کیا تم کو معلوم نہیں کہ آسمانوں اور زمین میں خدا ہی کی سلطنت ہے؟ جس کو چاہے عذاب کرے اور جسے چاہے بخش دے اور خدا ہر چیز پر قادر ہے
📜
ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
مُلْكُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ: آسمانوں اور زمین کی بادشاہی، حکمرانی اور انتظام۔
یُعَذِّبُ مَنْ یَّشَاءُ: جسے چاہتا ہے عذاب دیتا ہے (اپنی عدل و حکمت کے مطابق)۔
وَیَغْفِرُ لِمَنْ یَّشَاءُ: جسے چاہتا ہے بخش دیتا ہے (اپنے فضل و رحمت سے)۔
قَدِیرٌ: ہر چیز پر پوری قدرت رکھنے والا۔
تفسیر:
اے نبیِ مکرم! کیا آپ کو معلوم نہیں کہ اللہ ہی آسمانوں اور زمین کا حقیقی مالک ہے؟ وہی ان کا خالق، منتظم اور فرمانروا ہے۔ اس کی بادشاہی میں کوئی شریک نہیں، نہ کوئی اس کے حکم کو ٹال سکتا ہے اور نہ اس کی مشیت کے آگے کوئی رکاوٹ حائل ہو سکتی ہے۔ وہ جسے چاہتا ہے اپنے عدل کے مطابق عذاب دیتا ہے، اور جسے چاہتا ہے اپنے فضل و کرم سے بخش دیتا ہے۔ اس کا عذاب بھی حکمت پر مبنی ہے اور اس کی مغفرت بھی رحمت پر مبنی۔ وہ چھوٹے گناہوں پر بھی عذاب دے سکتا ہے اور بڑے گناہوں کو بھی معاف فرما سکتا ہے، کیونکہ اس کی قدرت کامل ہے اور اس کے فیصلے کسی کے مشورے یا اجازت کے محتاج نہیں۔ اللہ ہر چیز پر قادر ہے، اس کے لیے کوئی چیز مشکل نہیں، نہ عذاب دینا اسے عاجز کر سکتا ہے اور نہ بخشش اس کے لیے دشوار ہے۔
دعوتی پہلو:
یہ آیت مومن کے دل میں اللہ کی عظمت اور قدرت کا احساس پیدا کرتی ہے اور اسے بتاتی ہے کہ اللہ کی مشیت کے آگے سر تسلیم خم کرنا ہی اصل کامیابی ہے۔ جب انسان یہ جان لیتا ہے کہ اللہ ہی سب کا مالک ہے اور وہ جسے چاہے بخش دے اور جسے چاہے عذاب دے، تو اس کے دل میں اللہ کی رحمت کی امید اور اس کے عذاب کا خوف دونوں پیدا ہوتے ہیں۔ یہی خوف اور امید مومن کی زندگی کا توازن قائم رکھتے ہیں۔ اللہ کی مغفرت کی وسعت پر غور کریں — وہ چاہے تو ایک لمحے میں تمام گناہ معاف کر دے، اور چاہے تو عدل کے تقاضے پورے کرے۔ لہٰذا ہمیں چاہیے کہ ہم اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہوں اور اس کے عذاب سے بے خوف بھی نہ ہوں، بلکہ ہمیشہ اس کی اطاعت اور تقویٰ کی راہ پر چلتے رہیں۔ یہی وہ راستہ ہے جو ہمیں اللہ کی محبت اور اس کی بخشش تک پہنچاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ہمیں قرآن اور سنت کے ذریعے یہ علم عطا کیا ہے تاکہ ہم اس کی قدرت کو پہچانیں اور اپنی زندگیاں اس کی رضا کے مطابق گزاریں۔ کیا ہی خوش قسمت ہیں وہ لوگ جو اس حقیقت کو سمجھ کر اپنے خالق کے سامنے جھک جاتے ہیں اور اس کی رحمت کے طلب گار بن جاتے ہیں!
اے پیغمبر! جو لوگ کفر میں جلدی کرتے ہیں (کچھ تو) ان میں سے (ہیں) جو منہ سے کہتے ہیں کہ ہم مومن ہیں لیکن ان کے دل مومن نہیں ہیں اور (کچھ) ان میں سے جو یہودی ہیں ان کی وجہ سے غمناک نہ ہونا یہ غلط باتیں بنانے کے لیے جاسوسی کرتے پھرتے ہیں اور ایسے لوگوں (کے بہکانے) کے لیے جاسوس بنے ہیں جو ابھی تمہارے پاس نہیں آئے (صحیح) باتوں کو ان کے مقامات (میں ثابت ہونے) کے بعد بدل دیتے ہیں (اور لوگوں سے) کہتے ہیں کہ اگر تم کو یہی (حکم) ملے تو اسے قبول کر لینا اور اگر یہ نہ ملے تو اس سے احتراز کرنا اور اگر کسی کو خدا گمراہ کرنا چاہے تو اس کے لیے تم کچھ بھی خدا سے (ہدایت کا) اختیار نہیں رکھتے یہ وہ لوگ ہیں جن کے دلوں کو خدا نے پاک کرنا نہیں چاہا ان کے لیے دنیا میں بھی ذلت ہے اور آخرت میں بھی بڑا عذاب ہے
(یہ) جھوٹی باتیں بنانے کے جاسوسی کرنے والے اور (رشوت کا) حرام مال کھانے والے ہیں اگر یہ تمہارے پاس (کوئی مقدمہ فیصل کرانے کو) آئیں تو تم ان میں فیصلہ کر دینا یا اعراض کرنا اور اگر ان سے اعراض کرو گے تو وہ تمہارا کچھ بھی نہیں بگاڑ سکیں گے اور اگر فیصلہ کرنا چاہو تو انصاف کا فیصلہ کرنا کہ خدا انصاف کرنے والوں کو دوست رکھتا ہے
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔