Yaaa ayyuhar Rasoolu laa yahzukal lazeena yusaa ri`oona fil kufri minal lazeena qaaloo aamannaa bi afwaahihim wa lam tu`min quloobuhum; wa minal lazeena haadoo sammaa`oona lilkazibi sammaa`oona liqawmin aakhareena lam yaatooka yuharifoonal kalima mim ba`di mawaadi`ihee yaqooloona in ooteetum haazaa fakhuzoohu wa il lam tu`tawhu fahzaroo; wa many-yuridil laahu fitnatahoo falan tamlika lahoo minal laahi shai`aa; ulaaa `ikal lazeena lam yuridil laahu any-yutahhira quloobahum; lahum fid dunyaa khizyunw wa lahum fil Aakhirati`azaabun `azeem
📖 ترجمہ (اردو ترجمہ)
📖 اردو ترجمہ
اے پیغمبر! جو لوگ کفر میں جلدی کرتے ہیں (کچھ تو) ان میں سے (ہیں) جو منہ سے کہتے ہیں کہ ہم مومن ہیں لیکن ان کے دل مومن نہیں ہیں اور (کچھ) ان میں سے جو یہودی ہیں ان کی وجہ سے غمناک نہ ہونا یہ غلط باتیں بنانے کے لیے جاسوسی کرتے پھرتے ہیں اور ایسے لوگوں (کے بہکانے) کے لیے جاسوس بنے ہیں جو ابھی تمہارے پاس نہیں آئے (صحیح) باتوں کو ان کے مقامات (میں ثابت ہونے) کے بعد بدل دیتے ہیں (اور لوگوں سے) کہتے ہیں کہ اگر تم کو یہی (حکم) ملے تو اسے قبول کر لینا اور اگر یہ نہ ملے تو اس سے احتراز کرنا اور اگر کسی کو خدا گمراہ کرنا چاہے تو اس کے لیے تم کچھ بھی خدا سے (ہدایت کا) اختیار نہیں رکھتے یہ وہ لوگ ہیں جن کے دلوں کو خدا نے پاک کرنا نہیں چاہا ان کے لیے دنیا میں بھی ذلت ہے اور آخرت میں بھی بڑا عذاب ہے
🌐 Additional reference in فارسی
🌐 فارسی
اى پيامبر، غمگين نكند تو را كردار آنان كه به كفر مىشتابند. چه آنهايى كه به زبان گفتند كه ايمان آورديم و به دل ايمان نياوردهاند و چه آن يهودان كه گوش مىسپارند تا دروغ بندند و براى گروهى ديگر كه خود نزد تو نمىآيند سخنچينى مىكنند، و سخن خدا را دگرگون مىسازند، و مىگويند: اگر شما را اينچنين گفت بپذيريد و گرنه از وى دورى گزينيد. و هر كس را كه خدا عذاب او بخواهد، تواش از قهر خدا رهايى نخواهى داد. اينان كسانى هستند كه خدا نخواسته است كه دلهايشان را پاك گرداند. آنان را در دنيا خوارى و در آخرت عذابى بزرگ است.
اے پیغمبر! جو لوگ کفر میں جلدی کرتے ہیں (کچھ تو) ان میں سے (ہیں) جو منہ سے کہتے ہیں کہ ہم مومن ہیں لیکن ان کے دل مومن نہیں ہیں اور (کچھ) ان میں سے جو یہودی ہیں ان کی وجہ سے غمناک نہ ہونا یہ غلط باتیں بنانے کے لیے جاسوسی کرتے پھرتے ہیں اور ایسے لوگوں (کے بہکانے) کے لیے جاسوس بنے ہیں جو ابھی تمہارے پاس نہیں آئے (صحیح) باتوں کو ان کے مقامات (میں ثابت ہونے) کے بعد بدل دیتے ہیں (اور لوگوں سے) کہتے ہیں کہ اگر تم کو یہی (حکم) ملے تو اسے قبول کر لینا اور اگر یہ نہ ملے تو اس سے احتراز کرنا اور اگر کسی کو خدا گمراہ کرنا چاہے تو اس کے لیے تم کچھ بھی خدا سے (ہدایت کا) اختیار نہیں رکھتے یہ وہ لوگ ہیں جن کے دلوں کو خدا نے پاک کرنا نہیں چاہا ان کے لیے دنیا میں بھی ذلت ہے اور آخرت میں بھی بڑا عذاب ہے
📜
ترجمہ — Tafsir
اہم الفاظ کے معانی:
یُسَارِعُونَ فِی الْکُفْرِ: کفر کی طرف تیزی سے دوڑنے والے، کفر میں جلدی کرنے والے۔
سَمَّاعُونَ لِلْکَذِبِ: جھوٹ کو بڑی توجہ سے سننے والے، جھوٹ کو قبول کرنے والے۔
یُحَرِّفُونَ الْکَلِمَ مِن بَعْدِ مَوَاضِعِهِ: کلام کو اس کی صحیح جگہوں سے ہٹا کر بدل دینے والے، یعنی تحریف کرنے والے۔
فِتْنَتَهُ: اس کی گمراہی اور آزمائش۔
خِزْیٌ: رسوائی، ذلت اور بےعزتی۔
تفسیر:
اے رسولِ مکرم! آپ اُن لوگوں کی وجہ سے غمگین نہ ہوں جو کفر کی طرف تیزی سے بڑھ رہے ہیں۔ یہ وہ منافق ہیں جنہوں نے صرف اپنی زبان سے کہا کہ ہم ایمان لائے، لیکن ان کے دل ایمان سے خالی ہیں۔ اور نہ آپ اہلِ یہود کے اُس گروہ کی وجہ سے رنجیدہ ہوں جو آپ کی نبوت کا انکار کرنے میں جلدی کرتا ہے۔ یہ لوگ جھوٹ سننے والے اور اسے قبول کرنے والے ہیں، اور وہ اپنے بڑوں کے بنائے ہوئے جھوٹ کو مانتے ہیں۔ یہ اُن لوگوں کے جاسوس ہیں جو آپ کے پاس آئے ہی نہیں، اور وہ اللہ کے کلام (تورات) کو اس کی صحیح جگہوں سے ہٹا کر بدل دیتے ہیں۔ وہ اپنے پیروکاروں سے کہتے ہیں کہ اگر محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کا فیصلہ ہماری مرضی کے مطابق ہو تو اسے قبول کر لو، ورنہ اس سے بچو۔
اے رسول! جسے اللہ نے گمراہی میں ڈالنا چاہا، آپ اس کے لیے اللہ کے مقابلے میں کچھ نہیں کر سکتے، نہ آپ اسے ہدایت دے سکتے ہیں۔ یہی وہ لوگ ہیں جن کے دلوں کو اللہ نے پاک کرنا نہیں چاہا۔ ان کے لیے دنیا میں رسوائی اور ذلت ہے، اور آخرت میں ان کے لیے بڑا عذاب ہے۔
دعوتی پہلو:
پیارے بھائیو اور بہنو! یہ آیت ہمیں سکھاتی ہے کہ منافقت اور ریاکاری سب سے بری صفت ہے۔ اللہ تعالیٰ دل کا حال جانتا ہے، زبان کے نہیں۔ ہمیں چاہیے کہ اپنے ایمان کو صرف زبانی نہ رکھیں بلکہ دل سے قبول کریں اور عمل سے ثابت کریں۔ جو لوگ اللہ کے کلام کو اپنی مرضی سے بدلتے ہیں، وہ اللہ کی لعنت کے مستحق ہیں۔ ہمیں قرآن اور سنت پر عمل کرنا چاہیے، نہ کہ اپنی خواہشات پر۔ یاد رکھیں! اللہ کی طرف سے ہدایت اور گمراہی کا فیصلہ اس کی حکمت پر مبنی ہے، اور وہی سب کچھ جاننے والا ہے۔ آئیے ہم اپنے دلوں کو پاک رکھیں، سچائی کو اپنائیں، اور اللہ کے احکام پر عمل کریں تاکہ دنیا میں عزت اور آخرت میں کامیابی حاصل ہو۔
اے پیغمبر! جو لوگ کفر میں جلدی کرتے ہیں (کچھ تو) ان میں سے (ہیں) جو منہ سے کہتے ہیں کہ ہم مومن ہیں لیکن ان کے دل مومن نہیں ہیں اور (کچھ) ان میں سے جو یہودی ہیں ان کی وجہ سے غمناک نہ ہونا یہ غلط باتیں بنانے کے لیے جاسوسی کرتے پھرتے ہیں اور ایسے لوگوں (کے بہکانے) کے لیے جاسوس بنے ہیں جو ابھی تمہارے پاس نہیں آئے (صحیح) باتوں کو ان کے مقامات (میں ثابت ہونے) کے بعد بدل دیتے ہیں (اور لوگوں سے) کہتے ہیں کہ اگر تم کو یہی (حکم) ملے تو اسے قبول کر لینا اور اگر یہ نہ ملے تو اس سے احتراز کرنا اور اگر کسی کو خدا گمراہ کرنا چاہے تو اس کے لیے تم کچھ بھی خدا سے (ہدایت کا) اختیار نہیں رکھتے یہ وہ لوگ ہیں جن کے دلوں کو خدا نے پاک کرنا نہیں چاہا ان کے لیے دنیا میں بھی ذلت ہے اور آخرت میں بھی بڑا عذاب ہے
(یہ) جھوٹی باتیں بنانے کے جاسوسی کرنے والے اور (رشوت کا) حرام مال کھانے والے ہیں اگر یہ تمہارے پاس (کوئی مقدمہ فیصل کرانے کو) آئیں تو تم ان میں فیصلہ کر دینا یا اعراض کرنا اور اگر ان سے اعراض کرو گے تو وہ تمہارا کچھ بھی نہیں بگاڑ سکیں گے اور اگر فیصلہ کرنا چاہو تو انصاف کا فیصلہ کرنا کہ خدا انصاف کرنے والوں کو دوست رکھتا ہے
اور یہ تم سے (اپنے مقدمات) کیونکر فیصل کرایں گے جبکہ خود ان کے پاس تورات (موجود) ہے جس میں خدا کا حکم (لکھا ہوا) ہے (یہ اسے جانتے ہیں) پھر اس کے بعد اس سے پھر جاتے ہیں اور یہ لوگ ایمان ہی نہیں رکھتے
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔