Walqawaa`idu minan nisaaa`il laatee laa yarjoona nikaahan falisa `alaihinna junaahun ai yada`na siyaabahunna ghaira mutabar rijaatim bizeenah; wa ai yasta`fifna khairul lahunn; wallaahu Samee`un `Aleem
📖 ترجمہ (اردو ترجمہ)
📖 اردو ترجمہ
اور بڑی عمر کی عورتیں جن کو نکاح کی توقع نہیں رہی، اور وہ کپڑے اتار کر سر ننگا کرلیا کریں تو ان پر کچھ گناہ نہیں بشرطیکہ اپنی زینت کی چیزیں نہ ظاہر کریں۔ اور اس سے بھی بچیں تو یہ ان کے حق میں بہتر ہے۔ اور خدا سنتا اور جانتا ہے
🌐 Additional reference in فارسی
🌐 فارسی
پيرزنان كه ديگر اميد شوىكردنشان نيست، بىآنكه زينتهاى خود را آشكار كنند، اگر چادر خويش بنهند مرتكب گناهى نشدهاند. و خوددارىكردن برايشان بهتر است و خدا شنوا و داناست.
الْقَوَاعِدُ: وہ عورتیں جو بڑھاپے کی وجہ سے حیض اور حمل سے فارغ ہو چکی ہوں۔
لَا يَرْجُونَ نِكَاحًا: جنہیں نکاح کی امید نہ ہو، یعنی نہ وہ خود شادی کی خواہش رکھتی ہیں اور نہ ان سے کوئی شادی کی توقع رکھتا ہے۔
يَضَعْنَ ثِيَابَهُنَّ: اپنی اوپر کی چادریں یا پردے والے کپڑے اتار دیں۔
غَيْرَ مُتَبَرِّجَاتٍ بِزِينَةٍ: اس طرح نہ ہو کہ وہ اپنی زینت اور آرائش ظاہر کرتی ہوں۔
يَسْتَعْفِفْنَ: پردے اور ستر کو برقرار رکھیں۔
تفسیر:
اللہ تعالیٰ اس آیت میں ان بزرگ خواتین کے لیے آسانی کا حکم بیان فرما رہے ہیں جو بڑھاپے کی وجہ سے اس عمر کو پہنچ چکی ہیں کہ انہیں نہ خود نکاح کی خواہش رہتی ہے اور نہ کوئی ان سے نکاح کی امید رکھتا ہے۔ ایسی خواتین کے لیے یہ اجازت ہے کہ وہ اپنی اوپر والی چادر یا نقاب اتار دیں، البتہ یہ اجازت اس شرط کے ساتھ ہے کہ وہ اپنی زینت اور آرائش ظاہر نہ کریں۔ یعنی وہ اپنے جسم کے وہ حصے نہ دکھائیں جنہیں چھپانا ضروری ہے، اور نہ ہی وہ زیب و زینت کا اظہار کریں۔
لیکن اس کے ساتھ ہی اللہ تعالیٰ یہ بھی فرماتے ہیں کہ اگر یہ بزرگ خواتین اس اجازت سے فائدہ نہ اٹھائیں اور پردے کو ہی برقرار رکھیں، یعنی اپنی چادریں نہ اتاریں، تو یہ ان کے لیے بہتر ہے۔ کیونکہ اس میں ان کی عزت اور حفاظت زیادہ ہے، اور یہ ان کے لیے باعثِ برکت ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ وہ سب کچھ سننے والا اور جاننے والا ہے۔ وہ جانتا ہے کہ عورتیں کس نیت سے پردہ کرتی ہیں یا نہیں کرتی ہیں، اور وہ ان کے دلوں کے رازوں سے بھی واقف ہے۔
دعوتی پہلو:
اس آیت سے ہمیں اسلام کا وہ حسین پہلو نظر آتا ہے جو عورتوں کے ساتھ نرمی اور آسانی کا تقاضا کرتا ہے۔ اسلام نے بزرگ خواتین کو یہ رعایت دی ہے کہ وہ اپنی عمر اور حالت کے لحاظ سے آسانی اختیار کر سکتی ہیں، لیکن ساتھ ہی یہ بھی سکھایا کہ پردہ اور ستر ہر حال میں بہتر ہے۔ یہ اسلام کا وہ حسن ہے جو ہر عمر اور ہر حالت کے لیے مناسب راہ نکالتا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنی بہنوں، بیٹیوں اور ماؤں کو پردے کی تلقین کریں، کیونکہ پردہ ان کی عزت اور حفاظت کا ذریعہ ہے، اور اللہ تعالیٰ ہر عمل کا بدلہ دینے والا ہے۔
اور بڑی عمر کی عورتیں جن کو نکاح کی توقع نہیں رہی، اور وہ کپڑے اتار کر سر ننگا کرلیا کریں تو ان پر کچھ گناہ نہیں بشرطیکہ اپنی زینت کی چیزیں نہ ظاہر کریں۔ اور اس سے بھی بچیں تو یہ ان کے حق میں بہتر ہے۔ اور خدا سنتا اور جانتا ہے
مومنو! تمہارے غلام لونڈیاں اور جو بچّے تم میں سے بلوغ کو نہیں پہنچے تین دفعہ یعنی (تین اوقات میں) تم سے اجازت لیا کریں۔ (ایک تو) نماز صبح سے پہلے اور (دوسرے گرمی کی دوپہر کو) جب تم کپڑے اتار دیتے ہو۔ اور تیسرے عشاء کی نماز کے بعد۔ (یہ) تین (وقت) تمہارے پردے (کے) ہیں ان کے (آگے) پیچھے (یعنی دوسرے وقتوں میں) نہ تم پر کچھ گناہ ہے اور نہ ان پر۔ کہ کام کاج کے لئے ایک دوسرے کے پاس آتے رہتے ہو۔ اس طرح خدا اپنی آیتیں تم سے کھول کھول کر بیان فرماتا ہے اور خدا بڑا علم والا اور بڑا حکمت والا ہے
اور جب تمہارے لڑکے بالغ ہوجائیں تو ان کو بھی اسی طرح اجازت لینی چاہیئے جس طرح ان سے اگلے (یعنی بڑے آدمی) اجازت حاصل کرتے رہے ہیں۔ اس طرح خدا تم سے اپنی آیتیں کھول کھول کر سناتا ہے۔ اور خدا جاننے والا اور حکمت والا ہے
اور بڑی عمر کی عورتیں جن کو نکاح کی توقع نہیں رہی، اور وہ کپڑے اتار کر سر ننگا کرلیا کریں تو ان پر کچھ گناہ نہیں بشرطیکہ اپنی زینت کی چیزیں نہ ظاہر کریں۔ اور اس سے بھی بچیں تو یہ ان کے حق میں بہتر ہے۔ اور خدا سنتا اور جانتا ہے
نہ تو اندھے پر کچھ گناہ ہے اور نہ لنگڑے پر اور نہ بیمار پر اور نہ خود تم پر کہ اپنے گھروں سے کھانا کھاؤ یا اپنے باپوں کے گھروں سے یا اپنی ماؤں کے گھروں سے یا بھائیوں کے گھروں سے یا اپنی بہنوں کے گھروں سے یا اپنے چچاؤں کے گھروں سے یا اپنی پھوپھیوں کے گھروں سے یا اپنے ماموؤں کے گھروں سے یا اپنی خالاؤں کے گھروں سے یا اس گھر سے جس کی کنجیاں تمہارے ہاتھ میں ہوں یا اپنے دوستوں کے گھروں سے (اور اس کا بھی) تم پر کچھ گناہ نہیں کہ سب مل کر کھانا کھاؤ یا جدا جدا۔ اور جب گھروں میں جایا کرو تو اپنے (گھر والوں کو) سلام کیا کرو۔ (یہ) خدا کی طرف سے مبارک اور پاکیزہ تحفہ ہے۔ اس طرح خدا اپنی آیتیں کھول کھول کر بیان فرماتا ہے تاکہ تم سمجھو
مومن تو وہ ہیں جو خدا پر اور اس کے رسول پر ایمان لائے اور جب کبھی ایسے کام کے لئے جو جمع ہو کر کرنے کا ہو پیغمبر خدا کے پاس جمع ہوں تو ان سے اجازت لئے بغیر چلے نہیں جاتے۔ اے پیغمبر جو لوگ تم سے اجازت حاصل کرتے ہیں وہی خدا پر اور اس کے رسول پر ایمان رکھتے ہیں۔ سو جب یہ لوگ تم سے کسی کام کے لئے اجازت مانگا کریں تو ان میں سے جسے چاہا کرو اجازت دے دیا کرو اور ان کے لئے خدا سے بخششیں مانگا کرو۔ کچھ شک نہیں کہ خدا بخشنے والا مہربان ہے
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔