Alam tara ilal lazee Haaajja Ibraaheema fee Rabbiheee an aataahullaahul mulka iz qaala Ibraaheemu Rabbiyal lazee yuhyee wa yumeetu qaala ana uhyee wa yumeetu qaala ana uhyee wa umeetu qaala Ibraaheemu fa innal laaha yaatee bishshamsi minal mashriqi faati bihaa minal maghribi fabuhital lazee kafar; wallaahu laa yahdil qawmaz zaalimeen
📖 ترجمہ (اردو ترجمہ)
📖 اردو ترجمہ
بھلا تم نے اس شخص کو نہیں دیکھا جو اس (غرور کے) سبب سے کہ خدا نے اس کو سلطنت بخشی تھی ابراہیم سے پروردگار کے بارے میں جھگڑنے لگا۔ جب ابراہیم نے کہا میرا پروردگار تو وہ ہے جو جلاتا اور مارتا ہے۔ وہ بولا کہ جلا اور مار تو میں بھی سکتا ہوں۔ ابراہیم نے کہا کہ خدا تو سورج کو مشرق سے نکالتا ہے آپ اسے مغرب سے نکال دیجیئے (یہ سن کر) کافر حیران رہ گیا اور خدا بےانصافوں کو ہدایت نہیں دیا کرتا
🌐 Additional reference in فارسی
🌐 فارسی
آن كسى را كه خدا به او پادشاهى ارزانى كرده بود نديدى كه با ابراهيم درباره پروردگارش محاجّه مىكرد؟ آنگاه كه ابراهيم گفت: پروردگار من زنده مىكند و مىميراند. او گفت: من نيز زنده مىكنم و مى ميرانم. ابراهيم گفت: خدا خورشيد را از مشرق برمىآورد تو آن را از مغرب برآور. آن كافر حيران شد. زيرا خدا ستمكاران را هدايت نمى كند.
بھلا تم نے اس شخص کو نہیں دیکھا جو اس (غرور کے) سبب سے کہ خدا نے اس کو سلطنت بخشی تھی ابراہیم سے پروردگار کے بارے میں جھگڑنے لگا۔ جب ابراہیم نے کہا میرا پروردگار تو وہ ہے جو جلاتا اور مارتا ہے۔ وہ بولا کہ جلا اور مار تو میں بھی سکتا ہوں۔ ابراہیم نے کہا کہ خدا تو سورج کو مشرق سے نکالتا ہے آپ اسے مغرب سے نکال دیجیئے (یہ سن کر) کافر حیران رہ گیا اور خدا بےانصافوں کو ہدایت نہیں دیا کرتا
📜
ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
حاجَّ: جھاگڑا، بحث و مباحثہ کیا، حجت بازی کی۔
آتاہ اللہ الملک: اسے اللہ نے بادشاہی عطا کی تھی۔
فَبُهِتَ: وہ حیران و ششدر رہ گیا، اس کی حجت کٹ گئی۔
الظالمین: ظلم کرنے والے، یعنی جو حق کو چھوڑ کر باطل پر قائم رہیں۔
تفسیر:
اے نبی! کیا تم نے اس شخص کا حال نہیں دیکھا جس نے حضرت ابراہیم علیہ السلام سے ان کے رب کے بارے میں جھگڑا کیا تھا؟ یہ نمرود تھا، جسے اللہ تعالیٰ نے بادشاہی عطا فرمائی تھی، مگر اس نعمت نے اسے سرکش بنا دیا اور وہ اپنی سلطنت کے غرور میں آکر اللہ کی ربوبیت کا انکار کرنے لگا۔ اس نے حضرت ابراہیم سے پوچھا: تمہارا رب کون ہے؟ تو آپ نے جواب دیا: "میرا رب وہ ہے جو زندگی دیتا ہے اور موت دیتا ہے۔" یعنی وہی خالق ہے، وہی حیات و موت کا مالک ہے۔
نمرود نے ضد اور عناد سے کہا: "میں بھی زندہ کرتا ہوں اور مارتا ہوں۔" اس نے دو قیدیوں کو بلایا، ایک کو قتل کر دیا اور دوسرے کو چھوڑ دیا، اور کہا: دیکھو میں نے اسے مارا اور اسے زندہ رکھا۔ یہ اس کی جہالت اور حماقت تھی، کیونکہ وہ حقیقی احیاء و اماتہ کو نہیں سمجھتا تھا۔
حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اس کی کمزور دلیل کا جواب دینے کے بجائے ایک ایسی دلیل پیش کی جو اس کے لیے ناقابلِ جواب تھی۔ آپ نے فرمایا: "اللہ سورج کو مشرق سے نکالتا ہے، تو تم اسے مغرب سے نکال کر دکھاؤ۔" یہ سن کر نمرود بالکل حیران و ششدر رہ گیا، اس کی تمام حجتیں خاک میں مل گئیں، وہ منہ کھولے رہ گیا اور کوئی جواب نہ دے سکا۔
یہ ہے اللہ کی سنت کہ وہ ظالموں کو ہدایت نہیں دیتا، کیونکہ وہ خود اپنے ظلم اور تکبر کی وجہ سے حق قبول کرنے کے اہل نہیں رہتے۔
دعوتی پہلو:
اس واقعے میں ہمارے لیے بہت بڑا سبق ہے۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے ایک طاقتور بادشاہ کے سامنے حق بات کہنے میں کوئی ہچکچاہٹ محسوس نہیں کی، اور حکمت کے ساتھ ایسی دلیل دی جو کسی بھی عقل سلیم کو قائل کر سکتی ہے۔ یہ ہمیں سکھاتا ہے کہ حق پر قائم رہنا چاہیے، چاہے سامنے کتنا ہی بڑا طاقتور کیوں نہ ہو۔ اللہ کی مدد ہمیشہ سچے اور مخلص بندوں کے ساتھ ہوتی ہے، اور باطل چاہے کتنا ہی پھیل جائے، آخرکار مغلوب ہو کر رہتا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ اپنے رب کی عظمت کو پہچانیں، اس کی نعمتوں کا شکر ادا کریں، اور کبھی اپنی طاقت یا دولت پر غرور نہ کریں، کیونکہ یہ سب کچھ اللہ ہی کی عطا کردہ ہے۔
دین (اسلام) میں زبردستی نہیں ہے ہدایت (صاف طور پر ظاہر اور) گمراہی سے الگ ہو چکی ہے تو جو شخص بتوں سے اعتقاد نہ رکھے اور خدا پر ایمان لائے اس نے ایسی مضبوط رسی ہاتھ میں پکڑ لی ہے جو کبھی ٹوٹنے والی نہیں اور خدا (سب کچھ) سنتا اور (سب کچھ) جانتا ہے
جو لوگ ایمان لائے ہیں ان کا دوست خدا ہے کہ اُن کو اندھیرے سے نکال کر روشنی میں لے جاتا ہے اور جو کافر ہیں ان کے دوست شیطان ہیں کہ ان کو روشنی سے نکال کر اندھیرے میں لے جاتے ہیں یہی لوگ اہل دوزخ ہیں کہ اس میں ہمیشہ رہیں گے
بھلا تم نے اس شخص کو نہیں دیکھا جو اس (غرور کے) سبب سے کہ خدا نے اس کو سلطنت بخشی تھی ابراہیم سے پروردگار کے بارے میں جھگڑنے لگا۔ جب ابراہیم نے کہا میرا پروردگار تو وہ ہے جو جلاتا اور مارتا ہے۔ وہ بولا کہ جلا اور مار تو میں بھی سکتا ہوں۔ ابراہیم نے کہا کہ خدا تو سورج کو مشرق سے نکالتا ہے آپ اسے مغرب سے نکال دیجیئے (یہ سن کر) کافر حیران رہ گیا اور خدا بےانصافوں کو ہدایت نہیں دیا کرتا
یا اسی طرح اس شخص کو (نہیں دیکھا) جسے ایک گاؤں میں جو اپنی چھتوں پر گرا پڑا تھا اتفاق گزر ہوا۔ تو اس نے کہا کہ خدا اس (کے باشندوں) کو مرنے کے بعد کیونکر زندہ کرے گا۔ تو خدا نے اس کی روح قبض کرلی (اور) سو برس تک (اس کو مردہ رکھا) پھر اس کو جلا اٹھایا اور پوچھا تم کتنا عرصہ (مرے) رہے ہو اس نے جواب دیا کہ ایک دن یا اس سے بھی کم۔ خدا نے فرمایا (نہیں) بلکہ سو برس (مرے) رہے ہو۔ اور اپنے کھانے پینے کی چیزوں کو دیکھو کہ (اتنی مدت میں مطلق) سڑی بسی نہیں اور اپنے گدھے کو بھی دیکھو (جو مرا پڑا ہے) غرض (ان باتوں سے) یہ ہے کہ ہم تم کو لوگوں کے لئے (اپنی قدرت کی) نشانی بنائیں اور (ہاں گدھے) کی ہڈیوں کو دیکھو کہ ہم ان کو کیونکر جوڑے دیتے اور ان پر (کس طرح) گوشت پوست چڑھا دیتے ہیں۔ جب یہ واقعات اس کے مشاہدے میں آئے تو بول اٹھا کہ میں یقین کرتا ہوں کہ خدا ہر چیز پر قادر ہے
اور جب ابراہیم نے (خدا سے) کہا کہ اے پروردگار مجھے دکھا کہ تو مردوں کو کیونکر زندہ کرے گا۔ خدا نے فرمایا کیا تم نے (اس بات کو) باور نہیں کیا۔ انہوں نے کہا کیوں نہیں۔ لیکن (میں دیکھنا) اس لئے (چاہتا ہوں) کہ میرا دل اطمینان کامل حاصل کرلے۔ خدا نے فرمایا کہ چار جانور پکڑوا کر اپنے پاس منگا لو (اور ٹکڑے ٹکڑے کرادو) پھر ان کا ایک ٹکڑا ہر ایک پہاڑ پر رکھوا دو پھر ان کو بلاؤ تو وہ تمہارے پاس دوڑتے چلے آئیں گے۔ اور جان رکھو کہ خدا غالب اور صاحب حکمت ہے۔
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔