بقرہ · 256/286
ترجمہ تلفظ — بقرہ
لَآ إِكۡرَاهَ فِي ٱلدِّينِۖ قَد تَّبَيَّنَ ٱلرُّشۡدُ مِنَ ٱلۡغَيِّۚ فَمَن يَكۡفُرۡ بِٱلطَّٰغُوتِ وَيُؤۡمِنۢ بِٱللَّهِ فَقَدِ ٱسۡتَمۡسَكَ بِٱلۡعُرۡوَةِ ٱلۡوُثۡقَىٰ لَا ٱنفِصَامَ لَهَاۗ وَٱللَّهُ سَمِيعٌ عَلِيمٌ  ۝٢٥٦
Laaa ikraaha fid deeni qat tabiyanar rushdu minal ghayy; famai yakfur bit Taaghooti wa yu`mim billaahi faqadis tamsaka bil`urwatil wusqaa lan fisaama lahaa; wallaahu Samee`un `Aleem
📖 اردو ترجمہ
دین (اسلام) میں زبردستی نہیں ہے ہدایت (صاف طور پر ظاہر اور) گمراہی سے الگ ہو چکی ہے تو جو شخص بتوں سے اعتقاد نہ رکھے اور خدا پر ایمان لائے اس نے ایسی مضبوط رسی ہاتھ میں پکڑ لی ہے جو کبھی ٹوٹنے والی نہیں اور خدا (سب کچھ) سنتا اور (سب کچھ) جانتا ہے
📜

ترجمہ — Tafsir

معانی الفاظ:

  • لا إكراه: کوئی زبردستی نہیں، جبر و تشدد نہیں۔
  • الرشد: ہدایت، سیدھا راستہ، حق و صواب۔
  • الغی: گمراہی، ضلالت، باطل۔
  • الطاغوت: ہر وہ چیز جس کی عبادت اللہ کے سوا کی جائے، یا ہر سرکش اور باطل معبود۔
  • العروة الوثقى: مضبوط رسی، پختہ سہارا، محکم تعلق۔
  • انفصام: ٹوٹنا، پھٹنا، منقطع ہونا۔

تفسیر آیت:

اللہ تعالیٰ اس آیت میں ارشاد فرماتے ہیں کہ دین میں کوئی جبر و اکراہ نہیں ہے۔ یعنی کسی کو زبردستی اسلام میں داخل نہیں کیا جا سکتا، کیونکہ یہ دین حق اپنی وضاحت اور دلائل کے ساتھ مکمل طور پر روشن ہو چکا ہے۔ ہدایت اور گمراہی، حق اور باطل، ایمان اور کفر کے درمیان فرق بالکل واضح ہو چکا ہے۔ جب سچائی اتنی روشن ہے تو پھر کسی کو مجبور کرنے کی ضرورت ہی نہیں رہتی۔

یہ آیت اس بات کی بھی دلیل ہے کہ اسلام میں دین قبول کرنے کے لیے جبر نہیں ہے، بلکہ دلیل، بصیرت اور اطمینانِ قلب سے قبول کیا جاتا ہے۔ جو شخص بھی غور و فکر کرے گا، وہ خود بخود حق کو پہچان لے گا۔

پھر اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ جو شخص طاغوت (یعنی اللہ کے سوا ہر معبود، ہر باطل نظام، ہر سرکش طاقت) کا انکار کر دے اور صرف اللہ پر ایمان لے آئے، تو اس نے سب سے مضبوط رسی تھام لی ہے جو کبھی ٹوٹنے والی نہیں۔ یہ رسی دراصل اللہ کا دین، اس کا قرآن اور اس کی رحمت ہے۔ جو شخص اس رسی سے جڑ جائے، وہ کبھی گمراہ نہیں ہو سکتا، کبھی تنہا نہیں رہ سکتا، اور کبھی اس کا سہارا نہیں چھوٹے گا۔

آخر میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ وہ سب کچھ سننے والا اور جاننے والا ہے۔ وہ جانتا ہے کہ کس نے حق قبول کیا اور کس نے انکار کیا، کس کا دل سچا ہے اور کس کا جھوٹا۔ وہ ہر ایک کو اس کے اعمال اور نیتوں کے مطابق جزا دے گا۔

دعوتی پہلو:

اس آیت سے ہمیں بہت بڑا پیغام ملتا ہے کہ اسلام امن اور رحمت کا دین ہے۔ یہاں کسی پر زبردستی نہیں کی جاتی، بلکہ دعوت اور محبت سے دلوں کو فتح کیا جاتا ہے۔ ہمیں بھی چاہیے کہ ہم اپنے حسنِ اخلاق، سچائی اور نیک اعمال سے دوسروں کو اسلام کی طرف راغب کریں، نہ کہ جبر اور تشدد سے۔

یہ آیت ہمیں یہ بھی سکھاتی ہے کہ ہمارا سب سے بڑا سہارا اللہ ہے۔ جب ہم طاغوت (باطل) کو چھوڑ کر اللہ سے جڑ جاتے ہیں، تو ہمیں کوئی طاقت نقصان نہیں پہنچا سکتی، کوئی خوف ہمیں گھیر نہیں سکتا، اور کوئی مصیبت ہمیں ڈگمگا نہیں سکتی۔ یہی وہ مضبوط رسی ہے جو ہمیں دنیا اور آخرت دونوں میں کامیابی تک پہنچاتی ہے۔

اللہ ہمیں حق کو سمجھنے اور اس پر ثابت قدم رہنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

🎧 سنیں

📜 آیت 254-258 — بقرہ

254يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓاْ أَنفِقُواْ مِمَّا رَزَقۡنَٰكُم مِّن قَبۡلِ أَن يَأۡتِيَ يَوۡمٌ لَّا بَيۡعٌ فِيهِ وَلَا خُلَّةٌ وَلَا شَفَٰعَةٌۗ وَٱلۡكَٰفِرُونَ هُمُ ٱلظَّٰلِمُونَ 
اے ایمان والو جو (مال) ہم نے تم کو دیا ہے اس میں سے اس دن کے آنے سے پہلے پہلے خرچ کرلو جس میں نہ (اعمال کا) سودا ہو اور نہ دوستی اور سفارش ہو سکے اور کفر کرنے والے لوگ ظالم ہیں
255ٱللَّهُ لَآ إِلَٰهَ إِلَّا هُوَ ٱلۡحَيُّ ٱلۡقَيُّومُۚ لَا تَأۡخُذُهُۥ سِنَةٌ وَلَا نَوۡمٌۚ لَّهُۥ مَا فِي ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَمَا فِي ٱلۡأَرۡضِۗ مَن ذَا ٱلَّذِي يَشۡفَعُ عِندَهُۥٓ إِلَّا بِإِذۡنِهِۦۚ يَعۡلَمُ مَا بَيۡنَ أَيۡدِيهِمۡ وَمَا خَلۡفَهُمۡۖ وَلَا يُحِيطُونَ بِشَيۡءٍ مِّنۡ عِلۡمِهِۦٓ إِلَّا بِمَا شَآءَۚ وَسِعَ كُرۡسِيُّهُ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضَۖ وَلَا يَـُٔودُهُۥ حِفۡظُهُمَاۚ وَهُوَ ٱلۡعَلِيُّ ٱلۡعَظِيمُ 
خدا (وہ معبود برحق ہے کہ) اس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں زندہ ہمیشہ رہنے والا اسے نہ اونگھ آتی ہے نہ نیند جو کچھ آسمانوں میں اور جو کچھ زمین میں ہیں سب اسی کا ہے کون ہے جو اس کی اجازت کے بغیر اس سے (کسی کی) سفارش کر سکے جو کچھ لوگوں کے روبرو ہو رہا ہے اور جو کچھ ان کے پیچھے ہوچکا ہے اسے سب معلوم ہے اور وہ اس کی معلومات میں سے کسی چیز پر دسترس حاصل نہیں کر سکتے ہاں جس قدر وہ چاہتا ہے (اسی قدر معلوم کرا دیتا ہے) اس کی بادشاہی (اور علم) آسمان اور زمین سب پر حاوی ہے اور اسے ان کی حفاظت کچھ بھی دشوار نہیں وہ بڑا عالی رتبہ اور جلیل القدر ہے
256لَآ إِكۡرَاهَ فِي ٱلدِّينِۖ قَد تَّبَيَّنَ ٱلرُّشۡدُ مِنَ ٱلۡغَيِّۚ فَمَن يَكۡفُرۡ بِٱلطَّٰغُوتِ وَيُؤۡمِنۢ بِٱللَّهِ فَقَدِ ٱسۡتَمۡسَكَ بِٱلۡعُرۡوَةِ ٱلۡوُثۡقَىٰ لَا ٱنفِصَامَ لَهَاۗ وَٱللَّهُ سَمِيعٌ عَلِيمٌ 
دین (اسلام) میں زبردستی نہیں ہے ہدایت (صاف طور پر ظاہر اور) گمراہی سے الگ ہو چکی ہے تو جو شخص بتوں سے اعتقاد نہ رکھے اور خدا پر ایمان لائے اس نے ایسی مضبوط رسی ہاتھ میں پکڑ لی ہے جو کبھی ٹوٹنے والی نہیں اور خدا (سب کچھ) سنتا اور (سب کچھ) جانتا ہے
257ٱللَّهُ وَلِيُّ ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ يُخۡرِجُهُم مِّنَ ٱلظُّلُمَٰتِ إِلَى ٱلنُّورِۖ وَٱلَّذِينَ كَفَرُوٓاْ أَوۡلِيَآؤُهُمُ ٱلطَّٰغُوتُ يُخۡرِجُونَهُم مِّنَ ٱلنُّورِ إِلَى ٱلظُّلُمَٰتِۗ أُوْلَٰٓئِكَ أَصۡحَٰبُ ٱلنَّارِۖ هُمۡ فِيهَا خَٰلِدُونَ 
جو لوگ ایمان لائے ہیں ان کا دوست خدا ہے کہ اُن کو اندھیرے سے نکال کر روشنی میں لے جاتا ہے اور جو کافر ہیں ان کے دوست شیطان ہیں کہ ان کو روشنی سے نکال کر اندھیرے میں لے جاتے ہیں یہی لوگ اہل دوزخ ہیں کہ اس میں ہمیشہ رہیں گے
258أَلَمۡ تَرَ إِلَى ٱلَّذِي حَآجَّ إِبۡرَٰهِـۧمَ فِي رَبِّهِۦٓ أَنۡ ءَاتَىٰهُ ٱللَّهُ ٱلۡمُلۡكَ إِذۡ قَالَ إِبۡرَٰهِـۧمُ رَبِّيَ ٱلَّذِي يُحۡيِۦ وَيُمِيتُ قَالَ أَنَا۠ أُحۡيِۦ وَأُمِيتُۖ قَالَ إِبۡرَٰهِـۧمُ فَإِنَّ ٱللَّهَ يَأۡتِي بِٱلشَّمۡسِ مِنَ ٱلۡمَشۡرِقِ فَأۡتِ بِهَا مِنَ ٱلۡمَغۡرِبِ فَبُهِتَ ٱلَّذِي كَفَرَۗ وَٱللَّهُ لَا يَهۡدِي ٱلۡقَوۡمَ ٱلظَّٰلِمِينَ 
بھلا تم نے اس شخص کو نہیں دیکھا جو اس (غرور کے) سبب سے کہ خدا نے اس کو سلطنت بخشی تھی ابراہیم سے پروردگار کے بارے میں جھگڑنے لگا۔ جب ابراہیم نے کہا میرا پروردگار تو وہ ہے جو جلاتا اور مارتا ہے۔ وہ بولا کہ جلا اور مار تو میں بھی سکتا ہوں۔ ابراہیم نے کہا کہ خدا تو سورج کو مشرق سے نکالتا ہے آپ اسے مغرب سے نکال دیجیئے (یہ سن کر) کافر حیران رہ گیا اور خدا بےانصافوں کو ہدایت نہیں دیا کرتا
بقرہقرآن فہرست
286آیت
مدنیRevelation
256آیت

ترجمہ — بقرہ 256

سورہ آیت 256/286 — بقرہ البقرة (مدنی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: بقرہ سنیں, بقرہ ترجمہ, بقرہ mp3, بقرہ pdf. آیت 254–258. اردو ترجمہ: فارسی.




قرآن کریم


Tuesday, August 18, 2026

اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں