لوگ یتیموں کا مال ناجائز طور پر کھاتے ہیں وہ اپنے پیٹ میں آگ بھرتے ہیں۔ اور دوزخ میں ڈالے جائیں گے
📜
ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
يَأْكُلُونَ أَمْوَالَ الْيَتَامَىٰ ظُلْمًا: یتیموں کے مال کو ناحق اور ظلم کے ساتھ کھانا، یعنی ان کے مال کو غصب کرنا یا ناجائز طریقے سے استعمال کرنا۔
فِي بُطُونِهِمْ نَارًا: ان کے پیٹوں میں آگ بھرنا، یعنی جو مال وہ کھاتے ہیں وہ حقیقت میں آگ ہے جو ان کے پیٹ میں جائے گی۔
وَسَيَصْلَوْنَ سَعِيرًا: وہ عنقریب بھڑکتی ہوئی آگ میں داخل ہوں گے اور اس کی شدید گرمی کا مزہ چکھیں گے۔
تفسیر:
یہ آیت کریمہ ان لوگوں کے بارے میں نازل ہوئی جو یتیموں کے مال پر ظلم کرتے ہیں، یعنی ان کے مال کو ناحق کھاتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جو لوگ یتیموں کے مال کو ظلم اور زیادتی کے ساتھ کھاتے ہیں، وہ درحقیقت اپنے پیٹوں میں آگ بھر رہے ہیں۔ یہ ایک انتہائی سخت تنبیہ ہے کہ یہ مال اگرچہ دنیا میں انہیں لذیذ اور مفید معلوم ہوتا ہے، لیکن حقیقت میں یہ آگ ہے جو قیامت کے دن ان کے پیٹوں میں بھڑکے گی۔
یہاں اللہ تعالیٰ نے ایک عظیم حقیقت کو واضح کیا ہے کہ حرام مال کھانے والا شخص دنیا میں بھلے ہی مطمئن نظر آئے، لیکن آخرت میں اس کا انجام بہت برا ہوگا۔ وہ اس آگ میں داخل ہوگا جو سعیر (بھڑکتی ہوئی آگ) کہلاتی ہے، اور اس کی شدید گرمی اور عذاب کا سامنا کرے گا۔
یہ آیت ہمارے لیے ایک بہت بڑا سبق ہے کہ ہمیں یتیموں کے ساتھ حسن سلوک کرنا چاہیے، ان کے مال کی حفاظت کرنی چاہیے، اور ان کے حقوق کا خیال رکھنا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن میں متعدد مقامات پر یتیموں کے ساتھ انصاف کرنے اور ان کے مال کی حفاظت کا حکم دیا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اس حکم پر عمل کریں اور یتیموں کے ساتھ رحمت اور شفقت کا معاملہ کریں، کیونکہ یہ عمل ہمیں اللہ کی رحمت کے قریب کرتا ہے اور ہمارے دلوں کو پاکیزگی عطا کرتا ہے۔
یاد رکھیں! اللہ تعالیٰ ہر چیز کا علم رکھتا ہے، اور وہ ظالموں کو کبھی معاف نہیں کرے گا۔ جو لوگ یتیموں کے مال کھاتے ہیں، وہ اپنے لیے عذاب کا سامان کر رہے ہیں۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اس سے بچیں اور اللہ کی رضا کے لیے یتیموں کی مدد کریں، کیونکہ یہی نیک لوگوں کی صفت ہے اور یہی ہمیں جنت کی طرف لے جانے والا راستہ ہے۔
اور ایسے لوگوں کو ڈرنا چاہیئے جو (ایسی حالت میں ہوں کہ) اپنے بعد ننھے ننھے بچے چھوڑ جائیں اور ان کو ان کی نسبت خوف ہو (کہ ان کے مرنے کے بعد ان بیچاروں کا کیا حال ہوگا) پس چاہیئے کہ یہ لوگ خدا سے ڈریں اور معقول بات کہیں
خدا تمہاری اولاد کے بارے میں تم کو ارشاد فرماتا ہے کہ ایک لڑکے کا حصہ دو لڑکیوں کے حصے کے برابر ہے۔ اور اگر اولاد میت صرف لڑکیاں ہی ہوں (یعنی دو یا) دو سے زیادہ تو کل ترکے میں ان کادو تہائی۔ اور اگر صرف ایک لڑکی ہو تو اس کا حصہ نصف۔ اور میت کے ماں باپ کا یعنی دونوں میں سے ہر ایک کا ترکے میں چھٹا حصہ بشرطیکہ میت کے اولاد ہو۔ اور اگر اولاد نہ ہو اور صرف ماں باپ ہی اس کے وارث ہوں تو ایک تہائی ماں کا حصہ۔ اور اگر میت کے بھائی بھی ہوں تو ماں کا چھٹا حصہ۔ (اور یہ تقسیم ترکہ میت کی) وصیت (کی تعمیل) کے بعد جو اس نے کی ہو یا قرض کے (ادا ہونے کے بعد جو اس کے ذمے ہو عمل میں آئے گی) تم کو معلوم نہیں کہ تمہارے باپ دادؤں اور بیٹوں پوتوں میں سے فائدے کے لحاظ سے کون تم سے زیادہ قریب ہے، یہ حصے خدا کے مقرر کئے ہوئے ہیں اور خدا سب کچھ جاننے والا اور حکمت والا ہے
اور جو مال تمہاری عورتیں چھوڑ مریں۔ اگر ان کے اولاد نہ ہو تو اس میں نصف حصہ تمہارا۔ اور اگر اولاد ہو تو ترکے میں تمہارا حصہ چوتھائی۔ (لیکن یہ تقسیم) وصیت (کی تعمیل) کے بعد جو انہوں نے کی ہو یا قرض کے (ادا ہونے کے بعد جو ان کے ذمے ہو، کی جائے گی) اور جو مال تم (مرد) چھوڑ مرو۔ اگر تمہارے اولاد نہ ہو تو تمہاری عورتوں کا اس میں چوتھا حصہ۔ اور اگر اولاد ہو تو ان کا آٹھواں حصہ (یہ حصے) تمہاری وصیت (کی تعمیل) کے بعد جو تم نے کی ہو اور (ادائے) قرض کے (بعد تقسیم کئے جائیں گے) اور اگر ایسے مرد یا عورت کی میراث ہو جس کے نہ باپ ہو نہ بیٹا مگر اس کے بھائی بہن ہو تو ان میں سے ہر ایک کا چھٹا حصہ اور اگر ایک سے زیادہ ہوں تو سب ایک تہائی میں شریک ہوں گے (یہ حصے بھی ادائے وصیت و قرض بشرطیکہ ان سے میت نے کسی کا نقصان نہ کیا ہو (تقسیم کئے جائیں گے) یہ خدا کا فرمان ہے۔ اور خدا نہایت علم والا (اور) نہایت حلم والا ہے
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔