ترجمہ — Tafsir
﴿وَقَالَ الَّذِينَ أَشْرَكُوا لَوْ شَاءَ اللَّهُ مَا عَبَدْنَا مِنْ دُونِهِ مِنْ شَيْءٍ نَحْنُ وَلَا آبَاؤُنَا وَلَا حَرَّمْنَا مِنْ دُونِهِ مِنْ شَيْءٍ﴾
معانی الفاظ:
- أشْرَكُوا: جنہوں نے اللہ کے ساتھ دوسروں کو شریک ٹھہرایا۔
- لَوْ شَاءَ اللَّهُ: اگر اللہ چاہتا۔
- مِنْ دُونِهِ: اللہ کے سوا۔
- آبَاؤُنَا: ہمارے باپ دادا۔
- حَرَّمْنَا: ہم نے حرام کیا۔ (یہاں اشارہ ہے ان چیزوں کی طرف جو وہ خود اپنی طرف سے حرام کر لیتے تھے جیسے بحیرہ، سائبہ، وصیلہ اور حامی)۔
تفسیر:
یہ آیت ان مشرکین کا وہ عذر بیان کرتی ہے جو انہوں نے اپنے کفر و شرک اور اپنی خود ساختہ حرام و حلال کی ایجادات کو درست ثابت کرنے کے لیے پیش کیا تھا۔ انہوں نے کہا: "اگر اللہ چاہتا تو ہم اس کے سوا کسی اور کی عبادت نہ کرتے، نہ ہم اور نہ ہمارے آباء و اجداد، اور نہ ہم اپنی طرف سے کوئی چیز حرام کرتے۔" یعنی وہ اللہ کی مشیت کو اپنے شرک اور اپنی بدعات کا جواز بنانا چاہتے تھے، گویا وہ کہہ رہے تھے کہ اگر اللہ کو یہ ناپسند ہوتا تو وہ ہمیں ان کاموں سے روک دیتا۔
یہ ایک بہت پرانا حربہ ہے جو ہر دور کے باطل پرست استعمال کرتے رہے ہیں۔ قرآن کریم بتاتا ہے کہ ان سے پہلے گزرے ہوئے کافر قوموں نے بھی بالکل یہی عذر پیش کیا تھا۔ لیکن یہ دلیل سراسر باطل اور جھوٹی ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو عقل دی، اختیار دی، قدرت دی، اور پھر رسول بھیجے تاکہ وہ انہیں راستہ دکھائیں اور ان پر حجت قائم ہو جائے۔ اللہ نے کسی کو جبراً نیک نہیں بنایا اور نہ کسی کو جبراً گناہ پر مجبور کیا۔ انسان کے پاس اختیار ہے کہ وہ چاہے تو راہِ حق اختیار کرے اور چاہے تو باطل کی پیروی کرے۔
مشرکین کا یہ کہنا کہ "اگر اللہ چاہتا تو ہم شرک نہ کرتے" دراصل اللہ کی مشیت کا غلط مطلب نکالنا ہے۔ اللہ کی مشیت کا تعلق اس کے قانونِ جزا سے نہیں بلکہ اس کی تکوینی مشیت سے ہے۔ اللہ نے انسان کو آزمائش کے لیے پیدا کیا ہے اور اسے آزادی دی ہے کہ وہ اپنے اعمال کا خود ذمہ دار ہے۔ اگر اللہ چاہتا تو سب کو مجبوراً نیک بنا دیتا، لیکن پھر امتحان کا کوئی مطلب نہ رہتا۔
اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولوں کو صرف اور صرف واضح تبلیغ کا حکم دیا ہے۔ رسولوں کا کام یہ ہے کہ وہ لوگوں کو حق بات سمجھائیں، انہیں خوشخبری دیں اور ڈرائیں، اور ان پر حجت قائم کر دیں۔ ہدایت دینا اللہ کے ہاتھ میں ہے، لیکن یہ ہدایت اس کے قانونِ مشیت کے مطابق ہوتی ہے، یعنی جو شخص حق کو قبول کرنے کا ارادہ کرتا ہے، اللہ اسے ہدایت دیتا ہے، اور جو شخص ضد اور تکبر پر اڑا رہتا ہے، اللہ اسے گمراہی میں چھوڑ دیتا ہے۔
اس آیت میں ہمارے لیے بہت بڑا سبق ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے گناہوں اور کوتاہیوں کا ذمہ دار خود بنیں، نہ کہ تقدیر اور اللہ کی مشیت کو اپنے اعمال کا بہانہ بنائیں۔ اللہ نے ہمیں عقل دی ہے، قرآن دیا ہے، رسول ﷺ کا سنت دیا ہے، اور ہمیں اختیار دیا ہے کہ ہم اچھے اور برے میں تمیز کریں اور اپنی زندگی خود سنواریں۔ جو شخص اپنی غلطیوں کو تقدیر پر ڈال دیتا ہے، وہ دراصل اپنی اصلاح سے بھاگتا ہے اور اللہ کی رحمت سے محروم رہتا ہے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں توفیق دے کہ ہم اپنے اعمال کا محاسبہ کریں، اپنی کوتاہیوں کو پہچانیں، اور اپنے دین کو اس کی اصل صورت میں سمجھ کر اس پر عمل کریں۔ آمین۔
📜 آیت 33-37 — نحل
ترجمہ — نحل 35
سورہ نحل آیت 35 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : اور مشرک کہتے ہیں کہ اگر خدا چاہتا تو نہ…سورہ آیت 35/128 — نحل النحل (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: نحل سنیں, نحل ترجمہ, نحل mp3, نحل pdf. آیت 33–37. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








