Wa aakharoona` tarafoo bizunoobihim khalatoo `amalan saalihanw wa aakhara saiyi`an `asal laahu ai yatooba `alaihim; innal laaha Ghafoorur Raheem
📖 ترجمہ (اردو ترجمہ)
📖 اردو ترجمہ
اور کچھ اور لوگ ہیں کہ اپنے گناہوں کا (صاف) اقرار کرتے ہیں انہوں نے اچھے برے عملوں کو ملا جلا دیا تھا۔ قریب ہے کہ خدا ان پر مہربانی سے توجہ فرمائے۔ بےشک خدا بخشنے والا مہربان ہے
🌐 Additional reference in فارسی
🌐 فارسی
و گروهى ديگر به گناه خود اعتراف كردند كه اعمال نيكو را با كارهاى زشت آميختهاند. شايد خدا توبهشان را بپذيرد، زيرا خدا آمرزنده و مهربان است.
اور کچھ اور لوگ ہیں کہ اپنے گناہوں کا (صاف) اقرار کرتے ہیں انہوں نے اچھے برے عملوں کو ملا جلا دیا تھا۔ قریب ہے کہ خدا ان پر مہربانی سے توجہ فرمائے۔ بےشک خدا بخشنے والا مہربان ہے
📜
ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
اعترفوا بذنوبهم: اپنے گناہوں کا اقرار کیا، اپنے قصور کو تسلیم کیا۔
خلطوا: ملا دیا، یکجا کر دیا۔
عملاً صالحاً: نیک عمل، جیسے توبہ، ندامت، اور اللہ کی اطاعت۔
وآخر سيئاً: اور دوسرا برا عمل، جیسے جہاد سے پیچھے رہنا۔
عسى الله أن يتوب عليهم: امید ہے کہ اللہ ان کی توبہ قبول فرمائے گا۔
تفسیر:
اس آیت میں اللہ تعالیٰ ان لوگوں کا ذکر فرما رہے ہیں جو مدینہ منورہ اور اس کے گردوپیش کے رہنے والوں میں سے تھے، اور غزوہ تبوک کے موقع پر بغیر کسی عذر کے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ جہاد سے پیچھے رہ گئے تھے۔ لیکن ان کی خوبی یہ تھی کہ انہوں نے منافقین کی طرح جھوٹے بہانے نہیں بنائے، نہ اپنے فعل کو جائز ٹھہرایا، بلکہ کھل کر اپنے گناہ کا اعتراف کیا اور دل سے نادم ہوئے۔ انہوں نے اپنے اعمال کو ملا دیا تھا — ایک طرف ان کے پاس نیک اعمال تھے، جیسے اللہ کی عبادت، شریعت کی پابندی، پہلے کے جہاد، اور اب یہ اعتراف و ندامت؛ دوسری طرف ایک برا عمل تھا، یعنی رسول اللہ ﷺ سے پیچھے رہنا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی اس حالت کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ "عسى الله أن يتوب عليهم" یعنی اللہ سے امید ہے کہ وہ ان کی توبہ قبول فرمائے گا، کیونکہ انہوں نے سچے دل سے توبہ کی تھی۔ پھر فرمایا کہ اللہ غفور ہے، اپنے بندوں کے گناہ معاف کرنے والا ہے، اور رحیم ہے، اپنے بندوں پر مہربانی فرمانے والا ہے۔
دعوتی پہلو:
اس آیت سے ہمیں بہت بڑا سبق ملتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت کا دروازہ ہمیشہ کھلا ہے۔ انسان سے غلطی ہو سکتی ہے، گناہ سرزد ہو سکتا ہے، لیکن اصل چیز توبہ اور ندامت ہے۔ شیطان ہمیں یہ وسوسہ ڈالتا ہے کہ تمہارے گناہ بہت بڑے ہیں، اللہ تمہیں معاف نہیں کرے گا — لیکن یہ آیت اس وسوسے کا جواب ہے۔ اللہ تعالیٰ ان لوگوں کی تعریف کر رہے ہیں جنہوں نے اپنے گناہ کا اعتراف کیا، اور انہیں مغفرت کی امید دلائی۔ ہمیں بھی چاہیے کہ اپنے گناہوں پر شرمندہ ہوں، اللہ سے معافی مانگیں، اور اپنے اعمال کو سنواریں۔ اللہ کی رحمت امید سے بڑھ کر ہے، وہ ہر توبہ کرنے والے کو قبول کرتا ہے، چاہے اس کے گناہ کتنے ہی زیادہ ہوں۔ یہی اسلام کی خوبصورتی ہے کہ یہ مایوسی نہیں سکھاتا، بلکہ ہمیشہ امید اور رحمت کا راستہ دکھاتا ہے۔
جن لوگوں نے سبقت کی (یعنی سب سے) پہلے (ایمان لائے) مہاجرین میں سے بھی اور انصار میں سے بھی۔ اور جنہوں نے نیکو کاری کے ساتھ ان کی پیروی کی خدا ان سے خوش ہے اور وہ خدا سے خوش ہیں اور اس نے ان کے لیے باغات تیار کئے ہیں جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں اور ہمیشہ ان میں رہیں گے۔ یہ بڑی کامیابی ہے
اور تمہارے گرد و نواح کے بعض دیہاتی منافق ہیں اور بعض مدینے والے بھی نفاق پر اڑے ہوئے ہیں تم انہیں نہیں جانتے۔ ہم جانتے ہیں۔ ہم ان کو دوہرا عذاب دیں گے پھر وہ بڑے عذاب کی طرف لوٹائے جائیں گے
اور کچھ اور لوگ ہیں کہ اپنے گناہوں کا (صاف) اقرار کرتے ہیں انہوں نے اچھے برے عملوں کو ملا جلا دیا تھا۔ قریب ہے کہ خدا ان پر مہربانی سے توجہ فرمائے۔ بےشک خدا بخشنے والا مہربان ہے
ان کے مال میں سے زکوٰة قبول کر لو کہ اس سے تم ان کو (ظاہر میں بھی) پاک اور (باطن میں بھی) پاکیزہ کرتے ہو اور ان کے حق میں دعائے خیر کرو کہ تمہاری دعا ان کے لیے موجب تسکین ہے اور خدا سننے والا اور جاننے والا ہے
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔