البتہ جن مشرکوں کے ساتھ تم نے عہد کیا ہو اور انہوں نے تمہارا کسی طرح کا قصور نہ کیا ہو اور نہ تمہارے مقابلے میں کسی کی مدد کی ہو تو جس مدت تک ان کے ساتھ عہد کیا ہو اسے پورا کرو۔ (کہ) خدا پرہیزگاروں کو دوست رکھتا ہے
🌐 Additional reference in فارسی
🌐 فارسی
مگر آن گروه از مشركان كه با ايشان پيمان بستهايد و در پيمان خود كاستى نياوردهاند و با هيچ كس بر ضد شما همدست نشدهاند. با اينان به پيمان خويش تا پايان مدتش وفا كنيد، زيرا خدا پرهيزگاران را دوست دارد.
البتہ جن مشرکوں کے ساتھ تم نے عہد کیا ہو اور انہوں نے تمہارا کسی طرح کا قصور نہ کیا ہو اور نہ تمہارے مقابلے میں کسی کی مدد کی ہو تو جس مدت تک ان کے ساتھ عہد کیا ہو اسے پورا کرو۔ (کہ) خدا پرہیزگاروں کو دوست رکھتا ہے
📜
ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
عَاہَدتُّم: جن سے تم نے معاہدہ کیا
لَمْ یَنقُصُوکُمْ: تمہیں کسی چیز میں کمی نہ کی
یُظَاہِرُوا: مدد کریں، اعانت کریں
فَأَتِمُّوا: پوری کرو، مکمل کرو
مُدَّتِہِم: ان کی مقررہ مدت تک
تفسیر:
اس آیت میں اللہ تعالیٰ مشرکین کے ساتھ کیے گئے معاہدوں کے بارے میں ایک اہم حکم بیان فرما رہے ہیں۔ پچھلی آیت میں اللہ تعالیٰ نے ان مشرکین سے براءت اور ان کے معاہدوں کو ختم کرنے کا حکم دیا تھا، لیکن اس آیت میں ایک استثناء بیان کیا گیا ہے۔ یعنی جن مشرکین سے تم نے معاہدہ کیا تھا اور انہوں نے اس معاہدے کو پورا کیا، نہ تمہارے خلاف کسی چیز میں کمی کی، نہ تمہارے دشمنوں کی تمہارے خلاف مدد کی، تو ان کے ساتھ معاہدہ ان کی مقررہ مدت تک پورا کرو۔
یہاں اللہ تعالیٰ نے دو شرطیں بیان فرمائیں: ایک یہ کہ انہوں نے معاہدے میں کوئی کمی نہ کی ہو، اور دوسری یہ کہ انہوں نے تمہارے خلاف کسی دشمن کی مدد نہ کی ہو۔ ان دو شرائط کے ساتھ جو مشرکین وفادار رہے ہیں، ان کے ساتھ بھی وفاداری کا معاملہ کرنا چاہیے۔
اس آیت سے ہمیں ایک بہت بڑا سبق ملتا ہے کہ اسلام وفا شعاری اور عہد کی پاسداری کا درس دیتا ہے۔ چاہے معاہدہ کسی کے ساتھ بھی ہو، مسلمان کو چاہیے کہ وہ اپنے عہد کو پورا کرے جب تک کہ دوسری طرف سے عہد شکنی نہ ہو۔ یہی تقویٰ ہے، اور اللہ تعالیٰ متقیوں سے محبت کرتا ہے۔
دعوتی پہلو:
اس آیت میں اللہ تعالیٰ ہمیں سکھاتے ہیں کہ اخلاقی اقدار اور عہد کی پاسداری اسلام کا بنیادی اصول ہے۔ ایک مسلمان کی پہچان یہ ہے کہ وہ اپنے وعدوں کا پکا ہو، چاہے سامنے والا کوئی بھی ہو۔ یہی وہ خوبی ہے جو مسلمانوں کو دوسروں سے ممتاز کرتی ہے اور جس کی بدولت لوگ اسلام کی طرف راغب ہوتے ہیں۔ آج کے دور میں بھی اگر ہم عہد کی پاسداری، امانت داری اور وفاداری کو اپنا کر دکھائیں تو لوگ خود بخود اسلام کی خوبصورتی کو محسوس کریں گے۔ اللہ تعالیٰ نے اس آیت کے آخر میں فرمایا کہ وہ متقیوں سے محبت کرتا ہے، یعنی جو لوگ اپنے عہد پورے کرتے ہیں اور خیانت سے بچتے ہیں، وہ اللہ کے محبوب بندے ہیں۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنی زندگی میں عہد کی پاسداری کو اپنا شعار بنائیں تاکہ ہم اللہ کی محبت کے مستحق بن سکیں۔
اور حج اکبر کے دن خدا اور اس کے رسول کی طرف سے لوگوں کو آگاہ کیا جاتا ہے کہ خدا مشرکوں سے بیزار ہے اور اس کا رسول بھی (ان سے دستبردار ہے) ۔ پس اگر تم توبہ کرلو تو تمھارے حق میں بہتر ہے۔ اور اگر نہ مانو (اور خدا سے مقابلہ کرو) تو جان رکھو کہ تم خدا کو ہرا نہیں سکو گے اور (اے پیغمبر) کافروں کو دکھ دینے والے عذاب کی خبر سنا دو
البتہ جن مشرکوں کے ساتھ تم نے عہد کیا ہو اور انہوں نے تمہارا کسی طرح کا قصور نہ کیا ہو اور نہ تمہارے مقابلے میں کسی کی مدد کی ہو تو جس مدت تک ان کے ساتھ عہد کیا ہو اسے پورا کرو۔ (کہ) خدا پرہیزگاروں کو دوست رکھتا ہے
جب عزت کے مہینے گزر جائیں تو مشرکوں کو جہاں پاؤ قتل کر دو اور پکڑلو اور گھیرلو اور ہر گھات کی جگہ ان کی تاک میں بیٹھے رہو۔ پھر اگر وہ توبہ کرلیں اور نماز پڑھنے اور زکوٰة دینے لگیں تو ان کی راہ چھوڑ دو۔ بےشک خدا بخشنے والا مہربان ہے
اور اگر کوئی مشرک تم سے پناہ کا خواستگار ہو تو اس کو پناہ دو یہاں تک کہ کلام خدا سننے لگے پھر اس کو امن کی جگہ واپس پہنچادو۔ اس لیے کہ یہ بےخبر لوگ ہیں
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔