Walmuhsanaatu minan nisaaa`i illaa maa malakat aimaanukum kitaabal laahi `alaikum; wa uhilla lakum maa waraaa`a zaalikum an tabtaghoo bi amwaali kum muhsineena ghaira musaa fiheen; famastamta`tum bihee minhunna fa aatoohunna ujoorahunna fareedah; wa laa junaaha `alaikum feemaa taraadaitum bihee mim ba`dil fareedah; innal laaha kaana `Aleeman Hakeemaa
📖 ترجمہ (اردو ترجمہ)
📖 اردو ترجمہ
اور شوہر والی عورتیں بھی (تم پر حرام ہیں) مگر وہ جو (اسیر ہو کر لونڈیوں کے طور پر) تمہارے قبضے میں آجائیں (یہ حکم) خدا نے تم کو لکھ دیا ہے اور ان (محرمات) کے سوا اور عورتیں تم کو حلال ہیں اس طرح سے کہ مال خرچ کر کے ان سے نکاح کرلو بشرطیکہ (نکاح سے) مقصود عفت قائم رکھنا ہو نہ شہوت رانی تو جن عورتوں سے تم فائدہ حاصل کرو ان کا مہر جو مقرر کیا ہو ادا کردو اور اگر مقرر کرنے کے بعد آپس کی رضامندی سے مہر میں کمی بیشی کرلو تو تم پر کچھ گناہ نہیں بےشک خدا سب کچھ جاننے والا (اور) حکمت والا ہے
🌐 Additional reference in فارسی
🌐 فارسی
و نيز زنان شوهردار بر شما حرام شدهاند، مگر آنها كه به تصرف شما درآمده باشند. از كتاب خدا پيروى كنيد. و جز اينها، زنان ديگر هرگاه در طلب آنان از مال خويش مهرى بپردازيد و آنها را به نكاح درآوريد نه به زنا، بر شما حلال شدهاند. و زنانى را كه از آنها تمتع مىگيريد واجب است كه مهرشان را بدهيد. و پس از مهر معيّن، در قبول هر چه هر دو بدان رضا بدهيد گناهى نيست. هر آينه خدا دانا و حكيم است.
اور شوہر والی عورتیں بھی (تم پر حرام ہیں) مگر وہ جو (اسیر ہو کر لونڈیوں کے طور پر) تمہارے قبضے میں آجائیں (یہ حکم) خدا نے تم کو لکھ دیا ہے اور ان (محرمات) کے سوا اور عورتیں تم کو حلال ہیں اس طرح سے کہ مال خرچ کر کے ان سے نکاح کرلو بشرطیکہ (نکاح سے) مقصود عفت قائم رکھنا ہو نہ شہوت رانی تو جن عورتوں سے تم فائدہ حاصل کرو ان کا مہر جو مقرر کیا ہو ادا کردو اور اگر مقرر کرنے کے بعد آپس کی رضامندی سے مہر میں کمی بیشی کرلو تو تم پر کچھ گناہ نہیں بےشک خدا سب کچھ جاننے والا (اور) حکمت والا ہے
📜
ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
وَالْمُحْصَنَاتُ مِنَ النِّسَاءِ: شادی شدہ آزاد عورتیں جن کی شادی کی حفاظت کی گئی ہو۔
إِلَّا مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ: سوائے ان عورتوں کے جو تمہاری ملکیت میں آ جائیں (جنگی قیدی/لونڈیاں)۔
كِتَابَ اللَّهِ عَلَيْكُمْ: یہ اللہ کا فرض کردہ حکم ہے۔
مُحْصِنِينَ: پاک دامن رہتے ہوئے، اپنی عفت کی حفاظت کرتے ہوئے۔
غَيْرَ مُسَافِحِينَ: زنا کرنے والے نہیں۔
أُجُورَهُنَّ: ان کے مہر۔
فَرِيضَةً: مقرر کردہ فرض۔
تَرَاضَيْتُم: باہمی رضامندی۔
تفسیر:
اللہ تعالیٰ اس آیت میں نکاح کے حلال و حرام کے احکام بیان فرما رہے ہیں۔ شادی شدہ عورتوں سے نکاح کرنا حرام قرار دیا گیا ہے، کیونکہ وہ اپنے شوہروں کی وجہ سے محفوظ ہیں اور ان کی عصمت کی حفاظت کی گئی ہے۔ البتہ اس حکم سے ان عورتوں کو استثناء حاصل ہے جو جنگ میں قیدی بن کر تمہاری ملکیت میں آ جائیں، ان سے تعلق رکھنا جائز ہے بشرطیکہ ان کی رحم پاک ہونے کا انتظار کیا جائے (استبراء)۔
یہ احکام اللہ کی طرف سے فرض کیے گئے ہیں، جن کی پابندی ہر مسلمان پر لازم ہے۔ اللہ نے ان حرام عورتوں کے علاوہ باقی عورتوں سے نکاح کو حلال کیا ہے، لیکن شرط یہ ہے کہ نکاح پاکیزگی اور عفت کی نیت سے کیا جائے، نہ کہ زنا اور بدکاری کی غرض سے۔ نکاح کا مقصد اپنی نفسانی خواہشات کو حلال طریقے سے پورا کرنا اور اپنے آپ کو گناہ سے بچانا ہے۔
جب کوئی شخص کسی عورت سے نکاح کرے اور اس سے ازدواجی تعلق قائم کرے، تو اس پر فرض ہے کہ اس کا مقرر کردہ مہر ادا کرے۔ یہ مہر عورت کا حق ہے، جسے پورا ادا کرنا ضروری ہے۔ اس کے بعد اگر میاں بیوی باہمی رضامندی سے مہر میں کمی یا زیادتی کر لیں تو اس میں کوئی گناہ نہیں۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے حالات سے خوب واقف ہے اور وہی بہترین حکمت والا ہے، جو اپنے بندوں کی بھلائی کے لیے احکام نازل فرماتا ہے۔
دعوتی پہلو:
اس آیت سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے جو ہر شعبہ زندگی میں رہنمائی فراہم کرتا ہے۔ نکاح کے احکام میں اللہ نے ہماری آسانی اور بھلائی رکھی ہے، تاکہ ہم پاکیزہ زندگی گزاریں اور اپنے رب کی رضا حاصل کریں۔ اسلام نے عورت کے حقوق کا بھرپور تحفظ کیا ہے، مہر کو اس کا حق قرار دیا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ اللہ کے احکام پر عمل کریں اور اپنی زندگیوں کو اس کی مرضی کے مطابق ڈھالیں، کیونکہ اسی میں ہماری دنیا و آخرت کی کامیابی ہے۔ اللہ ہمیں سمجھنے اور عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
اور جن عورتوں سے تمہارے باپ نے نکاح کیا ہو ان نکاح مت کرنا (مگر جاہلیت میں) جو ہوچکا (سوہوچکا) یہ نہایت بےحیائی اور (خدا کی) ناخوشی کی بات تھی۔ اور بہت برا دستور تھا
تم پر تمہاری مائیں اور بیٹیاں اور بہنیں اور پھوپھیاں اور خالائیں اور بھتیجیاں اور بھانجیاں اور وہ مائیں جنہوں نے تم کو دودھ پلایا ہو اور رضاعی بہنیں اور ساسیں حرام کر دی گئی ہیں اور جن عورتوں سے تم مباشرت کر چکے ہو ان کی لڑکیاں جنہیں تم پرورش کرتے (ہو وہ بھی تم پر حرام ہیں) ہاں اگر ان کے ساتھ تم نے مباشرت نہ کی ہو تو (ان کی لڑکیوں کے ساتھ نکاح کر لینے میں) تم پر کچھ گناہ نہیں اور تمہارے صلبی بیٹوں کی عورتیں بھی اور دو بہنوں کا اکٹھا کرنا بھی (حرام ہے) مگر جو ہو چکا (سو ہو چکا) بے شک خدا بخشنے والا (اور) رحم کرنے والا ہے
اور شوہر والی عورتیں بھی (تم پر حرام ہیں) مگر وہ جو (اسیر ہو کر لونڈیوں کے طور پر) تمہارے قبضے میں آجائیں (یہ حکم) خدا نے تم کو لکھ دیا ہے اور ان (محرمات) کے سوا اور عورتیں تم کو حلال ہیں اس طرح سے کہ مال خرچ کر کے ان سے نکاح کرلو بشرطیکہ (نکاح سے) مقصود عفت قائم رکھنا ہو نہ شہوت رانی تو جن عورتوں سے تم فائدہ حاصل کرو ان کا مہر جو مقرر کیا ہو ادا کردو اور اگر مقرر کرنے کے بعد آپس کی رضامندی سے مہر میں کمی بیشی کرلو تو تم پر کچھ گناہ نہیں بےشک خدا سب کچھ جاننے والا (اور) حکمت والا ہے
اور جو شخص تم میں سے مومن آزاد عورتوں (یعنی بیبیوں) سے نکاح کرنے کا مقدور نہ رکھے تو مومن لونڈیوں میں ہی جو تمہارے قبضے میں آگئی ہوں (نکاح کرلے) اور خدا تمہارے ایمان کو اچھی طرح جانتا ہے تم آپس میں ایک دوسرے کے ہم جنس ہو تو ان لونڈیوں کے ساتھ ان کے مالکوں سے اجازت حاصل کرکے نکاح کر لو اور دستور کے مطابق ان کا مہر بھی ادا کردو بشرطیکہ عفیفہ ہوں نہ ایسی کہ کھلم کھلا بدکاری کریں اور نہ درپردہ دوستی کرنا چاہیں پھر اگر نکاح میں آکر بدکاری کا ارتکاب کر بیٹھیں تو جو سزا آزاد عورتوں (یعنی بیبیوں) کے لئے ہے اس کی آدھی ان کو (دی جائے) یہ (لونڈی کے ساتھ نکاح کرنے کی) اجازت اس شخص کو ہے جسے گناہ کر بیٹھنے کا اندیشہ ہو اور اگر صبر کرو تو یہ تمہارے لئے بہت اچھا ہے اور خدا بخشنے والا مہربان ہے
خدا چاہتا ہے کہ (اپنی آیتیں) تم سے کھول کھول کر بیان فرمائے اور تم کو اگلے لوگوں کے طریقے بتائے اور تم پر مہربانی کرے اور خدا جاننے والا (اور) حکمت والا ہے
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔