ترجمہ — Tafsir
رَبَّنَا لَا تُزِغْ قُلُوبَنَا بَعْدَ إِذْ هَدَيْتَنَا وَهَبْ لَنَا مِن لَّدُنكَ رَحْمَةً ۚ إِنَّكَ أَنتَ الْوَهَّابُ
معانی الفاظ:
- لَا تُزِغْ: ہمارے دلوں کو ٹیڑھا نہ کر، حق سے نہ پھیر۔
- إِذْ هَدَيْتَنَا: جب تو نے ہمیں ہدایت دی، یعنی سیدھا راستہ دکھایا۔
- مِن لَّدُنكَ: اپنی خاص بارگاہ سے، اپنے پاس سے۔
- الْوَهَّابُ: بہت زیادہ عطا کرنے والا، جو بغیر کسی شرط کے خوب بخشش فرمائے۔
تفسیر:
یہ دعا اہلِ علم اور راسخینِ علم کا شعار ہے جو اللہ تعالیٰ سے گڑگڑا کر عرض کرتے ہیں: اے ہمارے رب! ہمیں ہدایت دینے کے بعد ہمارے دلوں کو گمراہی کی طرف نہ پھیر، ہمارے دلوں کو حق پر ثابت قدم رکھ، اور ہمیں ان لوگوں کے حال سے بچا جو حق کے بعد باطل کی طرف مائل ہو گئے۔ یہ دعا دراصل استقامت کی دعا ہے، کیونکہ انسان جب تک زندہ ہے، اسے ہر لمحہ ثابت قدمی کی ضرورت ہے۔ اللہ تعالیٰ نے جب کسی کو ہدایت دی، تو یہ اس کا فضل ہے، لیکن یہ فضل اس وقت تک قائم رہتا ہے جب تک اللہ خود اسے قائم رکھے۔ اس لیے مومن ہمیشہ اللہ سے دعا کرتا ہے کہ اے رب! ہمیں ہدایت دے کر ہمیں تنہا نہ چھوڑ، بلکہ اپنی رحمت سے ہمیں سنبھالتا رہ۔
پھر وہ عرض کرتے ہیں: "اور ہمیں اپنے پاس سے رحمت عطا فرما" یعنی ایسی وسیع رحمت جو ہمارے دلوں کو تیرے ذکر پر قائم رکھے، ہمیں گناہوں سے بچائے، اور ہمارے اعمال کو تیری بارگاہ میں قبولیت بخشے۔ یہ رحمت صرف تیرے فضل سے ملتی ہے، کسی عمل کے بدلے نہیں۔ اس لیے وہ کہتے ہیں: "بے شک تو ہی بہت زیادہ عطا کرنے والا ہے" یعنی اے اللہ! تو وہ ہے جو بغیر کسی سوال کے بھی دیتا ہے، اور جب بندہ تجھ سے مانگتا ہے تو تو اور بھی فیاض ہو جاتا ہے۔ تیرا خزانہ کبھی ختم نہیں ہوتا، اور تیری رحمت ہر چیز کو گھیرے ہوئے ہے۔
دعوتی پہلو:
اس آیت سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ ایمان ایک نعمت ہے جس کی حفاظت کے لیے ہمیں مسلسل دعا کرنی چاہیے۔ کبھی کسی کو اپنے علم یا عمل پر ناز نہیں کرنا چاہیے، کیونکہ گمراہی کا خطرہ ہر وقت لاحق رہتا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہر نماز کے بعد، ہر صبح و شام یہ دعا پڑھیں اور اللہ سے اپنے دلوں کی حفاظت مانگیں۔ یہ دعا ہمیں عاجزی سکھاتی ہے اور یہ باور کراتی ہے کہ ہدایت کا مالک صرف اللہ ہے۔ جو شخص اس دعا کو پڑھتا ہے، وہ اپنے رب کے سامنے اپنی کمزوری کا اعتراف کرتا ہے اور اس کی رحمت کا طالب ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ایسے بندوں سے بہت محبت کرتا ہے اور انہیں اپنی خاص رحمت سے نوازتا ہے۔ یاد رکھیں، جو شخص اللہ سے جتنا زیادہ مانگتا ہے، اللہ اسے اتنا ہی زیادہ دیتا ہے، کیونکہ وہ "الوہاب" ہے، عطا کرنے والا، فیاض، اور کرم فرمانے والا۔
📜 آیت 6-10 — آل عمران
ترجمہ — آل عمران 8
سورہ آیت 8/200 — آل عمران آل عمران (مدنی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: آل عمران سنیں, آل عمران ترجمہ, آل عمران mp3, آل عمران pdf. آیت 6–10. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








