Waktub lanaa fee haazi hid dunyaa hasanatanw wa fil Aakhirati innnaa hudnaaa ilaik; qaala `azaabee useebu bihee man ashaaa`u wa rahmatee wasi`at kulla shai`; fasa aktubuhaa lillazeena yattaqoona wa yu`toonaz Zakaata wallazeena hum bi Aayaatinaa yu`minoon
📖 ترجمہ (اردو ترجمہ)
📖 اردو ترجمہ
اور ہمارے لیے اس دنیا میں بھی بھلائی لکھ دے اور آخرت میں بھی۔ ہم تیری طرف رجوع ہوچکے۔ فرمایا کہ جو میرا عذاب ہے اسے تو جس پر چاہتا ہوں نازل کرتا ہوں اور جو میری رحمت ہے وہ ہر چیز کو شامل ہے۔ میں اس کو ان لوگوں کے لیے لکھ دوں گا جو پرہیزگاری کرتے اور زکوٰة دیتے اور ہماری آیتوں پر ایمان رکھتے ہیں
🌐 Additional reference in فارسی
🌐 فارسی
براى ما در دنيا و آخرت نيكى بنويس. ما به سوى تو بازگشتهايم گفت: عذاب خود را به هر كس كه بخواهم مىرسانم و رحمت من همه چيز را دربرمىگيرد. آن را براى كسانى كه پرهيزگارى مىكنند و زكات مىدهند و به آيات ما ايمان مىآورند مقرر خواهم داشت.
اور ہمارے لیے اس دنیا میں بھی بھلائی لکھ دے اور آخرت میں بھی۔ ہم تیری طرف رجوع ہوچکے۔ فرمایا کہ جو میرا عذاب ہے اسے تو جس پر چاہتا ہوں نازل کرتا ہوں اور جو میری رحمت ہے وہ ہر چیز کو شامل ہے۔ میں اس کو ان لوگوں کے لیے لکھ دوں گا جو پرہیزگاری کرتے اور زکوٰة دیتے اور ہماری آیتوں پر ایمان رکھتے ہیں
📜
ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
وَاكْتُبْ لَنَا: ہمارے لیے مقرر فرما دے، لکھ دے۔
حَسَنَةً: بھلائی، بہتری، عافیت اور نیکی۔
هُدْنَا: ہم توبہ کر کے تیری طرف رجوع ہوئے۔
أُصِيبُ بِهِ: میں اسے پہنچاتا ہوں۔
وَسِعَتْ: ہر چیز کو گھیر لیا، محیط ہے۔
يَتَّقُونَ: اللہ سے ڈرتے ہیں، پرہیزگاری اختیار کرتے ہیں۔
تفسیر:
حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اپنی قوم کی طرف سے اللہ تعالیٰ سے یہ دعا کی کہ اے ہمارے رب! ہمارے لیے اس دنیا میں بھی بھلائی لکھ دے اور آخرت میں بھی بھلائی لکھ دے۔ یعنی ہمیں دنیا میں عافیت، رزقِ حلال، نیک اعمال کی توفیق اور آخرت میں جنت عطا فرما۔ یہ دعا اس لیے کی کیونکہ وہ اپنی قوم کی طرف سے توبہ کرنے والے بن کر حاضر ہوئے تھے، اور انہوں نے کہا: "إِنَّا هُدْنَا إِلَيْكَ" یعنی ہم تیری طرف رجوع کرتے ہیں، ہم توبہ کرتے ہیں، ہم اپنے گناہوں پر نادم ہیں اور تیرے حضور سرنگوں ہیں۔
اس پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا: میرا عذاب ہے، میں جسے چاہتا ہوں اسے پہنچاتا ہوں، جیسا کہ تمہاری قوم کے گمراہ لوگوں پر آیا۔ لیکن میری رحمت ہر چیز پر حاوی ہے، وہ تمام مخلوقات کو گھیرے ہوئے ہے۔ دنیا میں تو اللہ کی رحمت کا سایہ ہر مخلوق پر ہے، چاہے وہ مومن ہو یا کافر، نیک ہو یا بدکار۔ لیکن آخرت کی رحمت صرف انہی لوگوں کے لیے مخصوص ہوگی جو تقویٰ اختیار کریں، اللہ کے احکام پر عمل کریں، اس کے عذاب سے ڈریں، زکوٰۃ ادا کریں اور اللہ کی آیات پر ایمان لائیں۔
یہاں اللہ تعالیٰ نے رحمت کو صرف متقیوں، زکوٰۃ ادا کرنے والوں اور ایمان والوں کے لیے لکھنے کا وعدہ فرمایا۔ اس سے معلوم ہوا کہ اللہ کی رحمت بےپایاں ہے، لیکن اس کا حصول تقویٰ، ایمان اور نیک اعمال پر منحصر ہے۔ شیطان نے جب یہ سنا کہ رحمت ہر چیز پر محیط ہے تو اس نے کہا: "میں بھی تو ایک چیز ہوں" لیکن اللہ نے اسے اس رحمت سے خارج کر دیا، کیونکہ وہ متقیوں اور ایمان والوں میں سے نہیں تھا۔
دعوتی پہلو:
یہ آیت ہمیں سکھاتی ہے کہ اللہ کی رحمت بہت وسیع ہے، وہ ہر مخلوق پر محیط ہے۔ لیکن اس رحمت کا اصل مستحق وہی ہے جو اللہ سے ڈرے، اس کے احکام پر عمل کرے اور اپنے مال میں سے زکوٰۃ ادا کرے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم حضرت موسیٰ علیہ السلام کی طرح اللہ سے دنیا اور آخرت دونوں کی بھلائی مانگیں، توبہ کریں اور اپنے اعمال کو سنواریں تاکہ اللہ کی رحمت کے حقدار بن سکیں۔ یاد رکھیں، اللہ کی رحمت سے مایوس ہونا گناہِ کبیرہ ہے، لیکن بغیر عمل کے صرف دعویٰ بھی کافی نہیں۔ ہمیں تقویٰ، ایمان اور نیک اعمال کے ذریعے اس رحمت کو اپنے لیے سمیٹنا ہے۔
اور جب موسیٰ کا غصہ فرو ہوا تو (تورات) کی تختیاں اٹھالیں اور جو کچھ ان میں لکھا تھا وہ ان لوگوں کے لیے جو اپنے پروردگار سے ڈرتے ہیں۔ ہدایت اور رحمت تھی
اور موسیٰ نے اس میعاد پر جو ہم نے مقرر کی تھی اپنی قوم کے ستر آدمی منتخب (کرکے کوہ طور پر حاضر) ٹل کیے۔ جب ان کو زلزلے نے پکڑا تو موسیٰ نے کہا کہ اے پروردگار تو چاہتا تو ان کو اور مجھ کو پہلے ہی سے ہلاک کر دیتا۔ کیا تو اس فعل کی سزا میں جو ہم میں سے بےعقل لوگوں نے کیا ہے ہمیں ہلاک کردے گا۔ یہ تو تیری آزمائش ہے۔ اس سے تو جس کو چاہے گمراہ کرے اور جس کو چاہے ہدایت بخشے۔ تو ہی ہمارا کارساز ہے تو ہمیں (ہمارے گناہ) بخش دے اور ہم پر رحم فرما اور تو سب سے بہتر بخشنے والا ہے
اور ہمارے لیے اس دنیا میں بھی بھلائی لکھ دے اور آخرت میں بھی۔ ہم تیری طرف رجوع ہوچکے۔ فرمایا کہ جو میرا عذاب ہے اسے تو جس پر چاہتا ہوں نازل کرتا ہوں اور جو میری رحمت ہے وہ ہر چیز کو شامل ہے۔ میں اس کو ان لوگوں کے لیے لکھ دوں گا جو پرہیزگاری کرتے اور زکوٰة دیتے اور ہماری آیتوں پر ایمان رکھتے ہیں
وہ جو (محمدﷺ) رسول (الله) کی جو نبی اُمی ہیں پیروی کرتے ہیں جن (کے اوصاف) کو وہ اپنے ہاں تورات اور انجیل میں لکھا ہوا پاتے ہیں۔ وہ انہیں نیک کام کا حکم دیتے ہیں اور برے کام سے روکتے ہیں۔ اور پاک چیزوں کو ان کے لیے حلال کرتے ہیں اور ناپاک چیزوں کو ان پر حرام ٹہراتے ہیں اور ان پر سے بوجھ اور طوق جو ان (کے سر) پر (اور گلے میں) تھے اتارتے ہیں۔ تو جو لوگ ان پر ایمان لائے اور ان کی رفاقت کی اور انہیں مدد دی۔ اور جو نور ان کے ساتھ نازل ہوا ہے اس کی پیروی کی۔ وہی مراد پانے والے ہیں
(اے محمدﷺ) کہہ دو کہ لوگو میں تم سب کی طرف خدا کا بھیجا ہوا (یعنی اس کا رسول) ہوں۔ (وہ) جو آسمانوں اور زمین کا بادشاہ ہے۔ اس کے سوا کوئی معبود نہیں وہی زندگانی بخشتا ہے اور وہی موت دیتا ہے۔ تو خدا پر اور اس کے رسول پیغمبر اُمی پر جو خدا پر اور اس کے تمام کلام پر ایمان رکھتے ہیں ایمان لاؤ اور ان کی پیروی کرو تاکہ ہدایت پاؤ
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔