Wa mimmann hawlakum minal A`raabi munaafiqoona wa min ahlil Madeenati maradoo `alan nifaaq, laa ta`lamuhum nahnu na`lamuhum; sanu`azzibuhum marrataini summa yuraddoona ilaa `azaabin `azeem
📖 ترجمہ (اردو ترجمہ)
📖 اردو ترجمہ
اور تمہارے گرد و نواح کے بعض دیہاتی منافق ہیں اور بعض مدینے والے بھی نفاق پر اڑے ہوئے ہیں تم انہیں نہیں جانتے۔ ہم جانتے ہیں۔ ہم ان کو دوہرا عذاب دیں گے پھر وہ بڑے عذاب کی طرف لوٹائے جائیں گے
🌐 Additional reference in فارسی
🌐 فارسی
گروهى از عربهاى باديهنشين كه گرد شما را گرفتهاند منافقند و گروهى از مردم مدينه نيز در نفاق اصرار مىورزند. تو آنها را نمىشناسى، ما مىشناسيمشان و دو بار عذابشان خواهيم كرد و به عذاب بزرگ گرفتار مىشوند.
اور تمہارے گرد و نواح کے بعض دیہاتی منافق ہیں اور بعض مدینے والے بھی نفاق پر اڑے ہوئے ہیں تم انہیں نہیں جانتے۔ ہم جانتے ہیں۔ ہم ان کو دوہرا عذاب دیں گے پھر وہ بڑے عذاب کی طرف لوٹائے جائیں گے
📜
ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
مَرَدُوا عَلَى النِّفَاقِ: نفاق پر جمے رہے، اس میں مہارت حاصل کر لی، اور اس پر ڈٹ گئے۔
لَا تَعْلَمُهُمْ: آپ انہیں نہیں جانتے۔
سَنُعَذِّبُهُم مَّرَّتَيْنِ: ہم انہیں دو بار عذاب دیں گے۔
تفسیر:
اس آیتِ کریمہ میں اللہ تعالیٰ اپنے نبی حضرت محمد ﷺ کو مخاطب کرتے ہوئے فرماتا ہے کہ اے ایمان والو! تمہارے گرد و نواح میں جو دیہاتی (اعراب) آباد ہیں، ان میں سے بھی کچھ منافق ہیں، اور خود مدینہ منورہ کے رہنے والوں میں بھی ایسے منافق موجود ہیں جو نفاق پر اس طرح جم گئے ہیں اور اس میں اس قدر ترقی کر چکے ہیں کہ ان کا نفاق پختہ ہو گیا ہے۔ یہ لوگ اپنے نفاق کو اس مہارت سے چھپاتے ہیں کہ اے نبی! آپ انہیں پہچان نہیں سکتے، لیکن اللہ تعالیٰ انہیں خوب جانتا ہے، ان کے دلوں کے بھیدوں سے پوری طرح واقف ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ہم ان منافقوں کو دو بار عذاب دیں گے: ایک بار دنیا میں — جب ان کا نفاق بے نقاب ہو گا، وہ ذلیل و رسوا ہوں گے، کچھ قتل کیے جائیں گے، کچھ قید کیے جائیں گے، اور ان پر دنیا میں رسوائی اور ذلت مسلط کی جائے گی۔ دوسرا عذاب قبر کا ہو گا جو موت کے بعد انہیں دیا جائے گا۔ پھر قیامت کے دن انہیں اس عظیم ترین عذاب کی طرف لوٹایا جائے گا جو جہنم کا دائمی عذاب ہے، جہاں وہ ہمیشہ کے لیے رہیں گے۔
دعوتی پہلو:
اس آیت سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ نفاق اور منافقت اللہ کے نزدیک سخت ترین گناہوں میں سے ہے، کیونکہ منافق ظاہر میں مسلمان ہوتا ہے لیکن باطن میں کفر و نفاق رکھتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے منافقوں کے لیے سخت ترین عذاب کا وعدہ کیا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ اپنے دلوں کو ہر قسم کے نفاق، ریاکاری اور دھوکے سے پاک رکھیں، اور اپنے ایمان کو سچا اور خالص بنائیں۔ اللہ تعالیٰ ہر چھپی ہوئی چیز کو جانتا ہے، کوئی بھی عمل اس سے پوشیدہ نہیں ہے۔ مومن کی شان یہ ہے کہ وہ ظاہر اور باطن دونوں میں سچا ہو، کیونکہ اللہ تعالیٰ دلوں کے رازوں سے واقف ہے اور ہر ایک کو اس کے نیت اور عمل کا پورا بدلہ دے گا۔ ہمیں چاہیے کہ اپنے ایمان کو مضبوط کریں، نفاق کی تمام اقسام سے بچیں، اور اپنی زندگیوں کو اللہ کی رضا کے مطابق ڈھالیں تاکہ ہم اس عظیم عذاب سے محفوظ رہیں اور اللہ کی رحمت اور جنت کے حقدار بنیں۔
اور بعض دیہاتی ایسے ہیں کہ خدا پر اور روز آخرت پر ایمان رکھتے ہیں اور جو کچھ خرچ کرتے ہیں اس کو خدا کی قُربت اور پیغمبر کی دعاؤں کا ذریعہ سمجھتے ہیں۔ دیکھو وہ بےشبہ ان کے لیے (موجب) قربت ہے خدا ان کو عنقریب اپنی رحمت میں داخل کرے گا۔ بےشک خدا بخشنے والا مہربان ہے
جن لوگوں نے سبقت کی (یعنی سب سے) پہلے (ایمان لائے) مہاجرین میں سے بھی اور انصار میں سے بھی۔ اور جنہوں نے نیکو کاری کے ساتھ ان کی پیروی کی خدا ان سے خوش ہے اور وہ خدا سے خوش ہیں اور اس نے ان کے لیے باغات تیار کئے ہیں جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں اور ہمیشہ ان میں رہیں گے۔ یہ بڑی کامیابی ہے
اور تمہارے گرد و نواح کے بعض دیہاتی منافق ہیں اور بعض مدینے والے بھی نفاق پر اڑے ہوئے ہیں تم انہیں نہیں جانتے۔ ہم جانتے ہیں۔ ہم ان کو دوہرا عذاب دیں گے پھر وہ بڑے عذاب کی طرف لوٹائے جائیں گے
اور کچھ اور لوگ ہیں کہ اپنے گناہوں کا (صاف) اقرار کرتے ہیں انہوں نے اچھے برے عملوں کو ملا جلا دیا تھا۔ قریب ہے کہ خدا ان پر مہربانی سے توجہ فرمائے۔ بےشک خدا بخشنے والا مہربان ہے
ان کے مال میں سے زکوٰة قبول کر لو کہ اس سے تم ان کو (ظاہر میں بھی) پاک اور (باطن میں بھی) پاکیزہ کرتے ہو اور ان کے حق میں دعائے خیر کرو کہ تمہاری دعا ان کے لیے موجب تسکین ہے اور خدا سننے والا اور جاننے والا ہے
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔