آل عمران · 7/200
ترجمہ تلفظ — آل عمران
هُوَ الَّذِي أَنزَلَ عَلَيْكَ الْكِتَابَ مِنْهُ آيَاتٌ مُّحْكَمَاتٌ هُنَّ أُمُّ الْكِتَابِ وَأُخَرُ مُتَشَابِهَاتٌ ۖ فَأَمَّا الَّذِينَ فِي قُلُوبِهِمْ زَيْغٌ فَيَتَّبِعُونَ مَا تَشَابَهَ مِنْهُ ابْتِغَاءَ الْفِتْنَةِ وَابْتِغَاءَ تَأْوِيلِهِ ۗ وَمَا يَعْلَمُ تَأْوِيلَهُ إِلَّا اللَّهُ ۗ وَالرَّاسِخُونَ فِي الْعِلْمِ يَقُولُونَ آمَنَّا بِهِ كُلٌّ مِّنْ عِندِ رَبِّنَا ۗ وَمَا يَذَّكَّرُ إِلَّا أُولُو الْأَلْبَابِ ۝٧
Huwal lazeee anzala `alaikal Kitaaba minhu Aayaatum Muh kamaatun hunna Ummul Kitaabi wa ukharu Mutashaabihaatun faammal lazeena fee quloobihim ziyghun fa yattabi`oona ma tashaabaha minhubtighaaa `alfitnati wabtighaaa`a taaweelih; wa maa ya`lamu taaweelahooo illal laah; warraasikhoona fil `ilmi yaqooloona aamannaa bihee kullum min `indi Rabbinaa; wa maa yazzakkaru illaaa ulul albaab
📖 اردو ترجمہ
وہی تو ہے جس نے تم پر کتاب نازل کی جس کی بعض آیتیں محکم ہیں (اور) وہی اصل کتاب ہیں اور بعض متشابہ ہیں تو جن لوگوں کے دلوں میں کجی ہے وہ متشابہات کا اتباع کرتے ہیں تاکہ فتنہ برپا کریں اور مراد اصلی کا پتہ لگائیں حالانکہ مراد اصلی خدا کے سوا کوئی نہیں جانتا اور جو لوگ علم میں دست گاہ کامل رکھتے ہیں وہ یہ کہتے ہیں کہ ہم ان پر ایمان لائے یہ سب ہمارے پروردگار کی طرف سے ہیں اور نصیحت تو عقل مند ہی قبول کرتے ہیں
📜

ترجمہ — Tafsir

ہو وہ ذات ہے جس نے آپ پر کتاب (قرآن) نازل فرمائی، جس میں سے کچھ آیات محکم ہیں، وہی کتاب کی اصل (بنیاد) ہیں، اور دوسری آیات متشابہ ہیں۔ پس جن لوگوں کے دلوں میں کجی (ٹیڑھ) ہے، وہ اس کی متشابہ آیات کے پیچھے پڑ جاتے ہیں، فتنہ برپا کرنے اور ان کی تاویل (اپنی مرضی سے مطلب نکالنے) کی خاطر، حالانکہ ان کی حقیقی تاویل کو اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ اور جو علم میں پختہ ہیں، وہ کہتے ہیں: ہم اس پر ایمان لائے، یہ سب ہمارے رب کی طرف سے ہے۔ اور نصیحت صرف عقل والے ہی حاصل کرتے ہیں۔

معانی الفاظ:

  • محکمات: وہ آیات جن کے معانی صاف اور واضح ہوں، جن میں کوئی اشتباہ نہ ہو۔
  • متشابہات: وہ آیات جن کے معانی میں کچھ التباس ہو، جو ایک سے زیادہ معانی کو احتمال رکھتی ہوں۔
  • أم الکتاب: اصل اور جڑ، جس کی طرف رجوع کیا جائے۔
  • زیغ: کجی، ٹیڑھ، دل کا حق سے ہٹ جانا۔
  • ابتغاء: طلب کرنا، تلاش کرنا۔
  • فتنہ: آزمائش، گمراہی، شرک۔
  • تأویل: انجام، حقیقت، یا اپنی مرضی سے مطلب نکالنا۔
  • الراسخون فی العلم: علم میں مضبوط اور پختہ لوگ۔
  • أولو الألباب: خالص عقل والے، سمجھ دار لوگ۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل و کرم سے آپ پر قرآن مجید نازل فرمایا، جو ہدایت اور نور کا سرچشمہ ہے۔ اس کتاب کی آیات دو طرح کی ہیں: ایک محکمات، جو صاف اور واضح ہیں، ان کے معانی میں کوئی ابہام نہیں، یہی کتاب کی اصل اور بنیاد ہیں، انہیں "ام الکتاب" کہا گیا ہے۔ دوسری متشابہات، جن کے ظاہری معانی میں کچھ اشتباہ ہوتا ہے، لیکن جب انہیں محکم آیات کی روشنی میں سمجھا جائے تو ان کا مطلب بھی واضح ہو جاتا ہے۔

یہاں اللہ تعالیٰ نے خبردار کیا ہے کہ جن لوگوں کے دلوں میں کجی اور ٹیڑھ ہے، وہ ان متشابہ آیات کو پکڑ لیتے ہیں اور انہیں اپنی خواہشات کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کرتے ہیں، تاکہ لوگوں کو گمراہ کریں اور فتنہ برپا کریں۔ وہ ان آیات کی تاویل اپنی مرضی سے کرتے ہیں، حالانکہ ان کی حقیقی تاویل کا علم صرف اللہ کو ہے۔

لیکن جو لوگ علم میں پختہ اور مضبوط ہیں، وہ متشابہ آیات کو محکم آیات کے ساتھ ملا کر دیکھتے ہیں، اور کہتے ہیں: ہم ان سب پر ایمان لائے، یہ سب ہمارے رب کی طرف سے ہے، ہم ان کے معانی کو اللہ کے سپرد کرتے ہیں۔ یہی لوگ ہیں جو نصیحت حاصل کرتے ہیں اور سمجھتے ہیں، کیونکہ ان کے پاس خالص عقل ہے۔

دعوتی پہلو:

اس آیت سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ قرآن مجید کو سمجھنے کے لیے ہمیں اس کی محکم آیات کو بنیاد بنانا چاہیے، اور متشابہ آیات کو انہی کے حوالے سے سمجھنا چاہیے۔ ہمیں اپنے دلوں کو کجی اور ٹیڑھ سے پاک رکھنا چاہیے، کیونکہ کج دل ہی قرآن کو غلط معنی پہنانے کی کوشش کرتے ہیں۔ ہمیں چاہیے کہ ہم علم میں پختگی حاصل کریں، اور جب کوئی چیز سمجھ نہ آئے تو اسے اللہ کے سپرد کر دیں، کیونکہ اللہ ہی سب کچھ جاننے والا ہے۔ یہی راستہ ہمیں فتنوں سے بچاتا ہے اور ہماری ہدایت کا ضامن ہے۔ اللہ ہمیں سچی سمجھ اور پختہ ایمان عطا فرمائے۔ آمین۔

🎧 سنیں

📜 آیت 5-9 — آل عمران

5إِنَّ اللَّهَ لَا يَخْفَىٰ عَلَيْهِ شَيْءٌ فِي الْأَرْضِ وَلَا فِي السَّمَاءِ
خدا (ایسا خبیر وبصیر ہے کہ) کوئی چیز اس سے پوشیدہ نہیں نہ زمین میں اور نہ آسمان میں
6هُوَ الَّذِي يُصَوِّرُكُمْ فِي الْأَرْحَامِ كَيْفَ يَشَاءُ ۚ لَا إِلَٰهَ إِلَّا هُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ
وہی تو ہے جو (ماں کے پیٹ میں) جیسی چاہتا ہے تمہاری صورتیں بناتا ہے اس غالب حکمت والے کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں
7هُوَ الَّذِي أَنزَلَ عَلَيْكَ الْكِتَابَ مِنْهُ آيَاتٌ مُّحْكَمَاتٌ هُنَّ أُمُّ الْكِتَابِ وَأُخَرُ مُتَشَابِهَاتٌ ۖ فَأَمَّا الَّذِينَ فِي قُلُوبِهِمْ زَيْغٌ فَيَتَّبِعُونَ مَا تَشَابَهَ مِنْهُ ابْتِغَاءَ الْفِتْنَةِ وَابْتِغَاءَ تَأْوِيلِهِ ۗ وَمَا يَعْلَمُ تَأْوِيلَهُ إِلَّا اللَّهُ ۗ وَالرَّاسِخُونَ فِي الْعِلْمِ يَقُولُونَ آمَنَّا بِهِ كُلٌّ مِّنْ عِندِ رَبِّنَا ۗ وَمَا يَذَّكَّرُ إِلَّا أُولُو الْأَلْبَابِ
وہی تو ہے جس نے تم پر کتاب نازل کی جس کی بعض آیتیں محکم ہیں (اور) وہی اصل کتاب ہیں اور بعض متشابہ ہیں تو جن لوگوں کے دلوں میں کجی ہے وہ متشابہات کا اتباع کرتے ہیں تاکہ فتنہ برپا کریں اور مراد اصلی کا پتہ لگائیں حالانکہ مراد اصلی خدا کے سوا کوئی نہیں جانتا اور جو لوگ علم میں دست گاہ کامل رکھتے ہیں وہ یہ کہتے ہیں کہ ہم ان پر ایمان لائے یہ سب ہمارے پروردگار کی طرف سے ہیں اور نصیحت تو عقل مند ہی قبول کرتے ہیں
8رَبَّنَا لَا تُزِغْ قُلُوبَنَا بَعْدَ إِذْ هَدَيْتَنَا وَهَبْ لَنَا مِن لَّدُنكَ رَحْمَةً ۚ إِنَّكَ أَنتَ الْوَهَّابُ
اے پروردگار جب تو نے ہمیں ہدایت بخشی ہے تو اس کے بعد ہمارے دلوں میں کجی نہ پیدا کر دیجیو اور ہمیں اپنے ہاں سے نعمت عطا فرما تو تو بڑا عطا فرمانے والا ہے
9رَبَّنَا إِنَّكَ جَامِعُ النَّاسِ لِيَوْمٍ لَّا رَيْبَ فِيهِ ۚ إِنَّ اللَّهَ لَا يُخْلِفُ الْمِيعَادَ
اے پروردگار! تو اس روز جس (کے آنے) میں کچھ بھی شک نہیں سب لوگوں کو (اپنے حضور میں) جمع کرلے گا بے شک خدا خلاف وعدہ نہیں کرتا
آل عمرانقرآن فہرست
200آیت
مدنیRevelation
7آیت

ترجمہ — آل عمران 7

سورہ آیت 7/200 — آل عمران آل عمران (مدنی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: آل عمران سنیں, آل عمران ترجمہ, آل عمران mp3, آل عمران pdf. آیت 5–9. اردو ترجمہ: فارسی.




قرآن کریم


Tuesday, August 18, 2026

اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں