ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- حَرَج: تنگی، رکاوٹ، گناہ یا پریشانی۔
- أَعْمَى: نابینا، جس کی آنکھوں کی روشنی نہ ہو۔
- أَعْرَج: لنگڑا، جس کا ایک پاؤں یا دونوں پاؤں میں نقص ہو۔
- مَرِيض: بیمار، جو جسمانی بیماری میں مبتلا ہو۔
- مَا مَلَكْتُم مَّفَاتِحَهُ: وہ گھر جن کی چابیاں آپ کے پاس ہوں، یعنی جن کی نگرانی آپ کو سونپی گئی ہو۔
- صَدِيقِكُمْ: سچا دوست جو خلوص سے محبت کرے۔
- أَشْتَاتًا: الگ الگ، اکیلے اکیلے۔
- تَحِيَّةً: سلام، دعا یا بہتر انداز میں ملاقات کا کلمہ۔
تفسیر:
پیارے مسلمانو! یہ آیت مبارکہ ہمارے لیے بہت بڑی آسانیاں اور رحمتیں لے کر آئی ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں بتا رہا ہے کہ نابینا شخص پر کوئی گناہ نہیں، لنگڑے شخص پر کوئی گناہ نہیں، اور بیمار شخص پر کوئی گناہ نہیں اگر وہ ان کاموں میں شرکت نہ کر سکیں جن کے لیے صحت مند جسم، بینائی یا چلنے پھرنے کی صلاحیت ضروری ہوتی ہے، جیسے جہاد یا دوسری سخت ذمہ داریاں۔ یہ اللہ کا خاص کرم ہے کہ اس نے معذور اور بیمار لوگوں کو رعایت دی اور ان کے دلوں سے یہ اندیشہ دور کیا کہ کہیں وہ کوتاہی کے مرتکب نہ ہو جائیں۔
پھر اللہ تعالیٰ ایک اور آسانی بیان فرماتا ہے کہ اے ایمان والو! تم پر کوئی گناہ نہیں اگر تم اپنے گھروں سے کھاؤ، یا اپنے باپ کے گھر سے، یا اپنی ماں کے گھر سے، یا اپنے بھائی کے گھر سے، یا اپنی بہن کے گھر سے، یا اپنے چچا کے گھر سے، یا اپنی پھوپھی کے گھر سے، یا اپنے ماموں کے گھر سے، یا اپنی خالہ کے گھر سے، یا ان گھروں سے جن کی چابیاں تمہارے پاس امانت ہوں، یا اپنے سچے دوست کے گھر سے۔ اس میں اولاد کے گھر بھی شامل ہیں، کیونکہ اولاد کا گھر باپ کے لیے اپنا گھر ہے۔ یہ سب رعایتیں اس لیے دی گئیں تاکہ لوگوں کے دلوں میں تنگی اور جھجھک نہ رہے، اور رشتہ داریوں اور دوستیوں میں محبت اور آسانی پیدا ہو۔
اس کے بعد اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ تم پر کوئی گناہ نہیں اگر تم مل کر کھاؤ یا الگ الگ کھاؤ۔ یعنی کھانے کے لیے نہ تو جمع ہونا ضروری ہے اور نہ ہی الگ رہنا لازم، بلکہ جو صورت بھی آسان ہو وہ اختیار کرو۔ یہ اسلام کی وسعت اور آسانی ہے کہ اس نے ہر حال میں انسان کو راحت دی۔
پھر اللہ تعالیٰ ایک خوبصورت ہدایت دیتا ہے کہ جب تم کسی گھر میں داخل ہو تو اپنے لوگوں کو سلام کرو، یہ سلام اللہ کی طرف سے مقرر کردہ ایک بابرکت اور پاکیزہ تحفہ ہے۔ سلام کہنے کا مطلب ہے "السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ" کہنا، اور اگر گھر میں کوئی نہ ہو تو اپنے آپ کو سلام کرو، یعنی "السلام علینا وعلى عباد اللہ الصالحین" کہو۔ یہ سلام باہمی محبت، الفت اور اخوت کو بڑھاتا ہے، اور دلوں میں نرمی اور پیار پیدا کرتا ہے۔
آخر میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اسی طرح اللہ اپنی آیات اور احکام واضح طور پر بیان کرتا ہے تاکہ تم سمجھو اور اپنی زندگیوں میں ان پر عمل کرو۔
دعوتی پہلو:
اس آیت سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ اسلام دینِ آسانی ہے، دینِ رحمت ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ہر کمزور، بیمار، معذور اور ضرورت مند کا خیال رکھا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ اپنی زندگیوں میں بھی دوسروں کے لیے آسانیاں پیدا کریں، رشتہ داروں اور دوستوں کے ساتھ حسن سلوک کریں، اور سلام کو عام کریں کیونکہ سلام محبت کا ذریعہ ہے۔ یہی اسلام کی خوبصورتی ہے کہ یہ ہر حال میں انسان کو سکون اور راحت پہنچاتا ہے۔ آئیے ہم ان ہدایات پر عمل کریں اور اپنے معاشرے کو محبت، بھائی چارے اور آسانیوں کا گہوارہ بنائیں۔
📜 آیت 59-63 — نور
ترجمہ — نور 61
سورہ نور آیت 61 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : نہ تو اندھے پر کچھ گناہ ہے اور نہ لنگڑے…سورہ آیت 61/64 — نور النور (مدنی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: نور سنیں, نور ترجمہ, نور mp3, نور pdf. آیت 59–63. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








