احزاب · 51/73
ترجمہ تلفظ — احزاب
۞ تُرْجِي مَن تَشَاءُ مِنْهُنَّ وَتُؤْوِي إِلَيْكَ مَن تَشَاءُ ۖ وَمَنِ ابْتَغَيْتَ مِمَّنْ عَزَلْتَ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْكَ ۚ ذَٰلِكَ أَدْنَىٰ أَن تَقَرَّ أَعْيُنُهُنَّ وَلَا يَحْزَنَّ وَيَرْضَيْنَ بِمَا آتَيْتَهُنَّ كُلُّهُنَّ ۚ وَاللَّهُ يَعْلَمُ مَا فِي قُلُوبِكُمْ ۚ وَكَانَ اللَّهُ عَلِيمًا حَلِيمًا ۝٥١
Turjee man tashaaa`u minhunna wa tu`weee ilaika man tashaaa`u wa manibta ghaita mimman `azalta falaa junaaha `alaik; zaalika adnaaa an taqarra a`yunuhunna wa laa yahzanna wa yardaina bimaa aataitahunna kulluhunn; wal laahu ya`lamu maa fee quloo bikum; wa kaanal laahu `Aleeman haleemaa
📖 اردو ترجمہ
(اور تم کو یہ بھی اختیار ہے کہ) جس بیوی کو چاہو علیحدہ رکھو اور جسے چاہو اپنے پاس رکھو۔ اور جس کو تم نے علیحدہ کردیا ہو اگر اس کو پھر اپنے پاس طلب کرلو تو تم پر کچھ گناہ نہیں۔ یہ (اجازت) اس لئے ہے کہ ان کی آنکھیں ٹھنڈی رہیں اور وہ غمناک نہ ہوں اور جو کچھ تم ان کو دو۔ اسے لے کر سب خوش رہیں۔ اور جو کچھ تمہارے دلوں میں ہے خدا اسے جانتا ہے۔ اور خدا جاننے والا اور بردبار ہے
📜

ترجمہ — Tafsir

معانی الفاظ:

  • تُرْجِي: مؤخر رکھنا، پیچھے کرنا
  • تُؤْوِي: اپنے پاس جگہ دینا، شامل کرنا
  • ابْتَغَيْتَ: طلب کیا، چاہا
  • عَزَلْتَ: الگ کیا، علیحدہ کیا
  • جُنَاح: گناہ، حرج
  • أَدْنَى: زیادہ قریب
  • تَقَرَّ أَعْيُنُهُنَّ: ان کی آنکھیں ٹھنڈی ہوں

تفسیر:

اے نبی! یہ آیت آپ کے لیے خاص رعایت اور آسانی کا اعلان ہے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو اختیار دیا ہے کہ آپ اپنی ازواج مطہرات میں سے جس کو چاہیں اپنی باری سے مؤخر کر دیں اور جس کو چاہیں اپنے پاس رکھیں، اور جس کو آپ نے پہلے الگ کیا تھا، اگر بعد میں اسے اپنے پاس بلانا چاہیں تو اس میں بھی کوئی حرج نہیں۔ یہ اختیار آپ کو اس لیے دیا گیا تاکہ آپ کے دل کو راحت ہو اور آپ پر کوئی سختی نہ ہو۔

اس اختیار کی حکمت یہ ہے کہ جب ازواج مطہرات کو معلوم ہو گا کہ یہ تقسیم آپ کے اپنے اختیار سے ہے، نہ کہ کسی واجب کے تحت، تو ان کے دلوں میں کسی قسم کی ناراضگی یا رنجش پیدا نہیں ہوگی۔ وہ جان لیں گی کہ آپ نے کسی حق کو ترک نہیں کیا اور نہ کسی کے ساتھ ناانصافی کی ہے، بلکہ یہ اللہ کی طرف سے دیا گیا اختیار ہے۔ اس لیے ان کی آنکھیں ٹھنڈی ہوں گی، وہ غمگین نہیں ہوں گی، اور جو کچھ آپ انہیں دیں گے اس پر سب راضی رہیں گی۔

اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے کہ انسان کے دل میں کسی ایک بیوی کی طرف زیادہ میلان ہوتا ہے، یہ فطری بات ہے، اور اللہ اس پر گرفت نہیں کرتا، بلکہ وہ تو بڑا علم رکھنے والا اور بردبار ہے۔ وہ اپنے بندوں پر رحم فرماتا ہے اور ان کی کمزوریوں سے درگزر کرتا ہے۔

دعوتی پہلو:

اس آیت سے ہمیں یہ عظیم سبق ملتا ہے کہ اسلام دینِ فطرت ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی کمزوریوں اور جذبات سے بخوبی واقف ہے، اسی لیے اس نے احکام میں نرمی اور آسانی رکھی ہے۔ نبی کریم ﷺ کی زندگی ہمارے لیے بہترین نمونہ ہے، اور اس آیت میں آپ کے ساتھ اللہ کی خاص رحمت کا اظہار ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے گھریلو معاملات میں عدل اور انصاف کو ملحوظ رکھیں، لیکن ساتھ ہی یہ بھی یاد رکھیں کہ اللہ ہمارے دلوں کے حال جانتا ہے، اس لیے ہم اپنے جذبات کو قابو میں رکھیں اور اپنے گھر والوں کے ساتھ حسن سلوک کریں۔ اللہ تعالیٰ بردبار ہے، وہ ہماری غلطیوں پر جلد گرفت نہیں کرتا، بلکہ ہمیں توبہ کا موقع دیتا ہے۔ آئیے ہم اس رحمتِ الٰہی سے فائدہ اٹھائیں اور اپنی زندگیوں کو سنواریں۔

🎧 سنیں

📜 آیت 49-53 — احزاب

49يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا نَكَحْتُمُ الْمُؤْمِنَاتِ ثُمَّ طَلَّقْتُمُوهُنَّ مِن قَبْلِ أَن تَمَسُّوهُنَّ فَمَا لَكُمْ عَلَيْهِنَّ مِنْ عِدَّةٍ تَعْتَدُّونَهَا ۖ فَمَتِّعُوهُنَّ وَسَرِّحُوهُنَّ سَرَاحًا جَمِيلًا
مومنو! جب تم مومن عورتوں سے نکاح کرکے ان کو ہاتھ لگانے (یعنی ان کے پاس جانے) سے پہلے طلاق دے دو تو تم کو کچھ اختیار نہیں کہ ان سے عدت پوری کراؤ۔ ان کو کچھ فائدہ (یعنی خرچ) دے کر اچھی طرح سے رخصت کردو
50يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ إِنَّا أَحْلَلْنَا لَكَ أَزْوَاجَكَ اللَّاتِي آتَيْتَ أُجُورَهُنَّ وَمَا مَلَكَتْ يَمِينُكَ مِمَّا أَفَاءَ اللَّهُ عَلَيْكَ وَبَنَاتِ عَمِّكَ وَبَنَاتِ عَمَّاتِكَ وَبَنَاتِ خَالِكَ وَبَنَاتِ خَالَاتِكَ اللَّاتِي هَاجَرْنَ مَعَكَ وَامْرَأَةً مُّؤْمِنَةً إِن وَهَبَتْ نَفْسَهَا لِلنَّبِيِّ إِنْ أَرَادَ النَّبِيُّ أَن يَسْتَنكِحَهَا خَالِصَةً لَّكَ مِن دُونِ الْمُؤْمِنِينَ ۗ قَدْ عَلِمْنَا مَا فَرَضْنَا عَلَيْهِمْ فِي أَزْوَاجِهِمْ وَمَا مَلَكَتْ أَيْمَانُهُمْ لِكَيْلَا يَكُونَ عَلَيْكَ حَرَجٌ ۗ وَكَانَ اللَّهُ غَفُورًا رَّحِيمًا
اے پیغمبر ہم نے تمہارے لئے تمہاری بیویاں جن کو تم نے ان کے مہر دے دیئے ہیں حلال کردی ہیں اور تمہاری لونڈیاں جو خدا نے تم کو (کفار سے بطور مال غنیمت) دلوائی ہیں اور تمہارے چچا کی بیٹیاں اور تمہاری پھوپھیوں کی بیٹیاں اور تمہارے ماموؤں کی بیٹیاں اور تمہاری خالاؤں کی بیٹیاں جو تمہارے ساتھ وطن چھوڑ کر آئی ہیں (سب حلال ہیں) اور کوئی مومن عورت اگر اپنے تئیں پیغمبر کو بخش دے (یعنی مہر لینے کے بغیر نکاح میں آنا چاہے) بشرطیکہ پیغمبر بھی ان سے نکاح کرنا چاہیں (وہ بھی حلال ہے لیکن) یہ اجازت (اے محمدﷺ) خاص تم ہی کو ہے سب مسلمانوں کو نہیں۔ ہم نے ان کی بیویوں اور لونڈیوں کے بارے میں جو (مہر واجب الادا) مقرر کردیا ہے ہم کو معلوم ہے (یہ) اس لئے (کیا گیا ہے) کہ تم پر کسی طرح کی تنگی نہ رہے۔ اور خدا بخشنے والا مہربان ہے
51۞ تُرْجِي مَن تَشَاءُ مِنْهُنَّ وَتُؤْوِي إِلَيْكَ مَن تَشَاءُ ۖ وَمَنِ ابْتَغَيْتَ مِمَّنْ عَزَلْتَ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْكَ ۚ ذَٰلِكَ أَدْنَىٰ أَن تَقَرَّ أَعْيُنُهُنَّ وَلَا يَحْزَنَّ وَيَرْضَيْنَ بِمَا آتَيْتَهُنَّ كُلُّهُنَّ ۚ وَاللَّهُ يَعْلَمُ مَا فِي قُلُوبِكُمْ ۚ وَكَانَ اللَّهُ عَلِيمًا حَلِيمًا
(اور تم کو یہ بھی اختیار ہے کہ) جس بیوی کو چاہو علیحدہ رکھو اور جسے چاہو اپنے پاس رکھو۔ اور جس کو تم نے علیحدہ کردیا ہو اگر اس کو پھر اپنے پاس طلب کرلو تو تم پر کچھ گناہ نہیں۔ یہ (اجازت) اس لئے ہے کہ ان کی آنکھیں ٹھنڈی رہیں اور وہ غمناک نہ ہوں اور جو کچھ تم ان کو دو۔ اسے لے کر سب خوش رہیں۔ اور جو کچھ تمہارے دلوں میں ہے خدا اسے جانتا ہے۔ اور خدا جاننے والا اور بردبار ہے
52لَّا يَحِلُّ لَكَ النِّسَاءُ مِن بَعْدُ وَلَا أَن تَبَدَّلَ بِهِنَّ مِنْ أَزْوَاجٍ وَلَوْ أَعْجَبَكَ حُسْنُهُنَّ إِلَّا مَا مَلَكَتْ يَمِينُكَ ۗ وَكَانَ اللَّهُ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ رَّقِيبًا
(اے پیغمبر) ان کے سوا اور عورتیں تم کو جائز نہیں اور نہ یہ کہ ان بیویوں کو چھوڑ کر اور بیویاں کرو خواہ ان کا حسن تم کو (کیسا ہی) اچھا لگے مگر وہ جو تمہارے ہاتھ کا مال ہے (یعنی لونڈیوں کے بارے میں تم کو اختیار ہے) اور خدا ہر چیز پر نگاہ رکھتا ہے
53يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَدْخُلُوا بُيُوتَ النَّبِيِّ إِلَّا أَن يُؤْذَنَ لَكُمْ إِلَىٰ طَعَامٍ غَيْرَ نَاظِرِينَ إِنَاهُ وَلَٰكِنْ إِذَا دُعِيتُمْ فَادْخُلُوا فَإِذَا طَعِمْتُمْ فَانتَشِرُوا وَلَا مُسْتَأْنِسِينَ لِحَدِيثٍ ۚ إِنَّ ذَٰلِكُمْ كَانَ يُؤْذِي النَّبِيَّ فَيَسْتَحْيِي مِنكُمْ ۖ وَاللَّهُ لَا يَسْتَحْيِي مِنَ الْحَقِّ ۚ وَإِذَا سَأَلْتُمُوهُنَّ مَتَاعًا فَاسْأَلُوهُنَّ مِن وَرَاءِ حِجَابٍ ۚ ذَٰلِكُمْ أَطْهَرُ لِقُلُوبِكُمْ وَقُلُوبِهِنَّ ۚ وَمَا كَانَ لَكُمْ أَن تُؤْذُوا رَسُولَ اللَّهِ وَلَا أَن تَنكِحُوا أَزْوَاجَهُ مِن بَعْدِهِ أَبَدًا ۚ إِنَّ ذَٰلِكُمْ كَانَ عِندَ اللَّهِ عَظِيمًا
مومنو پیغمبر کے گھروں میں نہ جایا کرو مگر اس صورت میں کہ تم کو کھانے کے لئے اجازت دی جائے اور اس کے پکنے کا انتظار بھی نہ کرنا پڑے۔ لیکن جب تمہاری دعوت کی جائے تو جاؤ اور جب کھانا کھاچکو تو چل دو اور باتوں میں جی لگا کر نہ بیٹھ رہو۔ یہ بات پیغمبر کو ایذا دیتی ہے۔ اور وہ تم سے شرم کرتے ہیں (اور کہتے نہیں ہیں) لیکن خدا سچی بات کے کہنے سے شرم نہیں کرتا۔ اور جب پیغمبروں کی بیویوں سے کوئی سامان مانگو تو پردے کے باہر مانگو۔ یہ تمہارے اور ان کے دونوں کے دلوں کے لئے بہت پاکیزگی کی بات ہے۔ اور تم کو یہ شایاں نہیں کہ پیغمبر خدا کو تکلیف دو اور نہ یہ کہ ان کی بیویوں سے کبھی ان کے بعد نکاح کرو۔ بےشک یہ خدا کے نزدیک بڑا (گناہ کا کام) ہے
احزابقرآن فہرست
73آیت
مدنیRevelation
51آیت

ترجمہ — احزاب 51

سورہ احزاب آیت 51 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : (اور تم کو یہ بھی اختیار ہے کہ) جس بیوی…

سورہ آیت 51/73 — احزاب الأحزاب (مدنی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: احزاب سنیں, احزاب ترجمہ, احزاب mp3, احزاب pdf. آیت 49–53. اردو ترجمہ: فارسی.




قرآن کریم


Tuesday, August 18, 2026

اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں