Allazeena yattabi`oonar Rasoolan Nabiyyal ummiyyal lazee yajidoonahoo maktooban `indahum fit Tawraati wal Injeeli yaa muruhum bilma`roofi wa yanhaahum `anil munkari wa yuhillu lahumul taiyibaati wa yuharrimu `alaihimul khabaaa`isa wa yada`u `anhum israhum wal aghlaalal latee kaanat `alaihim; fallazeena aamanoo bihee wa `azzaroohu wa nnasaroohu wattaba`un nooral lazeee unzila ma`ahooo ulaaa`ika humul muflihoon
📖 ترجمہ (اردو ترجمہ)
📖 اردو ترجمہ
وہ جو (محمدﷺ) رسول (الله) کی جو نبی اُمی ہیں پیروی کرتے ہیں جن (کے اوصاف) کو وہ اپنے ہاں تورات اور انجیل میں لکھا ہوا پاتے ہیں۔ وہ انہیں نیک کام کا حکم دیتے ہیں اور برے کام سے روکتے ہیں۔ اور پاک چیزوں کو ان کے لیے حلال کرتے ہیں اور ناپاک چیزوں کو ان پر حرام ٹہراتے ہیں اور ان پر سے بوجھ اور طوق جو ان (کے سر) پر (اور گلے میں) تھے اتارتے ہیں۔ تو جو لوگ ان پر ایمان لائے اور ان کی رفاقت کی اور انہیں مدد دی۔ اور جو نور ان کے ساتھ نازل ہوا ہے اس کی پیروی کی۔ وہی مراد پانے والے ہیں
🌐 Additional reference in فارسی
🌐 فارسی
آنان كه از اين رسول، اين پيامبر امى كه نامش را در تورات و انجيل خود نوشته مىيابند، پيروى مىكنند-آن كه به نيكى فرمانشان مىدهد و از ناشايست بازشان مىدارد و چيزهاى پاكيزه را بر آنها حلال مىكند و چيزهاى ناپاك را حرام و بار گرانشان را از دوششان برمى دارد و بند و زنجيرشان را مىگشايد. پس كسانى كه به او ايمان آوردند و حرمتش را نگاه داشتند و ياريش كردند و از آن كتاب كه بر او نازل كردهايم پيروى كردند، رستگارانند.
وہ جو (محمدﷺ) رسول (الله) کی جو نبی اُمی ہیں پیروی کرتے ہیں جن (کے اوصاف) کو وہ اپنے ہاں تورات اور انجیل میں لکھا ہوا پاتے ہیں۔ وہ انہیں نیک کام کا حکم دیتے ہیں اور برے کام سے روکتے ہیں۔ اور پاک چیزوں کو ان کے لیے حلال کرتے ہیں اور ناپاک چیزوں کو ان پر حرام ٹہراتے ہیں اور ان پر سے بوجھ اور طوق جو ان (کے سر) پر (اور گلے میں) تھے اتارتے ہیں۔ تو جو لوگ ان پر ایمان لائے اور ان کی رفاقت کی اور انہیں مدد دی۔ اور جو نور ان کے ساتھ نازل ہوا ہے اس کی پیروی کی۔ وہی مراد پانے والے ہیں
الْأُمِّي: اس شخص کو کہتے ہیں جو نہ پڑھ سکے نہ لکھ سکے، یعنی اپنی مادری حالت پر ہو۔
إِصْرَهُمْ: بھاری بوجھ، سخت ذمہ داریاں اور وہ احکام جو بہت گراں تھے۔
الْأَغْلَالَ: وہ بھاری زنجیریں اور طوق جو گردنوں میں ڈالے جاتے ہیں، مراد سخت تکلیف دہ احکام ہیں۔
عَزَّرُوهُ: اس کی تعظیم و توقیر کی، اسے بڑا مانا اور اس کی مدد کی۔
الْمُفْلِحُونَ: کامیاب اور مرادوں کو پانے والے، جو دنیا اور آخرت کی بھلائی حاصل کر لیں۔
تفسیر:
یہ آیت کریمہ ان لوگوں کا ذکر کر رہی ہے جن کے لیے اللہ تعالیٰ نے اپنی رحمت لکھ دی ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو اس رسولِ آخر الزماں، نبیِ امی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی کرتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی صفات اور آپ کا ذکر اہلِ کتاب کے پاس تورات اور انجیل میں موجود تھا، اور وہ آپ کو اس طرح پہچانتے تھے جیسے کوئی اپنے بیٹے کو پہچانتا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات کا خلاصہ یہ ہے کہ آپ لوگوں کو ہر اس کام کا حکم دیتے ہیں جو عقلِ سلیم اور فطرتِ سالمہ کے مطابق اچھا ہو، جیسے توحید، صدق، امانت، عدل اور صلہ رحمی، اور ہر اس کام سے روکتے ہیں جو برا اور قبیح ہو، جیسے شرک، جھوٹ، خیانت، ظلم اور فساد۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے لیے پاکیزہ اور حلال چیزیں حلال کرتے ہیں، جیسے حلال جانوروں کا گوشت، پاکیزہ غذائیں اور حلال نکاح، اور ان پر حرام کرتے ہیں وہ چیزیں جو ناپاک اور خبیث ہیں، جیسے سور کا گوشت، خون، مردار اور شراب۔ اس کے ساتھ ساتھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان سے وہ بھاری بوجھ اور سخت ذمہ داریاں ہٹا دیتے ہیں جو پہلے امتوں پر تھیں، جیسے قتلِ خطا پر بھی قصاص لازمی ہونا، نجاست والی جگہ کو کاٹ کر پھینک دینا، اور مالِ غنیمت کو جلا دینا وغیرہ۔ یہ سب اس بات کی دلیل ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم رحمتِ الٰہی کا مظہر ہیں اور آپ کا دین آسان ہے۔
پھر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جو لوگ اس نبی پر ایمان لائے، ان کی تعظیم کی، ان کی مدد کی اور اس نورِ ہدایت یعنی قرآنِ کریم کی پیروی کی جو آپ پر نازل ہوا، وہی حقیقی کامیاب ہیں۔ انہوں نے وہ مقصد حاصل کر لیا جس کے لیے وہ بنائے گئے تھے، اور وہ آخرت کی دائمی کامیابی کے مستحق قرار پائے۔
دعوتی پہلو:
پیارے بھائیو اور بہنو! یہ آیت ہمیں بتاتی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت کا سب سے بڑا ذریعہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع ہے۔ جس نے آپ کی سنت کو تھاما، اس نے کامیابی کا راستہ پا لیا۔ آج دنیا بھر میں جو لوگ امن، سکون اور کامیابی کی تلاش میں ہیں، انہیں چاہیے کہ اس آخری نبی کی تعلیمات کی طرف رجوع کریں، کیونکہ آپ ہی وہ رحمت ہیں جو اللہ نے تمام جہانوں کے لیے بھیجی ہے۔ آئیے ہم سب اس نورِ ہدایت یعنی قرآن کو اپنائیں اور اپنی زندگیوں کو سنوار لیں، تاکہ ہم بھی ان مفلحین (کامیاب لوگوں) میں شامل ہو جائیں۔ اللہ ہمیں عمل کی توفیق دے۔ آمین۔
اور موسیٰ نے اس میعاد پر جو ہم نے مقرر کی تھی اپنی قوم کے ستر آدمی منتخب (کرکے کوہ طور پر حاضر) ٹل کیے۔ جب ان کو زلزلے نے پکڑا تو موسیٰ نے کہا کہ اے پروردگار تو چاہتا تو ان کو اور مجھ کو پہلے ہی سے ہلاک کر دیتا۔ کیا تو اس فعل کی سزا میں جو ہم میں سے بےعقل لوگوں نے کیا ہے ہمیں ہلاک کردے گا۔ یہ تو تیری آزمائش ہے۔ اس سے تو جس کو چاہے گمراہ کرے اور جس کو چاہے ہدایت بخشے۔ تو ہی ہمارا کارساز ہے تو ہمیں (ہمارے گناہ) بخش دے اور ہم پر رحم فرما اور تو سب سے بہتر بخشنے والا ہے
اور ہمارے لیے اس دنیا میں بھی بھلائی لکھ دے اور آخرت میں بھی۔ ہم تیری طرف رجوع ہوچکے۔ فرمایا کہ جو میرا عذاب ہے اسے تو جس پر چاہتا ہوں نازل کرتا ہوں اور جو میری رحمت ہے وہ ہر چیز کو شامل ہے۔ میں اس کو ان لوگوں کے لیے لکھ دوں گا جو پرہیزگاری کرتے اور زکوٰة دیتے اور ہماری آیتوں پر ایمان رکھتے ہیں
وہ جو (محمدﷺ) رسول (الله) کی جو نبی اُمی ہیں پیروی کرتے ہیں جن (کے اوصاف) کو وہ اپنے ہاں تورات اور انجیل میں لکھا ہوا پاتے ہیں۔ وہ انہیں نیک کام کا حکم دیتے ہیں اور برے کام سے روکتے ہیں۔ اور پاک چیزوں کو ان کے لیے حلال کرتے ہیں اور ناپاک چیزوں کو ان پر حرام ٹہراتے ہیں اور ان پر سے بوجھ اور طوق جو ان (کے سر) پر (اور گلے میں) تھے اتارتے ہیں۔ تو جو لوگ ان پر ایمان لائے اور ان کی رفاقت کی اور انہیں مدد دی۔ اور جو نور ان کے ساتھ نازل ہوا ہے اس کی پیروی کی۔ وہی مراد پانے والے ہیں
(اے محمدﷺ) کہہ دو کہ لوگو میں تم سب کی طرف خدا کا بھیجا ہوا (یعنی اس کا رسول) ہوں۔ (وہ) جو آسمانوں اور زمین کا بادشاہ ہے۔ اس کے سوا کوئی معبود نہیں وہی زندگانی بخشتا ہے اور وہی موت دیتا ہے۔ تو خدا پر اور اس کے رسول پیغمبر اُمی پر جو خدا پر اور اس کے تمام کلام پر ایمان رکھتے ہیں ایمان لاؤ اور ان کی پیروی کرو تاکہ ہدایت پاؤ
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔