Yooseekumul laahu feee awlaadikum liz zakari mislu hazzil unsayayn; fa in kunna nisaaa`an fawqas nataini falahunna suhusaa maa taraka wa in kaanat waahidatan falahan nisf; wa li abawaihi likulli waahidim minhumas sudusu mimmma taraka in kaana lahoo walad; fa il lam yakul lahowaladunw wa warisahooo abawaahu fali ummihis sulus; fa in kaana lahoo ikhwatun fali ummihis sudus; mim ba`di wasiyyatiny yoosee bihaaa aw dayn; aabaaa`ukum wa abnaaa`ukum laa tadroona aiyuhum aqrabu lakum naf`aa; fareedatam minallaah; innal laaha kaana `Aleeman Hakeemaa
📖 ترجمہ (اردو ترجمہ)
📖 اردو ترجمہ
خدا تمہاری اولاد کے بارے میں تم کو ارشاد فرماتا ہے کہ ایک لڑکے کا حصہ دو لڑکیوں کے حصے کے برابر ہے۔ اور اگر اولاد میت صرف لڑکیاں ہی ہوں (یعنی دو یا) دو سے زیادہ تو کل ترکے میں ان کادو تہائی۔ اور اگر صرف ایک لڑکی ہو تو اس کا حصہ نصف۔ اور میت کے ماں باپ کا یعنی دونوں میں سے ہر ایک کا ترکے میں چھٹا حصہ بشرطیکہ میت کے اولاد ہو۔ اور اگر اولاد نہ ہو اور صرف ماں باپ ہی اس کے وارث ہوں تو ایک تہائی ماں کا حصہ۔ اور اگر میت کے بھائی بھی ہوں تو ماں کا چھٹا حصہ۔ (اور یہ تقسیم ترکہ میت کی) وصیت (کی تعمیل) کے بعد جو اس نے کی ہو یا قرض کے (ادا ہونے کے بعد جو اس کے ذمے ہو عمل میں آئے گی) تم کو معلوم نہیں کہ تمہارے باپ دادؤں اور بیٹوں پوتوں میں سے فائدے کے لحاظ سے کون تم سے زیادہ قریب ہے، یہ حصے خدا کے مقرر کئے ہوئے ہیں اور خدا سب کچھ جاننے والا اور حکمت والا ہے
🌐 Additional reference in فارسی
🌐 فارسی
خدا درباره فرزندانتان به شما سفارش مىكند كه سهم پسر برابر سهم دو دختر است. و اگر دختر باشند و بيش از دو تن، دو سوم ميراث از آنهاست. و اگر يك دختر بود نصف برد و اگر مرده را فرزندى باشد هر يك از پدر و مادر يك ششم ميراث را برد. و اگر فرزندى نداشته باشد و ميراثبران تنها پدر و مادر باشند، مادر يك سوم دارايى را برد. اما اگر برادران داشته باشد سهم مادر، پس از انجام وصيتى كه كرده و پرداخت وام او يك ششم باشد. و شما نمىدانيد كه از پدران و پسرانتان كدام يك شما را سودمندتر است. اينها حكم خداست، كه خدا دانا و حكيم است.
خدا تمہاری اولاد کے بارے میں تم کو ارشاد فرماتا ہے کہ ایک لڑکے کا حصہ دو لڑکیوں کے حصے کے برابر ہے۔ اور اگر اولاد میت صرف لڑکیاں ہی ہوں (یعنی دو یا) دو سے زیادہ تو کل ترکے میں ان کادو تہائی۔ اور اگر صرف ایک لڑکی ہو تو اس کا حصہ نصف۔ اور میت کے ماں باپ کا یعنی دونوں میں سے ہر ایک کا ترکے میں چھٹا حصہ بشرطیکہ میت کے اولاد ہو۔ اور اگر اولاد نہ ہو اور صرف ماں باپ ہی اس کے وارث ہوں تو ایک تہائی ماں کا حصہ۔ اور اگر میت کے بھائی بھی ہوں تو ماں کا چھٹا حصہ۔ (اور یہ تقسیم ترکہ میت کی) وصیت (کی تعمیل) کے بعد جو اس نے کی ہو یا قرض کے (ادا ہونے کے بعد جو اس کے ذمے ہو عمل میں آئے گی) تم کو معلوم نہیں کہ تمہارے باپ دادؤں اور بیٹوں پوتوں میں سے فائدے کے لحاظ سے کون تم سے زیادہ قریب ہے، یہ حصے خدا کے مقرر کئے ہوئے ہیں اور خدا سب کچھ جاننے والا اور حکمت والا ہے
📜
ترجمہ — Tafsir
اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو حکم دیتا ہے کہ اولاد کے بارے میں اس کی وصیت کو پوری طرح سامنے رکھیں۔ جب کوئی شخص وفات پائے اور اپنے پیچھے اولاد چھوڑے تو اس کے ترکے کی تقسیم اس طرح ہوگی: اگر اولاد میں لڑکے اور لڑکیاں دونوں ہوں تو لڑکے کو دو لڑکیوں کے برابر حصہ ملے گا۔ اگر صرف لڑکیاں ہی ہوں اور وہ دو سے زیادہ ہوں تو انہیں ترکے کا دو تہائی حصہ ملے گا۔ اگر صرف ایک لڑکی ہو تو اسے آدھا ترکہ ملے گا۔
اگر میت کے والدین زندہ ہوں اور میت کی اولاد بھی ہو تو والدین میں سے ہر ایک کو ترکے کا چھٹا حصہ ملے گا۔ اگر میت کی کوئی اولاد نہ ہو اور والدین ہی وارث ہوں تو ماں کو تیسرا حصہ ملے گا اور باقی باپ کو۔ لیکن اگر میت کے دو یا دو سے زیادہ بہن بھائی ہوں تو ماں کا حصہ چھٹے حصے تک محدود ہو جائے گا اور باقی ترکہ باپ کو ملے گا۔
یہ تمام تقسیم میت کی وصیت پر عمل کرنے کے بعد ہوگی، بشرطیکہ وصیت ترکے کے تیسرے حصے سے زیادہ نہ ہو، اور قرض کی ادائیگی کے بعد۔ اللہ تعالیٰ نے یہ حکم اس لیے دیا ہے کہ انسان اپنے والدین اور اولاد میں سے کسی ایک کو دوسرے پر ترجیح نہ دے سکے، کیونکہ اسے معلوم نہیں کہ کون اس کے لیے زیادہ نفع مند ہے۔ یہ تقسیم اللہ کی طرف سے مقرر کردہ ہے، اور اللہ اپنے بندوں کے حالات سے خوب واقف ہے اور اپنے فیصلوں میں کامل حکمت رکھتا ہے۔
اس آیت سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہمارے لیے وراثت کا نظام اس طرح مقرر کیا ہے جو ہر حال میں انصاف پر مبنی ہے۔ ہمیں چاہیے کہ اللہ کے مقرر کردہ احکام پر عمل کریں اور اپنی مرضی سے کسی کو محروم نہ کریں۔ یہ اللہ کی رحمت ہے کہ اس نے ہمارے لیے واضح قوانین بنا دیے ہیں تاکہ ہم آپس میں جھگڑوں سے بچ سکیں۔ اللہ تعالیٰ ہر چیز کا علم رکھتا ہے اور وہی بہتر جانتا ہے کہ اس کی مخلوق کے لیے کیا بہتر ہے۔ ہمیں چاہیے کہ اللہ کے احکام کو دل و جان سے قبول کریں اور ان پر عمل کرتے ہوئے اپنی آخرت سنواریں۔
اور ایسے لوگوں کو ڈرنا چاہیئے جو (ایسی حالت میں ہوں کہ) اپنے بعد ننھے ننھے بچے چھوڑ جائیں اور ان کو ان کی نسبت خوف ہو (کہ ان کے مرنے کے بعد ان بیچاروں کا کیا حال ہوگا) پس چاہیئے کہ یہ لوگ خدا سے ڈریں اور معقول بات کہیں
خدا تمہاری اولاد کے بارے میں تم کو ارشاد فرماتا ہے کہ ایک لڑکے کا حصہ دو لڑکیوں کے حصے کے برابر ہے۔ اور اگر اولاد میت صرف لڑکیاں ہی ہوں (یعنی دو یا) دو سے زیادہ تو کل ترکے میں ان کادو تہائی۔ اور اگر صرف ایک لڑکی ہو تو اس کا حصہ نصف۔ اور میت کے ماں باپ کا یعنی دونوں میں سے ہر ایک کا ترکے میں چھٹا حصہ بشرطیکہ میت کے اولاد ہو۔ اور اگر اولاد نہ ہو اور صرف ماں باپ ہی اس کے وارث ہوں تو ایک تہائی ماں کا حصہ۔ اور اگر میت کے بھائی بھی ہوں تو ماں کا چھٹا حصہ۔ (اور یہ تقسیم ترکہ میت کی) وصیت (کی تعمیل) کے بعد جو اس نے کی ہو یا قرض کے (ادا ہونے کے بعد جو اس کے ذمے ہو عمل میں آئے گی) تم کو معلوم نہیں کہ تمہارے باپ دادؤں اور بیٹوں پوتوں میں سے فائدے کے لحاظ سے کون تم سے زیادہ قریب ہے، یہ حصے خدا کے مقرر کئے ہوئے ہیں اور خدا سب کچھ جاننے والا اور حکمت والا ہے
اور جو مال تمہاری عورتیں چھوڑ مریں۔ اگر ان کے اولاد نہ ہو تو اس میں نصف حصہ تمہارا۔ اور اگر اولاد ہو تو ترکے میں تمہارا حصہ چوتھائی۔ (لیکن یہ تقسیم) وصیت (کی تعمیل) کے بعد جو انہوں نے کی ہو یا قرض کے (ادا ہونے کے بعد جو ان کے ذمے ہو، کی جائے گی) اور جو مال تم (مرد) چھوڑ مرو۔ اگر تمہارے اولاد نہ ہو تو تمہاری عورتوں کا اس میں چوتھا حصہ۔ اور اگر اولاد ہو تو ان کا آٹھواں حصہ (یہ حصے) تمہاری وصیت (کی تعمیل) کے بعد جو تم نے کی ہو اور (ادائے) قرض کے (بعد تقسیم کئے جائیں گے) اور اگر ایسے مرد یا عورت کی میراث ہو جس کے نہ باپ ہو نہ بیٹا مگر اس کے بھائی بہن ہو تو ان میں سے ہر ایک کا چھٹا حصہ اور اگر ایک سے زیادہ ہوں تو سب ایک تہائی میں شریک ہوں گے (یہ حصے بھی ادائے وصیت و قرض بشرطیکہ ان سے میت نے کسی کا نقصان نہ کیا ہو (تقسیم کئے جائیں گے) یہ خدا کا فرمان ہے۔ اور خدا نہایت علم والا (اور) نہایت حلم والا ہے
(یہ تمام احکام) خدا کی حدیں ہیں۔ اور جو شخص خدا اور اس کے پیغمبر کی فرمانبرداری کرے گا خدا اس کو بہشتوں میں داخل کرے گا جن میں نہریں بہہ رہی ہیں وہ ان میں ہمیشہ رہیں گے۔اور یہ بڑی کامیابی ہے
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔