بقرہ · 257/286
ترجمہ تلفظ — بقرہ
اللَّهُ وَلِيُّ الَّذِينَ آمَنُوا يُخْرِجُهُم مِّنَ الظُّلُمَاتِ إِلَى النُّورِ ۖ وَالَّذِينَ كَفَرُوا أَوْلِيَاؤُهُمُ الطَّاغُوتُ يُخْرِجُونَهُم مِّنَ النُّورِ إِلَى الظُّلُمَاتِ ۗ أُولَٰئِكَ أَصْحَابُ النَّارِ ۖ هُمْ فِيهَا خَالِدُونَ ۝٢٥٧
Allaahu waliyyul lazeena aamanoo yukhrijuhum minaz zulumaati ilan noori wallazeena kafarooo awliyaaa`uhumut Taaghootu yukhrijoonahum minan noori ilaz zulumaat; ulaaa`ika Ashaabun Naari hum feehaa khaalidoon
📖 اردو ترجمہ
جو لوگ ایمان لائے ہیں ان کا دوست خدا ہے کہ اُن کو اندھیرے سے نکال کر روشنی میں لے جاتا ہے اور جو کافر ہیں ان کے دوست شیطان ہیں کہ ان کو روشنی سے نکال کر اندھیرے میں لے جاتے ہیں یہی لوگ اہل دوزخ ہیں کہ اس میں ہمیشہ رہیں گے
📜

ترجمہ — Tafsir

معانی الفاظ:

  • ولی: دوست، مددگار، کارساز اور سرپرست۔
  • ظلمات: کفر، شرک، گمراہی اور جہالت کی اندھیریوں کے جمع۔
  • نور: ایمان، ہدایت اور علم کی روشنی۔
  • طاغوت: ہر وہ معبودِ باطل، بت، شیطان یا سرکش طاقت جو اللہ کے سوا پوجی جائے یا اطاعت کی جائے۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ ان لوگوں کا ولی اور سرپرست ہے جو ایمان لائے۔ وہ انہیں کفر، شرک اور جہالت کی اندھیریوں سے نکال کر ایمان، توحید اور علم کی روشنی کی طرف لے جاتا ہے۔ یہ اللہ کی خاص رحمت اور فضل ہے کہ وہ اپنے بندوں کو گمراہی کے راستے سے ہٹا کر سیدھے راستے پر چلاتا ہے، ان کی حفاظت کرتا ہے اور انہیں کبھی تنہا نہیں چھوڑتا۔

اس کے برعکس، جن لوگوں نے کفر اختیار کیا، ان کے ولی اور مددگار طاغوت ہیں — یعنی وہ باطل معبود، بت، شیاطین اور سرکش قوتیں جنہیں وہ اللہ کے سوا اپنا حامی بناتے ہیں۔ یہ طاغوت انہیں ایمان کی روشنی سے نکال کر کفر اور گمراہی کی تاریکیوں میں دھکیل دیتے ہیں۔ یہ لوگ اپنے اختیار سے حق کو چھوڑ کر باطل کو اپنا لیتے ہیں، اور ان کے یہ جھوٹے سرپرست انہیں تباہی کے راستے پر لے جاتے ہیں۔

پھر اللہ تعالیٰ ان کا انجام بیان فرماتا ہے کہ یہی لوگ آگ کے مستحق ہیں اور وہ اس میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے۔ یہ ایک سخت وعید ہے جو ہر اس شخص کے لیے ہے جو ایمان کے بعد کفر کی طرف لوٹ جائے یا حق کو جان بوجھ کر رد کر دے۔

دعوتی پہلو:

اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے اپنے مومن بندوں کے لیے بہت بڑی خوشخبری دی ہے کہ وہ ان کا ولی اور محافظ ہے۔ جب اللہ کسی کا ولی بن جائے تو اسے کسی چیز کا خوف نہیں ہوتا، کیونکہ اللہ کی حفاظت سب سے بڑی حفاظت ہے۔ ایمان کی روشنی وہ نعمت ہے جو انسان کو دنیا اور آخرت دونوں میں کامیاب بناتی ہے۔

یاد رکھیں! انسان اپنے اختیار سے انتخاب کرتا ہے — یا تو وہ اللہ کو اپنا ولی بناتا ہے جو اسے تاریکیوں سے روشنی کی طرف لے جاتا ہے، یا پھر طاغوت کو اپنا سرپرست بناتا ہے جو اسے روشنی سے تاریکیوں کی طرف دھکیل دیتا ہے۔ آئیے ہم سب اپنے ولی کو اللہ بنائیں، اس کی اطاعت کریں، اور اس کی رسی کو مضبوطی سے تھام لیں تاکہ ہم اس کی رحمت اور جنت کے مستحق بن سکیں۔ اللہ ہمیں ایمان پر ثابت قدم رکھے اور ہمیں ہمیشہ اپنی حفاظت میں رکھے۔ آمین۔

🎧 سنیں

📜 آیت 255-259 — بقرہ

255اللَّهُ لَا إِلَٰهَ إِلَّا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ ۚ لَا تَأْخُذُهُ سِنَةٌ وَلَا نَوْمٌ ۚ لَّهُ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ ۗ مَن ذَا الَّذِي يَشْفَعُ عِندَهُ إِلَّا بِإِذْنِهِ ۚ يَعْلَمُ مَا بَيْنَ أَيْدِيهِمْ وَمَا خَلْفَهُمْ ۖ وَلَا يُحِيطُونَ بِشَيْءٍ مِّنْ عِلْمِهِ إِلَّا بِمَا شَاءَ ۚ وَسِعَ كُرْسِيُّهُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ ۖ وَلَا يَئُودُهُ حِفْظُهُمَا ۚ وَهُوَ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ
خدا (وہ معبود برحق ہے کہ) اس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں زندہ ہمیشہ رہنے والا اسے نہ اونگھ آتی ہے نہ نیند جو کچھ آسمانوں میں اور جو کچھ زمین میں ہیں سب اسی کا ہے کون ہے جو اس کی اجازت کے بغیر اس سے (کسی کی) سفارش کر سکے جو کچھ لوگوں کے روبرو ہو رہا ہے اور جو کچھ ان کے پیچھے ہوچکا ہے اسے سب معلوم ہے اور وہ اس کی معلومات میں سے کسی چیز پر دسترس حاصل نہیں کر سکتے ہاں جس قدر وہ چاہتا ہے (اسی قدر معلوم کرا دیتا ہے) اس کی بادشاہی (اور علم) آسمان اور زمین سب پر حاوی ہے اور اسے ان کی حفاظت کچھ بھی دشوار نہیں وہ بڑا عالی رتبہ اور جلیل القدر ہے
256لَا إِكْرَاهَ فِي الدِّينِ ۖ قَد تَّبَيَّنَ الرُّشْدُ مِنَ الْغَيِّ ۚ فَمَن يَكْفُرْ بِالطَّاغُوتِ وَيُؤْمِن بِاللَّهِ فَقَدِ اسْتَمْسَكَ بِالْعُرْوَةِ الْوُثْقَىٰ لَا انفِصَامَ لَهَا ۗ وَاللَّهُ سَمِيعٌ عَلِيمٌ
دین (اسلام) میں زبردستی نہیں ہے ہدایت (صاف طور پر ظاہر اور) گمراہی سے الگ ہو چکی ہے تو جو شخص بتوں سے اعتقاد نہ رکھے اور خدا پر ایمان لائے اس نے ایسی مضبوط رسی ہاتھ میں پکڑ لی ہے جو کبھی ٹوٹنے والی نہیں اور خدا (سب کچھ) سنتا اور (سب کچھ) جانتا ہے
257اللَّهُ وَلِيُّ الَّذِينَ آمَنُوا يُخْرِجُهُم مِّنَ الظُّلُمَاتِ إِلَى النُّورِ ۖ وَالَّذِينَ كَفَرُوا أَوْلِيَاؤُهُمُ الطَّاغُوتُ يُخْرِجُونَهُم مِّنَ النُّورِ إِلَى الظُّلُمَاتِ ۗ أُولَٰئِكَ أَصْحَابُ النَّارِ ۖ هُمْ فِيهَا خَالِدُونَ
جو لوگ ایمان لائے ہیں ان کا دوست خدا ہے کہ اُن کو اندھیرے سے نکال کر روشنی میں لے جاتا ہے اور جو کافر ہیں ان کے دوست شیطان ہیں کہ ان کو روشنی سے نکال کر اندھیرے میں لے جاتے ہیں یہی لوگ اہل دوزخ ہیں کہ اس میں ہمیشہ رہیں گے
258أَلَمْ تَرَ إِلَى الَّذِي حَاجَّ إِبْرَاهِيمَ فِي رَبِّهِ أَنْ آتَاهُ اللَّهُ الْمُلْكَ إِذْ قَالَ إِبْرَاهِيمُ رَبِّيَ الَّذِي يُحْيِي وَيُمِيتُ قَالَ أَنَا أُحْيِي وَأُمِيتُ ۖ قَالَ إِبْرَاهِيمُ فَإِنَّ اللَّهَ يَأْتِي بِالشَّمْسِ مِنَ الْمَشْرِقِ فَأْتِ بِهَا مِنَ الْمَغْرِبِ فَبُهِتَ الَّذِي كَفَرَ ۗ وَاللَّهُ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الظَّالِمِينَ
بھلا تم نے اس شخص کو نہیں دیکھا جو اس (غرور کے) سبب سے کہ خدا نے اس کو سلطنت بخشی تھی ابراہیم سے پروردگار کے بارے میں جھگڑنے لگا۔ جب ابراہیم نے کہا میرا پروردگار تو وہ ہے جو جلاتا اور مارتا ہے۔ وہ بولا کہ جلا اور مار تو میں بھی سکتا ہوں۔ ابراہیم نے کہا کہ خدا تو سورج کو مشرق سے نکالتا ہے آپ اسے مغرب سے نکال دیجیئے (یہ سن کر) کافر حیران رہ گیا اور خدا بےانصافوں کو ہدایت نہیں دیا کرتا
259أَوْ كَالَّذِي مَرَّ عَلَىٰ قَرْيَةٍ وَهِيَ خَاوِيَةٌ عَلَىٰ عُرُوشِهَا قَالَ أَنَّىٰ يُحْيِي هَٰذِهِ اللَّهُ بَعْدَ مَوْتِهَا ۖ فَأَمَاتَهُ اللَّهُ مِائَةَ عَامٍ ثُمَّ بَعَثَهُ ۖ قَالَ كَمْ لَبِثْتَ ۖ قَالَ لَبِثْتُ يَوْمًا أَوْ بَعْضَ يَوْمٍ ۖ قَالَ بَل لَّبِثْتَ مِائَةَ عَامٍ فَانظُرْ إِلَىٰ طَعَامِكَ وَشَرَابِكَ لَمْ يَتَسَنَّهْ ۖ وَانظُرْ إِلَىٰ حِمَارِكَ وَلِنَجْعَلَكَ آيَةً لِّلنَّاسِ ۖ وَانظُرْ إِلَى الْعِظَامِ كَيْفَ نُنشِزُهَا ثُمَّ نَكْسُوهَا لَحْمًا ۚ فَلَمَّا تَبَيَّنَ لَهُ قَالَ أَعْلَمُ أَنَّ اللَّهَ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ
یا اسی طرح اس شخص کو (نہیں دیکھا) جسے ایک گاؤں میں جو اپنی چھتوں پر گرا پڑا تھا اتفاق گزر ہوا۔ تو اس نے کہا کہ خدا اس (کے باشندوں) کو مرنے کے بعد کیونکر زندہ کرے گا۔ تو خدا نے اس کی روح قبض کرلی (اور) سو برس تک (اس کو مردہ رکھا) پھر اس کو جلا اٹھایا اور پوچھا تم کتنا عرصہ (مرے) رہے ہو اس نے جواب دیا کہ ایک دن یا اس سے بھی کم۔ خدا نے فرمایا (نہیں) بلکہ سو برس (مرے) رہے ہو۔ اور اپنے کھانے پینے کی چیزوں کو دیکھو کہ (اتنی مدت میں مطلق) سڑی بسی نہیں اور اپنے گدھے کو بھی دیکھو (جو مرا پڑا ہے) غرض (ان باتوں سے) یہ ہے کہ ہم تم کو لوگوں کے لئے (اپنی قدرت کی) نشانی بنائیں اور (ہاں گدھے) کی ہڈیوں کو دیکھو کہ ہم ان کو کیونکر جوڑے دیتے اور ان پر (کس طرح) گوشت پوست چڑھا دیتے ہیں۔ جب یہ واقعات اس کے مشاہدے میں آئے تو بول اٹھا کہ میں یقین کرتا ہوں کہ خدا ہر چیز پر قادر ہے
بقرہقرآن فہرست
286آیت
مدنیRevelation
257آیت

ترجمہ — بقرہ 257

سورہ بقرہ آیت 257 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : جو لوگ ایمان لائے ہیں ان کا دوست خدا ہے…

سورہ آیت 257/286 — بقرہ البقرة (مدنی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: بقرہ سنیں, بقرہ ترجمہ, بقرہ mp3, بقرہ pdf. آیت 255–259. اردو ترجمہ: فارسی.




قرآن کریم


Tuesday, August 18, 2026

اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں