Inna Rabbaka ya`lamu annaka taqoomu adnaa min sulusa yil laili wa nisfahoo wa sulusahoo wa taaa`ifatum minal lazeena ma`ak; wal laahu yuqaddirul laila wanna haar; `alima al lan tuhsoohu fataaba `alaikum faqra`oo maa tayassara minal quraan; `alima an sa yakoonu minkum mardaa wa aakharoona yadriboona fil ardi yabtaghoona min fadlil laahi wa aakharoona yuqaatiloona fee sabeelil laahi faqra`oo ma tayassara minhu wa aqeemus salaata wa aatuz zakaata wa aqridul laaha qardan hasanaa; wa maa tuqadimoo li anfusikum min khairin tajidoohu `indal laahi huwa khayranw wa a`zama ajraa; wastaghfirul laahaa innal laaha ghafoorur raheem
📖 ترجمہ (اردو ترجمہ)
📖 اردو ترجمہ
تمہارا پروردگار خوب جانتا ہے کہ تم اور تمہارے ساتھ کے لوگ (کبھی) دو تہائی رات کے قریب اور (کبھی) آدھی رات اور (کبھی) تہائی رات قیام کیا کرتے ہو۔ اور خدا تو رات اور دن کا اندازہ رکھتا ہے۔ اس نے معلوم کیا کہ تم اس کو نباہ نہ سکو گے تو اس نے تم پر مہربانی کی۔ پس جتنا آسانی سے ہوسکے (اتنا) قرآن پڑھ لیا کرو۔ اس نے جانا کہ تم میں بعض بیمار بھی ہوتے ہیں اور بعض خدا کے فضل (یعنی معاش) کی تلاش میں ملک میں سفر کرتے ہیں اور بعض خدا کی راہ میں لڑتے ہیں۔ تو جتنا آسانی سے ہوسکے اتنا پڑھ لیا کرو۔ اور نماز پڑھتے رہو اور زکوٰة ادا کرتے رہو اور خدا کو نیک (اور خلوص نیت سے) قرض دیتے رہو۔ اور جو عمل نیک تم اپنے لئے آگے بھیجو گے اس کو خدا کے ہاں بہتر اور صلے میں بزرگ تر پاؤ گے۔ اور خدا سے بخشش مانگتے رہو۔ بےشک خدا بخشنے والا مہربان ہے
🌐 Additional reference in فارسی
🌐 فارسی
پروردگار تو مىداند كه تو و گروهى از آنان كه با تو هستند نزديك به دو ثلث شب و نيم شب و ثلث شب را به نماز مىايستيد. و خداست كه اندازه شب و روز را معين مىكند. و مىداند كه شما هرگز حساب آن را نتوانيد داشت. پس توبه شما را بپذيرفت. و هر چه ميّسر شود از قرآن بخوانيد. مىداند چه كسانى از شما بيمار خواهند شد، و گروهى ديگر به طلب روزى خدا به سفر مىروند و گروه ديگر در راه خدا به جنگ مىروند. پس هر چه ميسر شود از آن بخوانيد. نماز بگزاريد و زكات بدهيد و به خدا قرض الحسنه دهيد. و هر خيرى را كه براى خود پيشاپيش بفرستيد، آن را نزد خدا خواهيد يافت. و آن پاداش بهتر است و پاداشى بزرگتر است. و از خدا آمرزش بخواهيد، زيرا خدا آمرزنده و مهربان است.
تمہارا پروردگار خوب جانتا ہے کہ تم اور تمہارے ساتھ کے لوگ (کبھی) دو تہائی رات کے قریب اور (کبھی) آدھی رات اور (کبھی) تہائی رات قیام کیا کرتے ہو۔ اور خدا تو رات اور دن کا اندازہ رکھتا ہے۔ اس نے معلوم کیا کہ تم اس کو نباہ نہ سکو گے تو اس نے تم پر مہربانی کی۔ پس جتنا آسانی سے ہوسکے (اتنا) قرآن پڑھ لیا کرو۔ اس نے جانا کہ تم میں بعض بیمار بھی ہوتے ہیں اور بعض خدا کے فضل (یعنی معاش) کی تلاش میں ملک میں سفر کرتے ہیں اور بعض خدا کی راہ میں لڑتے ہیں۔ تو جتنا آسانی سے ہوسکے اتنا پڑھ لیا کرو۔ اور نماز پڑھتے رہو اور زکوٰة ادا کرتے رہو اور خدا کو نیک (اور خلوص نیت سے) قرض دیتے رہو۔ اور جو عمل نیک تم اپنے لئے آگے بھیجو گے اس کو خدا کے ہاں بہتر اور صلے میں بزرگ تر پاؤ گے۔ اور خدا سے بخشش مانگتے رہو۔ بےشک خدا بخشنے والا مہربان ہے
📜
ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
أَدْنَىٰ: کم سے کم، یعنی دو تہائی سے بھی کم۔
تُحْصُوهُ: اسے پوری طرح معلوم اور شمار نہ کر سکو۔
فَتَابَ عَلَيْكُمْ: اس نے تم پر رحم فرمایا اور تخفیف کر دی۔
يَضْرِبُونَ فِي الْأَرْضِ: زمین پر سفر کرتے ہیں (تجارت یا دوسرے کاموں کے لیے)۔
قَرْضًا حَسَنًا: اچھا قرض، یعنی خالص نیت سے اللہ کی راہ میں خرچ کرنا۔
تفسیر:
اے نبیِ مکرم! آپ کا رب خوب جانتا ہے کہ آپ رات کو عبادت کے لیے اٹھتے ہیں، کبھی دو تہائی رات سے بھی کم، کبھی آدھی رات، اور کبھی ایک تہائی رات کے لیے، اور آپ کے ساتھ آپ کے اصحاب کی ایک جماعت بھی اٹھتی ہے۔ اللہ تعالیٰ رات اور دن کے پورے نظام کا علم رکھتا ہے، وہ جانتا ہے کہ تم لوگ رات کے اوقات کا پورا شمار نہیں کر سکتے، اس لیے اس نے تم پر مہربانی فرمائی اور تمہارے لیے تخفیف کر دی۔ اب تم رات میں اتنا قرآن پڑھو جتنا تمہارے لیے آسان ہو۔
اللہ تعالیٰ کو معلوم ہے کہ تم میں سے کچھ لوگ بیمار ہوں گے، کچھ زمین پر سفر کریں گے اور اللہ کا فضل (روزی) تلاش کریں گے، اور کچھ اللہ کی راہ میں جہاد کریں گے، اس لیے ان سب کے لیے رات کا پورا قیام مشکل ہو گا۔ چنانچہ اللہ نے حکم دیا کہ رات میں اتنا قرآن پڑھو جتنا آسان ہو، اور فرض نمازوں کو مکمل ادا کرو، زکوٰۃ دو، اور اللہ کو اچھا قرض دو (یعنی اپنے مال سے نیکی کے کاموں میں خرچ کرو)۔ جو بھی نیکی تم اپنے لیے آگے بھیجو گے، اسے اللہ کے پاس بہتر اور اجر کے لحاظ سے بہت بڑا پاؤ گے۔ آخر میں اللہ سے مغفرت طلب کرو، بے شک اللہ بڑا بخشنے والا اور بہت رحم فرمانے والا ہے۔
دعوتی پہلو:
اس آیت میں اللہ رب العزت کی رحمت اور شفقت کا خوبصورت انداز نظر آتا ہے۔ جب صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے رات کے قیام میں مشقت محسوس کی تو اللہ نے فوراً تخفیف فرما دی۔ یہ ہمارے لیے بہت بڑی خوشخبری ہے کہ ہمارا دین مشقت اور تنگی کا دین نہیں، بلکہ آسانی اور رحمت کا دین ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنی استطاعت کے مطابق عبادت کریں، لیکن فرض نمازوں اور زکوٰۃ کا خاص خیال رکھیں۔ نیز جو بھی نیکی ہم کریں گے، وہ اللہ کے پاس محفوظ رہے گی اور قیامت کے دن ہمیں اس کا بہترین اجر ملے گا۔ اللہ سے مغفرت مانگنا کبھی نہ بھولیں، کیونکہ وہ غفور اور رحیم ہے، اور اپنے بندوں کی خطاؤں کو معاف کرنے والا ہے۔
تمہارا پروردگار خوب جانتا ہے کہ تم اور تمہارے ساتھ کے لوگ (کبھی) دو تہائی رات کے قریب اور (کبھی) آدھی رات اور (کبھی) تہائی رات قیام کیا کرتے ہو۔ اور خدا تو رات اور دن کا اندازہ رکھتا ہے۔ اس نے معلوم کیا کہ تم اس کو نباہ نہ سکو گے تو اس نے تم پر مہربانی کی۔ پس جتنا آسانی سے ہوسکے (اتنا) قرآن پڑھ لیا کرو۔ اس نے جانا کہ تم میں بعض بیمار بھی ہوتے ہیں اور بعض خدا کے فضل (یعنی معاش) کی تلاش میں ملک میں سفر کرتے ہیں اور بعض خدا کی راہ میں لڑتے ہیں۔ تو جتنا آسانی سے ہوسکے اتنا پڑھ لیا کرو۔ اور نماز پڑھتے رہو اور زکوٰة ادا کرتے رہو اور خدا کو نیک (اور خلوص نیت سے) قرض دیتے رہو۔ اور جو عمل نیک تم اپنے لئے آگے بھیجو گے اس کو خدا کے ہاں بہتر اور صلے میں بزرگ تر پاؤ گے۔ اور خدا سے بخشش مانگتے رہو۔ بےشک خدا بخشنے والا مہربان ہے
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔