ترجمہ — Tafsir
﴿وَمَا كَانَ لِمُؤْمِنٍ أَن يَقْتُلَ مُؤْمِنًا إِلَّا خَطَأً﴾
معانی الفاظ:
- خَطَأً: غیر ارادی طور پر، بغیر قصد کے۔
- تَحْرِیرُ رَقَبَةٍ: کسی غلام یا لونڈی کو آزاد کرنا۔
- دِیَةٌ: وہ مال جو قتل کے بدلے میں مقتول کے وارثوں کو دیا جائے۔
- مُسَلَّمَةٌ: پوری طرح ادا کی گئی۔
- یَصَّدَّقُوا: صدقہ کریں، یعنی معاف کر دیں۔
- مِیثَاقٌ: عہد و پیمان، معاہدہ۔
- مُتَتَابِعَیْنِ: لگاتار، بغیر وقفے کے۔
تفسیر:
اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر بے پناہ رحم فرمانے والا ہے، چنانچہ اس آیت میں وہ اہل ایمان کو سکھاتا ہے کہ کسی مؤمن کے لیے ہرگز جائز نہیں کہ وہ کسی دوسرے مؤمن کو قتل کرے، سوائے اس صورت کے کہ یہ کام خطا اور غیر ارادی طور پر ہو جائے۔ یہ حکم اسلام کی عظمت اور مؤمن کے خون کی حرمت کو ظاہر کرتا ہے۔
پھر اللہ تعالیٰ بیان فرماتا ہے کہ اگر کوئی شخص کسی مؤمن کو خطا سے قتل کر بیٹھے، تو اس پر دو چیزیں واجب ہیں: ایک یہ کہ ایک مؤمن غلام یا لونڈی کو آزاد کرے، یہ اس کے گناہ کا کفارہ ہے۔ دوسرے یہ کہ مقتول کے وارثوں کو دیت (خون بہا) ادا کرے، تاکہ ان کے دکھ کا ازالہ ہو اور معاشرے میں انصاف قائم ہو۔ البتہ اگر وارث خود اس دیت کو معاف کر دیں اور صدقہ کر دیں، تو پھر یہ دیت ساقط ہو جاتی ہے۔ یہ اسلام کا حسن ہے کہ وہ معافی اور درگزر کی ترغیب دیتا ہے۔
پھر اللہ تعالیٰ مزید تفصیل بیان کرتا ہے: اگر مقتول مؤمن ہو لیکن اس کا تعلق کسی ایسی قوم سے ہو جو تم سے جنگ کر رہی ہو اور تمہارے دشمن ہوں، تو اس صورت میں صرف ایک مؤمن غلام آزاد کرنا کافی ہے، دیت نہیں ہے، کیونکہ اس کے وارث کافر اور محارب ہیں، انہیں دیت دینا مناسب نہیں۔
اور اگر مقتول کسی ایسی قوم سے تعلق رکھتا ہو جس کے ساتھ تمہارا معاہدہ اور عہد ہو (جیسے ذمی یا معاہد)، تو اس صورت میں دیت بھی ادا کی جائے گی اور مؤمن غلام بھی آزاد کیا جائے گا، کیونکہ عہد کی پاسداری کرنا اور اس کے تحت حقوق ادا کرنا ایمان کا تقاضا ہے۔
پھر اللہ تعالیٰ اپنی رحمت کا دروازہ کھولتا ہے: اگر کسی شخص کو غلام آزاد کرنے کی قدرت یا استطاعت نہ ہو، تو وہ دو مہینے کے لگاتار روزے رکھے، بغیر کسی وقفے کے۔ یہ اس کے لیے اللہ کی طرف سے توبہ کا ذریعہ ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر بوجھ نہیں ڈالتا، بلکہ ہر حال میں نجات کا راستہ نکالتا ہے۔
آخر میں فرمایا: "اور اللہ تعالیٰ سب کچھ جاننے والا، بڑا حکمت والا ہے" یعنی وہ اپنے بندوں کے اعمال اور نیتوں سے خوب واقف ہے، اور جو کچھ بھی اس نے حکم دیا ہے، حکمت اور مصلحت کے ساتھ دیا ہے۔
دعوتی پہلو:
یہ آیت ہمیں اسلام کی عظمت اور مؤمن کے خون کی حرمت کا سبق دیتی ہے۔ اسلام نے قتل کو سخت ترین گناہ قرار دیا ہے، حتیٰ کہ خطا سے قتل ہونے پر بھی کفارہ اور دیت کا حکم دیا تاکہ معاشرے میں امن و امان قائم رہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے معاشرے میں محبت، رحمت اور معافی کو فروغ دیں، اور کبھی کسی مؤمن کے ساتھ ناانصافی نہ کریں۔ اللہ تعالیٰ نے ہر مشکل میں آسانی رکھی ہے، لہٰذا ہمیں اس کی رحمت سے مایوس نہیں ہونا چاہیے، بلکہ ہمیشہ توبہ اور اصلاح کی راہ اپنانی چاہیے۔ یہ دینِ اسلام ہی ہے جو ہر حال میں انسان کی بھلائی اور نجات کا ضامن ہے۔
📜 آیت 90-94 — نساء
ترجمہ — نساء 92
سورہ نساء آیت 92 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : اور کسی مومن کو شایان نہیں کہ مومن کو مار…سورہ آیت 92/176 — نساء النساء (مدنی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: نساء سنیں, نساء ترجمہ, نساء mp3, نساء pdf. آیت 90–94. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








