نساء · 9/176
ترجمہ تلفظ — نساء
وَلْيَخْشَ الَّذِينَ لَوْ تَرَكُوا مِنْ خَلْفِهِمْ ذُرِّيَّةً ضِعَافًا خَافُوا عَلَيْهِمْ فَلْيَتَّقُوا اللَّهَ وَلْيَقُولُوا قَوْلًا سَدِيدًا ۝٩
Walyakhshal lazeena law tarakoo min khalfihim zurriyyatan di`aafan khaafoo `alaihim falyattaqul laaha walyaqooloo qawlan sadeedaa
📖 اردو ترجمہ
اور ایسے لوگوں کو ڈرنا چاہیئے جو (ایسی حالت میں ہوں کہ) اپنے بعد ننھے ننھے بچے چھوڑ جائیں اور ان کو ان کی نسبت خوف ہو (کہ ان کے مرنے کے بعد ان بیچاروں کا کیا حال ہوگا) پس چاہیئے کہ یہ لوگ خدا سے ڈریں اور معقول بات کہیں
📜

ترجمہ — Tafsir

معانی الفاظ:

  • وَ لْیَخْشَ: ڈریں
  • ذُرِّیَّةً ضِعَافًا: کمزور اور چھوٹے بچے
  • خَافُوا عَلَیْهِمْ: ان پر (ظلم و ضیاع کا) اندیشہ کریں
  • قَوْلًا سَدِیدًا: درست، راست اور منصفانہ بات

تفسیر:

اس آیتِ کریمہ میں اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو ایک ایسا سبق سکھا رہے ہیں جو انسان کے دل کو نرم کر دیتا ہے۔ ارشاد ہوتا ہے کہ جن لوگوں کو یہ خیال ہو کہ اگر وہ مر جائیں اور اپنے پیچھے چھوٹے چھوٹے، کمزور اور بے بس بچے چھوڑ جائیں، تو انہیں اپنے ان بچوں پر بہت رحم آئے گا اور وہ ڈریں گے کہ ان کے ساتھ ظلم ہوگا، وہ ضائع ہو جائیں گے، کوئی ان کا سہارا نہ ہوگا۔

یہی احساس، یہی جذبہ، یہی شفقت جو آپ اپنی اولاد کے لیے رکھتے ہیں، اسی کو بنیاد بنا کر اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: "پس تم اللہ سے ڈرو" یعنی جس طرح تم چاہتے ہو کہ تمہارے بعد تمہارے بچوں کے ساتھ کوئی اچھا سلوک کرے، کوئی ان کی حفاظت کرے، کوئی ان پر رحم کھائے، اسی طرح تم بھی ان یتیموں اور کمزور بچوں کے ساتھ وہی سلوک کرو جو تم اپنی اولاد کے لیے پسند کرتے ہو۔

یہ آیت دراصل اُن لوگوں کے لیے ایک بہت بڑا سبق ہے جو یتیموں کے مال پر ظلم کرتے ہیں، جو کمزوروں کو دباتے ہیں، جو وصیت میں ورثاء کے حقوق مارتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ جس طرح تمہیں اپنے بچوں کی فکر لاحق ہے، اسی طرح دوسروں کے بچوں کی بھی فکر کرو۔ اگر تم چاہتے ہو کہ تمہارے بعد تمہاری اولاد محفوظ رہے، تو تم بھی دوسروں کی اولاد کو محفوظ رکھو۔

پھر فرمایا: "اور وہ سیدھی اور درست بات کہیں" یعنی اپنی زبان سے کوئی ایسی بات نہ نکالیں جو کسی کے حق کو مارے، کوئی ایسی وصیت نہ کریں جو وارثوں کو نقصان پہنچائے، کسی یتیم کے بارے میں کوئی غلط بات نہ کہیں۔ بلکہ ہمیشہ راست، منصفانہ اور عدل والی بات کریں۔

یہ آیت ہمیں سکھاتی ہے کہ اسلام کا حسن یہ ہے کہ وہ ہر انسان کے دل میں دوسروں کے لیے رحمت اور شفقت پیدا کرتا ہے۔ جس طرح ایک باپ اپنے بچوں کے لیے فکر مند ہوتا ہے، اسی طرح ہر مسلمان کو چاہیے کہ وہ معاشرے کے کمزور افراد، یتیموں اور بے سہارا لوگوں کے لیے فکر مند ہو۔

اور سب سے خوبصورت بات یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے یہ حکم ایک ایسے انداز میں دیا ہے کہ انسان خود اپنے دل سے سمجھ جائے — جیسا سلوک تم اپنے بچوں کے ساتھ چاہتے ہو، ویسا ہی سلوک دوسروں کے بچوں کے ساتھ کرو۔ یہی تو حقیقی تقویٰ ہے، یہی تو سچی نیکی ہے۔

اللہ تعالیٰ ہمیں توفیق دے کہ ہم اپنی زبان کو سیدھی اور درست باتوں کا عادی بنائیں، اپنے دلوں میں یتیموں اور کمزوروں کے لیے شفقت پیدا کریں، اور ہر معاملے میں اللہ سے ڈرتے ہوئے عدل و انصاف پر قائم رہیں۔ آمین۔

🎧 سنیں

📜 آیت 7-11 — نساء

7لِّلرِّجَالِ نَصِيبٌ مِّمَّا تَرَكَ الْوَالِدَانِ وَالْأَقْرَبُونَ وَلِلنِّسَاءِ نَصِيبٌ مِّمَّا تَرَكَ الْوَالِدَانِ وَالْأَقْرَبُونَ مِمَّا قَلَّ مِنْهُ أَوْ كَثُرَ ۚ نَصِيبًا مَّفْرُوضًا
جو مال ماں باپ اور رشتہ دار چھوڑ مریں تھوڑا ہو یا بہت۔ اس میں مردوں کا بھی حصہ ہے اور عورتوں کا بھی یہ حصے (خدا کے) مقرر کئے ہوئے ہیں
8وَإِذَا حَضَرَ الْقِسْمَةَ أُولُو الْقُرْبَىٰ وَالْيَتَامَىٰ وَالْمَسَاكِينُ فَارْزُقُوهُم مِّنْهُ وَقُولُوا لَهُمْ قَوْلًا مَّعْرُوفًا
اور جب میراث کی تقسیم کے وقت (غیر وارث) رشتہ دار اور یتیم اور محتاج آجائیں تو ان کو بھی اس میں سے کچھ دے دیا کرو۔ اور شیریں کلامی سے پیش آیا کرو
9وَلْيَخْشَ الَّذِينَ لَوْ تَرَكُوا مِنْ خَلْفِهِمْ ذُرِّيَّةً ضِعَافًا خَافُوا عَلَيْهِمْ فَلْيَتَّقُوا اللَّهَ وَلْيَقُولُوا قَوْلًا سَدِيدًا
اور ایسے لوگوں کو ڈرنا چاہیئے جو (ایسی حالت میں ہوں کہ) اپنے بعد ننھے ننھے بچے چھوڑ جائیں اور ان کو ان کی نسبت خوف ہو (کہ ان کے مرنے کے بعد ان بیچاروں کا کیا حال ہوگا) پس چاہیئے کہ یہ لوگ خدا سے ڈریں اور معقول بات کہیں
10إِنَّ الَّذِينَ يَأْكُلُونَ أَمْوَالَ الْيَتَامَىٰ ظُلْمًا إِنَّمَا يَأْكُلُونَ فِي بُطُونِهِمْ نَارًا ۖ وَسَيَصْلَوْنَ سَعِيرًا
لوگ یتیموں کا مال ناجائز طور پر کھاتے ہیں وہ اپنے پیٹ میں آگ بھرتے ہیں۔ اور دوزخ میں ڈالے جائیں گے
11يُوصِيكُمُ اللَّهُ فِي أَوْلَادِكُمْ ۖ لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنثَيَيْنِ ۚ فَإِن كُنَّ نِسَاءً فَوْقَ اثْنَتَيْنِ فَلَهُنَّ ثُلُثَا مَا تَرَكَ ۖ وَإِن كَانَتْ وَاحِدَةً فَلَهَا النِّصْفُ ۚ وَلِأَبَوَيْهِ لِكُلِّ وَاحِدٍ مِّنْهُمَا السُّدُسُ مِمَّا تَرَكَ إِن كَانَ لَهُ وَلَدٌ ۚ فَإِن لَّمْ يَكُن لَّهُ وَلَدٌ وَوَرِثَهُ أَبَوَاهُ فَلِأُمِّهِ الثُّلُثُ ۚ فَإِن كَانَ لَهُ إِخْوَةٌ فَلِأُمِّهِ السُّدُسُ ۚ مِن بَعْدِ وَصِيَّةٍ يُوصِي بِهَا أَوْ دَيْنٍ ۗ آبَاؤُكُمْ وَأَبْنَاؤُكُمْ لَا تَدْرُونَ أَيُّهُمْ أَقْرَبُ لَكُمْ نَفْعًا ۚ فَرِيضَةً مِّنَ اللَّهِ ۗ إِنَّ اللَّهَ كَانَ عَلِيمًا حَكِيمًا
خدا تمہاری اولاد کے بارے میں تم کو ارشاد فرماتا ہے کہ ایک لڑکے کا حصہ دو لڑکیوں کے حصے کے برابر ہے۔ اور اگر اولاد میت صرف لڑکیاں ہی ہوں (یعنی دو یا) دو سے زیادہ تو کل ترکے میں ان کادو تہائی۔ اور اگر صرف ایک لڑکی ہو تو اس کا حصہ نصف۔ اور میت کے ماں باپ کا یعنی دونوں میں سے ہر ایک کا ترکے میں چھٹا حصہ بشرطیکہ میت کے اولاد ہو۔ اور اگر اولاد نہ ہو اور صرف ماں باپ ہی اس کے وارث ہوں تو ایک تہائی ماں کا حصہ۔ اور اگر میت کے بھائی بھی ہوں تو ماں کا چھٹا حصہ۔ (اور یہ تقسیم ترکہ میت کی) وصیت (کی تعمیل) کے بعد جو اس نے کی ہو یا قرض کے (ادا ہونے کے بعد جو اس کے ذمے ہو عمل میں آئے گی) تم کو معلوم نہیں کہ تمہارے باپ دادؤں اور بیٹوں پوتوں میں سے فائدے کے لحاظ سے کون تم سے زیادہ قریب ہے، یہ حصے خدا کے مقرر کئے ہوئے ہیں اور خدا سب کچھ جاننے والا اور حکمت والا ہے
نساءقرآن فہرست
176آیت
مدنیRevelation
9آیت

ترجمہ — نساء 9

سورہ نساء آیت 9 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : اور ایسے لوگوں کو ڈرنا چاہیئے جو (ایسی حالت میں…

سورہ آیت 9/176 — نساء النساء (مدنی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: نساء سنیں, نساء ترجمہ, نساء mp3, نساء pdf. آیت 7–11. اردو ترجمہ: فارسی.




قرآن کریم


Tuesday, August 18, 2026

اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں