نور · 61/64
ترجمہ تلفظ — نور
لَّيْسَ عَلَى الْأَعْمَىٰ حَرَجٌ وَلَا عَلَى الْأَعْرَجِ حَرَجٌ وَلَا عَلَى الْمَرِيضِ حَرَجٌ وَلَا عَلَىٰ أَنفُسِكُمْ أَن تَأْكُلُوا مِن بُيُوتِكُمْ أَوْ بُيُوتِ آبَائِكُمْ أَوْ بُيُوتِ أُمَّهَاتِكُمْ أَوْ بُيُوتِ إِخْوَانِكُمْ أَوْ بُيُوتِ أَخَوَاتِكُمْ أَوْ بُيُوتِ أَعْمَامِكُمْ أَوْ بُيُوتِ عَمَّاتِكُمْ أَوْ بُيُوتِ أَخْوَالِكُمْ أَوْ بُيُوتِ خَالَاتِكُمْ أَوْ مَا مَلَكْتُم مَّفَاتِحَهُ أَوْ صَدِيقِكُمْ ۚ لَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ أَن تَأْكُلُوا جَمِيعًا أَوْ أَشْتَاتًا ۚ فَإِذَا دَخَلْتُم بُيُوتًا فَسَلِّمُوا عَلَىٰ أَنفُسِكُمْ تَحِيَّةً مِّنْ عِندِ اللَّهِ مُبَارَكَةً طَيِّبَةً ۚ كَذَٰلِكَ يُبَيِّنُ اللَّهُ لَكُمُ الْآيَاتِ لَعَلَّكُمْ تَعْقِلُونَ ۝٦١
Laisa `alal a`maa barajunw wa laa `alal a`raji barajunw wa laa `alal mareedi barajun wa laa `alaa anfusikum an taakuloo mim buyootikum aw buyooti aabaaa`ikum aw buyooti ummahaatikum aw buyooti ikhwaanikum aw buyooti akhawaatikum aw buyooti a`maamikum aw buyooti `ammaatikum aw buyooti akhwaalikum aw buyooti khaalaatikum aw maa malaktum mafaatihahooo aw sadeeqikum; laisa `alaikum junaahun an taakuloo jamee`an aw ashtaata; fa izaa dakhaltum buyootan fasallimoo `alaaa anfusikum tahiyyatam min `indil laahi mubaarakatan taiyibah; kazaalika yubai yinul laahu lakumul Aayaati la`allakum ta`qiloon
📖 اردو ترجمہ
نہ تو اندھے پر کچھ گناہ ہے اور نہ لنگڑے پر اور نہ بیمار پر اور نہ خود تم پر کہ اپنے گھروں سے کھانا کھاؤ یا اپنے باپوں کے گھروں سے یا اپنی ماؤں کے گھروں سے یا بھائیوں کے گھروں سے یا اپنی بہنوں کے گھروں سے یا اپنے چچاؤں کے گھروں سے یا اپنی پھوپھیوں کے گھروں سے یا اپنے ماموؤں کے گھروں سے یا اپنی خالاؤں کے گھروں سے یا اس گھر سے جس کی کنجیاں تمہارے ہاتھ میں ہوں یا اپنے دوستوں کے گھروں سے (اور اس کا بھی) تم پر کچھ گناہ نہیں کہ سب مل کر کھانا کھاؤ یا جدا جدا۔ اور جب گھروں میں جایا کرو تو اپنے (گھر والوں کو) سلام کیا کرو۔ (یہ) خدا کی طرف سے مبارک اور پاکیزہ تحفہ ہے۔ اس طرح خدا اپنی آیتیں کھول کھول کر بیان فرماتا ہے تاکہ تم سمجھو
📜

ترجمہ — Tafsir

معانی الفاظ:

  • حَرَج: تنگی، رکاوٹ، گناہ یا پریشانی۔
  • أَعْمَى: نابینا، جس کی آنکھوں کی روشنی نہ ہو۔
  • أَعْرَج: لنگڑا، جس کا ایک پاؤں یا دونوں پاؤں میں نقص ہو۔
  • مَرِيض: بیمار، جو جسمانی بیماری میں مبتلا ہو۔
  • مَا مَلَكْتُم مَّفَاتِحَهُ: وہ گھر جن کی چابیاں آپ کے پاس ہوں، یعنی جن کی نگرانی آپ کو سونپی گئی ہو۔
  • صَدِيقِكُمْ: سچا دوست جو خلوص سے محبت کرے۔
  • أَشْتَاتًا: الگ الگ، اکیلے اکیلے۔
  • تَحِيَّةً: سلام، دعا یا بہتر انداز میں ملاقات کا کلمہ۔

تفسیر:

پیارے مسلمانو! یہ آیت مبارکہ ہمارے لیے بہت بڑی آسانیاں اور رحمتیں لے کر آئی ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں بتا رہا ہے کہ نابینا شخص پر کوئی گناہ نہیں، لنگڑے شخص پر کوئی گناہ نہیں، اور بیمار شخص پر کوئی گناہ نہیں اگر وہ ان کاموں میں شرکت نہ کر سکیں جن کے لیے صحت مند جسم، بینائی یا چلنے پھرنے کی صلاحیت ضروری ہوتی ہے، جیسے جہاد یا دوسری سخت ذمہ داریاں۔ یہ اللہ کا خاص کرم ہے کہ اس نے معذور اور بیمار لوگوں کو رعایت دی اور ان کے دلوں سے یہ اندیشہ دور کیا کہ کہیں وہ کوتاہی کے مرتکب نہ ہو جائیں۔

پھر اللہ تعالیٰ ایک اور آسانی بیان فرماتا ہے کہ اے ایمان والو! تم پر کوئی گناہ نہیں اگر تم اپنے گھروں سے کھاؤ، یا اپنے باپ کے گھر سے، یا اپنی ماں کے گھر سے، یا اپنے بھائی کے گھر سے، یا اپنی بہن کے گھر سے، یا اپنے چچا کے گھر سے، یا اپنی پھوپھی کے گھر سے، یا اپنے ماموں کے گھر سے، یا اپنی خالہ کے گھر سے، یا ان گھروں سے جن کی چابیاں تمہارے پاس امانت ہوں، یا اپنے سچے دوست کے گھر سے۔ اس میں اولاد کے گھر بھی شامل ہیں، کیونکہ اولاد کا گھر باپ کے لیے اپنا گھر ہے۔ یہ سب رعایتیں اس لیے دی گئیں تاکہ لوگوں کے دلوں میں تنگی اور جھجھک نہ رہے، اور رشتہ داریوں اور دوستیوں میں محبت اور آسانی پیدا ہو۔

اس کے بعد اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ تم پر کوئی گناہ نہیں اگر تم مل کر کھاؤ یا الگ الگ کھاؤ۔ یعنی کھانے کے لیے نہ تو جمع ہونا ضروری ہے اور نہ ہی الگ رہنا لازم، بلکہ جو صورت بھی آسان ہو وہ اختیار کرو۔ یہ اسلام کی وسعت اور آسانی ہے کہ اس نے ہر حال میں انسان کو راحت دی۔

پھر اللہ تعالیٰ ایک خوبصورت ہدایت دیتا ہے کہ جب تم کسی گھر میں داخل ہو تو اپنے لوگوں کو سلام کرو، یہ سلام اللہ کی طرف سے مقرر کردہ ایک بابرکت اور پاکیزہ تحفہ ہے۔ سلام کہنے کا مطلب ہے "السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ" کہنا، اور اگر گھر میں کوئی نہ ہو تو اپنے آپ کو سلام کرو، یعنی "السلام علینا وعلى عباد اللہ الصالحین" کہو۔ یہ سلام باہمی محبت، الفت اور اخوت کو بڑھاتا ہے، اور دلوں میں نرمی اور پیار پیدا کرتا ہے۔

آخر میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اسی طرح اللہ اپنی آیات اور احکام واضح طور پر بیان کرتا ہے تاکہ تم سمجھو اور اپنی زندگیوں میں ان پر عمل کرو۔

دعوتی پہلو:

اس آیت سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ اسلام دینِ آسانی ہے، دینِ رحمت ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ہر کمزور، بیمار، معذور اور ضرورت مند کا خیال رکھا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ اپنی زندگیوں میں بھی دوسروں کے لیے آسانیاں پیدا کریں، رشتہ داروں اور دوستوں کے ساتھ حسن سلوک کریں، اور سلام کو عام کریں کیونکہ سلام محبت کا ذریعہ ہے۔ یہی اسلام کی خوبصورتی ہے کہ یہ ہر حال میں انسان کو سکون اور راحت پہنچاتا ہے۔ آئیے ہم ان ہدایات پر عمل کریں اور اپنے معاشرے کو محبت، بھائی چارے اور آسانیوں کا گہوارہ بنائیں۔

🎧 سنیں

📜 آیت 59-63 — نور

59وَإِذَا بَلَغَ الْأَطْفَالُ مِنكُمُ الْحُلُمَ فَلْيَسْتَأْذِنُوا كَمَا اسْتَأْذَنَ الَّذِينَ مِن قَبْلِهِمْ ۚ كَذَٰلِكَ يُبَيِّنُ اللَّهُ لَكُمْ آيَاتِهِ ۗ وَاللَّهُ عَلِيمٌ حَكِيمٌ
اور جب تمہارے لڑکے بالغ ہوجائیں تو ان کو بھی اسی طرح اجازت لینی چاہیئے جس طرح ان سے اگلے (یعنی بڑے آدمی) اجازت حاصل کرتے رہے ہیں۔ اس طرح خدا تم سے اپنی آیتیں کھول کھول کر سناتا ہے۔ اور خدا جاننے والا اور حکمت والا ہے
60وَالْقَوَاعِدُ مِنَ النِّسَاءِ اللَّاتِي لَا يَرْجُونَ نِكَاحًا فَلَيْسَ عَلَيْهِنَّ جُنَاحٌ أَن يَضَعْنَ ثِيَابَهُنَّ غَيْرَ مُتَبَرِّجَاتٍ بِزِينَةٍ ۖ وَأَن يَسْتَعْفِفْنَ خَيْرٌ لَّهُنَّ ۗ وَاللَّهُ سَمِيعٌ عَلِيمٌ
اور بڑی عمر کی عورتیں جن کو نکاح کی توقع نہیں رہی، اور وہ کپڑے اتار کر سر ننگا کرلیا کریں تو ان پر کچھ گناہ نہیں بشرطیکہ اپنی زینت کی چیزیں نہ ظاہر کریں۔ اور اس سے بھی بچیں تو یہ ان کے حق میں بہتر ہے۔ اور خدا سنتا اور جانتا ہے
61لَّيْسَ عَلَى الْأَعْمَىٰ حَرَجٌ وَلَا عَلَى الْأَعْرَجِ حَرَجٌ وَلَا عَلَى الْمَرِيضِ حَرَجٌ وَلَا عَلَىٰ أَنفُسِكُمْ أَن تَأْكُلُوا مِن بُيُوتِكُمْ أَوْ بُيُوتِ آبَائِكُمْ أَوْ بُيُوتِ أُمَّهَاتِكُمْ أَوْ بُيُوتِ إِخْوَانِكُمْ أَوْ بُيُوتِ أَخَوَاتِكُمْ أَوْ بُيُوتِ أَعْمَامِكُمْ أَوْ بُيُوتِ عَمَّاتِكُمْ أَوْ بُيُوتِ أَخْوَالِكُمْ أَوْ بُيُوتِ خَالَاتِكُمْ أَوْ مَا مَلَكْتُم مَّفَاتِحَهُ أَوْ صَدِيقِكُمْ ۚ لَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ أَن تَأْكُلُوا جَمِيعًا أَوْ أَشْتَاتًا ۚ فَإِذَا دَخَلْتُم بُيُوتًا فَسَلِّمُوا عَلَىٰ أَنفُسِكُمْ تَحِيَّةً مِّنْ عِندِ اللَّهِ مُبَارَكَةً طَيِّبَةً ۚ كَذَٰلِكَ يُبَيِّنُ اللَّهُ لَكُمُ الْآيَاتِ لَعَلَّكُمْ تَعْقِلُونَ
نہ تو اندھے پر کچھ گناہ ہے اور نہ لنگڑے پر اور نہ بیمار پر اور نہ خود تم پر کہ اپنے گھروں سے کھانا کھاؤ یا اپنے باپوں کے گھروں سے یا اپنی ماؤں کے گھروں سے یا بھائیوں کے گھروں سے یا اپنی بہنوں کے گھروں سے یا اپنے چچاؤں کے گھروں سے یا اپنی پھوپھیوں کے گھروں سے یا اپنے ماموؤں کے گھروں سے یا اپنی خالاؤں کے گھروں سے یا اس گھر سے جس کی کنجیاں تمہارے ہاتھ میں ہوں یا اپنے دوستوں کے گھروں سے (اور اس کا بھی) تم پر کچھ گناہ نہیں کہ سب مل کر کھانا کھاؤ یا جدا جدا۔ اور جب گھروں میں جایا کرو تو اپنے (گھر والوں کو) سلام کیا کرو۔ (یہ) خدا کی طرف سے مبارک اور پاکیزہ تحفہ ہے۔ اس طرح خدا اپنی آیتیں کھول کھول کر بیان فرماتا ہے تاکہ تم سمجھو
62إِنَّمَا الْمُؤْمِنُونَ الَّذِينَ آمَنُوا بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ وَإِذَا كَانُوا مَعَهُ عَلَىٰ أَمْرٍ جَامِعٍ لَّمْ يَذْهَبُوا حَتَّىٰ يَسْتَأْذِنُوهُ ۚ إِنَّ الَّذِينَ يَسْتَأْذِنُونَكَ أُولَٰئِكَ الَّذِينَ يُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ ۚ فَإِذَا اسْتَأْذَنُوكَ لِبَعْضِ شَأْنِهِمْ فَأْذَن لِّمَن شِئْتَ مِنْهُمْ وَاسْتَغْفِرْ لَهُمُ اللَّهَ ۚ إِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَّحِيمٌ
مومن تو وہ ہیں جو خدا پر اور اس کے رسول پر ایمان لائے اور جب کبھی ایسے کام کے لئے جو جمع ہو کر کرنے کا ہو پیغمبر خدا کے پاس جمع ہوں تو ان سے اجازت لئے بغیر چلے نہیں جاتے۔ اے پیغمبر جو لوگ تم سے اجازت حاصل کرتے ہیں وہی خدا پر اور اس کے رسول پر ایمان رکھتے ہیں۔ سو جب یہ لوگ تم سے کسی کام کے لئے اجازت مانگا کریں تو ان میں سے جسے چاہا کرو اجازت دے دیا کرو اور ان کے لئے خدا سے بخششیں مانگا کرو۔ کچھ شک نہیں کہ خدا بخشنے والا مہربان ہے
63لَّا تَجْعَلُوا دُعَاءَ الرَّسُولِ بَيْنَكُمْ كَدُعَاءِ بَعْضِكُم بَعْضًا ۚ قَدْ يَعْلَمُ اللَّهُ الَّذِينَ يَتَسَلَّلُونَ مِنكُمْ لِوَاذًا ۚ فَلْيَحْذَرِ الَّذِينَ يُخَالِفُونَ عَنْ أَمْرِهِ أَن تُصِيبَهُمْ فِتْنَةٌ أَوْ يُصِيبَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ
مومنو پیغمبر کے بلانے کو ایسا خیال نہ کرنا جیسا تم آپس میں ایک دوسرے کو بلاتے ہو۔ بےشک خدا کو یہ لوگ معلوم ہیں جو تم میں سے آنکھ بچا کر چل دیتے ہیں تو جو لوگ ان کے حکم کی مخالفت کرتے ہیں ان کو ڈرنا چاہیئے کہ (ایسا نہ ہو کہ) ان پر کوئی آفت پڑ جائے یا تکلیف دینے والا عذاب نازل ہو
نورقرآن فہرست
64آیت
مدنیRevelation
61آیت

ترجمہ — نور 61

سورہ نور آیت 61 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : نہ تو اندھے پر کچھ گناہ ہے اور نہ لنگڑے…

سورہ آیت 61/64 — نور النور (مدنی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: نور سنیں, نور ترجمہ, نور mp3, نور pdf. آیت 59–63. اردو ترجمہ: فارسی.




قرآن کریم


Tuesday, August 18, 2026

اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں