا ٱنسَلَخَ ٱلۡأَشۡهُرُ ٱلۡحُرُمُ فَٱقۡتُلُواْ ٱلۡمُشۡرِكِينَ حَيۡثُ وَجَدتُّمُوهُمۡ وَخُذُوهُمۡ وَٱحۡصُرُوهُمۡ وَٱقۡعُدُواْ لَهُمۡ كُلَّ مَرۡصَدٍۚ فَإِن تَابُواْ وَأَقَامُواْ ٱلصَّلَوٰةَ وَءَاتَوُاْ ٱلزَّكَوٰةَ فَخَلُّواْ سَبِيلَهُمۡۚ إِنَّ ٱللَّهَ غَفُورٌ رَّحِيمٌ 
جب عزت کے مہینے گزر جائیں تو مشرکوں کو جہاں پاؤ قتل کر دو اور پکڑلو اور گھیرلو اور ہر گھات کی جگہ ان کی تاک میں بیٹھے رہو۔ پھر اگر وہ توبہ کرلیں اور نماز پڑھنے اور زکوٰة دینے لگیں تو ان کی راہ چھوڑ دو۔ بےشک خدا بخشنے والا مہربان ہے
توبہقرآن فہرست
129آیت
مدنیRevelation
3آیت

ترجمہ — توبہ 3

سورہ آیت 3/129 — توبہ التوبة (مدنی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: توبہ سنیں, توبہ ترجمہ, توبہ mp3, توبہ pdf. آیت 1–5. اردو ترجمہ: فارسی.




قرآن کریم


Tuesday, August 18, 2026

اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں