Wa mai yaqtul mu`minammuta `ammidan fajazaaa`uhoo Jahannamu khaalidan feehaa wa ghadibal laahu` alaihi wa la`anahoo wa a`adda lahoo `azaaban `azeemaa
📖 ترجمہ (اردو ترجمہ)
📖 اردو ترجمہ
اور جو شخص مسلمان کو قصداً مار ڈالے گا تو اس کی سزا دوزخ ہے جس میں وہ ہمیشہ (جلتا) رہے گا اور خدا اس پر غضبناک ہوگا اور اس پر لعنت کرے گا اور ایسے شخص کے لئے اس نے بڑا (سخت) عذاب تیار کر رکھا ہے
🌐 Additional reference in فارسی
🌐 فارسی
و هر كس مؤمنى را به عمد بكشد، كيفر او جهنم است كه در آن همواره خواهد بود و خدا بر او خشم گيرد و لعنتش كند و برايش عذابى بزرگ آماده سازد.
اور جو شخص مسلمان کو قصداً مار ڈالے گا تو اس کی سزا دوزخ ہے جس میں وہ ہمیشہ (جلتا) رہے گا اور خدا اس پر غضبناک ہوگا اور اس پر لعنت کرے گا اور ایسے شخص کے لئے اس نے بڑا (سخت) عذاب تیار کر رکھا ہے
📜
ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
مُتَعَمِّدًا: جان بوجھ کر، قصداً، ارادہ کر کے۔
خَالِدًا: ہمیشہ رہنے والا۔
لَعَنَهُ: اسے اپنی رحمت سے دور کر دیا۔
أَعَدَّ: تیار کر رکھا ہے۔
تفسیرِ آیہ:
یہ آیتِ کریمہ ایک انتہائی سنگین جرم اور اس کی سخت سزا کا ذکر کرتی ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جو شخص کسی مؤمن کو جان بوجھ کر، قصداً اور ارادۃً قتل کرے، جبکہ اسے معلوم ہو کہ وہ شخص مؤمن ہے اور اس کا قتل ناحق ہے، تو اس کی سزا جہنم ہے۔ وہ اس میں ہمیشہ رہے گا۔ اللہ اس پر غضب نازل کرے گا اور اسے اپنی رحمت سے محروم کر دے گا۔ اس کے لیے اللہ نے بہت بڑا عذاب تیار کر رکھا ہے۔
یہ آیت اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ کسی مؤمن کا ناحق قتل کرنا کبیرہ گناہوں میں سے عظیم ترین گناہ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس جرم کی سزا جہنم اور اپنے غضب اور لعنت سے تعبیر فرمائی ہے۔ تاہم، یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ غفور و رحیم ہے۔ اگر قاتل توبہ کر لے، اپنے جرم پر نادم ہو، اور اللہ سے معافی مانگے، تو اللہ اسے معاف کر سکتا ہے، کیونکہ اللہ کی رحمت اس کے غضب سے وسیع ہے۔ لیکن یہ سزا اس صورت میں ہے جب وہ توبہ نہ کرے یا استحلال (حلال سمجھنے) کی بنیاد پر قتل کرے۔
دعوتی پہلو:
اس آیت سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ اسلام میں انسانی جان کی کتنی اہمیت ہے۔ ایک مؤمن کی جان اتنی مقدس ہے کہ اسے ناحق قتل کرنا گویا پوری انسانیت کو قتل کرنے کے برابر ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے معاشرے میں امن و سلامتی کو فروغ دیں، کسی پر ظلم نہ کریں، اور کسی کی جان کو ہرگز نقصان نہ پہنچائیں۔ اللہ تعالیٰ نے ہمیں یہ سکھایا ہے کہ ایک مسلمان دوسرے مسلمان کا بھائی ہے، اور بھائی کو قتل کرنا کبھی جائز نہیں۔ آئیے ہم اس آیت سے عبرت حاصل کریں اور اپنے دلوں کو رحمت، محبت اور شفقت سے بھریں، تاکہ ہم اللہ کے غضب سے بچیں اور اس کی رحمت کے مستحق بنیں۔
تم کچھ اور لوگ ایسے بھی پاؤ گے جو یہ چاہتے ہیں کہ تم سے بھی امن میں رہیں اور اپنی قوم سے بھی امن میں رہیں لیکن فتنہ انگیزی کو بلائے جائیں تو اس میں اوندھے منہ گر پڑیں تو ایسے لوگ اگر تم سے (لڑنے سے) کنارہ کشی نہ کریں اور نہ تمہاری طرف (پیغام) صلح بھیجیں اور نہ اپنے ہاتھوں کو روکیں تو ان کو پکڑ لو اور جہاں پاؤ قتل کردو ان لوگوں کے مقابلے میں ہم نے تمہارے لئے سند صریح مقرر کردی ہے
اور کسی مومن کو شایان نہیں کہ مومن کو مار ڈالے مگر بھول کر اور جو بھول کر بھی مومن کو مار ڈالے تو (ایک تو) ایک مسلمان غلام آزاد کردے اور (دوسرے) مقتول کے وارثوں کو خون بہا دے ہاں اگر وہ معاف کردیں (تو ان کو اختیار ہے) اگر مقتول تمہارے دشمنوں کی جماعت میں سے ہو اور وہ خود مومن ہو تو صرف ایک مسلمان غلام آزاد کرنا چاہیئے اور اگر مقتول ایسے لوگوں میں سے ہو جن میں اور تم میں صلح کا عہد ہو تو وارثان مقتول کو خون بہا دینا اور ایک مسلمان غلام آزاد کرنا چاہیئے اور جس کو یہ میسر نہ ہو وہ متواتر دو مہینے کے روزے رکھے یہ (کفارہ) خدا کی طرف سے (قبول) توبہ (کے لئے) ہے اور خدا (سب کچھ) جانتا اور بڑی حکمت والا ہے
اور جو شخص مسلمان کو قصداً مار ڈالے گا تو اس کی سزا دوزخ ہے جس میں وہ ہمیشہ (جلتا) رہے گا اور خدا اس پر غضبناک ہوگا اور اس پر لعنت کرے گا اور ایسے شخص کے لئے اس نے بڑا (سخت) عذاب تیار کر رکھا ہے
مومنو! جب تم خدا کی راہ میں باہر نکلو کرو تو تحقیق سے کام لیا کرو اور جو شخص تم سے سلام علیک کرے اس سے یہ نہ کہو کہ تم مومن نہیں اور اس سے تمہاری غرض یہ ہو کہ دنیا کی زندگی کا فائدہ حاصل کرو سو خدا کے نزدیک بہت سے غنیمتیں ہیں تم بھی تو پہلے ایسے ہی تھے پھر خدا نے تم پر احسان کیا تو (آئندہ) تحقیق کرلیا کرو اور جو عمل تم کرتے ہو خدا کو سب کی خبر ہے
جو مسلمان (گھروں میں) بیٹھ رہتے (اور لڑنے سے جی چراتے) ہیں اور کوئی عذر نہیں رکھتے وہ اور جو خدا کی راہ میں اپنے مال اور جان سے لڑتے ہیں وہ دونوں برابر نہیں ہو سکتے خدا نے مال اور جان سے جہاد کرنے والوں کو بیٹھ رہنے والوں پر درجے میں فضیلت بخشی ہے اور (گو) نیک وعدہ سب سے ہے لیکن اجر عظیم کے لحاظ سے خدا نے جہاد کرنے والوں کو بیٹھ رہنے والوں پر کہیں فضیلت بخشی ہے
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔