نور · 62/64
ترجمہ تلفظ — نور
إِنَّمَا الْمُؤْمِنُونَ الَّذِينَ آمَنُوا بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ وَإِذَا كَانُوا مَعَهُ عَلَىٰ أَمْرٍ جَامِعٍ لَّمْ يَذْهَبُوا حَتَّىٰ يَسْتَأْذِنُوهُ ۚ إِنَّ الَّذِينَ يَسْتَأْذِنُونَكَ أُولَٰئِكَ الَّذِينَ يُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ ۚ فَإِذَا اسْتَأْذَنُوكَ لِبَعْضِ شَأْنِهِمْ فَأْذَن لِّمَن شِئْتَ مِنْهُمْ وَاسْتَغْفِرْ لَهُمُ اللَّهَ ۚ إِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَّحِيمٌ ۝٦٢
Innamal mu`minoonal lazeena aamanoo billaahi wa Rasoolihee wa izaa kaanoo ma`ahoo `alaaa amrin jaami`il lam yazhaboo hataa yastaazinooh; innal lazeena yastaa zinookana ulaaa`ikal lazeena yu`minoona billaahi wa Rasoolih; fa izas taazanooka liba`di shaanihim faazal liman shi`ta minhum wastaghfir lahumul laah; innal laaha Gahfoor Raheem
📖 اردو ترجمہ
مومن تو وہ ہیں جو خدا پر اور اس کے رسول پر ایمان لائے اور جب کبھی ایسے کام کے لئے جو جمع ہو کر کرنے کا ہو پیغمبر خدا کے پاس جمع ہوں تو ان سے اجازت لئے بغیر چلے نہیں جاتے۔ اے پیغمبر جو لوگ تم سے اجازت حاصل کرتے ہیں وہی خدا پر اور اس کے رسول پر ایمان رکھتے ہیں۔ سو جب یہ لوگ تم سے کسی کام کے لئے اجازت مانگا کریں تو ان میں سے جسے چاہا کرو اجازت دے دیا کرو اور ان کے لئے خدا سے بخششیں مانگا کرو۔ کچھ شک نہیں کہ خدا بخشنے والا مہربان ہے
📜

ترجمہ — Tafsir

معانی الفاظ:

  • أمرٍ جامعٍ: ایسا معاملہ جس میں مسلمانوں کی اجتماعی مصلحت ہو، جیسے جہاد، نمازِ جمعہ، عیدین، یا کوئی اہم مشورہ۔
  • يستأذنوه: اس سے (نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے) اجازت طلب کریں۔
  • شأنهم: ان کا کوئی ذاتی کام یا ضرورت۔

تفسیر:

یہ آیت کریمہ مومنین کی حقیقی پہچان بیان فرماتی ہے۔ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے کہ حقیقی ایمان والے وہی ہیں جو اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر سچے دل سے ایمان لائے، اور جب وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کسی اجتماعی معاملے میں موجود ہوں — خواہ وہ جہاد ہو، نمازِ جمعہ ہو، عید ہو، یا کوئی اور اہم مشورہ جس میں مسلمانوں کی بھلائی وابستہ ہو — تو وہ بغیر اجازت کے وہاں سے نہیں جاتے۔ یہ ادبِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا تقاضا ہے کہ جب تک آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت نہ لیں، وہ مجلس سے الگ نہ ہوں۔

پھر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جو لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت لے کر جاتے ہیں، یہی وہ لوگ ہیں جو حقیقت میں اللہ اور اس کے رسول پر ایمان رکھتے ہیں۔ اجازت طلب کرنا ان کے ایمان کی دلیل ہے، کیونکہ جو شخص بغیر اجازت چلا جاتا ہے وہ اس ادب سے محروم ہے جو ایمان کا تقاضا ہے۔

اس کے بعد اللہ تعالیٰ اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ہدایت دیتا ہے کہ جب یہ مومن آپ سے اپنی کسی ذاتی ضرورت کے لیے اجازت مانگیں، تو آپ جسے چاہیں اجازت دے دیں، کیونکہ آپ کو یہ اختیار حاصل ہے۔ اور ساتھ ہی آپ ان کے لیے اللہ سے مغفرت کی دعا کریں، کیونکہ وہ آپ کی مجلس سے الگ ہو کر جاتے ہیں تو انہیں آپ کی صحبت کا ثواب کم حاصل ہوگا۔ اللہ تعالیٰ غفور و رحیم ہے، وہ اپنے توبہ کرنے والے بندوں کے گناہ معاف فرما دیتا ہے اور ان پر رحم فرماتا ہے۔

دعوتی پہلو:

اس آیت سے ہمیں بہت خوبصورت سبق ملتا ہے کہ ایمان صرف زبان کا اقرار نہیں بلکہ عملی ادب اور اطاعت کا نام ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس کا ادب، آپ کے حکم کی تعمیل، اور اجتماعی معاملات میں ذمہ داری کا احساس — یہ سب ایمان کے تقاضے ہیں۔ آج ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے دلوں میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت اور ادب کو زندہ کریں، کیونکہ یہی ہماری کامیابی کا راستہ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اجازت لینے والوں کو ایمان والوں میں شمار کیا، تو ہمیں بھی چاہیے کہ ہر معاملے میں ادب اور شرعی آداب کا خیال رکھیں، تاکہ ہم بھی انہیں مومنین میں شامل ہو سکیں۔ اللہ ہمیں سچا ایمان اور ادبِ رسول عطا فرمائے۔ آمین۔

🎧 سنیں

📜 آیت 60-64 — نور

60وَالْقَوَاعِدُ مِنَ النِّسَاءِ اللَّاتِي لَا يَرْجُونَ نِكَاحًا فَلَيْسَ عَلَيْهِنَّ جُنَاحٌ أَن يَضَعْنَ ثِيَابَهُنَّ غَيْرَ مُتَبَرِّجَاتٍ بِزِينَةٍ ۖ وَأَن يَسْتَعْفِفْنَ خَيْرٌ لَّهُنَّ ۗ وَاللَّهُ سَمِيعٌ عَلِيمٌ
اور بڑی عمر کی عورتیں جن کو نکاح کی توقع نہیں رہی، اور وہ کپڑے اتار کر سر ننگا کرلیا کریں تو ان پر کچھ گناہ نہیں بشرطیکہ اپنی زینت کی چیزیں نہ ظاہر کریں۔ اور اس سے بھی بچیں تو یہ ان کے حق میں بہتر ہے۔ اور خدا سنتا اور جانتا ہے
61لَّيْسَ عَلَى الْأَعْمَىٰ حَرَجٌ وَلَا عَلَى الْأَعْرَجِ حَرَجٌ وَلَا عَلَى الْمَرِيضِ حَرَجٌ وَلَا عَلَىٰ أَنفُسِكُمْ أَن تَأْكُلُوا مِن بُيُوتِكُمْ أَوْ بُيُوتِ آبَائِكُمْ أَوْ بُيُوتِ أُمَّهَاتِكُمْ أَوْ بُيُوتِ إِخْوَانِكُمْ أَوْ بُيُوتِ أَخَوَاتِكُمْ أَوْ بُيُوتِ أَعْمَامِكُمْ أَوْ بُيُوتِ عَمَّاتِكُمْ أَوْ بُيُوتِ أَخْوَالِكُمْ أَوْ بُيُوتِ خَالَاتِكُمْ أَوْ مَا مَلَكْتُم مَّفَاتِحَهُ أَوْ صَدِيقِكُمْ ۚ لَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ أَن تَأْكُلُوا جَمِيعًا أَوْ أَشْتَاتًا ۚ فَإِذَا دَخَلْتُم بُيُوتًا فَسَلِّمُوا عَلَىٰ أَنفُسِكُمْ تَحِيَّةً مِّنْ عِندِ اللَّهِ مُبَارَكَةً طَيِّبَةً ۚ كَذَٰلِكَ يُبَيِّنُ اللَّهُ لَكُمُ الْآيَاتِ لَعَلَّكُمْ تَعْقِلُونَ
نہ تو اندھے پر کچھ گناہ ہے اور نہ لنگڑے پر اور نہ بیمار پر اور نہ خود تم پر کہ اپنے گھروں سے کھانا کھاؤ یا اپنے باپوں کے گھروں سے یا اپنی ماؤں کے گھروں سے یا بھائیوں کے گھروں سے یا اپنی بہنوں کے گھروں سے یا اپنے چچاؤں کے گھروں سے یا اپنی پھوپھیوں کے گھروں سے یا اپنے ماموؤں کے گھروں سے یا اپنی خالاؤں کے گھروں سے یا اس گھر سے جس کی کنجیاں تمہارے ہاتھ میں ہوں یا اپنے دوستوں کے گھروں سے (اور اس کا بھی) تم پر کچھ گناہ نہیں کہ سب مل کر کھانا کھاؤ یا جدا جدا۔ اور جب گھروں میں جایا کرو تو اپنے (گھر والوں کو) سلام کیا کرو۔ (یہ) خدا کی طرف سے مبارک اور پاکیزہ تحفہ ہے۔ اس طرح خدا اپنی آیتیں کھول کھول کر بیان فرماتا ہے تاکہ تم سمجھو
62إِنَّمَا الْمُؤْمِنُونَ الَّذِينَ آمَنُوا بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ وَإِذَا كَانُوا مَعَهُ عَلَىٰ أَمْرٍ جَامِعٍ لَّمْ يَذْهَبُوا حَتَّىٰ يَسْتَأْذِنُوهُ ۚ إِنَّ الَّذِينَ يَسْتَأْذِنُونَكَ أُولَٰئِكَ الَّذِينَ يُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ ۚ فَإِذَا اسْتَأْذَنُوكَ لِبَعْضِ شَأْنِهِمْ فَأْذَن لِّمَن شِئْتَ مِنْهُمْ وَاسْتَغْفِرْ لَهُمُ اللَّهَ ۚ إِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَّحِيمٌ
مومن تو وہ ہیں جو خدا پر اور اس کے رسول پر ایمان لائے اور جب کبھی ایسے کام کے لئے جو جمع ہو کر کرنے کا ہو پیغمبر خدا کے پاس جمع ہوں تو ان سے اجازت لئے بغیر چلے نہیں جاتے۔ اے پیغمبر جو لوگ تم سے اجازت حاصل کرتے ہیں وہی خدا پر اور اس کے رسول پر ایمان رکھتے ہیں۔ سو جب یہ لوگ تم سے کسی کام کے لئے اجازت مانگا کریں تو ان میں سے جسے چاہا کرو اجازت دے دیا کرو اور ان کے لئے خدا سے بخششیں مانگا کرو۔ کچھ شک نہیں کہ خدا بخشنے والا مہربان ہے
63لَّا تَجْعَلُوا دُعَاءَ الرَّسُولِ بَيْنَكُمْ كَدُعَاءِ بَعْضِكُم بَعْضًا ۚ قَدْ يَعْلَمُ اللَّهُ الَّذِينَ يَتَسَلَّلُونَ مِنكُمْ لِوَاذًا ۚ فَلْيَحْذَرِ الَّذِينَ يُخَالِفُونَ عَنْ أَمْرِهِ أَن تُصِيبَهُمْ فِتْنَةٌ أَوْ يُصِيبَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ
مومنو پیغمبر کے بلانے کو ایسا خیال نہ کرنا جیسا تم آپس میں ایک دوسرے کو بلاتے ہو۔ بےشک خدا کو یہ لوگ معلوم ہیں جو تم میں سے آنکھ بچا کر چل دیتے ہیں تو جو لوگ ان کے حکم کی مخالفت کرتے ہیں ان کو ڈرنا چاہیئے کہ (ایسا نہ ہو کہ) ان پر کوئی آفت پڑ جائے یا تکلیف دینے والا عذاب نازل ہو
64أَلَا إِنَّ لِلَّهِ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ ۖ قَدْ يَعْلَمُ مَا أَنتُمْ عَلَيْهِ وَيَوْمَ يُرْجَعُونَ إِلَيْهِ فَيُنَبِّئُهُم بِمَا عَمِلُوا ۗ وَاللَّهُ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمٌ
دیکھو جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے سب خدا ہی کا ہے۔ جس (طریق) پر تم ہو وہ اسے جانتا ہے۔ اور جس روز لوگ اس کی طرف لوٹائے جائیں گے تو جو لوگ عمل کرتے رہے وہ ان کو بتا دے گا۔ اور خدا ہر چیز پر قادر ہے۔
نورقرآن فہرست
64آیت
مدنیRevelation
62آیت

ترجمہ — نور 62

سورہ نور آیت 62 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : مومن تو وہ ہیں جو خدا پر اور اس کے…

سورہ آیت 62/64 — نور النور (مدنی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: نور سنیں, نور ترجمہ, نور mp3, نور pdf. آیت 60–64. اردو ترجمہ: فارسی.




قرآن کریم


Tuesday, August 18, 2026

اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں