ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- بَعَثْنَا: ہم نے بھیجا۔
- أُمَّةٍ: قوم، جماعت۔
- رَّسُولًا: پیغام لانے والا، نبی۔
- اعْبُدُوا: عبادت کرو، بندگی کرو۔
- وَاجْتَنِبُوا: اور بچو، پرہیز کرو۔
- الطَّاغُوتَ: ہر وہ معبود جو اللہ کے سوا پوجا جائے، شیطان، بت، یا کوئی بھی سرکش۔
- حَقَّتْ عَلَيْهِ الضَّلَالَةُ: اس پر گمراہی ثابت ہوگئی۔
- عَاقِبَةُ: انجام، نتیجہ۔
- الْمُكَذِّبِينَ: جھٹلانے والے، انکار کرنے والے۔
تفسیر:
اللہ تعالیٰ اس آیت میں اپنی سنتِ عظیمہ بیان فرما رہے ہیں جو ابتدائے آفرینش سے چلی آ رہی ہے۔ وہ یہ کہ ہر امت میں رسول بھیجا گیا، اور ہر رسول کا پیغام ایک ہی تھا: "اللہ کی عبادت کرو اور طاغوت سے بچو۔" یعنی تمام انبیاء علیہم السلام کا اصل مقصد توحید کی دعوت دینا اور شرک سے روکنا تھا۔ طاغوت سے مراد ہر وہ چیز ہے جسے اللہ کے سوا معبود بنایا جائے، خواہ وہ بت ہو، شیطان ہو، یا کوئی سرکش انسان۔
اس کے بعد اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ لوگوں کا انجام یکساں نہیں رہا۔ کچھ لوگ وہ تھے جنہیں اللہ نے ہدایت دی، انہوں نے رسولوں کی بات مانی اور ایمان لائے۔ اور کچھ وہ تھے جن پر گمراہی ثابت ہوگئی، کیونکہ انہوں نے حق کو جانتے بوجھتے رد کر دیا اور اپنی ضد اور سرکشی پر قائم رہے۔ یہ اللہ کا عدل ہے کہ وہ کسی کو زبردستی گمراہ نہیں کرتا، بلکہ جو شخص حق کو قبول کرنے سے انکار کرتا ہے، اللہ اسے اس کی ضد پر چھوڑ دیتا ہے۔
پھر اللہ تعالیٰ کفارِ مکہ کو مخاطب کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ تم زمین میں چلو پھرو اور دیکھو کہ ان قوموں کا انجام کیا ہوا جنہوں نے اپنے رسولوں کو جھٹلایا۔ عاد، ثمود، قومِ نوح اور فرعون وغیرہ کے کھنڈرات آج بھی موجود ہیں۔ ان کی طاقت، مال، اولاد اور عظمت کچھ کام نہ آئی، اور وہ اللہ کے عذاب سے ہلاک کر دیے گئے۔ یہ سب کچھ اس لیے بیان کیا جا رہا ہے تاکہ لوگ عبرت حاصل کریں اور اپنے انجام سے پہلے سنبھل جائیں۔
دعوتی پہلو:
اس آیت سے ہمیں بہت بڑا سبق ملتا ہے کہ اللہ نے کبھی کسی قوم کو بغیر تنبیہ کے ہلاک نہیں کیا۔ ہر جگہ رسول بھیجے گئے، تاکہ حجت قائم ہو جائے۔ یہ اللہ کی رحمت ہے کہ اس نے ہمیں قرآن اور حضرت محمد ﷺ کے ذریعے مکمل ہدایت عطا فرمائی۔ آج ہمارے پاس وہ روشن راستہ موجود ہے جو سیدھا جنت تک لے جاتا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اس نعمت کی قدر کریں، توحید پر قائم رہیں، اور ہر قسم کے شرک اور طاغوت سے بچیں۔ جو لوگ حق کو قبول کر لیں گے، اللہ انہیں دنیا میں عزت اور آخرت میں جنت عطا فرمائے گا۔ اور جو انکار کریں گے، ان کا انجام وہی ہوگا جو پچھلی قوموں کا ہوا۔ اللہ ہمیں توفیق دے کہ ہم اس پیغام کو سمجھیں اور اس پر عمل کریں۔ آمین۔
📜 آیت 34-38 — نحل
ترجمہ — نحل 36
سورہ نحل آیت 36 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : اور ہم نے ہر جماعت میں پیغمبر بھیجا کہ خدا…سورہ آیت 36/128 — نحل النحل (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: نحل سنیں, نحل ترجمہ, نحل mp3, نحل pdf. آیت 34–38. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








